انیسویں صدی کو تباہوبرباد کرنے والی جنگ
نئے عہدِہزارسالہ پر غوروخوض کرتے ہوئے، دی اورلانڈو سینٹینل کے اخباری کالمنویس چارلی ریس نے لکھا: ”انیسویں صدی کو تباہوبرباد کرنے والی ۱۹۱۴-۱۹۱۸ کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔“ اُس کا کیا مطلب تھا؟ اُس نے وضاحت کی: ”تاریخ کیلنڈر کی مرہونِمنت نہیں ہے۔ انیسویں صدی جسے اعتقادات، مفروضات، رُجحانات اور اخلاقیات کے مجموعے کے طور پر بیان کِیا گیا تھا یکم جنوری، ۱۹۰۱ کو ختم نہیں ہوئی تھی۔ یہ ۱۹۱۴ میں ختم ہوئی تھی۔ اور وہیں سے اسی طرح بیانکردہ ۲۰ویں صدی کا آغاز ہوا تھا۔ . . .
”ہمیں اپنی عمربھر جن آویزشوں کی تشویش رہتی ہے اُن سب کی جڑ عملاً یہی جنگ ہے۔ جن ذہنی اور ثقافتی رجحانات کیساتھ ہم نے زندگی بسر کی ہے تقریباً اُن سب نے اسی جنگ سے جنم لیا تھا۔ . . .
”میرے خیال میں اس سے واقعی ایسا نقصان ہوا تھا کیونکہ اس سے لوگوں کا یہ اعتقاد چکناچور ہو گیا کہ انسان اُنکی قسمت کا تعیّن کر سکتے ہیں۔ . . . جنگ نے لوگوں کو اس اعتقاد کے فریب سے چھٹکارا دلایا۔ اس جنگ کا جو نتیجہ نکلا فریقین میں سے کوئی بھی اسکا تصور نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے برطانوی اور فرانسیسی مملکتوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ اس نے برطانوی، فرانسیسی اور جرمن مردوں کی نسل کو کموبیش ختم کر دیا۔ اس نے قلیل مدت میں ۱۱ ملین لوگوں کو ہلاک کر دیا۔“
کوئی ۱۲۰ سے زائد برسوں سے یہوواہ کے گواہوں نے یسوع کی بیانکردہ ”غیرقوموں کی میعاد“ کے خاتمے کے طور پر ۱۹۱۴ کی نشاندہی کی ہے۔ (لوقا ۲۱:۲۴) اُس سال میں، قیامتیافتہ، جلالی یسوع مسیح آسمانی بادشاہت کے بادشاہ کے طور پر تختنشین ہوا تھا۔ اس بادشاہت کے وسیلہ سے یہوواہ خدا تمام تکلیف کو مستقل طور پر ختم کر دیگا جو اس صدی کا خاصہ رہی ہے۔—زبور ۳۷:۱۰، ۱۱؛ واعظ ۸:۹؛ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
[صفحہ 32 پر تصویر کا حوالہ]
U.S. National Archives photo