شکرگزاری کی روح پیدا کریں
ایک فزیشن ہنگامی صورتِحال میں نیو یارک کی ریاست میں ماری کی زندگی بچاتا ہے۔ تاہم، ۵۰ سالہ ماری نہ تو ڈاکٹر کا شکریہ ادا کرتی ہے اور نہ ہی اس کی فیس ادا کرتی ہے۔ ناشکرگزاری کی کیا ہی مثال!
بائبل بیان کرتی ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں داخل ہوتے ہوئے، یسوع کا سامنا کوڑھ کے موذی مرض میں مبتلا دس آدمیوں سے ہوا۔ انہوں نے بلند آواز سے اس سے فریاد کی: ”اَے یسوؔع! اَے صاحب! ہم پر رحم کر۔“ یسوع نے حکم دیا: ”جاؤ۔ اپنے تیئں کاہنوں کو دکھاؤ۔“ کوڑھیوں نے اس کی ہدایت پر عمل کِیا اور جبکہ وہ راستے ہی میں تھے تو وہ اپنی بحالشُدہ صحت کو دیکھنے اور محسوس کرنے لگے۔
شفا پانے والے نو کوڑھی اپنی راہ چلتے رہے۔ تاہم، ایک کوڑھی جوکہ سامری تھا، یسوع کو ڈھونڈتا ہوا واپس آیا۔ اس مؤخرالذکر کوڑھی نے خدا کی تمجید کی اور یسوع کو تلاش کرنے کے بعد اُس نے اسکے پاؤں پر مُنہ کے بل گِر کر اسکا شکر ادا کِیا۔ یسوع نے جواب میں کہا: ”کیا دسوں پاک صاف نہ ہوئے؟ پھر وہ نو کہاں ہیں؟ کیا اس پردیسی کے سوا اَور نہ نکلے جو لوٹ کر خدا کی تمجید کرتے؟“—لوقا ۱۷:۱۱-۱۹۔
اس سوال سے ”پھر وہ نو کہاں ہیں؟“ ایک اہم سبق اخذ ہوتا ہے۔ ماری کی طرح نو کوڑھیوں میں ایک بڑی خامی تھی—انہوں نے شکرگزاری کا اظہار نہ کِیا۔ آج ایسی ناشکرگزاری بڑی عام ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
ناشکرگزاری کا بنیادی سبب
ناشکرگزاری بنیادی طور پر خودغرضی سے جنم لیتی ہے۔ اپنے پہلے والدین آدم اور حوا پر غور کریں۔ یہوواہ نے اُنہیں الہٰی صفات کیساتھ خلق کِیا اور اُنکی خوشی کیلئے خوبصورت باغنما گھر، کامل ماحول اور پُرمطلب اور اطمینانبخش کام سمیت تمام چیزیں فراہم کیں۔ (پیدایش ۱:۲۶-۲۹؛ ۲:۱۶، ۱۷) تاہم، انکے ذاتی مفاد پر مبنی شیطان کی پیشکش کے دباؤ کے تحت، ایک جوڑے کے طور پر اُنہوں نے نافرمانی کی روش اختیار کی اور یہوواہ کے احسان کیلئے توہینآمیز جوابیعمل کا مظاہرہ کِیا۔—پیدایش ۳:۱-۵؛ مکاشفہ ۱۲:۹۔
علاوہازیں، قدیم اسرائیل کے لوگوں پر غور کریں جنہیں خدا نے اپنی خاص ملکیت ہونے کے لئے منتخب کِیا۔ نیسان ۱۴، ۱۵۱۳ ق.س.ع کی رات تمام اسرائیلی والدین کتنے شکرگزار ہونگے! خدا کے فرشتے نے اس اہم رات ”سب پہلوٹھوں [کو] جو ملکمصرؔ میں“ تھے ہلاک کر ڈالا مگر درست طور پر نشانیافتہ اسرائیلیوں کے گھروں کو چھوڑتا گیا۔ (خروج ۱۲:۱۲، ۲۱-۲۴، ۳۰) نیز بحرِقلزم پر فرعون کی فوج سے بچائے جانے کے بعد، شکرگزاری سے معمور دلوں کے ساتھ، ’موسیٰ اور بنیاسرائیل یہوواہ کے لئے گیت گانے لگے۔‘—خروج ۱۴:۱۹-۲۸؛ ۱۵:۱-۲۱۔
تاہم، مصر سے نکلنے کے کچھ ہی ہفتوں بعد، ”بنیاسرائیل کی ساری جماعت . . . بڑبڑانے لگی۔“ کتنی جلدی وہ ناشکرگزاری کا شکار ہو گئے! وہ ”گوشت کی ہانڈیوں کے پاس بیٹھ کر دل بھر کر روٹی“ کھانے کو یاد کرنے لگے جس سے انہوں نے اپنی غلامی کی سرزمین، مصر میں لطف اٹھایا۔ (خروج ۱۶:۱-۳) بِلاشُبہ، خودغرضی شکرگزاری کو پیدا کرنے اور ظاہر کرنے کے خلاف کام کرتی ہے۔
تمام انسان گنہگار آدم کی اولاد ہوتے ہوئے خودغرضانہ رجحان اور ناشکرگزاری کے میلان کیساتھ جنم لیتے ہیں۔ (رومیوں ۵:۱۲) ناشکرگزاری اس خودغرضانہ روح کا حصہ بھی ہے جو اس دُنیا کے لوگوں پر مسلّط ہے۔ یہ روح اس ہوا کی طرح جس میں ہم سانس لیتے ہیں، ہر جگہ موجود ہے اور ہمیں متاثر کرتی ہے۔ (افسیوں ۲:۱، ۲) چنانچہ ہمیں شکرگزاری کا میلان پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ کیسے کر سکتے ہیں؟
غوروفکر ضروری ہے!
ویبسٹرز تھرڈ نیو انٹرنیشنل ڈکشنری شکرگزاری کی تعریف کرتے ہوئے کہتی ہے، ”شکرگزار ہونے کی حالت: اپنے محسن کیلئے گرمجوش اور دوستانہ احساسات جوکہ اس سے مہربانی کے بدلے کچھ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔“ ایک احساس کو میکانکی انداز سے آن اور آف نہیں کِیا جا سکتا؛ اسے ایک شخص کے اندر ازخود پیدا ہونا چاہئے۔ شکرگزاری اچھے آدابواطوار یا شائستگی کے مظاہرے سے بڑھ کر ہے؛ یہ دل سے جنم لیتی ہے۔
ہم دلی شکرگزاری کا احساس پیدا کرنا کیسے سیکھ سکتے ہیں؟ جوکچھ ہم محسوس کرتے ہیں بائبل اسے ہماری سوچ کے انتخاب سے منسوب کرتی ہے۔ (افسیوں ۴:۲۲-۲۴) شکرگزاری کا احساس پیدا کرنا سیکھنا اُس وقت شروع ہوتا ہے جب ہم اپنے لئے دکھائی جانے والی اس مہربانی پر قدردانی کیساتھ غور کرنے لگتے ہیں۔ اس سلسلے میں، ماہرِنفسیات ڈاکٹر وائن ڈبلیو. ڈائر کہتے ہیں: ”آپ ذہن میں ایک خیال کے بغیر ایک احساس کا تجربہ نہیں کر سکتے ہیں۔“
مثال کے طور پر، اپنے اردگرد موجود تخلیق کے لئے شکرگزار ہونے کے معاملے کو ہی لے لیں۔ ایک صافشفاف رات کو ستاروں بھرے آسمان پر نظر ڈالنے کے تجربے کی بابت آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ بادشاہ داؤد نے اس جلال کا ذکر کِیا جسے اس نے محسوس کِیا: ”جب مَیں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جنکو تُو نے مقرر کِیا غور کرتا ہوں تو پھر انسان کیا ہے کہ تُو اسے یاد رکھے اور آدمزاد کیا ہے کہ تُو اس کی خبر لے؟“ نیز رات کے سکوت میں، ستارے داؤد سے ہمکلام ہوتے ہوئے اسے یہ تحریر کرنے کی ترغیب دیتے تھے: ”آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اسکی دستکاری دکھاتی ہے۔“ ستاروں بھرے آسمان نے داؤد کو اسقدر متاثر کیوں کِیا؟ وہ خود اسکا جواب دیتا ہے: ”مَیں تیرے سب کاموں پر غور کرتا ہوں اور تیری دستکاری پر دھیان کرتا ہوں۔“—زبور ۸:۳، ۴؛ ۱۹:۱؛ ۱۴۳:۵۔
داؤد کے بیٹے سلیمان نے بھی تخلیق کے عجائب کی بابت غور کرنے کی اہمیت کیلئے قدردانی محسوس کی۔ مثال کے طور پر، ہماری زمین کو تروتازگی بخشنے والے برساتی بادلوں کے کردار پر غور کرتے ہوئے اس نے تحریر کِیا: ”سب ندیاں سمندر میں گرتی ہیں پر سمندر بھر نہیں جاتا۔ ندیاں جہاں سے نکلتی ہیں ادھر ہی کو پھر جاتی ہیں۔“ (واعظ ۱:۷) لہٰذا بارشوں اور دریاؤں کے پانی زمین کو تازگی بخشنے کے بعد، سمندروں کے ذریعے پھر سے بادلوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پانی کے اس صاف کرنے اور بار بار چکر لگانے کے عمل کے بغیر زمین کیسی ہو گی؟ سلیمان کسقدر شکرگزار ہوا ہوگا جب اس نے ان خیالات پر دھیان لگایا ہوگا!
ایک شکرگزار شخص اپنے خاندانی ارکان، دوستوں اور واقفکاروں کیساتھ اپنے رشتے کی بھی قدر کرتا ہے۔ انکے مشفقانہ کام اسکی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ جب وہ قدردانی کیساتھ انکی مہربانیوں پر غور کرتا ہے تو وہ دلی طور پر شکرگزاری محسوس کرتا ہے۔
شکرگزاری کا اظہار کرنا
”شکریہ“ کسقدر سادہ لفظ ہے! اس لفظ کو زبان سے ادا کرنا کتنا آسان ہے۔ نیز ایسا کرنے کے بےشمار مواقع ہیں۔ اس شخص کیلئے گرمجوش اور پُرخلوص شکریہ کہنا کتنا تازگیبخش ہے جس نے ہمارے لئے دروازہ کھولا ہے یا وہ چیز اٹھائی ہے جو ہم سے نیچے گر گئی تھی! اس لفظ کو سننا ایک سٹور کلرک یا ریسٹورنٹ میں ایک ویٹرس یا ڈاکیے کے کام کو ہلکا اور زیادہ بااجر بنا سکتا ہے۔
شکریہ کے کارڈ بھیجنا، مشفقانہ کاموں کیلئے شکرگزاری ظاہر کرنے کا سہل طریقہ ہے۔ دکانوں پر دستیاب بہت سے کارڈ بڑی خوبصورتی سے احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ تاہم، کیا اپنی تحریر میں قدردانی کے چند الفاظ کا اضافہ کرنا محبتآمیز انفرادی سوچ کا مظہر نہ ہوگا؟ بعض لوگ چھپے ہوئے کارڈ کی نسبت ذاتی طور پر ایک مختصر خط لکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔—مقابلہ کریں امثال ۲۵:۱۱۔
ہماری شکرگزاری کے سب سے زیادہ مستحق وہ ہیں جو گھر میں ہمارے زیادہ قریب ہیں۔ بائبل ایک لائق بیوی کی بابت بیان کرتی ہے: ”اسکا شوہر . . . اسکی تعریف کرتا ہے۔“ (امثال ۳۱:۲۸) کیا ایک شوہر کی طرف سے اپنی بیوی کیلئے دلی شکرگزاری کا اظہار گھر کے ماحول میں امنوسکون کو فروغ نہیں دیگا؟ نیز کیا ایک شوہر گھر واپس لوٹنے پر اپنی بیوی کی طرف سے ایک گرمجوش اور پُرتپاک سلام سے خوش نہیں ہوگا؟ ان ایّام میں شادی پر بہت سے دباؤ ہیں اور جب دباؤ بڑھتے ہیں تو طیش میں آ جانا بہت آسان ہوتا ہے۔ شکرگزاری کا ایک طریقہ نرمی دکھانے کیلئے آمادہ ہونا اور فوراً نظرانداز اور معاف کر دینا ہے۔
اپنے والدین کیلئے دلی قدردانی کے اظہارات کے سلسلے میں نوجوانوں کو بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ بِلاشُبہ، والدین ناکامل ہیں لیکن یہ کوئی وجہ نہیں کہ جوکچھ انہوں نے آپ کیلئے کِیا ہے آپ اس کیلئے شکرگزار نہ ہوں۔ آپکی پیدائش سے لیکر اُنہوں نے جو محبت اور توجہ آپکو دی ہے وہ خریدی نہیں جا سکتی۔ اگر انہوں نے آپ کو خدا کا علم سکھایا ہے تو آپ کے پاس شکرگزار ہونے کی اضافی وجہ ہے۔
”اولاد خداوند کی طرف سے میراث ہے،“ زبور ۱۲۷:۳ بیان کرتی ہے۔ لہٰذا والدین کو اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی تلاش میں رہنے کی بجائے انکی تعریف کرنے کے مواقع تلاش کرنے چاہئیں۔ (افسیوں ۶:۴) پس انکے پاس شکرگزاری کی روح پیدا کرنے اپنے زیرِنگرانی نوجوانوں کی مدد کرنے کا کیا ہی شرف ہے!—مقابلہ کریں امثال ۲۹:۲۱۔
خدا کے شکرگزار
یہوواہ خدا ”ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام“ کا دینے والا ہے۔ (یعقوب ۱:۱۷) زندگی کا تحفہ بالخصوص اہم ہے کیونکہ اگر ہم زندگی کھو دیتے ہیں تو جوکچھ بھی ہمارے پاس ہے یا شاید جسکا منصوبہ بناتے ہیں سب کچھ بےوقعت ہو جائیگا۔ صحائف یہ یاد رکھنے کیلئے ہماری حوصلہافزائی کرتے ہیں کہ ”زندگی کا سرچشمہ [یہوواہ خدا کے] پاس ہے۔“ (زبور ۳۶:۵، ۷، ۹؛ اعمال ۱۷:۲۸) خدا کیلئے ایک شکرگزار دل پیدا کرنے کی غرض سے ہمیں اُسکی فیاضی کیساتھ عطاکردہ فراہمیوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے جو ہماری جسمانی اور روحانی زندگی کو برقرار رکھتی ہیں۔ (زبور ۱:۱-۳؛ ۷۷:۱۱، ۱۲) ایسا دل ہمیں کلام اور کام دونوں کے ذریعے قدردانی کا اظہار کرنے کی تحریک دیگا۔
اپنی شکرگزاری کے اظہار کا ایک آسان طریقہ دُعا ہے۔ زبورنویس داؤد نے بیان کِیا: ”اے خداوند میرے خدا! جو عجیب کام تُو نے کئے اور تیرے خیال جو ہماری طرف ہیں وہ بہت سے ہیں۔ مَیں انکو تیرے حضور ترتیب نہیں دے سکتا۔ اگر مَیں انکا ذکر اور بیان کرنا چاہوں۔ تو وہ شمار سے باہر ہیں۔“ (زبور ۴۰:۵) دُعا ہے کہ ہم بھی ایسی ہی تحریک پائیں۔
داؤد دوسروں سے اپنے کلام کے ذریعے بھی خدا کیلئے اپنی قدردانی کے اظہار کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے کہا: ”مَیں اپنے پورے دل سے خداوند کی شکرگزاری کرونگا۔ مَیں تیرے سب عجیب کاموں کا بیان کرونگا۔“ (زبور ۹:۱) دوسروں سے خدا کی بابت باتچیت کرنا، اسکے کلام سے اُنہیں سچائی بتاتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کرنا، غالباً اس کیلئے اپنی شکرگزاری کے اظہار کا سب سے عمدہ طریقہ ہے۔ نیز یہ زندگی کے دیگر پہلوؤں میں زیادہ شکرگزار ہونے میں بھی ہماری مدد کریگا۔
”جو شکرگزاری کی قربانی گذرانتا ہے وہ میری تمجید کرتا ہے اور جو اپنا چالچلن درست رکھتا ہے اسکو مَیں . . . نجات دکھاؤنگا،“ یہوواہ فرماتا ہے۔ دُعا ہے کہ آپ اس خوشی کا تجربہ کریں جو یہوواہ کیلئے دلی شکرگزاری کا اظہار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔—زبور ۵۰:۲۳؛ ۱۰۰:۲۔