یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م99 1/‏3 ص.‏ 4-‏7
  • سوتیلے خاندان کامیاب ہوسکتے ہیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • سوتیلے خاندان کامیاب ہوسکتے ہیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • بنیادی خصوصیت
  • حیاتیاتی ماں باپ
  • تربیت—‏ایک حساس موضوع
  • والدین کو رابطے کی ضرورت ہے
  • خاندانی اتحاد کو مضبوط بنانا
  • سوتیلے خاندانوں کے مخصوص مسائل
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • اپنے گھرانے میں میل‌ملاپ قائم رکھیں
    خاندانی خوشی کا راز
  • اپنے گھرانے کی نجات کیلئے سخت محنت کریں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • اَے اولاد والو!‏ اپنے بچوں کی محبت سے تربیت کرو
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
م99 1/‏3 ص.‏ 4-‏7

سوتیلے خاندان کامیاب ہوسکتے ہیں

کیا کامیاب سوتیلے خاندان ممکن ہیں؟ جی‌ہاں، بالخصوص اگر اس میں شامل تمام لوگ یہ یاد رکھتے ہیں کہ ”‏ہر ایک صحیفہ جو خدا کے الہام سے ہے تعلیم اور الزام اور اصلاح اور راستبازی میں تربیت کرنے کے لئے فائدہ‌مند بھی ہے۔“‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱۶‏)‏ جب ہر شخص بائبل اصولوں کا اطلاق کرتا ہے تو کامیابی یقینی ہے۔‏

بنیادی خصوصیت

بائبل انسانی رشتوں پر اثرانداز ہونے والے محض چند اصول وضع کرتی ہے۔ زیادہ‌تر یہ عمدہ صفات اور ایسے رجحانات پیدا کرنے کی حوصلہ‌افزائی کرتی ہے جو دانشمندی سے کام کرنے کیلئے ہماری راہنمائی کرتے ہیں۔ ایسے اچھے رجحانات اور صفات خوشحال خاندانی زندگی کی بنیاد ہیں۔‏

بظاہر یہ سچ ہے تو بھی یہ کہنا موزوں ہوگا کہ کسی بھی خاندان کے کامیاب ہونے کے لئے بنیادی خوبی محبت ہے۔ پولس رسول نے کہا:‏ ”‏محبت بے‌ریا ہو۔ .‏ .‏ .‏ برادرانہ محبت سے آپس میں ایک دوسرے کو پیار کرو۔“‏ (‏رومیوں ۱۲:‏۹، ۱۰‏)‏ لفظ ”‏محبت“‏ کا کافی زیادہ غلط استعمال کِیا جاتا ہے تاہم جس خوبی کا حوالہ پولس نے یہاں دیا وہ بہت ہی خاص ہے۔ یہ خدائی محبت ہے اور اسے ”‏کبھی زوال نہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۸‏)‏ بائبل اسے ایک بے‌غرض اور خدمت کرنے کیلئے آمادگی کی خوبی کے طور پر بیان کرتی ہے۔ یہ دوسروں کی بہتری کے لئے بڑی سرگرمی سے کام کرتی ہے۔ یہ متحمل اور مہربان ہوتی ہے، کبھی حسد نہیں کرتی، شیخی نہیں مارتی یا خودپسند نہیں ہوتی۔ یہ اپنی بہتری کی خواہاں نہیں ہوتی۔ خواہ کچھ بھی ہو یہ ہمیشہ رعایت کرنے، بھروسہ کرنے، اُمید کرنے، برداشت کرنے کیلئے تیار رہتی ہے۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴-‏۷‏۔‏

حقیقی محبت مختلف ماحول میں پرورش پانے اور مختلف شخصیات کے مالک لوگوں کی اختلافات ختم کرنے اور یگانگت پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔ نیز یہ طلاق یا حیاتیاتی والدین میں سے کسی ایک کی قدرتی موت کے تکلیف‌دہ اثرات کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد کرتی ہے۔ ایک شخص جو ایک سوتیلا باپ بنا اپنے حقیقی مسائل کو کچھ اسطرح بیان کرتا ہے:‏ ”‏مَیں اکثر اپنے سوتیلے بچوں یا اپنی بیوی کے جذبات کا تجزیہ کرنے کی بجائے اپنے ذاتی احساسات کی بابت بہت زیادہ فکرمند رہتا تھا۔ مجھے حد سے زیادہ حساس نہ ہونے کی بابت سیکھنے کی ضرورت تھی۔ سب سے بڑھ کر مجھے فروتن بننے کی بابت سیکھنے کی ضرورت تھی۔“‏ محبت نے اُسے ضروری تبدیلیاں پیدا کرنے میں مدد دی۔‏

حیاتیاتی ماں باپ

محبت بچوں کے اپنے حیاتیاتی ماں باپ کے ساتھ تعلق سے نپٹنے میں معاون ثابت ہو سکتی جو اب موجود نہیں ہیں۔ ایک سوتیلا باپ بیان کرتا ہے:‏ ”‏مَیں اپنے سوتیلے بچوں کے میلانِ‌طبع پر چھا جانا چاہتا تھا۔ جب وہ اپنے حیاتیاتی والد سے ملاقات کیلئے جاتے تو مجھے اُن پر نکتہ‌چینی نہ کرنے کی آزمائش کا مقابلہ کرنا بہت مشکل معلوم ہوتا تھا۔ جب وہ اُس کے ساتھ ایک خوشگوار دن گزار کر واپس آتے تو مجھے بہت ناگوار گزرتا۔ جب اُن کا دن اچھا نہیں گزرتا تھا تو مَیں بہت خوش ہوتا تھا۔ درحقیقت مَیں اُنہیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔ سب سے مشکل کام اپنے سوتیلے بچوں کی زندگیوں میں اُن کے حیاتیاتی والد کی اہمیت کو تسلیم کرنا تھا۔“‏

حقیقی محبت نے اس سوتیلے باپ کی اس حقیقت کا مقابلہ کرنے میں مدد کی کہ ”‏فوری“‏ محبت کی توقع کرنا غیرحقیقت‌پسندانہ تھا۔ جب بچوں نے اُسے فوراً قبول نہ کِیا تو اُسے خود کو ٹھکرایا ہوا محسوس نہیں کرنا چاہئے۔ اُس نے بالآخر یہ سمجھ لیا کہ شاید وہ کبھی بھی اپنے سوتیلے بچوں کے دل میں مکمل طور پر اُن کے حیاتیاتی والد کی جگہ نہیں لے سکتا۔ بچے اپنے حیاتیاتی والد کو ابتدائی دنوں سے جانتے تھے جبکہ سوتیلا باپ اُن کے لئے نیا شخص تھا جسے بچوں کی محبت حاصل کرنے کیلئے سخت محنت کرنا تھی۔ محقق الزبتھ آئن‌سٹائن بہتوں کے تجربے کی عکاسی ان الفاظ میں کرتی ہے:‏ ”‏کبھی بھی کوئی حیاتیاتی والدین کا متبادل نہیں بن سکتا—‏کبھی نہیں۔ وفات پا جانے والا ماں یا باپ یا والدین میں ایسا شخص جو بچوں کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے بچوں کی زندگی میں اہم حیثیت کا حامل رہتا ہے۔“‏

تربیت—‏ایک حساس موضوع

بائبل ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان لوگوں کیلئے پُرمحبت تربیت بہت ضروری ہے اور سوتیلے بچے اس سے مستثنیٰ نہیں۔ (‏امثال ۸:‏۳۳‏)‏ بہتیرے پیشہ‌ور لوگ اس نکتے پر بائبل کے نظریے سے اتفاق کرنے لگے ہیں۔ پروفیسر سیرزایلوز ڈی آراؤزو نے بیان کِیا:‏ ”‏فطرتی طور پر کوئی بھی شخص حدبندیاں پسند نہیں کرتا تاہم یہ ضروری ہیں۔ ’‏نہیں‘‏ ایک تحفظ‌بخش لفظ ہے۔“‏

تاہم مخلوط خاندانوں میں تربیت کے بارے میں نظریات سنگین اختلافات پر منتج ہو سکتے ہیں۔ سوتیلے بچوں کو ایک حد تک ایسے بالغ شخص نے تربیت دی ہے جو اب موجود نہیں ہے۔ یقیناً اُنکی کچھ عادات یا رویے ایسے ہونگے جو سوتیلے باپ یا ماں کیلئے پریشان‌کُن ہو سکتے ہیں۔ نیز شاید وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہیں کہ سوتیلا باپ یا ماں بعض معاملات کی بابت اتنے سخت‌گیر کیوں ہیں۔ ایسی صورتحال سے کامیابی کیساتھ کیسے نپٹا جائے؟ پولس مسیحیوں کو تاکید کرتا ہے:‏ ”‏محبت صبر اور حلم [‏کے]‏ طالب ہو۔“‏ (‏۱-‏تیمتھیس ۶:‏۱۱‏)‏ مسیحی محبت سوتیلے والدین اور بچوں دونوں کی اُس وقت حلم‌مزاج اور متحمل بننے میں مدد کرتی ہے جب وہ ایکدوسرے کو سمجھنا سیکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر سوتیلا باپ یا ماں متحمل نہیں ہے تو ’‏قہر اور غصہ اور شوروغل‘‏ بڑی آسانی سے اُس رشتے کو تباہ کر سکتے ہیں جو قائم ہوا ہے۔—‏افسیوں ۴:‏۳۱‏۔‏

اس معاملے میں جو چیز مددگار ثابت ہوگی اُسکی بابت میکاہ نبی نے بصیرت فراہم کی۔ اُس نے کہا:‏ ”‏خداوند تجھ سے اسکے سوا کیا چاہتا ہے کہ تُو انصاف کرے اور رحم‌دلی کو عزیز رکھے اور اپنے خدا کے حضور فروتنی سے چلے؟“‏ (‏میکاہ ۶:‏۸)‏ تربیت کرتے وقت انصاف نہایت ضروری ہے۔ تاہم رحمدلی کی بابت کیا ہے؟ ایک مسیحی بزرگ بیان کرتا ہے کہ اتوار کی صبح کلیسیا کے ساتھ پرستش میں شرکت کیلئے اپنے سوتیلے بچوں کو جگانا اکثر مشکل ہوتا تھا۔ اُنہیں ڈانٹنے کی بجائے وہ رحم‌دلی کو عمل میں لایا۔ وہ صبح کو جلدی اُٹھتا، ناشتہ تیار کرتا، پھر اُن میں سے ہر ایک کو گرم گرم چائے پیش کرتا۔ نتیجتاً وہ جلدی اٹھنے کیلئے اُسکی درخواست پر عمل کرنے کی طرف کافی زیادہ مائل نظر آتے تھے۔‏

پروفیسر اینا لوئس ویائرا ڈی ماٹوس نے درج‌ذیل دلچسپ تبصرہ کِیا:‏ ”‏خاندان کی بجائے رشتے کی نوعیت زیادہ اہم بات ہے۔ مَیں نے اپنے مطالعوں میں مشاہدہ کِیا ہے کہ جو نوجوان رویوں سے متعلق مسائل کا شکار ہیں وہ ہمیشہ اُن خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں والدین کی نگرانی ناقص، قوانین اور رابطے کی کمی ہوتی ہے۔“‏ اُس نے مزید بیان کِیا:‏ ”‏بچوں کی پرورش کرنے میں نہ کہنے پر زیادہ زور دیا جانا چاہئے۔“‏ ڈاکٹر ایملی اور ڈاکٹر جان وشر نے مزید بیان کِیا:‏ ”‏بنیادی طور پر تربیت اُس وقت کارگر ثابت ہوتی ہے جب تربیت حاصل کرنے والا شخص تربیت دینے والے شخص کے ردِعمل اور رشتے کا خیال رکھتا ہے۔“‏

ان آراء کا تعلق اس سوال سے ہے کہ سوتیلے خاندانوں میں کسے تربیت کرنی چاہئے۔ کسے نہیں کہنا چاہئے؟ معاملات پر نظرثانی کرنے کے بعد بعض والدین نے فیصلہ کِیا ہے کہ شروع میں سوتیلے باپ یا ماں کو بچوں کے ساتھ قریبی رشتہ اُستوار کرنے کی مہلت دینے کیلئے حیاتیاتی ماں یا باپ کو بنیادی تربیت فراہم کرنی چاہئے۔ اس سے پہلے کہ سوتیلا باپ یا ماں تربیت کرے، بچوں کو اُسکی محبت کی بابت پُراعتماد ہونے کیلئے سیکھنے کا موقع دیں۔‏

اُسوقت کیا ہو جب باپ سوتیلا ہے؟ کیا بائبل یہ نہیں کہتی کہ باپ خاندان کا سردار ہے؟ جی ہاں۔ (‏افسیوں ۵:‏۲۲، ۲۳؛‏ ۶:‏۱، ۲‏)‏ تاہم ہو سکتا ہے کہ سوتیلا باپ کچھ دیر کیلئے تربیت کی ذمہ‌داری کسی اور کے سپرد کر دے، بالخصوص اگر اس میں سزا دینا شامل ہے۔ شاید وہ بچوں کو ’‏ماں کی تعلیم‘‏ کی فرمانبرداری کرنے کی اجازت دے جبکہ وہ اُن کیلئے ’‏[‏نئے]‏ باپ کی تربیت پر کان‘‏ لگانے کی بنیاد اُستوار کر رہا ہے۔ (‏امثال ۱:‏۸؛‏ ۶:‏۲۰؛‏ ۳۱:‏۱‏)‏ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا کرنا سرداری کے اصول کی نفی نہیں کرتا۔ مزیدبرآں، ایک سوتیلا باپ کہتا ہے:‏ ”‏مجھے یاد ہے کہ تربیت میں فہمائش، اصلاح اور ملامت شامل ہیں۔ جب یہ منصفانہ، پُرمحبت اور رحمدلانہ طریقے سے دی جاتی ہے اور والدین اپنے نمونے سے اسکی حمایت کرتے ہیں تو یہ کارگر ثابت ہوتی ہے۔“‏

والدین کو رابطے کی ضرورت ہے

امثال ۱۵:‏۲۲ کہتی ہے:‏ ”‏صلاح کے بغیر ارادے پورے نہیں ہوتے۔“‏ ایک سوتیلے خاندان میں والدین کے مابین علیٰحدگی میں پُرسکون اور بے‌تکلف گفتگو نہایت اہم ہے۔ اخبار او ایسٹاڈو ڈی ایس۔ پاؤلو میں ایک کالم‌نویس نے بیان کِیا:‏ ”‏بچے ہمیشہ اپنے والدین کی طرف سے قائم حدود کو آزمانے کا میلان رکھتے ہیں۔“‏ سوتیلے خاندانوں کی بابت یہ بات کہیں زیادہ سچ ہو سکتی ہے۔ لہٰذا مختلف معاملات میں والدین کو متفق ہونے کی ضرورت ہے تاکہ بچے یہ دیکھ سکیں کہ وہ متحد ہیں۔ تاہم، اُسوقت کیا ہو جب حیاتیاتی والد یا والدہ یہ محسوس کرے کہ سوتیلے والد یا والدہ کا برتاؤ غیرمنصفانہ ہے؟ ایسی صورت میں دونوں کو بچوں کے سامنے نہیں بلکہ علیٰحدگی میں معاملات کو سلجھانا چاہئے۔‏

ایک ماں جس نے دوبارہ شادی کر لی بیان کرتی ہے:‏ ”‏ایک ماں کیلئے سب سے زیادہ مشکل بات سوتیلے باپ کو بچوں کی تربیت کرتے ہوئے دیکھنا ہے، بالخصوص اگر وہ محسوس کرتی ہے کہ وہ حقیقت میں غیرمنصفانہ طور پر یا جلدبازی سے کام لے رہا ہے۔ اس سے اُسکا دل ٹوٹ جاتا ہے اور وہ اپنے بچوں کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔ ایسے مواقع پر شوہر کے تابع رہنا اور اُسکی حمایت کرنا مشکل ہوتا ہے۔‏

‏”‏ایک موقع پر، میرے دو بیٹوں نے جن کی عمر ۱۲ اور ۱۴ سال تھی اپنے سوتیلے باپ سے کچھ کرنے کی اجازت مانگی۔ اُس نے فوراً انکار کر دیا اور پھر لڑکوں کو اس بات کی وضاحت کا موقع فراہم کئے بغیر ہی کمرے سے چلا گیا کہ یہ درخواست اُن کے لئے کیوں اہم تھی۔ لڑکے رو دینے کو تھے اور مَیں وفورِجذبات سے ساکت تھی۔ بڑے لڑکے نے میری طرف دیکھا اور کہا:‏ ’‏ماں، آپ نے دیکھا کہ اُنہوں نے کیا کِیا؟‘‏ مَیں نے جواب دیا:‏ ’‏ہاں مَیں نے دیکھا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ گھر کے سردار ہیں اور بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں سرداری کا احترام کرنا چاہئے۔‘‏ وہ اچھے لڑکے تھے اور اس پر راضی ہو گئے اور کچھ ٹھنڈے ہو گئے۔ اُسی شام مَیں نے اپنے شوہر کو سب کچھ سمجھایا اور اُس نے تسلیم کِیا کہ وہ حد سے زیادہ اختیار جتا رہا تھا۔ وہ فوراً لڑکوں کے کمرے میں گیا اور اُن سے معافی مانگی۔‏

‏”‏اُس واقعہ سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔ میرے شوہر نے فیصلہ سنانے سے پہلے بات سننا سیکھ لیا۔ مَیں نے تکلیف‌دہ حالات کے تحت بھی سرداری کے اصول کو برقرار رکھنا سیکھا۔ لڑکوں نے تابعداری کی اہمیت کی بابت سیکھا۔ (‏کلسیوں ۳:‏۱۸، ۱۹‏)‏ اور میرے شوہر کی دلی معافی نے ہم سب کو فروتنی کا ایک اہم سبق سکھایا۔ (‏امثال ۲۹:‏۲۳‏)‏ آج، دونوں بیٹے مسیحی بزرگ ہیں۔“‏

غلطیاں ہوتی رہیں گی۔ بچے ایسی باتیں کہینگے یا ایسے کام کرینگے جو تکلیف‌دہ ہونگے۔ وقتی دباؤ سوتیلے باپ یا ماں کے نامعقول طریقے سے عمل کرنے پر منتج ہونگے۔ تاہم، ”‏مجھے افسوس ہے، مجھے معاف کر دیجئے،“‏ جیسے سادہ الفاظ زخموں کو بھرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔‏

خاندانی اتحاد کو مضبوط بنانا

سوتیلے خاندان میں قریبی رشتہ استوار کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اگر آپ سوتیلے والد یا والدہ ہیں تو آپ کو ہمدردی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ فہیم بنیں، بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کیلئے تیار رہیں۔ چھوٹے بچوں کے ساتھ کھیلیں۔ بڑے بچوں کے ساتھ بات‌چیت کرنے کیلئے تیار رہیں۔ اکٹھے وقت گزارنے کے مواقع کے منتظر رہیں—‏مثلاً، بچوں کو کھانا بنانے یا کار دھونے جیسے گھر کے کاموں میں مدد دینے کیلئے کہیں۔ جب آپ بازار جاتے ہیں تو اُنہیں ساتھ آنے کی دعوت دیں۔ مزیدبرآں، چھوٹے، پُرمحبت اظہارات شاید اُس محبت کو ظاہر کر سکتے ہیں جو آپ رکھتے ہیں۔ (‏بِلاشُبہ، سوتیلے والدوں کو اپنی سوتیلی بیٹیوں کے ساتھ مناسب حدود کی پابندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ پریشان نہ ہوں۔ اور سوتیلی ماؤں کو یاد رکھنا چاہئے کہ لڑکوں کی بھی کچھ حدود ہیں۔)‏

سوتیلے خاندان بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ بہتیرے ہیں بھی۔ سب سے زیادہ کامیاب وہ ہیں جس میں شامل سب لوگ، بالخصوص والدین، درست رجحانات اور حقیقت‌پسندانہ توقعات قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول یوحنا نے لکھا:‏ ”‏اَے عزیزو!‏ آؤ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں کیونکہ محبت خدا کی طرف سے ہے۔“‏ (‏۱-‏یوحنا ۴:‏۷‏)‏ جی ہاں، دلی محبت ہی سوتیلے خاندان کی خوشحالی کا حقیقی راز ہے۔‏

‏[‏صفحہ 7 پر تصویریں]‏

خوشحال سوتیلے خاندان

اکٹھے خدا کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں .‏ .‏ .‏

اکٹھے وقت گزارتے ہیں .‏ .‏ .‏

اکٹھے بات‌چیت کرتے ہیں .‏ .‏ .‏

اکٹھے کام کرتے ہیں .‏ .‏ .‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں