وہ یہوواہ کی مرضی بجا لائے
عظیمترین انسان فروتن خدمت انجام دیتا ہے
یسوع اس بات سے واقف تھا کہ اپنے رسولوں کے ساتھ اُس کا آخری وقت نہایت گراںبہا ہوگا۔ جلد ہی، اسے گرفتار کر لیا جائیگا اور اس کے ایمان کو اس طرح سے آزمایا جائیگا جسے پہلے کبھی نہیں آزمایا گیا تھا۔ یسوع یہ بھی جانتا تھا کہ عظیم برکات آنے والی ہیں۔ جلد ہی وہ خدا کے دہنے ہاتھ سربلند کِیا جائیگا اور اُسے وہ ”نام بخشا [جائیگا] جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے۔ تاکہ یسوؔع کے نام پر ہر ایک گھٹنا جھکے۔ خواہ آسمانیوں کا ہو خواہ زمینیوں کا۔ خواہ اُن کا جو زمین کے نیچے ہیں۔“—فلپیوں ۲:۹، ۱۰۔
تاہم، یسوع کو نہ تو اُس کے سر پر کھڑی موت اور نہ ہی اسکے موعودہ اجر کے اشتیاق نے اسے اپنے رسولوں کی ضروریات سے غافل رکھا۔ اُس نے ”آخر تک اُن سے محبت رکھی،“ یوحنا نے بعدازاں اپنی انجیل میں درج کِیا۔ (یوحنا ۱۳:۱) نیز ایک کامل انسان کے طور پر اپنی زندگی کے اس آخری تشویشناک وقت کے دوران، یسوع نے اپنے رسولوں کو ایک نہایت اہم سبق سکھایا۔
فروتنی کا ایک سبق
رسول فسح منانے کے لئے یسوع کے ہمراہ یروشلیم میں بالاخانے میں موجود تھے۔ اس سے قبل، یسوع اُنہیں یہ بحث کرتے سن چکا تھا کہ اُن میں بڑا کون تھا۔ (متی ۱۸:۱؛ مرقس ۹:۳۳، ۳۴) اس معاملے میں یسوع اُن سے باتچیت کر چکا تھا اور اُس نے شاگردوں کے نقطۂنظر کو بھی درست کرنے کی کوشش کی تھی۔ (لوقا ۹:۴۶) تاہم، اس مرتبہ یسوع نے انہی اسباق پر زور دینے کیلئے ایک مختلف رسائی کو آزمایا۔ اُس نے نہ صرف اُن سے فروتنی کی بابت باتچیت کرنے بلکہ اُس کا مظاہرہ کرنے کا بھی انتخاب کِیا۔
یسوع نے ”دسترخوان سے اُٹھ کر کپڑے اُتارے،“ یوحنا لکھتا ہے۔ ”رومال لیکر اپنی کمر میں باندھا۔ اس کے بعد برتن میں پانی ڈالکر شاگردوں کے پاؤں دھونے اور جو رومال کمر میں باندھا تھا اُس سے پونچھنے شروع کئے۔“—یوحنا ۱۳:۴، ۵۔
قدیم مشرقِوسطیٰ کے گرم موسم میں لوگ گردآلود راستوں پر چلتے وقت عام طور پر کھلے جوتے پہنتے تھے۔ ایک عام شخص کے گھر میں داخل ہوتے وقت، میزبان اُن کا استقبال کرتا تھا جو کہ اُنہیں برتن اور پانی مہیا کرتا تھا تاکہ وہ اپنے پاؤں دھو سکیں۔ امیر گھرانوں میں، پاؤں دھونے کا کام ایک غلام سرانجام دیتا تھا۔—قضاۃ ۱۹:۲۱؛ ۱-سموئیل ۲۵:۴۰-۴۲۔
بالاخانے میں، یسوع اور اُس کے رسول کسی کے مہمان نہیں تھے۔ وہاں برتن مہیا کرنے کیلئے کوئی میزبان اور پاؤں دھونے کیلئے غلام نہیں تھے۔ جب یسوع نے اُن کے پاؤں دھونے شروع کئے تو رسول پریشانکُن حالت میں مبتلا ہو گئے۔ اُن میں سے عظیمترین شخص نے فروتنترین کام انجام دیا!
پہلے تو پطرس نے یسوع سے اپنے پاؤں دھلوانے سے انکار کر دیا۔ لیکن یسوع نے اُس سے کہا: ”اگر مَیں تجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شریک نہیں۔“ جب یسوع تمام رسولوں کے پاؤں دھو چکا تو اُس نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مَیں نے تمہارے ساتھ کیا کِیا؟ تم مجھے اُستاد اور خداوند کہتے ہو اور خوب کہتے ہو کیونکہ مَیں ہوں۔ پس جب مجھ خداوند اور اُستاد نے تمہارے پاؤں دھوئے تو تم پر بھی فرض ہے کہ ایک دوسرے کے پاؤں دھویا کرو۔ کیونکہ مَیں نے تم کو ایک نمونہ دکھایا ہے کہ جیسا مَیں نے تمہارے ساتھ کِیا تم بھی کِیا کرو۔“—یوحنا ۱۳:۶-۱۵۔
یسوع پاؤں دھونے کی کوئی رسم قائم نہیں کر رہا تھا۔ اس کی بجائے، یسوع اپنے رسولوں کی اپنے بھائیوں کیلئے ادنیٰ کام کرنے کیلئے فروتنی اور آمادگی کا ایک نیا رجحان اپنانے کیلئے مدد کر رہا تھا۔ بدیہی طور پر، وہ اس بات کو سمجھ گئے۔ غور کریں کہ جب سالوں بعد ختنے کا مسئلہ پیدا ہوا تو اس وقت کیا ہوا۔ اگرچہ ”سخت تکرار“ ہوئی تو بھی وہاں پر موجود لوگوں نے نظموضبط کو برقرار رکھا اور ایک دوسرے کے نظریات کو احترام کیساتھ سنا۔ مزیدبرآں، ایسا لگتا ہے کہ اُس اجلاس کی صدارت کوئی رسول نہیں کر رہا تھا جیساکہ ہم ان کی موجودگی میں توقع کر سکتے ہیں بلکہ شاگرد یعقوب نے کی تھی۔ اعمال کے بیان میں یہ تفصیل ظاہر کرتی ہے کہ رسولوں نے فروتنی ظاہر کرنے میں خاطرخواہ ترقی کر لی تھی۔—اعمال ۱۵:۶-۲۹۔
ہمارے لئے سبق
اپنے شاگردوں کے پاؤں دھونے سے، یسوع نے فروتنی کا ایک عمدہ سبق مہیا کِیا۔ بِلاشُبہ، مسیحیوں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ وہ بہت اہم ہیں اسلئے دوسروں کو اُن کی خدمت کرنی چاہئے نہ ہی اُنہیں اعلیٰ مرتبوں اور عزتواحترام کی خواہش کرنی چاہئے۔ اس کی بجائے، اُنہیں یسوع کے قائمکردہ نمونے کی پیروی کرنی چاہئے جو ”اسلئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اسلئے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے۔“ (متی ۲۰:۲۸) جیہاں، یسوع کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کے لئے فروتنترین خدمت انجام دینے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
اسی وجہ سے پطرس نے لکھا: ”سب کے سب ایک دوسرے کی خدمت کیلئے فروتنی سے کمربستہ رہو اسلئے کہ خدا مغروروں کا مقابلہ کرتا ہے مگر فروتنوں کو توفیق بخشتا ہے۔“ (۱-پطرس ۵:۵) ”کمربستہ“ یونانی لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ”ایک غلام کا کمربند“ ہے جس سے ایک ڈھیلےڈھالے لباس کو کس دیا جاتا تھا۔ کیا یہ ممکن تھا کہ پطرس یسوع کے اپنی کمر پر رومال باندھنے اور اپنے رسولوں کے پاؤں دھونے کے عمل کا حوالہ دے رہا تھا؟ یقینی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم، یسوع کی فروتن خدمت نے پطرس کے ذہن پر ناقابلِفراموش تاثر چھوڑا، اسی طرح اسے یسوع کے تمام پیروکاروں کے ذہنوں پر بھی چھوڑنا چاہئے۔—کلسیوں ۳:۱۲-۱۴۔