کیا آپ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارتے ہیں؟
”جاپانی والدوں کو پسند کِیا جاتا ہے—اگرچہ وہ کام کی مصروفیت کے باعث اپنے بچوں کیساتھ نہیں کھیلتے۔“ چند سال قبل یہ خبر مینچی شیمبن میں شائع ہوئی تھی۔ مضمون نے بیان کِیا کہ ایک سرکاری سروے میں حصہ لینے والے ۸.۸۷ فیصد جاپانی بچوں نے مستقبل میں اپنے والدوں کی دیکھبھال کرنے کی خواہش کا اظہار کِیا۔ تاہم اُس اخبار کے انگریزی ایڈیشن میں یہی حصہ ایک مختلف سرخی کے تحت شائع ہوا۔ جسکی عبارت یہ تھی: ”والد اور بیٹے: غفلت کا معاملہ۔“ جاپانی ایڈیشن کے برعکس، مضمون نے اُسی سروے کے ایک اور پہلو کو نمایاں کِیا: ہر کاروباری دن پر، جاپانی والد اپنے بچوں کیساتھ صرف ۳۶ منٹ گزارتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں مغربی جرمنی میں ہفتے کے ایک دن میں والد اپنے بچوں کیساتھ ۴۴ منٹ گزار رہے تھے اور ریاستہائے متحدہ میں یہ عدد ۵۶ منٹ تھا۔
صرف والد ہی اپنے بچوں کے ساتھ کم وقت نہیں گزارتے۔ گھر سے باہر کام کرنے والی ماؤں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، بیشتر تنہا خاندان کی کفالت کرنے والی ماؤں کو دُنیاوی ملازمتیں کرنی پڑتی ہیں۔ نتیجتاً جو وقت والدین—ماں اور باپ دونوں—اپنے بچوں کیساتھ گزارتے ہیں وہ اَور کم ہو گیا ہے۔
۱۹۹۷ میں ۱۲،۰۰۰ سے زیادہ امریکی نوعمروں پر کی گئی ایک تحقیقی رپورٹ نے یہ ظاہر کِیا کہ اپنے والدین کیساتھ قریبی رشتہ رکھنے والے نوجوانوں میں جذباتی دباؤ کا شکار ہونے، خودکشی کی بابت سوچنے، تشددپسندی میں ملوث ہونے اور نشہآور چیزیں استعمال کرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں جامع تحقیق میں شامل ایک محقق نے بیان کِیا: ”آپ اُس وقت تک بچوں کیساتھ وابستگی محسوس نہیں کر سکتے جب تک کہ آپ اُن کیساتھ وقت نہیں گزارتے۔“ اپنے بچوں کیساتھ وقت گزارنا اور اُن کیساتھ رابطہ رکھنا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
رابطے کی کمی
ایسے خاندانوں میں رابطے کا سلسلہ بالخصوص ٹوٹپھوٹ کا شکار ہوتا ہے جہاں والدین میں سے کوئی ایک ملازمت کی غرض سے گھر سے کہیں دُور رہتا ہے۔ بِلاشُبہ رابطے کی کمی صرف اُنہی خاندانوں تک محدود نہیں جہاں والدین میں سے کوئی ایک گھر سے دُور رہتا ہے۔ بعض والدین اپنے بچوں کے جاگنے سے پہلے ہی کام پر چلے جاتے ہیں اور رات کو اُن کے سو جانے کے بعد گھر لوٹتے ہیں۔ رابطے کی اس کمی کو پورا کرنے کیلئے بعض والدین ہفتے کے آخر پر اور چھٹیوں میں خاندان کیساتھ وقت گزارتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کیساتھ ”معیاری“ وقت گزارنے کی بات کرتے ہیں۔
تاہم کیا مقدار کی کمی کو معیار سے پورا کیا جا سکتا ہے؟ محقق لارنس سٹنبرگ جواب دیتا ہے: ”اپنے والدین کیساتھ کم وقت صرف کرنے والے بچوں کی نسبت والدین کیساتھ زیادہ وقت گزارنے والے بچے عموماً بہتر کارکردگی کے مالک ہوتے ہیں۔ وقت کی اس کمی کو پورا کرنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ معیاری وقت کے نظریے کو بیجا اہمیت دی گئی ہے۔“ ایک برمی خاتون بالکل ایسا ہی محسوس کرتی ہے۔ اُس کا شوہر—ایک روایتی جاپانی آدمی—ہر روز صبح ایک یا دو بجے کام سے واپس لوٹتا ہے۔ اگرچہ وہ ہفتے کے آخر پر اپنے خاندان کیساتھ وقت گزارتا ہے تو بھی اُسکی بیوی کہتی ہے: ”ہفتے اور اتوار کو گھر پر وقت گزارنا ہفتے کے باقی دنوں کے دوران خاندان کیساتھ نہ ہونے کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا ہے۔ . . . کیا آپ پورا ہفتہ کھائے بغیر رہ کر ہفتے اور اتوار کو پورے ہفتے کا کھانا کھا سکتے ہیں؟“
سخت کوشش درکار ہے
یہ کہنا تو آسان ہے کہ خاندان میں اچھا رابطہ ہونا چاہئے مگر اسے عمل میں لانا مشکل ہوتا ہے۔ ایک والد کیلئے روزی کمانے اور خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے تقاضے یا ایک کام کرنے والی ماں کیلئے خاندان کیساتھ وقت گزارنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ اپنے حالات سے مجبور گھر سے دور رہنے والے بہتیرے لوگ ٹیلیفون اور خط کے ذریعے باقاعدہ رابطہ رکھتے ہیں۔ تاہم خواہ آپ گھر میں اکٹھے ہیں یا نہیں، اچھا خاندانی رابطہ قائم رکھنے کیلئے سرتوڑ کوشش درکار ہے۔
خاندان کے ساتھ رابطے کی ضرورت کو نظرانداز کرنے والے والدین کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ ایک والد جو اپنے خاندان کے ساتھ کم وقت گزارتا تھا حتیٰکہ ان کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتا تھا، اُسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ اُس کا بیٹا متشدّد بن گیا اور اُس کی بیٹی دکانوں سے چوری کرتی ہوئی پکڑی گئی۔ ایک اتوار کی صبح جب باپ گالف کورس جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا تو بیٹے نے شدید ردِعمل دکھایا: ”کیا اس گھر میں صرف ماں ہی رہتی ہے؟“ وہ چلا اٹھا۔ ”خاندان میں ہر فیصلہ ماں ہی کرتی ہے۔ ابا جان آپ کبھی نہیں کرتے . . .“ لڑکے نے نہایت افسوس کے ساتھ کہا۔
ان الفاظ نے باپ کو سوچنے پر مجبور کر دیا۔ انجامکار اُس نے فیصلہ کِیا کہ وہ سب سے پہلے خاندان کیساتھ ناشتہ کِیا کریگا۔ شروع میں تو صرف وہ اور اُسکی بیوی ہی موجود ہوتے تھے۔ بالآخر بچے بھی اس میں شامل ہو گئے اور ناشتے کی میز رابطے کا مرکز بن گئی۔ یہ خاندان کے رات کے کھانے پر بھی باہم جمع ہونے پر منتج ہوا۔ یوں وہ شخص اپنے خاندان کو مکمل طور پر بکھر جانے سے بچانے کی راہ پر گامزن تھا۔
خدا کے کلام سے مدد
بائبل والدین کی اپنے بچوں کے ساتھ رابطہ رکھنے کیلئے وقت نکالنے کی حوصلہافزائی کرتی ہے۔ موسیٰ نبی کے ذریعے اسرائیلیوں کو ہدایت دی گئی تھی: ”سن اَے اؔسرائیل! خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہمارا خدا ایک ہی [یہوواہ] ہے۔ تُو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت سے [یہوواہ] اپنے خدا سے محبت رکھ۔ اور یہ باتیں جنکا حکم آج میں تجھے دیتا ہوں تیرے دل پر نقش رہیں۔ اور تُو انکو اپنی اولاد کے ذہننشین کرنا اور گھر بیٹھے اور راہ چلتے اور لیٹتے اور اُٹھتے وقت انکا ذکر کِیا کرنا۔“ (استثنا ۶:۴-۷) جیہاں، ہم میں سے خدا کے کلام کو اپنے بچوں کے دلودماغ میں نقش کرنے کے خواہاں والدین کو اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزرانے کیلئے پیشقدمی کرنے کی ضرورت ہے۔
دلچسپی کی بات ہے کہ ۱۹۹۷ میں ۱۲،۰۰۰ سے زیادہ نوعمر امریکیوں کے مسبوقالذکر سروے نے آشکارا کِیا کہ ”ایک مذہب رکھنے کا دعویٰ کرنے والے . . . تقریباً ۸۸ فیصد لوگوں کے خیال میں مذہب اور دُعا کا خاص مقصد تحفظ فراہم کرنا تھا۔“ سچے مسیحی جانتے ہیں کہ گھر پر موزوں مذہبی تعلیم نوجوانوں کو منشیات کے ناجائز استعمال، جذباتی دباؤ، خودکشی، تشدد اور دیگر ایسی چیزوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
بعض والدین اپنے خاندان کے لئے وقت نکالنا مشکل محسوس کرتے ہیں۔ بالخصوص یہ تنہا کفالت کرنے والی ماؤں کے سلسلے میں درست ہے جو اپنے بچوں کیساتھ خوشی سے وقت گزارنا چاہتی ہیں تاہم اُنہیں ملازمت کرنی پڑتی ہے۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کیلئے بیشقیمت وقت کیسے نکال سکتی ہیں؟ بائبل تاکید کرتی ہے، ”دانائی اور تمیز کی حفاظت کر۔“ (امثال ۳:۲۱) والدین خاندان کیلئے وقت نکالنے کیلئے ”تمیز“ کو استعمال کر سکتے ہیں۔ مگر کیسے؟
اگر آپ ایک ملازمتپیشہ ماں ہیں جو دنبھر کے کام سے تھکیماندہ محسوس کرتی ہیں تو بچوں کو اپنے ساتھ کھانا پکانے کیلئے کہنا کیسا ہے؟ اسطرح سے اکٹھے ملکر کام کرتے ہوئے گزارا گیا وقت ایک دوسرے کے زیادہ قریب آنے کا موقع فراہم کریگا۔ شروع شروع میں بچوں کو اس میں شامل کرنا شاید زیادہ وقت کا تقاضا کرے۔ تاہم جلد ہی آپ اسے پُرلطف اور وقت کے استعمال کے سلسلے میں نفعبخش پائینگی۔
شاید آپ ایک والد ہیں جس کے پاس ہفتے کے آخر پر کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ کیوں نہ ان میں سے چند ایک کام اپنے بچوں کیساتھ ملکر کریں؟ جب آپ ملکر کام کرتے ہیں تو آپ نہ صرف اُن سے باتچیت کر سکتے ہیں بلکہ اُنہیں بیشقیمت تربیت بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ اپنے بچوں کے ذہن میں خدا کا کلام نقش کرنے کے سلسلے میں بائبل حوصلہافزائی کرتی ہے کہ ’گھر بیٹھے، راہ چلتے‘—درحقیقت ہر موقع پر اُن سے باتچیت کریں۔ ملکر کام کرتے وقت بچوں کیساتھ گفتگو کرنا ”دانائی“ کا اظہار ہے۔
اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنا دائمی اجر کا باعث ہے۔ ایک بائبل مثل کہتی ہے، ”مشورتپسند کے ساتھ حکمت ہے“۔ (امثال ۱۳:۱۰) اپنے خاندان کیساتھ گفتگو کرنے کیلئے وقت نکالنے سے آپ اُنہیں روزمرّہ زندگی کی جدوجہد کیلئے دانشمندانہ راہنمائی فراہم کرنے کے قابل ہونگے۔ آج فراہم کی جانے والی ایسی راہنمائی مستقبل میں بہت سا وقت اور دلی صدمے سے بچا سکتی ہے۔ مزیدبرآں، یہ آپکی اور اُنکی خوشی کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسی راہنمائی فراہم کرنے کیلئے آپکو حکمت کے عظیم ماخذ، خدا کے کلام، بائبل سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے اپنے بچوں کو تعلیم دینے اور اپنے خاندان کے قدموں کی راہنمائی کرنے کیلئے استعمال کریں۔—زبور ۱۱۹:۱۰۵۔
[صفحہ 4 پر تصویر]
اپنے والدین کے ساتھ قریبی رشتہ قائم رکھنے والے نوجوانوں میں جذباتی دباؤ کا شکار ہونے کے امکانات بہت کم ہیں
[صفحہ 5 پر تصویر]
اچھا رابطہ خاندانی زندگی میں بھرپور اجر کا باعث بنتا ہے
[صفحہ 6 پر تصویر]
جب آپ اپنے بچے کے ساتھ ملکر کام کرتے ہیں تو آپ اُس سے باتچیت کرتے ہوئے بیشقیمت تربیت فراہم کر سکتے ہیں