”یہوواہ اپنے لوگوں کو ترک نہیں کریگا“
”صادق کی مصیبتیں بہت ہیں لیکن خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اُسکو اُن سب سے رِہائی بخشتا ہے۔“—زبور ۳۴:۱۹۔
۱، ۲. (ا) یہوواہ آجکل اپنے لوگوں کو کیسے برکت دے رہا ہے؟ (ب) بہتیرے مسیحیوں کو کس چیز کا سامنا ہوتا ہے اور کونسے سوالات پیدا ہوتے ہیں؟
بائبل پیشینگوئی کی تکمیل میں، یہوواہ کے پرستار روحانی فردوس میں آباد ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۱۲:۱-۴) یہوواہ کے گواہ ایسی بینالاقوامی برادری کا حصہ ہیں جسکا طرۂامتیاز محبت اور اتحاد ہیں۔ (یوحنا ۱۳:۳۵) وہ بائبل سچائیوں کے گہرے اور جامع علم سے مستفید ہوتے ہیں۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۳) وہ یہوواہ کے کتنے شکرگزار ہیں کہ وہ اُنہیں اپنے روحانی خیمے میں مہمان بننے کا شرف عطا کرتا ہے!—زبور ۱۵:۱۔
۲ اگرچہ یہوواہ کی تنظیم میں سب لوگ روحانی ترقی سے لطفاندوز ہوتے ہیں، تَوبھی بعض قدرے اَمنوسکون سے زندگی بسر کرتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ دیگر طرحطرح کی تکالیف کا تجربہ کرتے ہیں۔ بہتیرے مسیحی طویل مدت سے خود کو قابلِرحم حالت میں مبتلا پاتے ہیں اور اُنہیں چھٹکارے کی کوئی اُمید دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے حالات میں بےحوصلہ ہو جانا توپھر قدرتی امر ہے۔ (امثال ۱۳:۱۲) کیا مصیبتیں خدا کی ناراضگی کا ثبوت ہیں؟ کیا یہوواہ بعض مسیحیوں کو تو خاص تحفظ فراہم کرتا ہے اور بعض کو ترک کر دیتا ہے؟
۳. (ا) کیا یہوواہ اُن مشکلات کا ذمہدار ہے جو اُسکے لوگوں کے تجربے میں آتی ہیں؟ (ب) یہوواہ کے ایماندار پرستاروں کو بھی کیوں انسانی دُکھدرد کا تجربہ ہوتا ہے؟
۳ بائبل جواب دیتی ہے: ”جب کوئی آزمایا جائے تو یہ نہ کہے کہ میری آزمایش خدا کی طرف سے ہوتی ہے کیونکہ نہ تو خدا بدی سے آزمایا جا سکتا ہے اور نہ وہ کسی کو آزماتا ہے۔“ (یعقوب ۱:۱۳) یہوواہ اپنے لوگوں کا محافظ اور اُنہیں سنبھالنے والا ہے۔ (زبور ۹۱:۲-۶) ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے لوگوں کو ترک نہیں کریگا۔“ (زبور ۹۴:۱۴) اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایماندار پرستاروں کو دُکھتکلیف کا تجربہ نہیں ہوگا۔ موجودہ دُنیاوی نظامالعمل کی باگڈور ایسے انسانوں کے ہاتھ میں ہے جو پیدائشی طور پر ناکامل ہیں۔ بہتیرے تو بُرے ہیں اور بعض بدکار ہیں۔ اُن میں سے کوئی بھی حکمت کیلئے یہوواہ پر آس نہیں رکھتا۔ یہی بات بہت زیادہ انسانی دُکھتکلیف کا باعث بنتی ہے۔ بائبل صاف طور پر بیان کرتی ہے کہ یہوواہ کے لوگ ہمیشہ انسانی ناکاملیت اور بدکاری کے افسوسناک نتائج سے بچ نہیں سکتے۔—اعمال ۱۴:۲۲۔
وفادار مسیحی دُکھ اُٹھانے کی توقع رکھتے ہیں
۴. تمام مسیحی جب تک اس بدکار نظامالعمل میں زندہ ہیں وہ کس چیز کی توقع کر سکتے ہیں اور کیوں؟
۴ دُنیا کا حصہ نہ ہونے کے باوجود، یسوع کے پیروکار اسی نظامالعمل کے اندر رہتے ہیں۔ (یوحنا ۱۷:۱۵، ۱۶) بائبل میں شیطان کو اس جہان کی پُشت پر کارفرما قوت کے طور پر بےنقاب کِیا گیا ہے۔ (۱-یوحنا ۵:۱۹) لہٰذا، تمام مسیحی جلد یا بدیر سنگین مسائل سے دوچار ہونے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پطرس رسول کہتا ہے: ”تم ہوشیار اور بیدار رہو۔ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیرببر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔ تم ایمان میں مضبوط ہو کر اور یہ جان کر اُسکا مقابلہ کرو کہ تمہارے بھائی جو دُنیا میں ہیں ایسے ہی دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔“ (۱-پطرس ۵:۸، ۹) جیہاں، تمام مسیحی برادری دُکھوں کی توقع کر سکتی ہے۔
۵. یسوع نے کیسے ظاہر کِیا کہ ایماندار مسیحیوں کو زندگی میں افسوسناک حالتوں کا تجربہ ہوگا؟
۵ اگر ہم یہوواہ سے گہری محبت رکھتے ہوں اور اُسکے اُصولوں کی پابندی کرتے ہیں تَوبھی ہمیں زندگی میں افسوسناک حالتوں کا تجربہ ہوگا۔ یسوع نے اس بات کو متی ۷:۲۴-۲۷ میں درج تمثیل سے واضح کِیا جہاں اُس نے اُسکی باتوں کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے مابین موازنہ کِیا۔ اُس نے فرمانبردار شاگردوں کو ایسے عقلمند آدمی سے تشبِیہ دی جو ایک مضبوط چٹان پر گھر بناتا ہے۔ جو لوگ اُسکی باتوں کو نہیں مانتے اُن کو اُس نے ایسے بیوقوف آدمی کے مشابہ ٹھہرایا جو ریت پر اپنا گھر بناتا ہے۔ ایک شدید طوفان کے بعد، صرف چٹان پر بنا ہوا گھر ہی قائم رہتا ہے۔ غور فرمائیں کہ عقلمند آدمی کے گھر پر ”مینہ برسا اور پانی چڑھا اور آندھیاں چلیں اور اُس گھر پر ٹکریں لگیں لیکن وہ نہ گِرا۔“ یسوع نے یہ وعدہ نہیں کِیا تھا کہ عقلمند آدمی ہمیشہ اَمنوسکون میں رہیگا۔ بلکہ، اُس آدمی کی دانشمندی اُسے طوفان کا مقابلہ کرکے بچ نکلنے کیلئے تیار کریگی۔ ایسا ہی خیال بیج بونے والے کی تمثیل میں بھی پیش کِیا گیا ہے۔ اس میں یسوع نے وضاحت کی کہ فرمانبردار پرستار بھی ”عمدہ اور نیکدل [کیساتھ] . . . صبر سے پھل“ لائینگے۔—لوقا ۸:۴-۱۵۔
۶. پولس کی غیرآتشگیر مادّوں کی تمثیل میں کون آتشی امتحان میں سے گزرتے ہیں؟
۶ کرنتھیوں کو لکھتے ہوئے پولس نے اُن دیرپا صفات کو اُجاگر کرنے کیلئے استعارے کی زبان استعمال کی جو آزمائشوں کا سامنا کرنے میں ہماری مدد کر سکتی ہیں۔ سونا، چاندی اور قیمتی پتھروں جیسے غیرآتشگیر مادّے خدائی صفات کی مانند ہیں۔ (مقابلہ کریں امثال ۳:۱۳-۱۵؛ ۱-پطرس ۱:۶، ۷۔) دوسری جانب، جسمانی خصائل کو آتشگیر مادّوں سے تشبِیہ دی گئی ہے۔ لہٰذا پولس بیان کرتا ہے: ”ہر ایک . . . کا کام ظاہر ہو جائیگا کیونکہ جو دن آگ کے ساتھ ظاہر ہوگا وہ اُس کام کو بتا دیگا اور وہ آگ خود ہر ایک کا کام آزما لیگی کہ کیسا ہے۔ جسکا کام اُس پر بنا ہوا باقی رہیگا وہ اجر پائیگا۔“ (۱-کرنتھیوں ۳:۱۰-۱۴) یہاں پھر بائبل وضاحت کرتی ہے کہ ہم سب کو آتشی امتحان کے کسینہکسی پہلو کا سامنا لازماً کرنا پڑیگا۔
۷. رومیوں ۱۵:۴ کے مطابق، صحائف ہمیں آزمائشوں کی برداشت کرنے میں کیسے مدد دے سکتے ہیں؟
۷ بائبل میں خدا کے ایسے وفادار خادموں کی بیشمار سرگزشتیں پائی جاتی ہیں جنہیں بعضاوقات تو طویل عرصے کیلئے مصیبتیں برداشت کرنا پڑی تھیں۔ تاہم، یہوواہ نے اُنہیں ترک نہیں کِیا تھا۔ پولس رسول کے ذہن میں غالباً ایسی ہی مثالیں تھیں جب اُس نے کہا: ”جتنی باتیں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کے لئے لکھی گئیں تاکہ صبر سے اور کتابِمُقدس کی تسلی سے اُمید رکھیں۔“ (رومیوں ۱۵:۴) تین مردوں کی مثالوں پر غور کریں جنہوں نے خدا کیساتھ قریبی رشتہ رکھنے کے باوجود بہت سی مصیبتیں اُٹھائیں۔
ہم بائبل سرگزشتوں سے کیا سیکھتے ہیں
۸. یوسف کے معاملے میں یہوواہ نے کس چیز کی اجازت دی اور کتنی مدت کیلئے؟
۸ یعقوب کا بیٹا یوسف لڑکپن سے ہی یہوواہ کا منظورِنظر تھا۔ پھربھی، اپنی کسی غلطی کے بغیر، وہ پےدرپے مصیبتوں میں مبتلا رہا۔ اُسکے اپنے بھائیوں نے اُسے اغوا کر لیا اور اُس سے ظالمانہ سلوک کِیا۔ اُسے غلام کے طور پر اجنبی مُلک میں بیچ دیا گیا جہاں اُس پر جھوٹا الزام لگا کر اُسے ”قیدخانہ“ میں ڈال دیا گیا۔ (پیدایش ۴۰:۱۵) وہاں، ”اُنہوں نے اُسکے پاؤں کو بیڑیوں سے دُکھ دیا۔ وہ لوہے کی زنجیروں میں جکڑا رہا۔“ (زبور ۱۰۵:۱۷، ۱۸) اپنی غلامی اور قید کے دوران، بِلاشُبہ یوسف یہوواہ سے آزادی کیلئے باربار التجا کرتا رہا۔ تاہم، ۱۳ سال تک، اگرچہ یہوواہ اُسے مختلف طریقوں سے تقویت بخشتا رہا، تَوبھی وہ ہر صبح جب بیدار ہوتا تو ایک غلام یا قیدی ہی ہوتا۔—پیدایش ۳۷:۲؛ ۴۱:۴۶۔
۹. داؤد کو کئی سالوں تک کس چیز کی برداشت کرنا پڑی؟
۹ داؤد کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ جب یہوواہ اسرائیل پر حکمرانی کرنے کیلئے کسی لائق آدمی کا چناؤ کر رہا تھا تو اُس نے کہا: ”مجھے ایک شخص یسیؔ کا بیٹا داؔؤد میرے دل کے موافق مِل گیا۔“ (اعمال ۱۳:۲۲) یہوواہ کا منظورِنظر ہونے کے باوجود، داؤد نے بہت تکلیف اُٹھائی۔ موت کے خطرے میں، وہ کئی سال تک بیابان میں، غاروں میں، دراڑوں میں اور اجنبی علاقوں میں روپوش رہا۔ جنگلی جانور کی طرح شکار کئے جانے سے اُسے حوصلہشکنی اور خوف کا سامنا رہا۔ تاہم، اُس نے یہوواہ کی طاقت سے یہ سب کچھ برداشت کِیا۔ داؤد بجا طور پر اپنے تجربے سے کہہ سکتا تھا: ”صادِق کی مصیبتیں بہت ہیں لیکن خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اُسکو اُن سب سے رِہائی بخشتا ہے۔“—زبور ۳۴:۱۹۔
۱۰. نبوت اور اُس کے خاندان پر کونسی شدید مصیبت آن پڑی تھی؟
۱۰ ایلیاہ نبی کے زمانے میں اسرائیل کے اندر صرف ۷،۰۰۰ لوگ ایسے تھے جنہوں نے جھوٹے معبود بعل کو سجدہ نہیں کِیا تھا۔ (۱-سلاطین ۱۹:۱۸؛ رومیوں ۱۱:۴) نبوت، جو غالباً اِنہی میں سے ایک تھا، انتہائی ناانصافی کا نشانہ بنا۔ اُس نے کفر بکنے کے الزام کی ذلت اُٹھائی۔ قصوروار ٹھہرا کر اُسے مجرم ثابت کر دیا گیا اور شاہی فرمان کے مطابق اُسے پتھر مارمار کر ہلاک کر دینے کی سزا دی گئی اور کتوں نے اُسکا خون چاٹا۔ یہانتککہ اُسکے بیٹوں کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا! اگرچہ، وہ بےقصور تھا۔ اُسکے خلاف گواہ جھوٹے تھے۔ یہ سب کچھ ملکہ ایزبل کی تیارکردہ سازش تھی تاکہ بادشاہ نبوت کے تاکستان پر قبضہ کر سکے۔—۱-سلاطین ۲۱:۱-۱۹؛ ۲-سلاطین ۹:۲۶۔
۱۱. پولس رسول ہمیں بائبل زمانے کے ایماندار مردوں اور عورتوں کی بابت کیا بتاتا ہے؟
۱۱ یوسف، داؤد اور نبوت تو بائبل میں مذکورہ اُن بہت سے ایماندار مردوں اور عورتوں میں سے صرف تین ہیں جنہوں نے مصیبتیں اُٹھائیں۔ پولس نے زمانوں کے دوران یہوواہ کے خادموں کی بابت ایک تاریخی جائزہ لکھا۔ اس میں اُس نے اُنکا ذکر جو ”ٹھٹھوں میں اُڑائے جانے اور کوڑے کھانے بلکہ زنجیروں میں باندھے جانے اور قید میں پڑنے سے آزمائے گئے۔ سنگسار کئے گئے۔ آرے سے چیرے گئے آزمایش میں پڑے۔ تلوار سے مارے گئے۔ بھیڑوں اور بکریوں کی کھال اوڑھے ہوئے محتاجی میں۔ مصیبت میں۔ بدسلوکی کی حالت میں مارے مارے پھرے۔ دُنیا اُنکے لائق نہ تھی۔ وہ جنگلوں اور پہاڑوں اور غاروں اور زمین کے گڑھوں میں آوارہ پھرا کئے۔“ (عبرانیوں۱۱:۳۶-۳۸) لیکن یہوواہ نے اُنہیں ترک نہ کِیا۔
یہوواہ دُکھ سہنے والوں کی پرواہ کرتا ہے
۱۲. آجکل یہوواہ کے گواہوں کو کنکن دُکھوں کا تجربہ ہوتا ہے؟
۱۲ آجکل یہوواہ کے لوگوں کی بابت کیا ہے؟ ایک تنظیم کے طور پر، ہم الہٰی تحفظ اور آخری ایّام اور بڑی مصیبت سے صحیح سلامت بچ نکلنے کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۷؛ مکاشفہ ۷:۹-۱۷) تاہم، انفرادی طور پر ہم یہ مانتے ہیں کہ ”وقت اور حادثہ“ تمام انسانوں کو ناگہاں آ لیتا ہے۔ (واعظ ۹:۱۱) آجکل ایسے بہت سے ایماندار مسیحی ہیں جو مصیبتیں اُٹھا رہے ہیں۔ بعض انتہائی غربت میں گزارا کرتے ہیں۔ بائبل ایسے مسیحی ”یتیموں اور بیواؤں“ کا ذکر کرتی ہے جو مصیبت میں مبتلا ہیں۔ (یعقوب ۱:۲۷) دیگر قدرتی آفات، جنگوں، جُرم، اختیار کے بیجا استعمال، علالت اور موت کے باعث تکلیف اُٹھاتے ہیں۔
۱۳. کن سخت تجربات کی حال ہی میں رپورٹ موصول ہوئی ہے؟
۱۳ مثال کے طور پر، واچ ٹاور برانچ دفاتر نے یہوواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کو اپنی ۱۹۹۶ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بیان کِیا کہ ہمارے بعض بھائی اور بہنیں بائبل اُصولوں کی پیروی کے باعث افسوسناک حالتوں میں قید کی سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ جنوبی امریکہ کے ایک مُلک میں جب گوریلا گروہوں نے سینکڑوں گواہوں کو علاقہ خالی کرنے پر مجبور کِیا تو وہاں کی تین کلیسیائیں ختم ہو گئیں۔ مغربی افریقہ کے ایک مُلک میں کچھ گواہ خانہجنگی کی جھڑپ میں پھنس کر ہلاک ہو گئے۔ وسطی امریکہ کے ایک مُلک میں، شدید سمندری طوفان کے حملے نے بعض بھائیوں کی مالی حالت کو اَور بھی بدتر بنا دیا جو پہلے ہی سے تشویشناک حالت میں تھے۔ دیگر مقامات پر جہاں غربت اور خوراک کی قلّت شاید اتنے سنگین مسائل نہ ہوں وہاں منفی اثرات بعض کی خوشی کو ماند کر دیتے ہیں۔ دوسرے لوگ جدید طرزِزندگی کے بھاری بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ لوگوں کی بےحسی کے باعث، اَور بہت سے بادشاہت کی خوشخبری کی منادی کرتے وقت حوصلہشکنی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
۱۴. (ا) ہم ایوب کی مثال سے کیا سیکھتے ہیں؟ (ب) منفی سوچ رکھنے کی بجائے، ہمیں پریشانی کا تجربہ کرتے وقت کیا کرنا چاہئے؟
۱۴ ان حالتوں کو خدا کی ناراضگی کا ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ ایوب کے معاملے اور اُن بہت سی مشکلات کو یاد کریں جو اُس نے برداشت کیں۔ وہ ”کامل اور راستباز آدمی“ تھا۔ (ایوب ۱:۸) ایوب کتنا بےحوصلہ ہوا ہوگا جب الیفز نے اُس پر غلطکاری کا الزام لگایا! (ایوب، ۴، ۵، ۲۲ ابواب) ہمیں فوراً یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہئے کہ ہم اسلئے مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ ہم نے کسینہکسی طرح یہوواہ کو رنجیدہ کِیا ہے یا پھر اسلئےکہ یہوواہ نے اپنی برکت اُٹھا لی ہے۔ مصیبت کی حالت میں منفی سوچ ہمارے ایمان کو کمزور کر سکتی ہے۔ (۱-تھسلنیکیوں ۳:۱-۳، ۵) پریشانی کا سامنا کرتے وقت اس حقیقت پر غور کرنا اچھا ہوگا کہ خواہ کچھ بھی ہو جائے یہوواہ اور یسوع راستباز شخص کے قریب رہتے ہیں۔
۱۵. ہم کیسے جانتے ہیں کہ یہوواہ ان مصیبتوں کی بابت گہری فکر رکھتا ہے جو اُسکے لوگ اُٹھاتے ہیں؟
۱۵ پولس رسول یہ کہتے ہوئے ہمیں تسلی دیتا ہے: ”کون ہم کو مسیح کی محبت سے جُدا کریگا؟ مصیبت یا تنگی یا ظلم یا کال یا ننگاپن یا خطرہ یا تلوار؟ . . . مجھ کو یقین ہے کہ خدا کی جو محبت ہمارے خداوند مسیح یسوؔع میں ہے اُس سے ہم کو نہ موت جُدا کر سکے گی نہ زندگی۔ نہ فرشتے نہ حکومتیں۔ نہ حال کی نہ اِستقبال کی چیزیں۔ نہ قدرت نہ بلندی نہ پستی نہ کوئی اَور مخلوق۔“ (رومیوں ۸:۳۵، ۳۸، ۳۹) یہوواہ ہماری بہت فکر رکھتا ہے اور ہمارے دُکھدرد سے واقف ہے۔ جبکہ ابھی وہ ایک مفرور ہی تھا، داؤد نے لکھا: ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کی نگاہ صادقوں پر ہے اور اُسکے کان اُنکی فریاد پر لگے رہتے ہیں۔ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] شکستہدلوں کے نزدیک ہے۔“ (زبور ۳۴:۱۵، ۱۸؛ متی ۱۸:۶، ۱۴) ہمارا آسمانی باپ ہماری پرواہ کرتا ہے اور مصیبتزدوں پر ترس کھاتا ہے۔ (۱-پطرس ۵:۶، ۷) ہمیں خواہ کیسی ہی تکلیف کا سامنا ہو، وہ ہمیں صبر کرنے کیلئے ضروری قوت عطا کرتا ہے۔
یہوواہ کی نعمتیں ہمیں سنبھالتی ہیں
۱۶. یہوواہ کی طرف سے کونسی فراہمی ہمیں برداشت کرنے میں مدد دیتی ہے اور کیسے؟
۱۶ اگرچہ ہم اس فرسودہ نظامالعمل میں مشکل سے آزاد زندگی کی توقع نہیں کر سکتے تَوبھی ہم ”اکیلے نہیں چھوڑے جاتے۔“ (۲-کرنتھیوں ۴:۸، ۹) یسوع نے اپنے پیروکاروں کو مددگار بخشنے کا وعدہ کِیا۔ اُس نے فرمایا: ”مَیں باپ سے درخواست کرونگا تو وہ تمہیں دوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ یعنی روحِحق۔“ (یوحنا ۱۴:۱۶، ۱۷) ۳۳ س.ع. پنتِکُست کے موقع پر، پطرس رسول نے اپنے سامعین کو بتایا کہ وہ ”روحالقدس انعام میں پا“ سکتے تھے۔ (اعمال ۲:۳۸) کیا روحالقدس آج بھی ہماری مدد کر رہا ہے؟ جیہاں! یہواہ کی سرگرم قوت ہم میں عمدہ پھل پیدا کرتی ہے: ”محبت۔ خوشی۔ اِطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری۔“ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) یہ سب کی سب انمول خوبیاں ہیں جو ہمیں صبر کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
۱۷. بائبل کی بعض ایسی سچائیاں کونسی ہیں جو ہمارے ایمان کو اور صبر سے یہوواہ کا منتظر رہنے کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں؟
۱۷ روحالقدس یہ سمجھنے میں بھی ہماری مدد کرتا ہے کہ ہمیشہ کی زندگی کے اجر کیساتھ موازنہ کرنے پر یہ موجودہ مصیبتیں ”دمبھر کی ہلکی سی“ معلوم ہوتی ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۱۶-۱۸) ہمیں یقین ہے کہ خدا ہمارے کاموں کو اور اُس محبت کو کبھی فراموش نہیں کریگا جو ہم اُس کیلئے ظاہر کرتے ہیں۔ (عبرانیوں ۶:۹-۱۲) بائبل کے الہامی الفاظ پڑھنے سے، ہم زمانۂقدیم کے اُن ایماندار خادموں کی مثالوں سے تسلی پاتے ہیں جنہوں نے بہت سی مصیبتیں برداشت کیں مگر اُنہیں مبارک کہا گیا۔ یعقوب لکھتا ہے: ”اَے بھائیو! جن نبیوں نے خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] کے نام سے کلام کِیا اُنکو دُکھ اُٹھانے اور صبر کرنے کا نمونہ سمجھو۔ دیکھو صبر کرنے والوں کو ہم مبارک کہتے ہیں۔“ (یعقوب ۵:۱۰، ۱۱) بائبل آزمائشیں برداشت کرنے کیلئے ہمارے ساتھ ”حد سے زیادہ قدرت“ کا وعدہ کرتی ہے۔ یہوواہ ہمیں اُمیدِقیامت کی برکت بھی عطا کرتا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۱:۸-۱۰؛ ۴:۷) روزانہ بائبل پڑھنے سے اور ان وعدوں پر غور کرنے سے، ہم اپنے ایمان اور صبر سے یہوواہ کے منتظر رہنے کے عزم کو مضبوط کرینگے۔—زبور ۴۲:۵۔
۱۸. (ا) ہمیں ۲-کرنتھیوں ۱:۳، ۴ میں کیا کرنے کی حوصلہافزائی دی گئی ہے؟ (ب) مسیحی نگہبان کیسے تسلی اور تازگی کا ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں؟
۱۸ علاوہازیں، یہوواہ نے ہمیں روحانی فردوس عطا کر رکھی ہے جس میں ہم اپنے مسیحی بھائیوں اور بہنوں کی خالص محبت سے لطفاندوز ہو سکتے ہیں۔ ہم سب کو ایک دوسرے کو تسلی دینے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۱:۳، ۴) مسیحی نگہبان بالخصوص تسلی اور تازگی کا بنیادی ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ (یسعیاہ ۳۲:۲) ”آدمیوں کی صورت میں انعام“ ہونے کی حیثیت سے، اُنہیں مصیبتزدہ لوگوں کی ہمتافزائی کرنے، ”کمہمتوں کو دلاسا [دینے]“ اور ”کمزوروں کو [سنبھالنے]“ کا حکم دیا گیا ہے۔ (افسیوں ۴:۸، ۱۱، ۱۲؛ ۱-تھسلنیکیوں ۵:۱۴) بزرگوں کو واچٹاور اور اویک! نیز ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کی طرف سے فراہمکردہ دیگر مطبوعات کا اچھا استعمال کرنے کی حوصلہافزائی دی گئی ہے۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) ان میں بائبل پر مبنی مشورت کا خزانہ ہے جو ہمیں پریشانی کا باعث بننے والی بعض مشکلات کو حل کرنے—اور حتیٰکہ روکنے—کیلئے مدد دے سکتا ہے۔ دُعا ہے کہ ہم مشکل اوقات میں ایک دوسرے کو تسلی اور حوصلہ دینے سے یہوواہ کی تقلید کریں!
۱۹. (ا) کونسی چیز بعض مشکلات سے بچنے میں ہماری مدد کرتی ہے؟ (ب) انجامکار، ہمیں کس پر توکل رکھنا چاہئے اور کونسی چیز ہمیں مشکلات کا سامنا کرنے کے قابل بنائیگی؟
۱۹ جُوںجُوں ہم ان آخری ایّام میں آگے بڑھتے ہیں اور موجودہ نظامالعمل کے حالات بدتر ہوتے ہیں تو مسیحی مصیبتوں سے بچنے کیلئے اپنی حتیالوسع کوشش کرتے ہیں۔ (امثال ۲۲:۳) اچھی سوجھبوجھ، ذہنی پختگی اور بائبل اُصولوں کا علم دانشمندانہ فیصلے کرنے میں ہماری مدد کر سکتے ہیں۔ (امثال ۳:۲۱، ۲۲) ہم یہوواہ کے کلام پر کان لگاتے ہیں اور غیرضروری غلطیوں سے بچنے کیلئے اسکی اطاعت کرتے ہیں۔ (زبور ۳۸:۴) تاہم، ہم یہ مانتے ہیں کہ ہم خواہ کتنی بھی کوشش کر لیں اپنی زندگیوں سے دُکھتکلیف کو بالکل ختم نہیں کر سکتے۔ اس نظامالعمل میں، بہتیرے راستبازوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ تاہم، ہم مکمل اعتماد کیساتھ اپنی آزمائشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں کہ ”خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] اپنے لوگوں کو ترک نہیں کریگا۔“ (زبور ۹۴:۱۴) اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ نظامالعمل اور اسکے دُکھدرد جلد ختم ہو جائینگے۔ پس، دُعا ہے کہ ہمارا یہ عزمِمُصمم ہو کہ ”ہم نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بےدل نہ ہونگے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔“—گلتیوں ۶:۹۔
ہم نے کیا سیکھا؟
▫ کونسی آزمائشیں مسیحیوں کی پوری برادری کے تجربے میں آتی ہیں؟
▫ بائبل کی کونسی مثالیں ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ مصیبتیں یہوواہ کی ناراضگی کا ثبوت نہیں ہیں؟
▫ یہوواہ اُن مصیبتوں کی بابت کیسا محسوس کرتا ہے جو اُسکے لوگ اُٹھاتے ہیں؟
▫ آزمائشوں کی برداشت کرنے میں ہماری مدد کیلئے یہوواہ کی طرف سے بعض بخششیں کیا ہیں؟
[صفحہ 23 پر تصویریں]
داؤد، نبوت اور یوسف تین ایسے اشخاص ہیں جنہوں نے مصیبتیں اُٹھائیں