شکرگزار کیوں ہوں؟
ریڑھ کی ہڈی کے آپریشن نے ہارلے کو مشینوں پر کام کرنے کا پیشہ چھوڑ کر کسی دفتر کا کلرک بننے پر مجبور کر دیا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ اس تبدیلی کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے تو ہارلے نے بتایا: ”مَیں مشینوں پر کام کرنے کو یاد کرتا ہوں۔ تاہم، مَیں دیانتداری سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مَیں اپنے پہلے کام کی نسبت اپنے موجودہ کام سے زیادہ خوش ہوں۔“
اپنے اطمینان کی بابت بیان کرتے ہوئے، ہارلے کہتا ہے: ”اسکا سبب اُن لوگوں کا رویہ ہے جن کیساتھ مَیں کام کرتا ہوں۔ میری گزشتہ جائےملازمت کے برعکس، میرے حالیہ سپروائزر اور ساتھی کارکن اس کام کیلئے جو مَیں کرتا ہوں قدردانی کا اظہار کرتے ہیں اور وہ تعریف کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس سے میری دُنیا بدل کر رہ گئی ہے۔“ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ وہ کارآمد ہے اور اُسکی ضرورت ہے، ہارلے اب ایک مسرور کارکن ہے۔
تعریف یا شکرگزاری کے باموقع الفاظ واقعی دل کو گرما دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، ناشکرگزاری کا اثر اتنا ہی سرد ہوتا ہے جتناکہ شیکسپیئر نے بیان کِیا: ”چلچل اَے سرمائی ہوا، تو اتنی نامہربان نہیں جتنیکہ انسان کی ناشکرگزاری ہے۔“ افسوس کی بات ہے کہ بہتیرے اس نامہربانی کا شکار ہوئے ہیں۔
ناشکرگزاری سے ہوشیار رہیں
آج کی دُنیا میں شکرگزاری کے پُرخلوص اظہارات معدوم ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک مصنف نے سوال اُٹھایا: ”اگر ایک دلہن کے پاس شادی کے ۲۰۰ دعوت ناموں پر پتہ لکھنے کے لئے وقت ہے تو ملنے والے ۱۶۳ تحائف کے واسطے شکریے کا ایک مختصر خط لکھنے کے لئے وقت کیوں نہیں نکل سکتا؟“ عموماً ”شکریہ“ کا آسان سا لفظ بھی نہیں کہا جاتا۔ ”پہلے مَیں“ کا رجحان بڑی تیزی سے شکرگزاری کی جگہ لے رہا ہے۔ یہ صورتِحال آخری ایّام کے شناختی نشانوں میں سے ایک ہے۔ پولس رسول نے آگاہ کِیا: ”تمہیں جان لینا چاہئے کہ آخری ایّام میں وقت خطرے سے پُر ہوگا۔ انسان انتہائی خودغرض ہو جائیں گے . . . ان میں شکرگزاری کی انتہائی کمی ہو گی۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱، ۲، فلپس۔
دیگر معاملات میں، شکرگزاری کی جگہ خوشامد لے لیتی ہے۔ ذاتی حاصلات پر توجہ دئے بغیر، شکرگزاری کے اظہار دل سے کئے جاتے ہیں۔ تاہم، خوشامد عموماً منافقانہ اور مبالغہآمیز ہوتی ہے جو ترقی کرنے یا دیگر ذاتی مفادات کے درپردہ محرکات سے تحریک پا سکتی ہے۔ (یہوداہ ۱۶) خوشامدی کی باتیں نہ صرف دوسرے شخص کو دھوکہ دیتی ہیں بلکہ یہ غرور اور تکبّر جیسے اوصاف پر منتج ہوتی ہیں۔ لہٰذا، کون منافقانہ خوشامد کا شکار ہونا چاہے گا؟ تاہم، حقیقی شکرگزاری واقعی تازگیبخش ہے۔
شکرگزاری کا اظہار کرنے والا شخص بھی اس سے استفادہ کرتا ہے۔ دلیتشکر کی بدولت وہ جس گرمجوشی کا تجربہ کرتا ہے وہ اس کی خوشی اور اطمینان میں اضافہ کرتا ہے۔ (مقابلہ کریں امثال ۱۵:۱۳، ۱۵۔) نیز ایک مثبت خوبی ہونے کی وجہ سے شکرگزاری اسے غصے، حسد اور آزردگی جیسے منفی احساسات سے محفوظ رکھتی ہے۔
”تم شکرگزار ہو“
بائبل ہمیں شکرگزاری یا احسانمندی کی روح پیدا کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ پولس نے تحریر کِیا: ”ہر ایک بات میں شکرگزاری کرو کیونکہ مسیح یسوؔع میں تمہاری بابت خدا کی یہی مرضی ہے۔“ (۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۸) نیز پولس نے کلسیوں کو ہدایت کی: ”مسیح کا اطمینان . . . تمہارے دلوں پر حکومت کرے اور تم شکرگزار ہو۔“ (کلسیوں ۳:۱۵) بہت سے زبوروں میں تشکر کے اظہارات پائے جاتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دلی شکرگزاری ایک خدائی خوبی ہے۔ (زبور ۲۷:۴؛ ۷۵:۱) بِلاشُبہ، جب ہم زندگی کے روزمرّہ معاملات میں شکرگزاری ظاہر کرتے ہیں تو یہوواہ خدا خوش ہوتا ہے۔
تاہم، اِس ناشکر دُنیا میں کونسے عناصر ہمارے لئے شکرگزاری کی روح کو پیدا کرنا مشکل بنا دیتے ہیں؟ ہم روزمرّہ زندگی میں متشکر رویے کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں؟ ان سوالات پر اگلے مضمون میں باتچیت کی جائیگی۔