یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 15/‏7 ص.‏ 4-‏8
  • آپ بائبل پیشینگوئی پر کیوں بھروسہ کر سکتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • آپ بائبل پیشینگوئی پر کیوں بھروسہ کر سکتے ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • تقابلی نکات
  • کیا آپ بائبل پیشینگوئی پر بھروسہ کرینگے؟‏
  • قابلِ‌بھروسہ پیشگوئیوں کی تلاش
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • بائبل کی پیش‌گوئیوں سے سیکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2023ء
  • پیشینگوئی کی ایک کتاب
    سب لوگوں کیلئے ایک کتاب
  • سچی پیشین‌گوئیاں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2012ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 15/‏7 ص.‏ 4-‏8

آپ بائبل پیشینگوئی پر کیوں بھروسہ کر سکتے ہیں

شمال مغربی یونان میں ایپائیرس کا بادشاہ پرس رومی سلطنت کے ساتھ طویل لڑائی میں اُلجھا ہوا تھا۔ اِس کے انجام کی بابت جاننے کی شدید خواہش کے ساتھ وہ مشورت کے لئے ڈیلفی کے دارالاستخارہ گیا۔ تاہم، جواب جو اُسے ملا اُس کے مندرجہ‌ذیل دو مطلب ہو سکتے تھے:‏ (‏۱)‏ ”‏مَیں کہتا ہوں کہ آکس کے بیٹے تُو رومیوں پر فتح پا سکتا ہے۔ تُو جائیگا اور واپس لوٹ آئیگا، تُو جنگ میں مارا نہیں جائیگا۔“‏ (‏۲)‏ ”‏مَیں کہتا ہوں کہ آکس کے بیٹے، رومی تجھ پر فتح پا لینگے۔ تُو جائیگا اور کبھی واپس نہیں لوٹیگا، تُو جنگ میں مارا جائیگا۔“‏ اُس نے دارالاستخارے کے جواب کے پہلے حصے کو قبول کرتے ہوئے رومیوں کے خلاف جنگ لڑی۔ پرس کو شکست ہوئی۔‏

ایسے واقعات نے قدیمی دارالاستخاروں کو مبہم اور رمزیہ جوابات کی وجہ سے بدنام کر دیا۔ تاہم، بائبل پیشینگوئیوں کی بابت کیا ہے؟ بعض نقاد بیان کرتے ہیں کہ بائبل میں پائی جانے والی پیشینگوئیاں اِن دارالاستخاروں سے حاصل ہونے والے جوابات سے بہتر نہیں ہیں۔ نقاد قیاس‌آرائی کرتے ہیں کہ بائبل کی پیشینگوئیاں کہانتی جماعت سے تعلق رکھنے والے ہوشیار اور نہایت دانشمند اشخاص کی طرف سے مستقبل کے واقعات کی بابت بیانات ہیں۔ مبیّنہ طور پر، اِن آدمیوں نے محض اپنے تجربے یا خاص تعلقات کی وجہ سے مخصوص حالتوں کی طبعی ترتیب‌وترقی کو پہلے سے بھانپ لیا۔ بائبل پیشینگوئیوں کی مختلف خصوصیات کا موازنہ اُن دارالاستخاروں کی طرف سے حاصل ہونے والے جوابات کیساتھ کرنے سے ہم صحیح نتیجے پر پہنچنے کے لئے بہتر حالت میں ہونگے۔‏

تقابلی نکات

دارالاستخاروں کی طرف سے حاصل ہونے والے جوابات کی نمایاں خصوصیت ان کا ابہام تھا۔ مثال کے طور پر، ڈیلفی کے فراہم‌کردہ جوابات ناقابلِ‌فہم ہوتے تھے۔ اس کی وجہ سے پجاریوں کے لئے اُن کی تشریح کرنا اور بالکل متضاد تشریحات کرنے والے اقتباسات تیار کرنا ضروری ہو گیا۔ اِس کی ایک مستند مثال لیڈیا کے بادشاہ کروئسس کو دیا جانے والا جواب ہے۔ جب اُس نے دارالاستخارہ سے رجوع کِیا تو اُسے بتایا گیا:‏ ”‏اگر کروئسس دریائے کیزل ارماک کو عبور کرتا ہے تو وہ ایک طاقتور سلطنت کو تباہ‌وبرباد کرے گا۔“‏ درحقیقت، تباہ ہونے والی ”‏طاقتور سلطنت“‏ اُس کی اپنی ہی تھی!‏ جب کروئسس نے کپاڈوشیا پر حملہ کرنے کے لئے دریائے کیزل ارماک کو پار کِیا تو اُسے فارس کے بادشاہ خورس کے ہاتھوں شکست ہوئی۔‏

جھوٹے دارالاستخاروں کے برعکس، بائبل پیشینگوئیاں اپنی درستی اور فصاحت کی وجہ سے نمایاں ہیں۔ اِس کی ایک مثال سقوطِ‌بابل کی بابت پیشینگوئی ہے جو بائبل میں یسعیاہ کی کتاب میں درج ہے۔ اِس واقعے کے رونما ہونے سے کوئی ۲۰۰ سال پہلے، یسعیاہ نبی نے مادی‌فارس کے ہاتھوں بابل کی بربادی کی بابت ایک تفصیلی اور بالکل درست پیشینگوئی کی تھی۔ پیشینگوئی نے آشکارا کِیا کہ فاتح کا نام خورس ہوگا اور وہ خندق‌نما دفاعی دریا کو سکھانے اور فصیل‌دار شہر میں کھلے پھاٹکوں کے راستے داخل ہونے کی حکمتِ‌عملی اختیار کریگا۔ یہ سب بالکل درست ثابت ہوا۔ (‏یسعیاہ ۴۴:‏۲۷–‏۴۵:‏۲‏)‏ اِس بات کی بھی درست پیشینگوئی کر دی گئی تھی کہ بالآخر بابل مکمل طور پر ویران ہو جائیگا۔—‏یسعیاہ ۱۳:‏۱۷-‏۲۲‏۔‏

یوناہ نبی کی معرفت بیان‌کردہ اِس آگاہی کی واضح حقیقت پر بھی غور کریں:‏ ”‏چالیس روز کے بعد نینوؔہ برباد کِیا جائے گا۔“‏ (‏یوناہ ۳:‏۴‏)‏ اِس میں کوئی ابہام نہیں پایا جاتا!‏ پیغام اتنا ہیجان‌خیز اور جامع تھا کہ نینوہ کے باشندوں نے ”‏خدا پر ایمان لا کر روزہ کی منادی کی اور ادنیٰ‌واعلیٰ سب نے ٹاٹ اوڑھا۔“‏ اُنکی توبہ کے نتیجے میں، یہوواہ اُس وقت نینوہ کے لوگوں پر تباہی نہ لایا۔—‏یوناہ ۳:‏۵-‏۱۰‏۔‏

دارالاستخاروں کو سیاسی اثرورسوخ کے ذرائع کے طور پر استعمال کِیا جاتا تھا۔ حاکم اور فوجی راہنما اپنے ذاتی مفادات اور مہمات کو فروغ دینے کی خاطر اکثر اپنی پسند کی تشریح کرنے سے اُنہیں ”‏الہٰی لبادہ“‏ پہنا دیتے تھے۔ تاہم، خدا کے نبوّتی پیغامات ذاتی ترجیحات کے بغیر ہی دئے جاتے تھے۔‏

مثال کے طور پر:‏ یہوواہ کے نبی ناتن نے خطاکار بادشاہ داؤد کو ملامت کرنے میں کوئی رعایت نہ کی۔ (‏۲-‏سموئیل ۱۲:‏۱-‏۱۲‏)‏ اسرائیل کی دس قبائلی سلطنت پر یربعام دوئم کی حکومت کے دوران ہوسیع اور عاموس نبی نے سرکش بادشاہ اور اُس کے حمایتیوں کی برگشتگی اور خدا کی بے‌حرمتی کرنے والے چال‌چلن کی شدید مذمت کی۔ (‏ہوسیع ۵:‏۱-‏۷؛ عاموس ۲:‏۶-‏۸)‏ بادشاہ کے لئے عاموس نبی کی معرفت یہوواہ کی آگاہی خاص طور پر سخت تھی:‏ ”‏مَیں یرؔبعام کے گھرانے کے خلاف تلوار لیکر اٹھونگا۔“‏ (‏عاموس ۷:‏۹)‏ یربعام کا گھرانہ واقعی نیست‌ونابود ہو گیا تھا۔—‏۱-‏سلاطین ۱۵:‏۲۵-‏۳۰؛‏ ۲-‏تواریخ ۱۳:‏۲۰‏۔‏

اکثراوقات دارالاستخاروں کے جوابات کی قیمت ادا کرنا پڑتی تھی۔ جو زیادہ قیمت ادا کرتا اُسے دارالاستخارے سے اپنی پسند کا جواب حاصل ہوتا تھا۔ ڈیلفی کے دارالاستخاروں سے مشورہ حاصل کرنے والوں کو بیکار معلومات کے لئے بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی تھی، یوں وہ اپالو کے مندر اور دیگر عالیشان عمارتوں کو بڑے بڑے خزانوں سے بھر دیتے تھے۔ اِس کے برعکس، بائبل پیشینگوئیوں اور آگاہیوں کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا تھا اور ان میں کسی کی طرفداری نہیں کی جاتی تھی۔ یہ جس شخص کی بابت ہوتی تھیں اُس کا مرتبہ یا دولت ان پر اثرانداز نہیں ہو سکتے تھے کیونکہ سچے نبی کو کوئی رشوت نہیں دی جا سکتی تھی۔ نبی اور قاضی سموئیل صاف‌دلی سے پوچھ سکتا تھا:‏ ‏”‏کس کے ہاتھ سے مَیں نے رشوت لی تاکہ اندھا بن جاؤں؟“‏—‏۱-‏سموئیل ۱۲:‏۳‏۔‏

دارالاستخارے چونکہ مخصوص جگہوں پر ہی واقع تھے لہٰذا کسی شخص کو جوابات حاصل کرنے کے لئے وہاں تک پہنچنے کے لئے کافی کوشش کرنا پڑتی تھی۔ عام لوگوں کیلئے ان میں سے بیشتر جگہوں تک پہنچنا بہت ہی مشکل تھا کیونکہ یہ ایپائیرس میں کوہِ‌ٹومارس پر ڈوڈونا اور کوہستانی مرکزی یونان میں ڈیلفی میں واقع تھیں۔ عام طور پر، دولتمند اور ذی‌اقتدار ہی ایسے مندروں کے ذریعے دیوتاؤں سے مشورہ حاصل کرنے کے قابل ہوتے تھے۔ علاوہ‌ازیں، ”‏دیوتاؤں کی مرضی“‏ سال کے دوران صرف چند ایک دنوں پر ہی معلوم کی جا سکتی تھی۔ اِس کے بالکل برعکس، یہوواہ خدا نے اپنے پیامبروں کو اُن پیشینگوئیوں کا اعلان کرنے کے لئے براہِ‌راست لوگوں کے پاس بھیجا جنہیں سننا اُن کے لئے ضروری تھا۔ مثال کے طور پر، یہودیوں کی بابلی اسیری کے دوران، کم‌ازکم خدا کے تین نبی اُس کے لوگوں کے درمیان—‏یرمیاہ یروشلیم میں، حزقی‌ایل اسیروں کے ساتھ اور دانی‌ایل بابلی سلطنت کے دارالحکومت میں—‏خدمت انجام دے رہے تھے۔—‏یرمیاہ ۱:‏۱، ۲؛‏ حزقی‌ایل ۱:‏۱؛‏ دانی‌ایل ۲:‏۴۸‏۔‏

دارالاستخارے عموماً خفیہ طور پر جواب فراہم کرتے تھے تاکہ اُنہیں حاصل کرنے والا شخص اُنکی تفسیر کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کر سکے۔ اِسکے برعکس، بائبل پیشینگوئیاں اکثر سب کے سامنے پیش کی جاتی تھیں تاکہ سب پیغام کو سنکر اُسکے معنی سمجھ سکیں۔ یرمیاہ نبی نے کئی مرتبہ یروشلیم میں علانیہ کلام کِیا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اُسکا پیغام اُمرا اور شہر کے لوگوں میں مقبول نہیں تھا۔—‏یرمیاہ ۷:‏۱، ۲‏۔‏

آجکل، دارالاستخاروں کے جوابات کو قدیم تاریخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے نازک ایّام میں رہنے والے لوگوں کے لئے اِن کی کوئی عملی قدروقیمت نہیں ہے۔ دارالاستخاروں کے جوابات کا ہمارے زمانے یا ہمارے مستقبل کیساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس کے بالکل برعکس، بائبل پیشینگوئیاں ”‏خدا کے زندہ اور مؤثر کلام“‏ کا حصہ ہیں۔ (‏عبرانیوں ۴:‏۱۲‏)‏ پہلے سے تکمیل‌شُدہ بائبل پیشینگوئیاں لوگوں کیساتھ یہوواہ کے برتاؤ کا نمونہ پیش کرتی ہیں اور اُس کی شخصیت اور مقاصد کے ضروری پہلوؤں کو آشکارا کرتی ہیں۔ بائبل کی مزید اہم پیشینگوئیوں کی تکمیل مستقبل قریب میں متوقع ہے۔ آئندہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے پطرس نے لکھا:‏ ”‏[‏خدا]‏ کے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان [‏مسیحائی آسمانی حکومت]‏ اور نئی زمین [‏راست انسانی معاشرے]‏ کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“‏—‏۲-‏پطرس ۳:‏۱۳‏۔‏

بائبل پیشینگوئی اور جھوٹے مذہبی دارالاستخاروں سے حاصل ہونے والے جوابات کے اِس مختصر موازنے سے آپ اُسی نتیجے پر پہنچتے ہیں جس کا اظہار دی گریٹ آئڈیاز نامی کتاب میں کِیا گیا ہے:‏ ”‏فانی انسانوں کے پیشگی علم رکھنے کے سلسلے میں عبرانی نبی منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ جھوٹے غیب‌بینوں یا قسمت کا حال بتانے والوں کے برعکس .‏ .‏ .‏ اُنہیں الہٰی رازوں کو جاننے کیلئے علمی مہارتوں یا تدابیر کو کام میں نہیں لانا پڑتا۔ .‏ .‏ .‏ اُن کی نبوّتی باتیں دارالاستخاروں کے پجاریوں کی باتوں سے زیادہ واضح ہیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس کا مقصد ایسے معاملات کے سلسلے میں خدائی منصوبے کو پوشیدہ رکھنے کی بجائے اسے آشکارا کرنا ہے کیونکہ وہ خود چاہتا ہے کہ انسان الہٰی راہنمائی سے پیش‌ازوقت واقف ہوں۔“‏

کیا آپ بائبل پیشینگوئی پر بھروسہ کرینگے؟‏

آپ بائبل پیشینگوئی پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ درحقیقت، آپ یہوواہ اور اُس کے نبوّتی کلام کی تکمیل کو اپنی زندگی کا محور بنا سکتے ہیں۔ بائبل پہلے سے تکمیل‌شُدہ پیشینگوئیوں کا بے‌جان ریکارڈ نہیں ہے۔ صحائف میں پائی جانے والی بہت سی پیشینگوئیاں اب پوری ہو رہی ہیں یا مستقبل قریب میں پوری ہونگی۔ ماضی سے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ہم پورا اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ یہ بھی پوری ہونگی۔ ایسی پیشینگوئیاں چونکہ ہمارے زمانے پر توجہ مرکوز کرتی ہیں اور اِنکا ہمارے ہی مستقبل سے تعلق ہے اس لئے اِن پر سنجیدگی سے غور کرنا ہمارے لئے اچھا ہوگا۔‏

آپ یسعیاہ ۲:‏۲، ۳ کی بائبل پیشینگوئی پر یقیناً بھروسہ رکھ سکتے ہیں:‏ ”‏آخری دنوں میں یوں ہوگا کہ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کِیا جائے گا .‏ .‏ .‏ بہت سی اُمتیں آئیں گی اور کہیں گی آؤ خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کے پہاڑ پر چڑھیں .‏ .‏ .‏ اور وہ اپنی راہیں ہمکو بتائے گا اور ہم اُس کے راستوں پر چلیں گے۔“‏ آجکل، واقعی لاکھوں لوگ یہوواہ کی سربلند پرستش کو اختیار کر رہے ہیں اور اُس کے راستوں پر چلنے کی تعلیم پا رہے ہیں۔ کیا آپ خدا کی راہوں کو اَور زیادہ جاننے کے موقع سے فائدہ اُٹھائیں گے اور اُس کی اور اُس کے راستوں پر چلنے کے سلسلے میں اُسکے مقاصد کی بابت صحیح علم حاصل کریں گے؟—‏یوحنا ۱۷:‏۳‏۔‏

ایک اَور بائبل پیشینگوئی کی تکمیل ہم سے فوری کارروائی کا تقاضا کرتی ہے۔ مستقبل قریب کی بابت زبورنویس نے نبوّتی طور پر گیت گایا:‏ ”‏بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے .‏ .‏ .‏ کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہوجائے گا۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۹، ۱۰‏)‏ آپ کے خیال میں شریروں، بشمول بائبل پیشینگوئیوں کی تحقیر کرنے والوں پر آنے والی تباہی سے بچنے کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے؟ یہی زبور جواب دیتا ہے:‏ ”‏جنکو خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ کی آس ہے ملک کے وارث ہونگے۔“‏ (‏زبور ۳۷:‏۹‏)‏ یہوواہ پر آس رکھنے کا مطلب اُس کے وعدوں پر مکمل بھروسہ کرنا اور اپنی زندگی اُس کے معیاروں کے مطابق گزارنا ہے۔—‏امثال ۲:‏۲۱، ۲۲‏۔‏

جب یہوواہ پر آس رکھنے والے زمین کے وارث بنیں گے تو زندگی کیسی ہوگی؟ بائبل پیشینگوئیاں آشکارا کرتی ہیں کہ فرمانبردار نوعِ‌انسان کے لئے شاندار مستقبل محفوظ ہے۔ یسعیاہ نبی نے لکھا:‏ ”‏اس وقت اندھوں کی آنکھیں وا کی جائیں گی اور بہروں کے کان کھولے جائیں گے۔ تب لنگڑے ہرن کی مانند چوکڑیاں بھریں گے اور گونگے کی زبان گائے گی کیونکہ بیابان میں پانی اور دشت میں ندیاں پھوٹ نکلیں گی۔“‏ (‏یسعیاہ ۳۵:‏۵، ۶‏)‏ یوحنا رسول نے بھی تازگی بخشنے والے الفاظ قلمبند کئے:‏ ”‏خداوند [‏”‏یہوواہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہیں گی‌اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ‌ونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔ اور جو تخت پر بیٹھا ہؤا تھا اُس نے کہا .‏ .‏ .‏ لکھ لے کیونکہ یہ باتیں سچ اور برحق ہیں۔“‏—‏مکاشفہ ۲۱:‏۴، ۵‏۔‏

یہوواہ کے گواہ جانتے ہیں کہ بائبل قابلِ‌اعتماد پیشینگوئی کی کتاب ہے۔ لہٰذا وہ پطرس رسول کی پندونصیحت سے پوری طرح متفق ہیں:‏ ”‏ہمارے پاس نبیوں کا وہ کلام ہے جو زیادہ معتبر ٹھہرا اور تم اچھا کرتے ہو جو یہ سمجھ کر اس پر غور کرتے ہو کہ وہ ایک چراغ ہے جو اندھیری جگہ میں روشنی بخشتا ہے جب تک پَو نہ پھٹے اور صبح کا ستارہ تمہارے دلوں میں نہ چمکے۔“‏ (‏۲-‏پطرس ۱:‏۱۹‏)‏ ہماری مخلصانہ اُمید ہے کہ آپ اُن شاندار امکانات سے حوصلہ‌افزائی پائیں جو بائبل پیشینگوئی مستقبل کیلئے پیش کرتی ہے!‏

‏[‏صفحہ 6 پر بکس/‏تصویریں]‏

ڈیلفی کا دارالاستخارہ قدیم یونان میں بہت مشہور تھا۔‏

پجارن اِس تین ٹانگوں والے سٹول پر بیٹھ کر غیب کی باتیں بتاتی تھی

‏[‏تصویریں]‏

نشہ‌آور بھاپ پجارن کو بیخود کر دیتی تھی

اُس کے مُنہ سے نکلنے والی آوازوں کو اپالو دیوتا کی طرف سے الہام سمجھا جاتا تھا

‏[‏تصویروں کے حوالہ‌جات]‏

‏;Dictionary of Greek and Roman Antiquities Tripod: From the book

Apollo: The Complete Encyclopedia of Illustration/J. G. Heck

‏[‏صفحہ 7 پر تصویر]‏

ڈیلفی سے حاصل ہونے والے جوابات بالکل ناقابلِ‌اعتبار ہوتے تھے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Delphi, Greece

‏[‏صفحہ 8 پر تصویریں]‏

آپ نئی دُنیا کی بابت بائبل پیشینگوئی پر مکمل بھروسہ رکھ سکتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں