یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏3 ص.‏ 3-‏4
  • تشدّد ہر جگہ, ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • تشدّد ہر جگہ, ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • گھر میں تشدد
  • جائے‌ملازمت پر تشدد
  • تفریح‌طبع اور کھیلوں میں تشدد
  • سکول میں تشدد
  • ایک متشدّد تمدن
  • تشدد سے پاک دُنیا محض ایک خواب نہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
  • تشدد—‏ایک منافع‌بخش کاروبار
    جاگو!‏—‏2012ء
  • وہ تشدد کا سہارا کیوں لیتے ہیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
  • تشدّد کا مستقل خاتمہ—‏کیسے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏3 ص.‏ 3-‏4

تشدّد ہر جگہ, ہے

اپنی کار میں بیٹھے ہوئے ٹریفک لائٹ کے بدلنے کا انتظار کرتے وقت، اچانک ڈرائیور ایک دیوقامت شخص کو گالیاں بکتے ہوئے، ہوا میں مکے لہراتے ہوئے، اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھتا ہے۔ ڈرائیور نے جلدی سے اپنے دروازوں کو لاک کِیا اور اپنی گاڑی کی کھڑکیاں بند کر لیں، مگر وہ دیوقامت شخص آگے بڑھتا رہا۔ قریب پہنچ کر، اُس آدمی نے کار کو زور زور سے ہلایا اور کار کا دروازہ کھینچا۔ آخرکار، غصے میں جھلا کر اُس نے اپنا مکا بلند کِیا اور اسے کار کے سامنے والے شیشے پر دے مارا اور اسے پاش‌پاش کر دیا۔‏

کیا یہ کسی ایکشن مووی کا ایک منظر ہے؟ جی‌نہیں!‏ اؔوہو، ہوؔائی کے جزیرے پر جو اپنے پُرسکون، آرام‌دہ ماحول کیلئے مشہور ہے، یہ ٹریفک کا ایک جھگڑا تھا۔‏

یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ دروازوں پر قُفل، کھڑکیوں میں لوہے کی سلاخیں، عمارتوں میں سیکیورٹی کا عملہ، یہانتک‌کہ بسوں پر تحریریں بھی جو کہتی ہیں ”‏ڈرائیور کے پاس پیسے نہیں ہیں“‏—‏سب ایک ہی چیز کی نشاندہی کرتے ہیں:‏ تشدد ہر جگہ ہے!‏

گھر میں تشدد

کافی عرصے سے گھر کو ایک شخص کیلئے محفوظ مقام خیال کِیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ دلکش تصور بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ خاندانی تشدد، جس میں بچوں کیساتھ بدسلوکی، شریکِ‌حیات کو زدوکوب کرنا اور انسانی قتل شامل ہے، پوری دُنیا میں اخبارات کی شہ‌سرخیاں بن رہا ہے۔‏

مثال کے طور پر، ”‏برؔطانیہ میں کم‌ازکم ۷۵۰،۰۰۰ بچے گھریلو تشدد کا نشانہ بننے کے باعث طویل‌المدت صدمے میں مبتلا رہتے ہیں،“‏ مانچسٹر گارڈیئن ویکلی بیان کرتا ہے۔ رپورٹ اُس سروے پر مبنی تھی جس نے یہ بھی دریافت کِیا کہ ”‏کہ جن عورتوں سے سوال کِیا گیا اُن میں چار میں سے تین عورتوں نے کہا کہ اُنکے بچوں نے پُرتشدد واقعات دیکھے ہیں، اور تقریباً دو تہائی بچوں نے اپنی ماؤں کو زدوکوب ہوتے دیکھا ہے۔“‏ اسی طرح، یو.‏ایس.‏نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ کے مطابق، بچوں کیساتھ بدسلوکی اور غفلت کے سلسلے میں یو.‏ایس.‏ ایڈوائزری بورڈ رائے‌زنی کرتا ہے کہ ”‏۲،۰۰۰ بچے، جن میں سے زیادہ‌تر ۴ سال سے کم عمر کے ہیں، ہر سال والدین یا نگہداشت کرنے والوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔“‏ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ یہ ٹریفک حادثات، ڈوب کر، یا اُونچائی سے گِر کر ہونے والی اموات کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔‏

گھریلو تشدد میں شریکِ‌حیات کیساتھ بدسلوکی بھی شامل ہے، جوکہ دھکا دینے یا زورآزمائی کرنے سے لیکر طمانچہ مارنے، ٹھوکر مارنے، گلا گھونٹنے، زدوکوب کرنے، چاقو یا بندوق کیساتھ ڈرانے دھمکانے یا پھر قتل کر دیئے جانے تک پہنچ جاتی ہے۔ اور آجکل ایسا تشدد دونوں طرف سے ہوتا ہے۔ ایک مطالعہ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ بیاہتا ساتھیوں کے مابین ہونے والے تشدد میں، تقریباً ایک چوتھائی واقعات کا آغاز مرد کی طرف سے، ایک چوتھائی کا عورت کی طرف سے اور باقیماندہ کو موزوں طور پر ایسے جھگڑوں کے طور پر بیان کِیا جا سکتا ہے جس میں دونوں فریقین کو قصوروار ٹھہرایا جانا چاہئے۔‏

جائے‌ملازمت پر تشدد

روایتی طور پر گھر سے باہر جائے‌ملازمت ہی ایسی جگہ رہی ہے جہاں ایک شخص نظم‌وضبط، احترام اور شائستگی دیکھتا ہے۔ لیکن اب معاملہ ایسا دکھائی نہیں دیتا۔ مثلاً، یو.‏ایس ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس کے شائع‌کردہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہر سال ۹۷۰،۰۰۰ لوگ جائے‌ملازمت پر پُرتشدد جُرم کا شکار بنتے ہیں۔ پروفیشنل سیفٹی—‏جرنل آف دی امریکن سوسائٹی آف سیفٹی انجینیئرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، یوں کہہ لیں کہ ”‏کام کی جگہ پر مزدوروں کو ہر چار میں سے ایک مزدور کے کسی نہ کسی قسم کے تشدد کا شکار ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔“‏

جو چیز سب سے زیادہ تکلیف‌دہ ہے وہ یہ ہے کہ جائے‌ملازمت پر تشدد لڑائی‌جھگڑوں اور ڈانٹ‌ڈپٹ تک ہی محدود نہیں ہے۔ وہی رپورٹ بیان کرتی ہے، ”‏یو.‏ایس.‏ میں آجکل قتل کی بہت تیزی سے بڑھتی ہوئی قسم بالخصوص آجروں اور آجیروں کے خلاف دوسرے ملازمین کی طرف سے کِیا جانے والا تشدد ہے۔“‏ ۱۹۹۲ میں، ملازمت سے متعلق اموات میں ۶ میں سے ۱ قتل تھا:‏ خواتین کیلئے یہ تعداد تقریباً ۲ میں سے ۱ تھی۔ اس بات سے انکار نہیں کِیا جا سکتا کہ تشدد کی لہر اُن جگہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جو کبھی ملازمت کی نظم‌وضبط والی جگہیں ہوا کرتی تھیں۔‏

تفریح‌طبع اور کھیلوں میں تشدد

کھیل اور تفریح‌طبع کو ایک شخص کیلئے زندگی کی زیادہ سنجیدہ کاوشوں سے تازہ دَم ہونے کیلئے دِل‌بہلانے یا تسکین پانے کے ذرائع کے طور پر خیال کِیا جاتا تھا۔ آجکل تفریح کروڑوں ڈالر کا کاروبار ہے۔ اس منافع‌بخش خریدوفروخت سے جہاں تک ممکن ہو زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنے کی غرض سے تفریح فراہم کرنے والے ہر قسم کے دستیاب ذرائع کو استعمال کرنے سے پشیمان نہیں ہیں۔ اور ان ذرائع میں سے ایک تشدد ہے۔‏

مثال کے طور پر، ایک بزنس میگزین فوربز نے بیان کِیا کہ ویڈیوگیم کے صنعت‌کار کے پاس ایک مقبول [‏گیم]‏ وَار گیم ہوتی ہے جس میں ایک جنگجو اپنے حریف کا سر اور ریڑھ کی ہڈی توڑ ڈالتا ہے جبکہ تماشائی بار بار کہتے ہیں، ”‏اِسے مار ڈالو!‏ اِسے مار ڈالو!‏“‏ تاہم، مقابلہ کرنے والی کمپنی کیلئے تیارکردہ اُسی گیم کی نقل میں اُس طرح کا خونی منظر نہیں ہے۔ نتیجہ؟ تشدد والی نقل کی فروخت اپنے مدِمقابل کے حساب سے ۳ اور ۲ کی نسبت سے ہے۔ اور اس سے بہت زیادہ پیسہ کمایا جاتا ہے۔ جب ان کھیلوں کی گھر پر کھیلی جانے والی نقلیں بازار میں آئیں تو کمپنیوں نے پہلے دو ہفتوں میں بین‌الاقوامی طور پر کُل ۶۵ ملین ڈالر کمائے۔ جب نفع کی بات ہو تو تشدد صارفین کیلئے ایک اَور تحریص ہوتا ہے۔‏

کھیلوں میں تشدد بالکل ایک الگ چیز ہے۔ وہ جوبھی نقصان کر سکتے ہیں اکثر کھلاڑی اس میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۹۹۰ میں ہاکی کے ایک کھیل میں، ۸۶ بُھل‌کِنّانلٹیز تھیں—‏کسی بھی وقت کی نسبت بہت زیادہ۔ کھیل تشدد کے ساڑھے تین گھنٹوں کے بعد روک دیا گیا۔ ایک کھلاڑی کا چہرے کی ہڈی کے ٹوٹنے، خراش‌شُدہ آنکھ کی پتلی، اور کاری زخم کیلئے علاج کِیا گیا۔ ایسا تشدد کیوں؟ ایک کھلاڑی بیان کرتا ہے:‏ ”‏بہت زیادہ لڑائیوں کے بعد جب آپ ایک واقعی جذباتی کھیل جیت جاتے ہیں تو جب آپ گھر جاتے ہیں تو آپ اپنی ٹیم کے ارکان کے زیادہ قریب محسوس کرتے ہیں۔ مَیں سوچتا تھا کہ لڑائیاں اسے واقعی روحانی کھیل بنا دیتی ہیں۔“‏ آجکل کی زیادہ‌تر کھیلوں میں، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تشدد نہ صرف خاطرخواہ نتیجہ حاصل کرنے کا طریقہ ہے بلکہ خود خاطرخواہ نتیجہ ہی ہے۔‏

سکول میں تشدد

سکول کو ہمیشہ ایک ایسی پناہ‌گاہ خیال کِیا گیا ہے جہاں نوجوان لوگ اپنی تمام فکروں کو بھول سکتے ہیں اور اپنے ذہنوں اور بدنوں کی نشوونما پر توجہ دے سکتے ہیں۔ تاہم، آجکل سکول ایسی محفوظ اور خطرے سے پاک جگہ نہیں ہے۔ ۱۹۹۴ میں گیلپؔ کی رائے‌شماری نے معلوم کِیا کہ روپے پیسے سے بھی آگے نکلتے ہوئے جو گذشتہ سال فہرست میں اوّل نمبر پر تھا، تشدد اور مجرموں کے گروہ ریاستہائے متحدہ میں پبلک سکولوں میں مسائل کیلئے سرِفہرست ہے۔ حالت کتنی خراب ہے؟‏

اس سوال کے جواب میں، ”‏کیا آپ کبھی متشدّد فعل کا نشانہ بنے ہیں جو سکول یا اس کے گردونواح میں واقع ہوا تھا؟“‏ سروے میں تقریباً ہر ۴ طالبعلموں میں سے ۱ نے ہاں میں جواب دیا۔ اساتذہ کے دسویں حصے نے ہاں میں جواب دیا۔ اُسی سروے نے یہ بھی معلوم کِیا کہ طالبعلموں میں سے ۱۳ فیصد لڑکوں اور لڑکیوں نے تسلیم کِیا کہ وہ کبھی نہ کبھی ہتھیار لیکر سکول آئے ہیں۔ اُن میں سے زیادہ‌تر نے یہ دعویٰ کِیا کہ اُنہوں نے محض دوسروں پر رُعب جمانے یا خود اپنی حفاظت کیلئے ایسا کِیا تھا۔ لیکن جب ایک اُستاد نے اُس سے اُسکی بندوق چھیننے کی کوشش کی تو ایک ۱۷ سالہ طالبعلم نے اپنے اُستاد کے سینے میں گولی مار دی۔‏

ایک متشدّد تمدن

اس سے کوئی انکار نہیں کہ تشدد آجکل ہر جگہ ہے۔ گھر میں، ملازمت پر، سکول میں، اور تفریح میں ہمیں ایک متشدّد تمدن کا سامنا ہے۔ روزانہ اس کے خطرے میں رہتے ہوئے، بہتیروں نے اسے نارمل تسلیم کر لیا ہے—‏جبتک‌کہ وہ خود اس کا نشانہ نہیں بنتے۔ پھر وہ پوچھتے ہیں، کیا یہ کبھی ختم ہوگا؟ کیا آپ بھی جواب جاننا چاہینگے؟ توپھر براہِ‌مہربانی اگلا مضمون پڑھیں۔ (‏۳ ۰۲/۱۵ w۹۶)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں