کمیونسٹ پابندی کے تحت ۴۰ سال سے زیادہ عرصہ
میخائیل واسلوح سواٹکسکی کی زبانی
اپریل ۱، ۱۹۵۶، کے دی واچٹاور نے بیان کِیا کہ اپریل ۱، ۷ اور ۸، ۱۹۵۱ کو یہوواہ کے گواہوں کا ”بڑا اخراج“ ہوا تھا۔ ”روس میں یہ تاریخیں یہوواہ کے گواہوں کیلئے ناقابلِفراموش ہیں،“ دی واچٹاور نے وضاحت کی۔ ”ان تین دنوں میں مغربی یوکرائن، سفید روس [بلارس]، بیسارےبیا، مالدیویا، لٹویہ، لیتھونیا اور استونیا میں پائے جانے والے تمام یہوواہ کے گواہوں کو—سات ہزار سے زیادہ مردوں اور عورتوں . . . کو ریڑھے پر لادا گیا اور اُنہیں ریل کے سٹیشن پر لے جاکر بیل گاڑیوں میں بھر کر دُور بھیج دیا گیا۔“
اپریل ۸، ۱۹۵۱ کو میری بیوی، میرے آٹھ ماہ کے بیٹے، والدین، چھوٹے بھائی اور دیگر بہت سے گواہوں کو ٹرنوپال، یوکرائن اور اسکے اردگرد کے علاقوں میں اُنکے گھروں سے نکال لیا گیا۔ بیل گاڑیوں میں بٹھائے جانے کے بعد اُنہوں نے تقریباً دو ہفتے تک سفر کِیا۔ آخرکار، اُنہیں جھیل بیکال کے مغرب میں سائبیرین ٹیگا (سب آرکٹک ووڈلینڈ) میں اُتار دیا گیا۔
مَیں اس اخراج میں کیوں شامل نہیں تھا؟ یہ بیان کرنے سے پہلے کہ اُسوقت مَیں کہاں تھا اور اسکے بعد ہم سب کے ساتھ کیا واقع ہوا، مَیں آپکو یہ بتاتا ہوں کہ مَیں یہوواہ کا ایک گواہ کیسے بنا۔
بائبل سچائی ہم تک پہنچتی ہے
ستمبر ۱۹۴۷ میں، جب مَیں صرف ۱۵ سال کا تھا تو دو یہوواہ کی گواہ سلاویاتن کے چھوٹے گاؤں میں ہمارے گھر پر آئیں جو ٹرنوپال سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور تھا۔ جب مَیں اور میری ماں ان دو نوجوان لڑکیوں کی بات سن رہے تھے—جن میں ایک کا نام ماریا تھا تو مَیں جانتا تھا کہ یہ محض ایک مختلف مذہب نہیں ہے۔ اُنہوں نے اپنے ایمان کی وضاحت کی اور ہمارے بائبل پر مبنی سوالات کا واضح جواب دیا۔
مَیں ایمان رکھتا تھا کہ بائبل خدا کا کلام ہے تاہم مَیں چرچ سے بہت مایوس تھا۔ نانا جان کہا کرتے تھے: ”پادری لوگوں کو دوزخ کی آگ میں اذیت سے خوفزدہ کرتے ہیں تاہم پادری خود کسی چیز سے نہیں ڈرتے۔ وہ غریب لوگوں کو دھوکا دیتے اور لوٹتے ہیں۔“ مجھے دوسری جنگِعظیم کے آغاز پر ہمارے گاؤں میں بسنے والے پولش لوگوں کے خلاف آتشزنی اور تشدد کے واقعات یاد ہیں۔ حیرانکُن بات یہ ہے کہ ان حملوں کو گریک کیتھولک پادیوں نے ترتیب دیا تھا۔ بعدازاں جب مَیں نے کئی درجن مقتولوں کو دیکھا تو مَیں ایسی سفاکی کی وجہ جاننے کیلئے متجسس تھا۔
جب مَیں نے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کِیا تو مجھے اس کی سمجھ آنے لگی۔ مَیں نے بائبل کی بنیادی سچائیاں سیکھیں جیسےکہ کوئی آتشی دوزخ نہیں اور یہ کہ شیطان ابلیس جھوٹے مذہب کو جنگ اور قتلوغارت کو فروغ دینے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ وقتاًفوقتاً مَیں اپنے ذاتی مطالعہ کے دوران رُک جاتا اور جو کچھ مَیں سیکھ رہا تھا اُس کے لئے یہوواہ کے حضور دلی شکرگزاری کی دُعا کرتا۔ مَیں نے اپنے بھائی سٹاک کو ان بائبل سچائیوں میں شریک کرنا شروع کر دیا اور جب اُس نے اُنہیں قبول کِیا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔
سیکھے ہوئے کو عمل میں لانا
مَیں نے ذاتی تبدیلی لانے کی ضرورت کو تسلیم کِیا اور فورا سگریٹنوشی ترک کر دی۔ مَیں نے منظم بائبل مطالعے کے لئے دوسروں کے ساتھ باقاعدہ جمع ہونے کی ضرورت کو بھی پہچان لیا۔ ایسا کرنے کے لئے مجھے جنگل میں سے ۱۰ کلومیٹر تک چل کر ایک ایسی خفیہ جگہ جانا پڑتا جہاں پر اجلاس منعقد ہوتے تھے۔ بعضاوقات چند خواتین ہی اجلاس پر پہنچ پاتیں اور اگرچہ مَیں بپتسمہیافتہ نہیں تھا تو بھی مجھے اجلاس منعقد کرنے کے لئے کہا جاتا۔
بائبل لٹریچر پاس رکھنا خطرناک تھا اور اسکے ساتھ پکڑے جانے کی صورت میں ۲۵ سال کی قید کی سزا ہو سکتی تھی۔ پھربھی میری خواہش تھی کہ میری ذاتی لائبریری ہو۔ ہمارے پڑوسیوں میں سے ایک نے یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ مطالعہ کِیا تھا تاہم خوف کی وجہ سے اُس نے چھوڑ دیا اور اپنا لٹریچر باغ میں دبا دیا تھا۔ مَیں یہوواہ کا بےحد شکرگزار ہوا جب اُس شخص نے وہ تمام کتابیں اور رسالے نکالے اور مجھے دینے پر راضی ہو گیا! مَیں نے اُنہیں والد کی شہد کی مکھیوں کے مصنوعی چھتّوں میں چھپا دیا جہاں دوسرے اُنکی تلاش کرنے کی بابت سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔
جولائی ۱۹۴۹ میں، مَیں نے اپنی زندگی یہوواہ کیلئے مخصوص کر دی اور اپنی مخصوصیت کے اظہار میں بپتسمہ لیا۔ یہ میری زندگی کا مبارکترین دن تھا۔ گواہ جس نے خفیہ بپتسمے کی تقریب منعقد کی تھی اُس نے اس بات پر زور دیا کہ سچا مسیحی بننا آسان نہیں ہے اور یہ کہ بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔ جلد ہی مَیں نے اُسکی بات کی صداقت کو جان لیا! اسکے باوجود، بپتسمہیافتہ گواہ کے طور پر میری زندگی کا آغاز خوشگوار تھا۔ اپنے بپتسمے کے دو ماہ بعد مَیں نے ماریا سے شادی کر لی، اُن دو گواہوں میں سے ایک جس نے مجھے اور میری والدہ کو سچائی سے متعارف کرایا تھا۔
میری پہلی آزمائش اچانک شروع ہوئی
اپریل ۱۶، ۱۹۵۰ کو جب مَیں پودگیٹسی قصبے سے گھر واپس آ رہا تھا کہ میرا سامنا چند فوجیوں سے ہوا اور اُنہیں میرے پاس کچھ بائبل لٹریچر ملا جو مَیں اپنے اسٹڈی گروپ پر لے کر جا رہا تھا۔ مجھے گرفتار کر لیا گیا۔ تحویل میں لئے جانے کے پہلے چند دنوں کے دوران مجھے چھڑی سے مارا گیا اور مجھے کچھ کھانے یا سونے کی اجازت نہ تھی۔ اس کے علاوہ سر پر ہاتھ رکھ کر ایک سو بیٹھک لگانے کا حکم دیا گیا تھا جسے پورا کرنا میرے بس میں نہ تھا۔ اس کے بعد مجھے ۲۴ گھنٹے کے لئے سرد، نمآلودہ تہہخانے میں ڈال دیا گیا۔
اس بدسلوکی کا مقصد میری مزاحمت کو کم کرنا اور مجھ سے معلومات حاصل کرنے کو آسان بنانا تھا۔ اُنہوں نے پوچھا ”تم نے یہ لٹریچر کہاں سے حاصل کِیا اور کس کے پاس لے جا رہے تھے؟“ مَیں نے کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا۔ پھر قانونی تقاضوں کا کچھ حصہ مجھے پڑھ کر سنایا گیا جس کی رو سے میرے خلاف کارروائی ہو سکتی تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ سوویت کے خلاف لٹریچر رکھنے یا پھیلانے کی سزا موت یا ۲۵ سال کی قید ہو سکتی تھی۔
”تم کونسی سزا پسند کرو گے؟“ اُنہوں نے پوچھا۔
”کوئی بھی نہیں،“ مَیں نے جواب دیا، ”تاہم میرا توکل یہوواہ پر ہے اور اُس کی مدد سے، مَیں ہر وہ چیز قبول کر سکتا ہوں جس کی وہ اجازت دیتا ہے۔“
حیرانکُن طور پر سات دنوں کے بعد اُنہوں نے مجھے رہا کر دیا۔ اس تجربے نے مجھے یہوواہ کے اس وعدے کی صداقت کی قدر کرنے میں مدد دی: ”مَیں تجھ سے ہرگز دستبردار نہ ہونگا اور کبھی تجھے نہ چھوڑونگا۔“—عبرانیوں ۱۳:۵۔
جب مَیں گھر پہنچا تو مَیں سخت بیمار تھا لیکن والد مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور جلد ہی مَیں صحتیاب ہو گیا۔ میرے والد اگرچہ خاندان کے باقی افراد کے مذہبی اعتقادات سے متفق نہیں تھے توبھی وہ پرستش کے سلسلے میں ہماری حمایت کرتے تھے۔
قید اور جلاوطنی
چند ماہ بعد سوویت فوج میں ملازمت کے لئے میرا انتخاب کِیا گیا۔ مَیں نے اپنے ضمیر پر مبنی اعتراض کی وضاحت کی۔ (یسعیاہ ۲:۴) پھربھی، فروری ۱۹۵۱ میں مجھے چار سال کی سزا سنائی گئی اور ٹرنوپال میں جیل بھیج دیا گیا۔ پھر مجھے ۱۲۰ کلومیٹر دور ایک بڑے شہر لیوف میں منتقل کر دیا گیا۔ وہاں قید میں ہی مجھے معلوم ہوا کہ بہت سے گواہوں کو سائبیریا بھیج دیا گیا ہے۔
۱۹۵۱ کی گرمیوں میں ہمارے ایک گروہ کو سائبیریا سے آگے مشرقِبعید میں بھیج دیا گیا۔ ہم نے ایک ماہ تک کوئی ۱۱،۰۰۰ کلومیٹر کا سفر کرتے ہوئے، ۱۱ منطقۂمیقات عبور کئے! ٹرین پر دو ہفتے سے زیادہ کے بعد صرف ایک دفعہ ہم ایک جگہ پر رُکے جہاں پر ہمیں غسل کرنے کی اجازت دی گئی۔ یہ نوووسیبرسک، سائبیریا میں ایک پبلک باتھ ہاؤس تھا۔
قیدیوں کے ایک بڑے ہجوم میں مَیں نے ایک شخص کو اونچی آواز میں یہ کہتے سنا: ”یہاں پر یہوناداب کے خاندان کا کون ہے؟“ اُسوقت ”یہوناداب“ کی اصطلاح زمین پر ابدی زندگی کی اُمید رکھنے والوں کی شناخت کرنے کیلئے استعمال کی جاتی تھی۔ (۲-سلاطین ۱۰:۱۵-۱۷؛ زبور ۳۷:۱۱، ۲۹) فوراً ہی بہتیرے قیدیوں نے اپنی شاخت گواہوں کے طور پر کرائی۔ کسقدر خوشی کے ساتھ ہم نے ایکدوسرے کو سلام کہا!
قید میں روحانی کارگزاری
نوووسیبرسک میں ہم نے ایک تعارفیلفظ ٹھہرایا جس سے ہم منزل پر پہنچ کر ایکدوسرے کی شناخت کر سکتے تھے۔ ہم سب جاپان کے سمندر پر قیدیوں کے ایک ہی کیمپ میں پہنچ گئے جو ولاڈوسٹاک سے دور نہ تھا۔ وہاں پر ہم نے بائبل مطالعہ کیلئے باقاعدہ اجلاس منظم کئے۔ ان پُختہ، عمررسیدہ بھائیوں کے ساتھ ہونا جنہیں طویل عرصے کیلئے قید کی سزا سنائی گئی تھی میرے لئے واقعی روحانی طور پر تقویتبخش ثابت ہوا۔ وہ باری باری اجلاس منعقد کرتے اور بائبل آیات کو استعمال کرتے ہوئے واچٹاور رسالے سے وہ نکات جو اُنہیں یاد تھے بیان کرتے تھے۔
سوالات پوچھے جاتے اور بھائی جواب دیتے تھے۔ ہم میں سے بہتیرے سیمنٹ کی خالی بوریوں میں سے کاغذ پھاڑ کر تبصرجات کو اُن پر نوٹ کر لیتے تھے۔ ہم نے اُن نوٹس کو محفوظ کر لیا اور اپنی ذاتی حوالہجات کی لائبریری کے طور پر استعمال کرنے کیلئے اُنہیں جِلد کر لیا۔ چند ماہ بعد، جنہیں لمبی سزائیں سنائی گئی تھیں اُنہیں سائبریا کے شمال میں کیمپوں میں بھیج دیا گیا۔ ہم میں سے تین نوعمر بھائیوں کو ناکوٹکا بھیج دیا گیا جو جاپان سے ۶۵۰ کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ایک شہر تھا۔ وہاں مَیں نے جیل میں دو سال گزارے۔
کبھیکبھار ہمیں دی واچٹاور کی کاپی حاصل ہو جاتی تھی۔ یہ ہمارے لئے مہینوں تک روحانی خوراک کا کام انجام دیتی تھی۔ دریںاثنا، ہمیں خط بھی موصول ہوئے۔ اپنے (جلاوطن) خاندان کی طرف سے موصول ہونے والے پہلے خط کو دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے بیان کِیا جیسےکہ دی واچٹاور کے شروع میں اقتباسشُدہ ہے، گواہوں کے گھروں پر حملہ کِیا گیا اور خاندانوں کو وہاں سے نکلنے کے لئے صرف دو گھنٹے دئے گئے۔
پھر اپنے خاندان کے ساتھ
اپنی چار سال کی سزا کے دو سال پورے ہونے کے بعد مجھے دسمبر ۱۹۵۲ میں رہا کر دیا گیا۔ میرے خاندان کو ٹیولن، سائبریا کے قریب گیدیلی کے ایک چھوٹے گاؤں میں بھیج دیا گیا تھا جہاں مَیں بھی اُن سے جا ملا۔ دوبارہ اُن کے ساتھ ملنا واقعی شاندار تھا—میرا بیٹا ایوان تقریباً تین سال کا تھا اور میری بیٹی اینا کوئی دو سال کی تھی۔ تاہم میری آزادی نسبتی تھی۔ میرا پاسپورٹ مقامی حکام نے ضبط کر لیا تھا اور مجھے کڑی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ مَیں گھر سے ۳ کلومیٹر سے زیادہ دور نہیں جا سکتا تھا۔ بعد میں مجھے ٹیولن کی مارکیٹ تک گھوڑے پر جانے کی اجازت مل گئی۔ محتاط رہتے ہوئے مَیں وہاں ساتھی گواہوں سے ملا۔
اُسوقت تک ہماری دو لڑکیاں، اینا اور نادیہ اور دو لڑکے ایوان اور کولے تھے۔ ۱۹۵۸ میں ہمارا ایک اور بیٹا ویلودے پیدا ہوا۔ اور پھر ۱۹۶۱ میں ہماری ایک اور بیٹی گیلیا پیدا ہوئی۔
کےجیبی (سابقہ ریاستی حفاظتی ایجنسی) نے بہت دفعہ مجھے روکا اور تفتیش کی۔ اُنکا مقصد نہ صرف یہ تھا کہ مجھ سے کلیسیا کے متعلق معلومات حاصل کریں بلکہ یہ بھی کہ یہ تاثر دیں کہ مَیں اُنکے ساتھ تعاون کر رہا تھا۔ لہٰذا وہ مجھے ایک شاندار ریستوران میں لے جاتے اور مسکراتے اور اُنکے ساتھ اچھا وقت گزارتے ہوئے میری تصویریں اتارنے کی کوشش کرتے۔ تاہم مَیں نے اُنکے محرک کا اندازہ لگا لیا تھا اور شعوری کوشش سے مَیں اپنے چہرے پر ناپسندیدگی کا تاثر قائم رکھتا تھا۔ جب بھی مجھے روکا جاتا، جوکچھ واقع ہوتا مَیں بھائیوں سے ٹھیک ٹھیک بیان کر دیتا۔ لہٰذا، اُنہیں کبھی میری وفاداری پر شُبہ نہیں ہوا تھا۔
کیمپوں سے رابطے
سالوں کے دوران، ہزاروں گواہوں کو قیدی کیمپوں میں رکھا گیا۔ اس وقت کے دوران ہم نے اپنے قیدی بھائیوں کیساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور اُنہیں لٹریچر فراہم کِیا۔ یہ کیسے کِیا جاتا تھا؟ جب کسی کیمپ سے کوئی بہن یا بھائی رہا ہوتا تو ہم اُن سے ایسے طریقے معلوم کر لیتے تھے جنکے ذریعے سخت نگرانی کے باوجود خفیہ طور پر لٹریچر اندر پہنچایا جا سکتا تھا۔ تقریباً دس سال تک ہم ان کیمپوں میں بھائیوں کو رسالے اور کتابیں فراہم کرنے کے قابل رہے جو کہ ہم پولینڈ اور دیگر ممالک سے حاصل کرتے تھے۔
ہماری بہت سی مسیحی بہنوں نے چھوٹی لکھائی میں لٹریچر کی ایسی نقول تیار کرنے میں گھنٹوں صرف کئے کہ پورا رسالہ ماچس کی ڈبیہ جیسی چھوٹی سی چیز میں رکھا جا سکتا تھا! ۱۹۹۱ میں، جب ہم پر سے پابندی اُٹھا لی گئی اور ہم چار رنگوں پر مشتمل خوبصورت رسالہ حاصل کر رہے تھے تو ہماری بہنوں میں سے ایک نے کہا: ”اب ہمیں بُھلا دیا جائیگا۔“ وہ غلطی پر تھی۔ اگرچہ انسان شاید بھول جائیں، توبھی ایسے وفادار اشخاص کے کام کو یہوواہ کبھی نہیں بھولیگا!—عبرانیوں ۶:۱۰۔
منتقلی اور المیے
۱۹۶۷ کے آخر میں ارکوٹسک میں میرے بھائی کے گھر کی تلاشی لی گئی۔ فلمیں اور بائبل لٹریچر کی کاپیاں پائی گئیں۔ اُسے مجرم قرار دیتے ہوئے تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ تاہم جب اُنہوں نے ہمارے گھر کی تلاشی لی تو اُنہیں کچھ نہ ملا۔ پھربھی حکام کو اس معاملے میں ہماری شمولیت کا یقین تھا، لہٰذا میرے خاندان کو علاقہ چھوڑنا پڑا۔ ہم نیوینمسک شہر کے مغرب میں تقریباً ۵،۰۰۰ کلومیٹر دور کاکوسس کے شہر میں چلے گئے۔ وہاں ہم نے غیررسمی گواہی دینا جاری رکھا۔
جون ۱۹۶۹ میں سکول کی پہلی چھٹی کے دن مصیبت ٹوٹ پڑی۔ ایک انتہائی وولٹیج کے بجلی کے ٹرانسفارمر کے پاس سے گیند حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہمارے ۱۲سالہ لڑکے، کولے کو بجلی کا شدید جھٹکا لگا۔ اُسکے جسم کا ۷۰ فیصد حصہ جل گیا۔ ہسپتال میں اُس نے مجھ سے پوچھا: ”کیا ہم دوبارہ اُس جزیرے پر جانے کے قابل ہونگے؟“ (وہ اُس جزیرے کی بات کر رہا تھا جہاں پر جانے سے ہم لطفاندوز ہوتے تھے۔) ”ہاں، کولے،“ مَیں نے کہا، ”ہم اُس جزیرے پر دوبارہ جائینگے۔ جب یسوع مسیح آپکو زندہ کریگا، ہم یقیناً اُس جزیرے پر جائینگے۔“ نیمبےہوشی کی حالت میں وہ اپنا پسندیدہ بادشاہتی گیت گا رہا تھا جو اُسے اپنے بگل پر کلیسیا کے آرکیسٹرا میں بجانا پسند تھا۔ تین دن کے بعد قیامت کی اُمید پر مکمل اعتماد کے ساتھ وہ وفات پا گیا۔
اگلے سال ہمارے ۲۰سالہ بیٹے ایوان کو جبری فوجی خدمت کے لئے کہا گیا۔ جب اُس نے ایسا کرنے سے انکار کِیا تو اُسے گرفتار کر لیا گیا اور اُس نے تین سال قید میں گزارے۔ ۱۹۷۱ میں مجھے جبری خدمت کے لئے کہا گیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں قید کی دھمکی دی گئی۔ میرا کیس کئی ماہ تک چلتا رہا۔ اس دوران میں میری بیوی کو کینسر ہو گیا اور اُسے بہت زیادہ توجہ کی ضرورت تھی۔ اس وجہ سے اُنہوں نے میرا کیس خارج کر دیا۔ ماریا ۱۹۷۲ میں وفات پا گئی۔ وہ ایک وفادار رفیق تھی جو اپنی موت تک یہوواہ کیلئے وفادار رہی۔
ہمارا خاندان غیرممالک میں پھیل جاتا ہے
مَیں نے ۱۹۷۳ میں نینا سے شادی کر لی۔ اُسکے والد نے ۱۹۶۰ میں اُسے گھر سے نکال دیا تھا کیونکہ وہ گواہ بن گئی تھی۔ وہ ایک سرگرم مناد اور اُن بہنوں میں سے تھی جنہوں نے کیمپوں میں پہنچانے کیلئے رسالوں کی نقول تیار کرنے میں سخت محنت کی تھی۔ میرے بچے بھی اُس سے محبت کرنے لگے تھے۔
نیوینمسک میں ہماری کارگزاری کی وجہ سے حکام پریشان ہو گئے اور ہمیں وہاں سے نکل جانے کے لئے مجبور کِیا۔ لہٰذا ۱۹۷۵ میں، میری بیوی، بیٹیاں اور مَیں جارجیہ میں کاکوسس کی جنوبی طرف چلے گئے۔ اُسی وقت میرے بیٹے ایوان اور ویلودے قازقستان کی جنوبی سرحد ڈیہیمبل کو چلے گئے۔
جارجیہ میں یہوواہ کے گواہوں کی کارگزاری کا ابھی آغاز ہی تھا۔ ہم نے بحیرۂاحمر کے ساحل پر گاگرا اور سوکھہمائی کے شہروں کے اندر اور اردگرد غیررسمی گواہی دی اور ایک سال کے بعد دس گواہوں نے پہاڑی دریا میں بپتسمہ لیا۔ جلد ہی حکام نے زور دیا کہ ہم علاقہ چھوڑ دیں اور ہم مشرقی جارجیہ میں منتقل ہو گئے۔ وہاں ہم نے بھیڑخصلت لوگوں کو تلاش کرنے کی اپنی کوشش کو تیزتر کر دیا اور یہوواہ نے ہمیں برکت دی۔
ہم چھوٹے گروپوں میں ملتے تھے۔ زبان ایک مسئلہ تھا کیونکہ ہم جارجیہ کی زبان نہیں جانتے تھے اور بعض جارجین اچھی طرح رشین نہیں بولتے تھے۔ شروع میں ہم نے صرف رشین لوگوں کیساتھ ہی مطالعہ کِیا۔ تاہم جلد ہی جارجیا کی زبان میں منادی کرنے اور تعلیم دینے کے کام نے ترقی کی اور اب جارجیہ میں ہزاروں گواہ ہیں۔
کےجیبی کے زیرِاثر ۱۹۷۹ میں، میرے آجر نے کہا کہ مَیں اُس کے مُلک میں نہیں رہ سکتا۔ یہ وہ وقت تھا جب میری بیٹی نادیہ اور نواسی ایک جانلیوا کار حادثے کے سبب موت کا شکار ہو گئیں۔ ایک سال قبل نیوینمسک میں میری والدہ نے یہوواہ کے وفادار گواہ کی طور پر وفات پائی تھی، اب میرے والد اور چھوٹا بھائی پیچھے رہ گئے تھے۔ لہٰذا ہم نے واپس وہاں جانے کا فیصلہ کِیا۔
صبر کی برکات
نیوینمسک میں ہم نے زیرِزمین بائبل لٹریچر شائع کرنا جاری رکھا۔ ۱۹۸۰ کے دہے کے وسط میں ایک دفعہ حکام نے مجھے بلایا، مَیں نے اُنہیں بتایا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ مَیں اپنے رسالے چھپا رہا ہوں۔ وہ ہنس دئے۔ جب مَیں جا رہا تھا تو اُن میں سے ایک نے کہا: ”دُعا ہے کہ آپکو اپنا لٹریچر چھپانے کیلئے اور خواب نہ دیکھنے پڑیں۔“ آخر میں اُس نے کہا: ”جلد ہی لٹریچر آپکی الماری پر ہوگا اور آپ اپنی بیوی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اور اپنی بائبل ہاتھ میں لئے ہوئے اجلاسوں پر جا سکیں گے۔“
۱۹۸۹ میں ہم افسردہ ہو گئے جب میری بیٹی اینا دماغ میں شریان کے پھول جانے کے باعث وفات پا گئی۔ وہ صرف ۳۸ سال کی تھی۔ اُسی سال اگست میں نیوینمسک میں گواہوں نے ایک ٹرین کرائے پر لی اور بینالاقوامی کنونشن پر حاضر ہونے کے لئے وارسا، پولینڈ کا سفر کِیا۔ سوویت یونین سے ہزارہا لوگوں کے ساتھ، وہاں ۶۰،۳۶۶ لوگ حاضر تھے۔ ہم نے واقعی یہ سوچا کہ ہم خواب دیکھ رہے ہیں! دو سال سے بھی کم عرصہ بعد مارچ ۲۷، ۱۹۹۱ میں مجھے سوویت یونین میں کافی عرصے سے بزرگ ہونے والے پانچ بزرگوں کی صف میں ماسکو میں یہوواہ کے گواہوں کی مذہبی تنظیم کو قانونی حیثیت فراہم کرنے والی تاریخی دستاویز پر دستخط کرنے کا شرف حاصل ہوا!
مَیں خوش ہوں کہ میرے بچ جانے والے بچے وفاداری سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ اور مَیں خدا کی نئی دُنیا کا منتظر ہوں جب مَیں اپنی بیٹی اینا، نادیہ اور اُسکی بیٹی اور کولے کو دوبارہ دیکھنے کے قابل ہونگا۔ جب وہ زندہ ہوگا تو مَیں اُسے اُس جزیرے پر لے جانے سے جس پر ہم سالوں پہلے جا کر لطفاندوز ہوا کرتے تھے اپنا وعدہ پورا کرونگا۔
اس اثنا میں، اس وسیع علاقے میں بائبل سچائی کی بہت تیزرفتار ترقی کو دیکھنا کیا ہی خوشی کا باعث ہے! مَیں اپنی زندگی کے بخرے سے پورے طور پر خوش ہوں اور مَیں یہوواہ کا شکرگزار ہوں کہ اُس نے مجھے اپنے گواہوں میں سے ایک بننے کا موقع بخشا۔ مَیں زبور ۳۴:۸ کی صداقت کا قائل ہوں: ”آزما کر دیکھو کہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کیسا مہربان ہے۔ مبارک ہے وہ آدمی جو اُس پر توکل کرتا ہے۔“
[صفحہ 25 پر تصویر]
وہ سال جب مَیں ٹیولن میں اپنے خاندان سے ملا
[صفحہ 26 پر تصویر]
اوپر: ٹیولن، سائبریا میں میرے والد اور بچے ہمارے گھر کے باہر
اوپر دائیں: میری بیٹی نادیہ اور اُسکی بیٹی جو کار کے حادثے میں ہلاک ہو گئیں
دائیں: ۱۹۶۸ میں خاندان کی ایک تصویر