وہ خاموشی سے اپنے خالق کی حمدوثنا کرتے ہیں
آفتاب کے غروب ہونے کے مناظر قدرتی طور پر دلکش ہوتے ہیں۔ تاہم ٹسکنی اٹلی کے اس خاص پہاڑ اپون ایلپس کے عقب میں غروبِآفتاب کا نظارہ واقعی بیمثال ہے۔
دُور سے دیکھا جائے تو سورج پہاڑ کے عقب میں غروب ہونے کی بجائے اس کے اندر اُترتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ کیوں؟ اسلئے کہ پہاڑ کی چوٹی کی ایک قدرتی محراب ہے جوکہ یوں معلوم ہوتی ہے کہ گویا پہاڑ میں سے تراش کر بنائی گئی ہو۔ واقعی، سمندر میں دُور دُور تک پھیلی ہوئی یہ چٹان، مونٹ فوراٹو—چیر کر نکلا ہوا پہاڑ کے نام پر پورا اُترتی ہے۔ سورج کے گرد زمین کی گردش کی بدولت، دیکھنے والے اس محراب میں سے سورج کے مونٹ فوراٹو میں اُترنے کا منظر سال میں صرف دو مرتبہ دیکھ سکتے ہیں۔
تخلیق کی دیگر چیزوں کی طرح بےجان آسمان بھی اپنے خالق کی حمدوثنا کرتے ہیں۔ کیسے؟ بالکل اُسی طرح جیسے ایک خوبصورت تصویر اُس آرٹسٹ کیلئے تعریف کا باعث بن سکتی ہے جس نے اُسے بنایا ہے۔ عملاً، اجرامِفلکی بھی یہوواہ کی طاقت، حکمت اور جاہوجلال کو بیان کرتے ہیں۔ جیسےکہ زبورنویس اسے بیان کرتا ہے، ”آسمان خدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُسکی دستکاری دکھاتی ہے۔“ (زبور ۱۹:۱؛ ۶۹:۳۴) جب سورج اور دیگر بےجان اجرام اپنے خالق کی حمدوثنا کرتے ہیں تو ہمیں کسقدر زیادہ کرنا چاہئے!—زبور ۱۴۸:۱، ۳، ۱۲، ۱۳۔