وہ تشدد کا سہارا کیوں لیتے ہیں
ڈینور، کولوراڈو، یو.ایس.اے. میں ایک بچہ وقت سے ۲۷ ہفتے قبل پیدا ہوا۔ بچہ بچ گیا اور ہسپتال میں تین ماہ تک انتہائی نگہداشت میں رکھنے کے بعد اسے اس کے والدین کے سپرد کر دیا گیا۔ تین ہفتے بعد بچے کو دوبارہ ہسپتال میں لایا گیا۔ کیوں؟ اپنے باپ کے ہاتھوں جھٹکے کے سبب اسکے دماغ پر شدید ضرب آئی تھی۔ باپ کو بچے کا رونا سخت ناگوار گزرتا تھا۔ چھوٹا لڑکا اندھا اور معذور ہو گیا۔ جدید علمِطب نے اسے اسکی قبلازوقت پیدائش کے بعد تو بچا لیا مگر اسے اسکے باپ کے تشدد سے نہ بچا سکا۔
بےشمار بچے دُنیا میں سب سے زیادہ پُرتشدد جگہ—گھر میں بدسلوکی اور شدید مارپیٹ کا نشانہ بنتے یا ہلاک کر دئے جاتے ہیں! بعض ذرائع کے مطابق، صرف ریاستہائے متحدہ میں ۵،۰۰۰ بچے ہر سال اپنے والدین کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتے ہیں! صرف بچے ہی اس چیز کا نشانہ نہیں بنتے۔ ورلڈ ہیلتھ میگزین کے مطابق، ریاستہائے متحدہ میں ”متوسط عمر کی خواتین میں گھائل ہونے کا اولین سبب بیویوں سے بدسلوکی ہے۔“ دیگر ممالک کی بابت کیا ہے؟ ”[ترقیپذیر ممالک میں] خواتین کی نصف سے زیادہ آبادی کے ایک سروے کے مطابق، ایک تہائی تعداد نے اپنے شریکِحیات کے ہاتھوں مارپیٹ کا نشانہ بننے کی رپورٹ دی۔“ جیہاں، بالخصوص گھر کے اندر تشدد اپنا اثر دکھا رہا ہے۔
بہتیرے شوہر اور بیویاں اپنی نااتفاقیوں کو تشدد کے ذریعے نپٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض ممالک میں والدین اور اساتذہ اپنا غصہ نکالنے کیلئے بچوں پر تشدد کرتے ہیں۔ طاقتور لوگ، محظوظ ہونے کی خاطر، کمزور اشخاص کو تنگ کرتے اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ لوگ اتنے متشدّد کیوں بن جاتے ہیں؟
لوگ متشدّد کیوں بن جاتے ہیں
بعض دعویٰ کرتے ہیں کہ انسان فطرتاً متشدّد ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں تشددآمیز جرائم میں مجموعی طور پر کمی واقع ہونے کے باوجود نوجوانوں میں اسکا اضافہ ہوا ہے۔ نیز تشدد میں دلچسپی لینے والے لوگوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تین بڑے ٹیلیویژن نٹورکس نے جرائم کی کہانیوں کو دوگنا اور قتلوبربریت کی خبروں کو تین گُنا کر دیا ہے۔ جیہاں، جرم نفعبخش ہے! ماہرِنفسیات کارل مینیگر نے کہا ”ہم نہ صرف تشدد روا رکھتے ہیں بلکہ اپنے اخباروں میں ہم اسے صفحۂاول کی زینت بناتے ہیں۔ ہمارے ایک تہائی یا چوتھائی ٹیوی پروگرام اسے بچوں کی تفریح کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نہ صرف اسے نظرانداز کرتے ہیں بلکہ پیارے دوستو، ہم اسے پسند کرتے ہیں۔“
حالیہ سائنسی تحقیقات تجویز کرتی ہیں کہ دماغی حیاتیات اور ماحول دونوں کا انسانی جارحیت سے گہرا تعلق ہے۔ ”ہم سب یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ بُرا ماحول جس سے بچے زیادہ سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، وہ تشدد کی ایک لہر کو ابھار رہا ہے،“ یونیورسٹی آف ایلینواس کے انسٹیٹیوٹ فار جووینائل ریسرچ کے ڈاکٹر مرقس جے. کروسی بیان کرتا ہے۔ ”ماحولیاتی اثرات انسان کے دماغ میں مالیکیولی تبدیلی پیدا کر رہے ہیں جو لوگوں کو زیادہ بےتامل بنا دیتی ہے۔“ ”خاندانی ڈھانچے کی شکستگی، سنگل پیرنٹ میں اضافہ، مستقل غربت اور منشیات کی پُرانی عادت جیسے عناصر درحقیقت دماغ کی کیمیاوی حالت کو جارحانہ رویے میں بدل دیتے ہیں—ایک ایسا اثر جسے کبھی ناممکن خیال کِیا جاتا تھا” کتاب انسائیڈ دی برین بیان کرتی ہے۔
یہ دعویٰ کِیا جاتا ہے کہ دماغ میں واقع ہونے والی تبدیلیوں میں سیریٹونین کی سطح کا کم ہونا بھی شامل ہے، ایک ایسا مادہ جو جارحیت کو قابو میں رکھتا ہے۔ تحقیقات ظاہر کرتی ہیں کہ الکحل دماغ میں سیریٹونین کو کم کر سکتی ہے اور یہ بات تشدد اور الکحل کے ناجائز استعمال کے مابین تعلق کی وجہ کو ظاہر کرتی ہے۔
تاہم آجکل تشدد میں اضافے کی ایک اَور وجہ بھی ہے۔ ”یہ جان رکھ“ پیشینگوئی کی ایک قابلِبھروسہ کتاب، بائبل آگاہ کرتی ہے کہ ”اخیر زمانہ میں بُرے دن آئینگے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ . . . ایسوں سے کنارہ کرنا۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۵) جیہاں، ہم جس تشدد کا آجکل مشاہدہ کرتے ہیں وہ ”اخیر زمانے“ کی بابت بائبل پیشینگوئی کی تکمیل میں ہے۔
ایک اَور بات اس وقت کو مزید پُرتشدد بنا دیتی ہے۔ ”اَے خشکی اور تری تم پر افسوس،“ بائبل بیان کرتی ہے، ”کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اتر کر آیا ہے۔ اِسلئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۱۲) شیطان اور اسکے شیاطینی لشکروں کو آسمان سے نکال دیا گیا ہے اور اب وہ اپنی پوری توجہ نوعِانسان سے کینہپروری کرنے پر لگائے ہوئے ہیں۔ ”ہوا کی عملداری کے حاکم“ کے طور پر شیطان اس ”روح“ کے ذریعے ”جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے“ دُنیا میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔—افسیوں ۲:۲۔
پس، ہم کس طرح دُنیا کی تشددآمیز ”ہوا“ سے نپٹ سکتے ہیں؟ نیز ہم کس طرح اپنی نااتفاقیوں کو تشدد کے بغیر حل کر سکتے ہیں؟
[صفحہ 3 پر عبارت]
بےشمار بچے دُنیا میں سب سے زیادہ پُرتشدد جگہ—گھر میں بدسلوکی اور مارپیٹ کا نشانہ بنتے اور ہلاک کر دئے جاتے ہیں!