خاطرجمع رکھیں چونکہ مخلصی نزدیک ہے
”خداوند فرماتا ہے مَیں تجھے چھڑانے کو تیرے ساتھ ہوں۔“—یرمیاہ ۱:۱۹۔
۱، ۲. انسانی خاندان کو مخلصی کی ضرورت کیوں ہے؟
مخلصی! کس قدر تسلیبخش لفظ! مخلصی پانے کا مطلب چھڑایا جانا، کسی بُری، ناخوشگوار حالت سے فراغت پانا ہے۔ اس میں بہت بہتر، خوشحال حالت میں لائے جانے کا خیال بھی پایا جاتا ہے۔
۲ اِس وقت انسانی خاندان کو ایسی مخلصی کی کتنی اشد ضرورت ہے! ہر طرف لوگ مشکل—معاشی، معاشرتی، جسمانی، ذہنی اور جذباتی—مسائل کی وجہ سے بوجھ تلے دبے ہوئے اور بےحوصلہ ہیں۔ لوگوں کی اکثریت دُنیا کی حالت سے غیرمطمئن اور مایوس ہے اور بہتیری کے لئے تبدیلی کی خواہشمند ہے۔—یسعیاہ ۶۰:۲؛ متی ۹:۳۶۔
”بُرے دن“
۳، ۴. اب مخلصی کی اَور بھی زیادہ ضرورت کیوں ہے؟
۳ چونکہ کسی بھی صدی کی نسبت اس ۲۰ویں صدی نے زیادہ دُکھدرد کا تجربہ کِیا ہے اس لئے پہلے سے کہیں زیادہ اب مخلصی کی ضرورت ہے۔ آجکل، ایک بلین سے زیادہ لوگ انتہائی غربت کی حالت میں زندگی بسر کرتے ہیں اور اس تعداد میں ۲۵ ملین سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوتا ہے۔ ہر سال تقریباً ۱۳ ملین بچے غذا کی کمی یا غربت سے متعلقہ دیگر اسباب سے مر جاتے ہیں—ہر روز ۳۵،۰۰۰ سے زیادہ۔ اور لاکھوں عمررسیدہ لوگ مختلف بیماریوں کی وجہ سے پیشازوقت فوت ہو جاتے ہیں۔—لوقا ۲۱:۱۱؛ مکاشفہ ۶:۸۔
۴ جنگیں اور سول نافرمانیاں بڑے دُکھ کا باعث بنی ہیں۔ کتاب ڈیتھ بائے گورنمنٹ بیان کرتی ہے کہ جنگوں، طبقاتی اور مذہبی فسادات اور حکومت کی طرف سے اپنے ہی شہریوں کے اجتماعی قتلِعام نے ”اس صدی میں ۲۰۳ ملین سے زائد لوگوں کو موت کا لقمہ بنا دیا ہے۔“ یہ مزید بیان کرتی ہے: ”مرنے والوں کی اصل تعداد تقریباً ۳۶۰ ملین تو ضرور ہوگی۔ یہ ایسے ہی ہے گویا کسی جدید مُہلک وبا نے نسلِانسانی کا نشان ہی مٹا دیا ہو۔ اور یقیناً آدمزاد کی یہ تباہی جراثیموں سے نہیں بلکہ اختیار کی وبا سے ہوئی ہے۔“ مصنف رچرڈ ہاروڈ نے مشاہدہ کِیا: ”اگر موازنہ کِیا جائے تو گزشتہ صدیوں کی وحشیانہ جنگیں محض گلیکوچوں میں ہونے والے جھگڑوں کی مانند تھیں۔“—متی ۲۴:۶، ۷؛ مکاشفہ ۶:۴۔
۵، ۶. کونسی چیز ہمارے زمانے کو اسقدر تکلیفدہ بنا دیتی ہے؟
۵ حالیہ برسوں کی تکلیفدہ حالتوں کے علاوہ پُرتشدد جُرم، بداخلاقی اور خاندانی شکستوریخت میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ریاستہائےمتحدہ کے تعلیم کے سابق سیکرٹری ولیم بےنٹ نے بیان کِیا کہ ۳۰ سال میں یو.ایس. آبادی کے اندر ۴۱ فیصد اضافہ ہوا ہے لیکن پُرتشدد جُرم میں ۵۶۰ فیصد، ناجائز بچوں کی پیدائش میں ۴۰۰ فیصد، طلاقوں میں ۳۰۰ فیصد اور نوعمروں کی خودکُشی میں ۲۰۰ فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر جان ڈائیولیو جونیئر نے نوجوان ”مہالٹیروں“ کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خبردار کِیا جو ”قتل، حملہ، زنابالجبر، سرقہبالجبر، چوریچکاری کرتے ہیں اور تشویشناک علاقائی بدنظمیوں کا باعث بنتے ہیں۔ وہ گرفتاری کی رسوائی، جیل کی تکالیف یا ضمیر کی ملامت سے نہیں گھبراتے۔“ اس ملک میں، اب ۱۵ تا ۱۹ سال کی عمر کے لوگوں میں موت کی دوسری بڑی وجہ انسانی قتل ہے۔ اور چار سال سے کمعمر کے بچے بیماری سے زیادہ بدفعلی کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔
۶ ایسا جُرم اور تشدد صرف ایک ہی قوم تک محدود نہیں ہے۔ بہتیرے ممالک سے ایسے ہی رجحانات کی خبر موصول ہوتی ہے۔ اس میں منشیات کے غیرقانونی استعمال میں اضافہ بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے جو لاکھوں لوگوں کو تباہحال کر دیتا ہے۔ آسٹریلیا کے سڈنی مورننگ ہیرلڈ نے بیان کِیا: ”اسلحے کی تجارت کے بعد بینالاقوامی منشیاتفروشی دُنیا میں دوسرا بڑا نفعبخش کاروبار بن گیا ہے۔“ ایک دوسرا عنصر تشدد اور بداخلاقی ہے جسکی اب ٹیلیویژن پر بھرمار ہے۔ بہتیرے ممالک میں، ایک بچے کے ۱۸ سال کی عمر کو پہنچنے تک وہ ٹیوی پر ہزاروں متشدّد اور بےشمار بداخلاقی کے کام دیکھ چکا ہوتا ہے۔ اس سے بہت بُرا اثر پڑتا ہے کیونکہ جوکچھ باقاعدگی سے ہمارے ذہنوں میں داخل ہوتا ہے اُسی سے ہماری شخصیت بنتی ہے۔—رومیوں ۱۲:۲؛ افسیوں ۵:۳، ۴۔
۷. بائبل پیشینگوئی نے موجودہ بُری حالتوں کو قبلازوقت کیسے بیان کِیا؟
۷ بائبل پیشینگوئی نے ہماری صدی میں واقعات کے اس دہشتناک میلان کو درستی سے بیان کِیا تھا۔ اس نے واضح کِیا کہ عالمگیر جنگیں ہونگی، وبائیں پھیلیں گی، خوراک کی قلّت ہوگی اور لاقانونیت بڑھ جائے گی۔ (متی ۲۴:۷-۱۲؛ لوقا ۲۱:۱۰، ۱۱) اور جب ہم ۲-تیمتھیس ۳:۱-۵ میں درج پیشینگوئی پر غور کرتے ہیں تو یہ بالکل ہر رات خبرنامہ سننے کے مترادف ہے۔ یہ ہمارے دَور کی ”اخیر زمانہ“ کے طور پر شناخت کراتی ہیں اور بیان کرتی ہیں کہ لوگ ’خودغرض، زردوست، والدین کے نافرمان، دغاباز، طبعی محبت سے خالی، بےضبط، تُندمزاج، گھمنڈ کرنے والے، خدا کی نسبت عیشوعشرت کے دلدادہ‘ ہونگے۔ دُنیا آجکل بالکل ایسی ہی ہے۔ جیسےکہ ولیم بےنٹ نے تسلیم کِیا: ”تہذیب کی تنزلی کے . . . بہت سے نشان موجود ہیں۔“ یہانتک کہا گیا ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے ساتھ ہی تہذیب نے دم توڑ دیا تھا۔
۸. خدا نوح کے زمانہ میں طوفان کیوں لایا اور اس کا ہمارے زمانے کے ساتھ کیا تعلق ہے؟
۸ اب صورتحال طوفانِنوح کے زمانے سے زیادہ خراب ہے جب ”زمین . . . ظلم سے بھری تھی۔“ اُس وقت عام لوگوں نے اپنی بُری روش سے توبہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ لہٰذا، خدا نے فرمایا: ”اُن کے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی۔ سو دیکھ مَیں زمین سمیت اُن کو ہلاک کروں گا۔“ طوفان نے اُس متشدّد دُنیا کو نیستونابود کر ڈالا۔—پیدایش ۶:۱۱، ۱۳؛ ۷:۱۷-۲۴۔
انسانوں کی طرف سے کوئی مخلصی نہیں
۹، ۱۰. ہمیں انسانوں سے مخلصی فراہم کرنے کی اُمید کیوں نہیں رکھنی چاہئے؟
۹ کیا انسانی کاوشیں ہمیں ان بُری حالتوں سے مخلصی دلا سکتی ہیں؟ خدا کا کلام جواب دیتا ہے: ”نہ اُمرا پر بھروسا کرو نہ آدمزاد پر وہ بچا نہیں سکتا۔“ ”انسان کی راہ اُس کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“ (زبور ۱۴۶:۳؛ یرمیاہ ۱۰:۲۳) ہزاروں سال کی تاریخ نے ان سچائیوں کی تصدیق کر دی ہے۔ انسانوں نے ہر قابلِتصور سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام کو آزما کر دیکھ لیا ہے لیکن حالتیں مزید بگڑتی چلی جا رہی ہیں۔ اگر کوئی انسانی حل موجود ہوتا تو اب تک سامنے آ چکا ہوتا۔ اِس کی بجائے حقیقت یہ ہے کہ ”ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اُوپر بلا لاتا ہے۔“—واعظ ۸:۹؛ امثال ۲۹:۲؛ یرمیاہ ۱۷:۵، ۶۔
۱۰ چند سال قبل، یو.ایس. کے سابق قومی مشیر برائے تحفظ زبگنیو برازہنسکی نے کہا: ”عالمی رجحانات کے کسی بھی غیرجانبدارانہ تجزیے سے یہی ناگزیر نتیجہ اخذ کِیا جا سکتا ہے کہ معاشرتی ہلچل، سیاسی ہنگامہآرائی، معاشی بحران اور بینالاقوامی کشمکش غالباً مزید پھیلتے جائینگے۔“ اُس نے مزید بیان کِیا: ”انسانیت کو عالمی طوائفالملوکی کا خطرہ لاحق ہے۔“ دُنیاوی حالات کا یہ تجزیہ آجکل زیادہ معقول ہے۔ بڑھتے ہوئے تشدد کے اس دَور پر رائےزنی کرتے ہوئے، نیو ہیون، کونکٹیکٹ، رجسٹر میں ایک اداریے نے بیان کِیا: ”ایسے لگتا ہے کہ ہم اس صورتحال پر قابو پانے کی حد سے بہت آگے نکل آئے ہیں۔“ نہیں، اس دُنیاوی بگاڑ کا کوئی سدھار نہیں ہوگا کیونکہ اس ”اخیر زمانہ“ کی بابت پیشینگوئی یہ بھی کہتی ہے: ”بُرے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائینگے۔“—۲-تیمتھیس ۳:۱۳۔
۱۱. انسانی کاوشوں سے بدتر حالتیں بہتر کیوں نہیں ہونگی؟
۱۱ انسان ان رجحانات کو بدل نہیں سکتے اِس لئےکہ ”اس جہان کا خدا“ شیطان ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴) جیہاں، ”ساری دُنیا اُس شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹؛ نیز دیکھیں یوحنا ۱۴:۳۰۔) بائبل بجا طور پر ہمارے زمانے کی بابت کہتی ہے: ”اَے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اُتر کر آیا ہے۔ اس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ (مکاشفہ ۱۲:۱۲) شیطان جانتا ہے کہ اُسکی حکومت اور اُسکی دُنیا جلد ہی ختم ہونے والی ہے پس وہ ”گرجنے والے شیر ببر“ کی مانند ”ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے۔“—۱-پطرس ۵:۸۔
مخلصی قریب—کن کے لئے؟
۱۲. کن کے لئے مخلصی نزدیک ہے؟
۱۲ زمین پر بڑھتی ہوئی مشکل حالتیں اس بات کا نمایاں ثبوت ہیں کہ ایک بہت بڑی تبدیلی—یقیناً، شاندار مخلصی—بہت قریب ہے! کن کے لئے؟ مخلصی اُن لوگوں کے لئے قریب ہے جو انتباہی اشاروں پر دھیان دیتے ہیں اور پھر مناسب کارروائی کرتے ہیں۔ پہلا یوحنا ۲:۱۷ ظاہر کرتی ہے کہ کیا کرنا چاہئے: ”دُنیا [شیطان کا نظام] اور اُسکی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“—نیز دیکھیں ۲-پطرس ۳:۱۰-۱۳۔
۱۳، ۱۴. یسوع نے جاگتے رہنے کی ضرورت پر کیسے زور دیا؟
۱۳ یسوع نے پیشینگوئی کہ آجکل کا بدعنوان معاشرہ ایک ایسی مصیبت کے وقت کے دوران جلد ختم ہو جائیگا جو ”دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔“ (متی ۲۴:۲۱) اسی لئے اُس نے آگاہ کِیا: ”پس خبردار رہو۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل خمار اور نشہبازی اور اس زندگی کی فکروں سے سُست ہو جائیں اور وہ دن تم پر پھندے کی طرح ناگہاں آ پڑے۔ کیونکہ جتنے لوگ تمام رویِزمین پر موجود ہونگے اُن سب پر وہ اسی طرح آ پڑیگا۔ پس ہر وقت جاگتے اور دُعا کرتے رہو تاکہ تم کو ان سب ہونے والی باتوں سے بچنے . . . کا مقدور ہو۔“—لوقا ۲۱:۳۴-۳۶۔
۱۴ وہ جو ”خبردار“ اور ”جاگتے“ رہتے ہیں خدا کی مرضی کے طالب ہونگے اور اُسے پورا کرینگے۔ (امثال ۲:۱-۵؛ رومیوں ۱۲:۲) یہی لوگ شیطان کے نظام پر جلد آنے والی تباہی سے ”بچنے“ والے ہیں۔ اور وہ مکمل بھروسہ رکھ سکتے ہیں کہ اُنہیں مخلصی حاصل ہوگی۔—زبور ۳۴:۱۵؛ امثال ۱۰:۲۸-۳۰۔
سب سے بڑا مخلصی دینے والا
۱۵، ۱۶. سب سے بڑا مخلصی دینے والا کون ہے اور ہمیں کیوں یقین ہے کہ اُس کے فیصلے راست ہی ہونگے؟
۱۵ خدا کے خادموں کی مخلصی کے لئے، شیطان اور اُس کے تمام عالمی نظامالعمل کو ہٹا دینے کی ضرورت ہے۔ اس کے لئے انسان سے کہیں زیادہ طاقتور مخلصی کے ماخذ کی ضرورت ہے۔ یہ ماخذ حاکمِاعلیٰ، شاندار کائنات کا قادرِمطلق خالق، یہوواہ خدا ہے۔ وہی سب سے بڑا مخلصی دینے والا ہے: ”مَیں ہی یہوؔواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔“—یسعیاہ ۴۳:۱۱؛ امثال ۱۸:۱۰۔
۱۶ یہوواہ بےپناہ طاقت، حکمت، انصاف اور محبت کا ماخذ ہے۔ (زبور ۱۴۷:۵؛ امثال ۲:۶؛ یسعیاہ ۶۱:۸؛ ۱-یوحنا ۴:۸) لہٰذا جب وہ عدالت کرتا ہے تو ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ اُسکی کارروائیاں راست ہونگی۔ ابرہام نے پوچھا: ”کیا تمام دُنیا کا انصاف کرنے والا انصاف نہ کریگا؟“ (پیدایش ۱۸:۲۴-۳۳) پولس نے کہا: ”کیا خدا کے ہاں بےانصافی ہے؟ ہرگز نہیں!“ (رومیوں ۹:۱۴) یوحنا نے لکھا: ”اَے خداوند خدا قادرِمطلق! بیشک تیرے فیصلے درست اور راست ہیں۔“—مکاشفہ ۱۶:۷۔
۱۷. ماضی میں یہوواہ کے خادموں نے اُس کے وعدوں پر کیسے توکل ظاہر کِیا؟
۱۷ جب یہوواہ مخلصی کا وعدہ فرماتا ہے تو وہ اسے یقیناً پورا کریگا۔ یشوع نے کہا: ”جتنی اچھی باتیں خداوند نے . . . کہی تھیں اُن میں سے ایک بھی نہ چھوٹی۔ سب کی سب پوری ہوئیں۔“ (یشوع ۲۱:۴۵) سلیمان نے بیان کِیا: ”سارا اچھا وعدہ [جو] اُس نے . . . کِیا اُس میں سے ایک بات بھی خالی نہ گئی۔“ (۱-سلاطین ۸:۵۶) پولس رسول نے تحریر کِیا کہ ابرہام نے ”نہ بےایمان ہوکر . . . شک کِیا بلکہ . . . اُسکو کامل اعتقاد ہوا کہ جوکچھ [خدا] نے وعدہ کِیا ہے وہ اُسے پورا کرنے پر بھی قادر ہے۔“ اسی طرح سارہ نے بھی ”وعدہ کرنے والے [خدا] کو سچا جانا۔“—رومیوں ۴:۲۰، ۲۱؛ عبرانیوں ۱۱:۱۱۔
۱۸. آجکل یہوواہ کے خادم کیوں اعتماد رکھ سکتے ہیں کہ اُنہیں مخلصی عطا کی جائیگی؟
۱۸ انسانوں کے برعکس، یہوواہ قطعی طور پر قابلِاعتماد، اپنے وعدے کا پکا ہے۔ ”ربالافواج قسم کھا کر فرماتا ہے کہ یقیناً جیسا مَیں نے چاہا ویسا ہی ہو جائے گا اور جیسا مَیں نے ارادہ کِیا ہے ویسا ہی وقوع میں آئے گا۔“ (یسعیاہ ۱۴:۲۴) لہٰذا جب بائبل کہتی ہے کہ ”خداوند دینداروں کو آزمایش سے نکال لینا اور بدکاروں کو عدالت کے دن تک سزا میں رکھنا جانتا ہے“ تو ہم پورا یقین رکھ سکتے ہیں کہ ایسا ضرور ہوگا۔ (۲-پطرس ۲:۹) حتیٰکہ جب طاقتور دشمنوں کی طرف سے تباہی کا خطرہ بھی لاحق ہو تو یہوواہ کے خادم اُس کے اس نقطۂنگاہ سے حوصلہ حاصل کرتے ہیں جو اُس نے ایک نبی سے وعدہ کرتے ہوئے ظاہر کِیا: ”وہ تجھ سے لڑیں گے لیکن تجھ پر غالب نہ آئیں گے کیونکہ خداوند فرماتا ہے مَیں تجھے چھڑانے کو تیرے ساتھ ہوں۔“—یرمیاہ ۱:۱۹؛ زبور ۳۳:۱۸، ۱۹؛ ططس ۱:۲۔
ماضی میں مخلصی
۱۹. یہوواہ نے لوط کو کیسے مخلصی بخشی، یہ ہمارے زمانے کے ساتھ کیا مماثلت رکھتا ہے؟
۱۹ یہوواہ نے ماضی میں جو نجاتبخش کام کئے ہم اُن میں سے بعض پر غور کرکے بہت زیادہ حوصلہافزائی حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، لوط سدوم اور عمورہ کی بدکاری کے باعث ”دق“ تھا۔ لہٰذا یہوواہ نے ان شہروں کے خلاف ”شور“ پر دھیان دیا۔ موزوں وقت پر، اُس نے لوط اور اُس کے خاندان کو فوراً اُس علاقے سے نکل جانے کی ہدایت دینے کے لئے پیامبر بھیجے۔ نتیجہ؟ یہوواہ نے ”راستباز لوط کو . . . رہائی بخشی“ اور ”سدوم اور عمورہ کے شہروں کو خاکِسیاہ کر دیا۔“ (۲-پطرس ۲:۶-۸؛ پیدایش ۱۸:۲۰، ۲۱) آج بھی، یہوواہ اس دُنیا کی سنگین بدکاری کی بابت شور کو سنتا ہے۔ جب اُس کے جدید زمانے کے پیامبر اُسکی حسبِمنشا اپنا گواہی دینے کا اہم کام مکمل کر لینگے تو وہ اس دُنیا کے خلاف کارروائی کریگا اور لوط کی طرح اپنے خادموں کو مخلصی بخشے گا۔—متی ۲۴:۱۴۔
۲۰. مصر سے قدیم اسرائیل کے لئے یہوواہ کی فراہمکردہ مخلصی کو بیان کریں۔
۲۰ قدیم مصر میں خدا کے لاکھوں لوگ غلام تھے۔ یہوواہ نے اُن کی بابت فرمایا: ”مَیں نے . . . اُن کی فریاد . . . سنی اور مَیں اُن کے دُکھوں کو جانتا ہوں۔ اور مَیں اُترا ہوں کہ اُنکو . . . چھڑاؤں۔“ (خروج ۳:۷، ۸) تاہم، خدا کے لوگوں کو جانے کی اجازت دینے کے بعد فرعون نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور اپنی بڑی فوج لیکر اُن کا تعاقب کِیا۔ ایسے لگ رہا تھا کہ اسرائیلی بحرِقلزم پر آ کر پھنس گئے تھے۔ لیکن موسیٰ نے کہا: ”ڈرو مت۔ چپچاپ کھڑے ہوکر خداوند کی نجات کے کام کو دیکھو جو آج وہ تمہارے لئے کریگا۔“ (خروج ۱۴:۸-۱۴) یہوواہ نے بحرِقلزم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اسرائیلی بچ نکلے۔ فرعون کی فوجوں نے اُن کا پیچھا کِیا لیکن یہوواہ نے اپنی طاقت استعمال کی اور ”گہرے پانی نے اُنکو چھپا لیا۔ وہ پتھر کی مانند تہ میں چلے گئے۔“ اِس کے بعد موسیٰ نے گیت گا کر یہوواہ کی بڑائی کی: ”کون ہے جو تیری مانند اپنے تقدس کے باعث جلالی اور اپنی مدح کے سبب سے رُعب والا اور صاحبِکرامات ہے؟“—خروج ۱۵:۴-۱۲، ۱۹۔
۲۱. عمون، موآب اور شعیر کے ہاتھوں یہوواہ کے لوگوں کو کیسے بچایا گیا؟
۲۱ ایک اَور موقع پر دشمن اقوام عمون، موآب اور شعیر (ادوم) نے یہوواہ کے لوگوں کو تباہ کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا۔ یہوواہ نے کہا: ”تم اس بڑے انبوہ کی وجہ سے نہ تو ڈرو اور نہ گھبراؤ کیونکہ یہ جنگ تمہاری نہیں بلکہ خدا کی ہے۔ . . . تم کو اس جگہ میں لڑنا نہیں پڑیگا۔ . . . چپچاپ کھڑے رہنا اور خداوند کی نجات دیکھنا۔“ یہوواہ نے دشمن فوجوں میں ایسی افراتفری پیدا کر دی کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے اور یوں اُس نے اپنے لوگوں کو مخلصی بخشی۔—۲-تواریخ ۲۰:۱۵-۲۳۔
۲۲. یہوواہ نے اسرائیل کو اسور سے کونسی معجزانہ مخلصی بخشی؟
۲۲ جب اسور کی عالمی طاقت یروشلیم کیخلاف چڑھ آئی تو بادشاہ سنحیرب نے فصیل پر کھڑے لوگوں کو یہ کہنے سے یہوواہ کی فضیحت کی: ”ان ملکوں کے [جو مَیں نے فتح کئے] تمام دیوتاؤں میں سے کس کس نے اپنا ملک میرے ہاتھ سے چھڑا لیا جو خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] بھی یروشلیم کو میرے ہاتھ سے چھڑا لے گا؟“ خدا کے خادموں سے اُس نے کہا: ”ایسا نہ ہو کہ حزقیاہ تم کو یہ کہہ کر ترغیب دے کہ خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہم کو چھڑائے گا۔“ تب حزقیاؔہ نے بڑے جوش سے مخلصی کے لئے دُعا کی، ”کہ زمین کی سب سلطنتیں جان لیں کہ تُو ہی اکیلا خداوند [”یہوواہ،“ اینڈبلیو] ہے۔“ یہوواہ نے ۱،۸۵،۰۰۰ اسوری سپاہیوں کو مار گِرایا اور خدا کے خادموں کو مخلصی بخشی۔ بعدازاں، جب سنحیرب اپنے جھوٹے معبود کی پوجا کر رہا تھا تو اُس کے بیٹوں نے اُسے قتل کر دیا۔—یسعیاہ ۳۶اور ۳۷ابواب۔
۲۳. آجکل مخلصی کے سلسلے میں کن سوالات کا جواب دیا جانا ضروری ہے؟
۲۳ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہوواہ نے ماضی میں کیا ہی شاندار طریقے سے اپنے لوگوں کو مخلصی عطا کی تو ہمیں واقعی حوصلہ ملتا ہے۔ آج کی بابت کیا ہے؟ اُس کے ایماندار خادم جلد ہی کس خطرناک صورتحال میں مبتلا ہو جائینگے جس میں اُسکی طرف سے معجزانہ مخلصی کی ضرورت ہوگی؟ اُنہیں مخلصی دینے کے لئے اُس نے اب تک انتظار کیوں کِیا ہے؟ یسوع کے ان الفاظ کی کونسی تکمیل وقوع میں آئے گی: ”جب یہ باتیں ہونے لگیں تو سیدھے ہوکر سر اُوپر اُٹھانا اس لئے کہ تمہاری مخلصی نزدیک ہوگی۔“؟ (لوقا ۲۱:۲۸) اور خدا کے ایسے خادموں کو مخلصی کیسے حاصل ہوگی جو پہلے ہی مر چکے ہیں؟ اگلا مضمون ان سوالات کی جانچ کریگا۔
اعادے کے سوالات
▫ مخلصی کی اشد ضرورت کیوں ہے؟
▫ مخلصی کیلئے ہمیں انسانوں پر اُمید کیوں نہیں رکھنی چاہئے؟
▫ کن کیلئے مخلصی نزدیک ہے؟
▫ ہم یہوواہ کی مخلصی پر اعتماد کیوں رکھ سکتے ہیں؟
▫ مخلصی کی ماضی کی کونسی مثالیں حوصلہافزا ہیں؟
[صفحہ 23 پر تصویر]
ابرہام اُن لوگوں میں سے تھا جو یہوواہ پر پورا بھروسہ رکھتے تھے