یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏4 ص.‏ 23-‏27
  • فردوس کی تلاش

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • فردوس کی تلاش
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • واپس دیہی علاقوں کی طرف
  • خدا پر ایمان جاگ اُٹھتا ہے
  • میری دُعاؤں کا جواب
  • روحانی ترقی کرنا
  • مصیبت میں مدد
  • ایک بہتر چیز کیلئے کوشش کرنا
  • بیت‌ایل—‏ایک شاندار روحانی فردوس
  • کیا آپ خود کو دستیاب رکھ سکتے ہیں؟‏
    ہماری بادشاہتی خدمتگزاری ۲۰۰۱
  • کیا آپ کے لئے یہ بہترین پیشہ ثابت ہو سکتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • مَیں نے کبھی سیکھنا نہیں چھوڑا
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2024ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏4 ص.‏ 23-‏27

فردوس کی تلاش

پاسکل سٹیزی کی زبانی

رات کافی گزر چکی تھی اور شمالی فرانس کے شہر بیزیا کی سڑکیں سنسان تھیں۔ مذہبی کتابوں کی ایک دُکان کی حال ہی میں رنگ کی گئی دیوار کو دیکھ کر مَیں اور میرے دوست نے اُس پر جرمن فلاسفر نیٹشے کے یہ الفاظ بڑے بڑے سیاہ حروف میں لکھ دئے:‏ ’‏معبود مُردہ‌باد۔ سپرمین زندہ‌باد!‏‘‏ تاہم کیا چیز مجھے یہاں تک لے آئی تھی؟‏

مَیں فرانس میں ۱۹۵۱ میں اطالوی حسب‌نسب سے تعلق رکھنے والے کیتھولک خاندان میں پیدا ہوا۔ بچپن میں مَیں اپنے خاندان کیساتھ اٹلی کے جنوب میں چھٹیاں گزارنے جایا کرتا تھا۔ وہاں ہر گاؤں میں کنواری مریم کا بت ہوتا تھا۔ مَیں نے—‏مکمل طور پر بے‌اعتقادی کے عالم میں اپنے نانا کے ساتھ ان خوب آراستہ مجسّموں کے پیچھے پیچھے پہاڑوں سے ہو کر گزرنے والے بیشمار جلوسوں میں شرکت کی تھی۔ مَیں نے اپنی تعلیم جیزواٹس فرقے کے ایک مذہبی سکول سے مکمل کی۔ تاہم، مجھے یاد نہیں کہ مَیں نے وہاں کوئی ایسی بات سنی ہو جس نے خدا پر میرے ایمان کو مضبوط کِیا ہو۔‏

جب مَیں نے مونٹ‌پیلی‌ائیر میں علمِ‌طب کا مطالعہ کرنے کیلئے اندراج کروایا تو مَیں نے اپنی زندگی کے مقصد کی بابت سوچنا شروع کِیا۔ میرے والد کے جنگی زخمی ہونے کی وجہ سے ہر وقت ڈاکٹر اُسکے پاس موجود رہتے تھے۔ لوگوں کو جنگ کی تباہ‌کاریوں سے صحت‌یاب کرنے کیلئے اتنا زیادہ وقت لگانے اور کوشش کرنے کی بجائے کیا جنگ کو ختم کرنا بہتر نہیں ہوگا؟ پھربھی، ویت‌نام میں جنگ زوروں پر تھی۔ مثال کے طور پر میرے نزدیک پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کا منطقی حل، اسکی بنیادی وجہ—‏تمباکو—‏کو ختم کرنا تھا۔ اس کے علاوہ ترقی‌پذیر ممالک میں ناقص غذا کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور امیر ممالک میں بسیارخوری سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی بابت کیا ہے؟ افسوسناک نتائج کا حل تلاش کرنے کی بجائے کیا اُنکے اسباب کو ختم کرنا زیادہ بہتر نہیں ہوگا؟ زمین پر اتنی زیادہ تکلیف کیوں ہے؟ مَیں محسوس کرتا تھا کہ خودکشی کی طرف مائل اس معاشرے کے ساتھ کوئی سنگین مسئلہ ہے اور میرے نزدیک اسکی ذمہ‌دار حکومتیں تھیں۔‏

میری پسندیدہ کتاب کا مصنف ایک مُلک‌دشمن شخص تھا اور مَیں اُسی میں سے جملے لیکر دیواروں پر لکھا کرتا تھا۔ آہستہ آہستہ مَیں بھی ایک مُلک‌دشمن ایمان یا اخلاقی قوانین سے عاری حکومت کا دشمن بن گیا جو کسی خدا یا مالک کو پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے نزدیک خدا اور مذہب امیر اور طاقتور لوگوں کی ایجاد تھے تاکہ وہ باقی لوگوں پر حکومت کر سکیں اور ہم سے ناجائز فائدہ اُٹھا سکیں۔ ایسے لگتا تھا کہ وہ کہتے ہیں ’‏زمین پر ہمارے لئے سخت محنت کرو تو آسمانی فردوس میں تمہارا اجر بڑا ہوگا۔‘‏ تاہم معبودوں کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ لوگوں کو مطلع کئے جانے کی ضرورت تھی۔ دیواروں پر لکھنا اُن کو مطلع کرنے کا ایک طریقہ تھا۔‏

نتیجتاً، میری تعلیم دوسرے درجے پر چلی گئی تھی۔ اِسی دوران مَیں نے جغرافیہ اور ماحولیات پڑھنے کیلئے مونٹ‌پیلی‌ائیر کی ایک اور یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا جہاں بغاوت کا راج تھا۔ جتنا زیادہ مَیں نے ماحولیات کا مطالعہ کِیا، ہمارے خوبصورت سیارے کو آلودہ کرنے والے کاموں کو دیکھ کر مجھے اُتنی ہی زیادہ کراہیت ہونے لگی۔‏

ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں، مَیں مختلف گاڑیوں سے لفٹ لیکر یورپ میں ہزاروں کلومیٹر کا سفر کِیا کرتا تھا۔ سفر میں سینکڑوں ڈرائیوروں سے بات‌چیت کے دوران مَیں نے انسانی معاشرے کو ایذا پہنچانے والی بدکاری اور تنزلی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ ایک مرتبہ فردوس کی تلاش میں، مَیں کریتے کے خوبصورت جزیرے کے چند دلکش ساحلوں پر پہنچا مگر وہ بھی تیل سے ڈھکے پڑے تھے۔ مجھے بہت افسوس ہوا۔ کیا ساری زمین پر کہیں فردوس کا کوئی حصہ باقی رہ گیا ہے؟‏

واپس دیہی علاقوں کی طرف

فرانس میں ماہرینِ‌ماحولیات معاشرے کی خراب حالت کیلئے دیہی علاقوں کی طرف واپس جانے کی حمایت کر رہے تھے۔ مَیں اپنے ہاتھوں سے کام کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا مَیں نے شمالی فرانس میں سیوی‌نیز کی پہاڑی وادی میں ایک چھوٹے گاؤں میں پتھروں سے بنا ہوا ایک پُرانا مکان خرید لیا۔ دروازے پر، مَیں نے امریکی ہپیوں کا نعرہ ”‏موجودہ فردوس“‏ لکھ دیا۔ ایک نوجوان جرمن لڑکی جو اسی علاقے کی سیاحت کر رہی تھی میرے ساتھ رہنے لگی۔ کسی میئر یعنی حکومت کے کسی نمائندے کے سامنے نکاح پڑھوانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ نیز چرچ میں شادی کروانے کی بابت تو سوچنا بھی دور کی بات تھی!‏

بیشتراوقات ہم ننگے پاؤں چلتے اور میرے سر اور داڑھی کے بال بہت بڑھے ہوئے تھے۔ سبزیاں اور پھل اُگانا مجھے بہت دلکش لگتا تھا۔ گرمیوں میں آسمان نیلا ہوتا تھا اور جھینگر گیت گاتے تھے۔ پھول بہت خوشبودار تھے اور بحیرۂ‌روم کے پھل—‏انگور اور انجیر—‏جنہیں ہم کاشت کرتے تھے بڑے ہی رسیلے ہوتے تھے!‏ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ ہم نے فردوس میں جگہ حاصل کر لی ہے۔‏

خدا پر ایمان جاگ اُٹھتا ہے

یونیورسٹی میں، مَیں نے خلیاتی حیاتیات، اور جنین کی تشکیل‌ونمود اور علم‌الابدان کا مطالعہ کِیا تھا ان نظاموں کی ہم‌آہنگی اور پیچیدگی نے مجھ پر بہت گہرا اثر ڈالا تھا۔ اب چونکہ مَیں ہر روز تخلیق کے مظاہر کا مشاہدہ اور اُن پر غور کر سکتا تھا اسلئے مَیں اس کی خوبصورتی کیلئے تحسین‌وستائش کے تاثرات سے معمور ہو گیا۔ ہر روز، کتابِ‌تخلیق میرے سامنے کھلتی رہی۔ ایک روز پہاڑیوں میں لمبی سیر کرنے اور زندگی پر گہری سوچ‌بچار کرنے کے بعد مَیں اس نتیجے پر پہنچا کہ کوئی خالق ضرور ہے۔ مَیں نے اپنے دل میں خدا پر ایمان رکھنے کا فیصلہ کِیا۔ پہلے مَیں اپنے دل کو کھوکھلا اور تکلیف‌دہ تنہائی محسوس کرتا تھا۔ جس دن مَیں نے خدا کا یقین کرنا شروع کِیا، اُسی دن مَیں نے اپنے آپ سے کہا، ’‏پاسکل، تم پھر کبھی اکیلے نہیں ہو گے۔‘‏ یہ ایک غیرمعمولی احساس تھا۔‏

جلد ہی، میری ساتھی اور میرے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی—‏امینڈن۔ وہ میری آنکھوں کا تارا تھی۔ مَیں نے چونکہ خدا پر یقین کرنا شروع کر دیا تھا اِسلئے مَیں اُن چند اخلاقی قوانین کا احترام کرنے لگا جن سے مَیں واقف تھا۔ مَیں نے چوری کرنا اور جھوٹ بولنا چھوڑ دیا اور مَیں نے جلد ہی یہ محسوس کر لیا کہ اس نے اردگرد کے لوگوں کیساتھ بہتیرے مسائل میں اُلجھنے سے بچنے میں میری مدد کی۔ جی‌ہاں، ہمارے اپنے مسائل تھے اور میرا فردوس بالکل ویسا نہیں تھا جسکی مَیں نے آرزو کی تھی۔ انگور کاشت کرنے والے مقامی لوگ نقصاندہ کیڑوں اور جڑی‌بوٹیوں کو ختم کرنے کیلئے ادویات استعمال کرتے تھے جو میری فصلوں کو بھی آلودہ کرتی تھیں۔ بدکاری کے بارے میں میرے سوال کا ابھی تک جواب نہیں ملا تھا۔ کیا چیز باقی تھی، اگرچہ مَیں نے خاندانی زندگی کی بابت بہت کچھ پڑھا تھا تو بھی اس نے میری ساتھی کے ساتھ گرماگرم بحث کو نہ روکا۔ ہمارے چند ہی دوست تھے اور جو تھے وہ بھی جھوٹے تھے؛ بعض نے تو میری ساتھی کو مجھے چھوڑ دینے پر اُکسایا۔ ایک بہتر فردوس کا ہونا یقینی تھا۔‏

میری دُعاؤں کا جواب

اپنے طریقے سے مَیں اکثر خدا سے زندگی میں راہنمائی حاصل کرنے کے لئے دُعا کرتا تھا۔ ایک اتوار کی صبح آئرین لوپاس نامی ایک خاتون اپنے چھوٹے سے بیٹے کیساتھ ہمارے دروازے پر آئی۔ وہ یہوواہ کے گواہوں میں سے تھی۔ جو کچھ وہ کہنا چاہتی تھی مَیں نے سنا اور دوسری ملاقات کی پیشکش کو قبول کر لیا۔ دو آدمی مجھ سے ملنے آئے۔ اپنی گفتگو سے مَیں نے دو باتیں یاد رکھیں،—‏فردوس اور خدا کی بادشاہت۔ مَیں نے یہ باتیں اپنے دل میں رکھیں اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ مَیں سمجھ گیا کہ اگر مجھے صاف ضمیر اور حقیقی خوشی حاصل کرنا ہے تو مجھے اپنی زندگی کو خدا کے معیاروں کی مطابقت میں لانا ہوگا۔‏

اپنی زندگی کو خدا کے کلام کی مطابقت میں لانے کے لئے پہلے تو میری ساتھی مجھ سے شادی کرنے پر رضامند تھی۔ تاہم وہ خدا اور اُس کے قوانین کا تمسخر اُڑانے والے لوگوں کی بُری صحبت میں پڑ گئی۔ موسمِ‌بہار کی ایک شام گھر آنے پر مجھے شدید دھچکا لگا۔ ہمارا گھر خالی تھا۔ میری ساتھی ہماری تین سالہ بیٹی کو ساتھ لیکر جا چکی تھی۔ مَیں بہت دنوں تک بے‌سود اُنکی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔ خدا کو الزام دینے کی بجائے مَیں نے اُس سے مدد کے لئے دُعا کی۔‏

اسکے کچھ ہی دیر بعد، مَیں نے بائبل لی اور اپنے انجیر کے درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑھنا شروع کر دی۔ مَیں اُس کی باتوں میں محو ہوتا چلا گیا۔ اگرچہ مَیں نے ماہرینِ‌تحلیل‌نفسی اور ماہرینِ‌نفسیات کی ہر طرح کی کتابوں کو پڑھا تھا تو بھی مَیں نے ایسی حکمت کہیں نہیں پائی تھی۔ یہ کتاب ضرور الہٰی طور پر مُلہَم تھی۔ یسوع کی تعلیمات اور انسانی فطرت سے اُسکی واقفیت نے مجھے حیران کر دیا۔ مجھے زبور سے بہت تسلی ملی اور امثال میں موجود عملی حکمت نے مجھے سحرزدہ کر دیا۔ مجھے جلد ہی احساس ہو گیا کہ تخلیق کا مطالعہ اگرچہ کسی کے خدا کے قریب آنے کا عمدہ ذریعہ ہے تو بھی اُس سے ”‏اُسکی راہوں کے فقط کنارے“‏ ہی آشکارا ہوتے ہیں۔—‏ایوب ۲۶:‏۱۴‏۔‏

گواہ میرے پاس دو کتابیں سچائی جو باعثِ‌ابدی زندگی ہے اور اپنی خاندانی زندگی کو خوشحال بنانا بھی چھوڑ گئے تھے۔‏a اُن کو پڑھ کر میری آنکھیں کھل گئیں۔ سچائی کی کتاب نے یہ سمجھنے میں میری مدد کی کہ انسان کو ہر طرف پھیلی ہوئی آلودگی، جنگوں، بڑھتے ہوئے تشدد اور نیوکلیائی تباہی کا خطرہ کیوں درپیش ہے۔ چنانچہ جس طرح مَیں اپنے باغیچے سے لال آسمان کو دیکھ کر اگلے دن اچھے موسم کی خبر پاتا تھا اُسی طرح یہ واقعات بھی ثابت کر رہے تھے کہ خدا کی بادشاہت قریب ہے۔ جہاں تک خاندانی زندگی کی کتاب کا تعلق ہے تو مَیں اِسے اپنی ساتھی کو دکھانے کی خواہش رکھتا تھا اور اُسے بتانا چاہتا تھا کہ اگر ہم بائبل اصولوں کو عمل میں لاتے ہیں تو ہم خوش رہ سکتے ہیں۔ تاہم اب ایسا ممکن نہیں تھا۔‏

روحانی ترقی کرنا

مَیں مزید جاننا چاہتا تھا، لہٰذا مَیں نے ایک گواہ، رابرٹ سے درخواست کی کہ وہ مجھے ملنے کیلئے آئے۔ اُس کی حیرت قابلِ‌دید تھی جب مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں بپتسمہ لینا چاہتا ہوں، پس ایک بائبل مطالعہ شروع ہو گیا۔ مَیں نے فوراً سیکھی ہوئی باتوں کی بابت دوسروں سے بات‌چیت کرنا اور وہ مطبوعات تقسیم کرنا شروع کر دیں جو مَیں نے کنگڈم‌ہال سے حاصل کی تھیں۔‏

اپنی کفالت کرنے کیلئے مَیں نے راج‌گیری کا کورس کرنے کیلئے داخلہ لے لیا۔ اس بات سے واقف ہوتے ہوئے کہ خدا کا کلام کسی شخص کی بھلائی کیلئے کیا کچھ کر سکتا ہے، مَیں نے ساتھی طالبعلموں اور اساتذہ کو گواہی دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ ایک صبح راہداری میں میری ملاقات سرج سے ہوئی۔ اُس کے ہاتھ میں کچھ رسالے تھے۔ مَیں نے اُس سے کہا، ”‏مجھے لگتا ہے کہ آپ پڑھنے کے شوقین ہیں۔“‏ ”‏ہاں، مگر مَیں اس سے اکتا گیا ہوں۔“‏ مَیں نے اُس سے پوچھا، ”‏کیا آپ کوئی ایسی چیز پسند کریں گے جو پڑھنے کیلئے واقعی اچھی ہو؟“‏ ہم نے خدا کی بادشاہت کی بابت بہت اچھی بات‌چیت کی جس کے بعد اُس نے کچھ بائبل لٹریچر قبول کر لیا۔ اگلے ہفتے وہ میرے ساتھ کنگڈم ہال آیا اور بائبل مطالعہ شروع ہو گیا۔‏

ایک دن مَیں نے رابرٹ سے پوچھا کہ کیا مَیں گھربہ‌گھر کی منادی میں جا سکتا ہوں۔ وہ اپنی الماری کی طرف گیا اور میرے لئے ایک سوٹ نکال لایا۔ اگلے اتوار مَیں پہلی مرتبہ اُس کیساتھ خدمتگزاری میں گیا۔ آخرکار مَیں نے، ۷ مارچ، ۱۹۸۱ میں بپتسمے کے ذریعہ یہوواہ خدا کیلئے اپنی مخصوصیت کا اظہار کِیا۔‏

مصیبت میں مدد

اسی دوران مجھے معلوم ہوا کہ امینڈن اور اُس کی ماں ایک دوسرے ملک میں رہ رہی ہیں۔ افسوس کہ اُسکی ماں نے—‏جس ملک میں وہ رہ رہی تھی اُس کے آئین کے مطابق، قانونی طور پر—‏مجھے اپنی بیٹی سے ملنے سے روک دیا۔ مَیں بے‌حد پریشان ہوا۔ امینڈن کی ماں نے شادی کر لی تھی اور میری بے‌بسی اُس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب مجھے یہ نوٹس ملا کہ اُسکے شوہر نے میری بیٹی کو میری رضامندی کے بغیر گود لے لیا ہے۔ اپنی بچی پر میرا کوئی اختیار نہیں رہا تھا۔ قانونی کارروائی کے باوجود مجھے ملاقات کا حق بھی نہیں تھا۔ مجھے محسوس ہوتا کہ میری کمر پر بھاری بوجھ دھرا ہے، میرا درد بہت شدید تھا۔‏

تاہم یہوواہ کے کلام نے مجھے بہت طریقوں سے سنبھالے رکھا۔ ایک دن جب مَیں شدید کرب میں مبتلا تھا تو مَیں امثال ۲۴:‏۱۰ کے الفاظ کو بار بار دہراتا رہا:‏ ”‏اگر تُو مصیبت کے دن بیدل ہو جائے تو تیری طاقت بہت کم ہے۔“‏ اس آیت نے میری مدد کی کہ مَیں بالکل ماندہ نہ ہو جاؤں۔ ایک اَور موقع پر، اپنی بیٹی سے ملنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد، مَیں کتابوں والے بیگ کا ہینڈل پوری مضبوطی سے پکڑ کر خدمتگزاری میں چلا گیا۔ ایسے مشکل لمحات میں مَیں زبور ۱۲۶:‏۶ کی صداقت کا تجربہ کر سکتا تھا جو بیان کرتی ہے:‏ ”‏جو روتا ہوا بیج بونے جاتا ہے وہ اپنے پولے لئے ہوئے شادمان لوٹیگا۔“‏ ایک اہم سبق جو مَیں نے سیکھا وہ یہ ہے کہ جب آپ سنگین آزمائشوں کا شکار ہوں تو ایک مرتبہ جب آپ وہ سب کچھ کر لیتے ہیں جو آپ کر سکتے ہیں تو اُنہیں پسِ‌پُشت ڈال کر یہوواہ کی خدمت میں عزمِ‌مُصمم کیساتھ بڑھتے جائیں۔ اپنی خوشی برقرار رکھنے کا بس یہی ایک طریقہ ہے۔‏

ایک بہتر چیز کیلئے کوشش کرنا

اُن تمام تبدیلیوں کو دیکھنے کے بعد جو مَیں نے کی تھیں میرے عزیز والدین نے مجھے یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھنے کے سلسلے میں مدد کی پیشکش کی۔ مَیں نے اُنکا شکریہ ادا کِیا تاہم اب میری منزل کوئی اَور تھی۔ سچائی نے مجھے انسانی فیلسوفی، تصوف اور علمِ‌نجوم سے آزاد کر دیا تھا۔ اب مجھے ایسے سچے دوست مل گئے تھے جو کبھی بھی ایک دوسرے کو جنگ میں قتل نہیں کرینگے۔ نیز مجھے اپنے سوالوں کا جواب مل گیا تھا کہ زمین پر اتنی تکلیف کیوں ہے۔ مَیں شکرگزاری کے اظہار میں اپنی پوری طاقت سے خدا کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔ یسوع نے خود کو مکمل طور پر خدمتگزاری کیلئے وقف کر دیا تھا اور مَیں بھی اُسکے نمونے کی پیروی کرنا چاہتا تھا۔‏

۱۹۸۳ میں، مَیں اپنا راج‌گیری کا کاروبار چھوڑ کر کُل‌وقتی خادم بن گیا۔ اپنی دعاؤں کے جواب میں مجھے ایک پارک میں جُزوقتی ملازمت مل گئی تاکہ مَیں اپنی کفالت کر سکوں۔ سرج، وہ نوجوان شخص جسے مَیں نے راج‌گیری کے سکول میں گواہی دی تھی، اُس کے ساتھ پائنیر سکول میں حاضر ہونا کسقدر مسرورکُن تھا!‏ تین سال تک ریگولر پائنیر خدمت کرنے کے بعد، میرے اندر یہوواہ کی خدمت میں مزید وسعت پیدا کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ پس ۱۹۸۶ میں مجھے پکچرزکیو نامی قصبے میں سپیشل پائنیر مقرر کر دیا گیا تھا جو پیرس سے زیادہ دور نہیں ہے۔ شام کو گھر آ کر مَیں گھٹنے ٹیک کر اس شاندار دن کیلئے یہوواہ کا شکر ادا کرتا جو مَیں نے اُسکی بابت دوسروں سے بات‌چیت کرتے ہوئے گزارا تھا۔ درحقیقت، زندگی میں میری دو سب سے بڑی خوشیاں خدا سے بات کرنا اور خدا کی بابت بات کرنا ہیں۔‏

میرے لئے ایک اَور خوشی میری ۶۸سالہ ماں کا بپتسمہ تھا جو فرانس کے جنوب میں واقع سباسن نامی گاؤں میں رہتی تھی۔ جب میری ماں نے بائبل کا مطالعہ شروع کِیا تو مَیں نے اُسے دی واچ‌ٹاور اور اویک!‏ کا سالانہ چندہ بھیجا۔ وہ معقول خاتون تھی اسلئے اس نے جلد ہی اُس سب میں جو وہ پڑھ رہی تھی، سچائی کو پہچان لیا۔‏

بیت‌ایل—‏ایک شاندار روحانی فردوس

جب واچ‌ٹاور سوسائٹی نے سپیشل پائنیر خدمت کرنے والوں کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کِیا تو مَیں نے منسٹریل ٹریننگ سکول اور بیت‌ایل، فرانس میں یہوواہ کے گواہوں کے برانچ دفتر کیلئے درخواست دے دی۔ مَیں اس بات کا فیصلہ یہوواہ پر چھوڑنا چاہتا تھا کہ مَیں کس عمدگی سے اُسکی خدمت کر سکتا ہوں۔ کچھ ماہ بعد دسمبر ۱۹۸۹ میں مجھے لوئی‌ورز، شمال مغرب فرانس میں بیت‌ایل میں مدعو کِیا گیا۔ یہ ایک بہترین نتیجہ ثابت ہوا کیونکہ محل‌وقوع نے مجھے اس قابل بنایا کہ بالخصوص بیماری کی صورت میں اپنے والدین کی دیکھ‌بھال کرنے کیلئے اپنے بھائی اور بھابھی کی مدد کر سکوں۔ اگر مَیں میلوں دور مشنری خدمت میں ہوتا تو مَیں ایسا نہ کر سکتا۔‏

میری ماں مجھے ملنے کیلئے کئی مرتبہ بیت‌ایل آئی ہے۔ اگرچہ مجھ سے دور رہنا اُس کی قربانی تھی تو بھی وہ اکثر مجھ سے کہتی:‏ ”‏میرے بیٹے بیت‌ایل میں رہو۔ مَیں خوش ہوں کہ تم یہوواہ کی اسطرح خدمت کر رہے ہو۔“‏ افسوس کہ میرے والدین دونوں ہی فوت ہو چکے ہیں۔ مَیں انہیں حقیقی فردوس میں تبدیل‌شُدہ زمین پر دیکھنے کا بڑا مشتاق ہوں!‏

مجھے فی‌الحقیقت یقین ہے کہ ”‏آج“‏ اگر کسی گھر کو ”‏فردوس“‏ کہا جا سکتا ہے تو وہ ”‏خدا کا گھر“‏—‏بیت‌ایل ہے—‏اِسلئے کہ سب سے بڑھکر حقیقی فردوس روحانی ہے اور بیت‌ایل میں روحانیت کا ہی دوردورا ہوتا ہے۔ ہمارے پاس روح کے پھل پیدا کرنے کا موقع ہے۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ روزانہ کی آیت پر گفتگو بائبل اور بیت‌ایل خاندان کیساتھ مینارِنگہبانی کے مطالعے سے جو عمدہ روحانی خوراک ہم حاصل کرتے ہیں وہ بیت‌ایل خدمت کیلئے مجھے تقویت دیتی ہے۔ علاوہ‌ازیں روحانی سوچ رکھنے اور دہوں سے وفاداری کیساتھ یہوواہ کی خدمت کرنے والے بہن بھائیوں کی رفاقت بیت‌ایل کو ایک ایسی منفرد جگہ بنا دیتی ہے جہاں روحانی ترقی کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ مجھے اپنی بیٹی سے جدا ہوئے ۱۷ سال گزر چکے ہیں توبھی بیت‌ایل میں بہت سے نوجوان ہیں جنہیں مَیں اپنے بچے سمجھتا ہوں اور جنکی روحانی ترقی سے مَیں خوش ہوتا ہوں۔ گزشتہ آٹھ سال کے دوران میری سات مختلف تفویضات رہی ہیں۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں ہمیشہ آسان نہیں رہی ہیں تو بھی ایسی تربیت طویل‌المدت فائدے رکھتی تھیں۔‏

مَیں ایسے بیج اگایا کرتا تھا جو بڑھکر سو گنا پھل لاتے تھے۔ اسی طرح مَیں نے تجربہ کِیا کہ جب آپ بُرائی بوتے ہیں تو آپ اُس سے سو گنا بُرائی کاٹتے ہیں—‏نیز ایک نہیں بلکہ کئی فصلیں کاٹتے ہیں۔ تجربہ ایک ایسا سکول ہے جہاں اسباق کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ مَیں اُس سکول میں داخلے کی بجائے یہوواہ کے طریقوں سے پرورش پانے کو ترجیح دونگا۔ مسیحی والدین سے پرورش پانے والے نوجوان کتنے متشرف ہیں!‏ بِلاشُبہ یہوواہ کی خدمت میں اچھائی کا بیج بونا اور امن اور سلامتی کا سو گنا پھل کاٹنا کہیں بہتر ہے۔—‏گلتیوں ۶:‏۷، ۸‏۔‏

جب مَیں پائنیر تھا تو مَیں بعض‌اوقات مذہبی کتابوں کی اس دکان کے پاس سے گزرتا جس کی دیوار پر ہم نے باغیانہ نعرے لکھے تھے۔ مَیں اندر جا کر مالک سے زندہ خدا اور اُسکے مقاصد کی بابت بات‌چیت بھی کرتا تھا۔ جی‌ہاں، خدا زندہ ہے!‏ مزید یہ کہ یہوواہ، واحد سچا خدا ایک وفادار باپ بھی ہے جو اپنے بچوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ (‏مکاشفہ ۱۵:‏۴‏)‏ دُعا ہے کہ ساری اقوام میں سے جمِ‌غفیر زندہ خدا، یہوواہ کی خدمت اور حمد کرنے سے اب روحانی فردوس—‏اور بعد میں بحال‌شُدہ فردوس—‏کو حاصل کرے!‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a واچ‌ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک انکارپوریٹیڈ کی شائع‌کردہ۔‏

‏[‏صفحہ 26 پر تصویریں]‏

تخلیق کے عجائب سے متاثر ہو کر مَیں نے اپنے دل میں خدا پر ایمان رکھنے کا فیصلہ کِیا (‏دائیں)‏ آجکل بیت‌ایل خدمت میں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں