یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م97 1/‏4 ص.‏ 30-‏31
  • ایک ۴۰۳ سالہ شادی خطرے میں ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • ایک ۴۰۳ سالہ شادی خطرے میں ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1997ء
م97 1/‏4 ص.‏ 30-‏31

ایک ۴۰۳ سالہ شادی خطرے میں ہے

سویڈن میں، چرچ اور ریاست نے ۴۰۰ سے زائد سال تک قریبی رشتے سے لطف اُٹھایا ہے۔ لیکن اب مذہب اور حکومت کے مابین ازدواجی بندھن کمزور پڑتا جا رہا ہے۔‏

۱۵۹۳ میں لوتھرن‌ازم کی ریاستی مذہب کے طور پر بنیاد رکھی گئی اور سویڈن کے تمام باشندوں کیلئے اسکے بپتسمہ‌یافتہ ارکان ہونا لازمی قرار دے دیا گیا۔ کئی سال بعد، ۱۸۵۰ کے دہے میں، ایک تبدیلی رونما ہوئی۔ سویڈن کے باشندوں کیلئے بپتسمہ لینا لازمی نہ رہا؛ تاہم، ابھی بھی وہ لوتھرن چرچ کے رُکن ہی خیال کئے جاتے تھے۔ یوں، اُن سے چرچ کی کفالت اور چرچ کی طرف سے پیش‌کردہ بعض کشوری خدمات کے عوض ادا کرنے کیلئے اپنی ٹیکس کے زمرے میں آنے والی آمدنی کا ۱ فیصد حصہ ادا کرنے کا تقاضا کِیا جاتا تھا۔ اِسکے بعد ایک اَور تبدیلی واقع ہوئی۔ ۱۹۵۲ سے شروع کرکے، سویڈن کے باشندے قانونی طور پر چرچ کو چھوڑ سکتے تھے اور یوں چرچ ٹیکس کی بڑی رقم ادا کرنے سے مستثنیٰ ہو جاتے تھے۔‏

حالیہ برسوں میں سویڈن کے اندر لوتھرن چرچ کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے۔ ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ سویڈن کے باشندوں کا ۱۰ فیصد ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو نقل‌مکانی کرکے آئے ہیں اور جو لوتھرن نہیں، ان میں یہودی، کیتھولک اور مسلمان شامل ہیں۔ لہٰذا، ۱۹۹۶ کے اوائل میں، سویڈن کے صرف ۸۶ فیصد لوگ لوتھرن چرچ کے رُکن تھے جبکہ تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔‏

بڑھتی ہوئی بے‌حسی چرچ اور ریاست کے درمیان کشیدگی پیدا کر رہی ہے۔ پہلے ہی سے یہ اعلان کِیا جا چکا ہے کہ بادشاہ کیلئے ضروری نہیں کہ وہ لوتھرن ہو اور کسی لوتھرن ماں یا باپ کے ہاں پیدا ہونے والے بچے ازخود ہی لوتھرن ریاستی چرچ کے رُکن خیال نہیں کئے جائینگے۔ مزیدبرآں، دی ڈالس مورننگ نیوز کے مطابق، سِن ۲۰۰۰ تک، ”‏مقامی گرجا گھر اور ریاست بڑی بڑی املاک کی قیمت کا تخمینہ لگائینگے اور اُنہیں تقسیم کرینگے۔ چرچ کو اپنا ۶۸.‏۱ بلین ڈالر کا بجٹ کم کرنا ہوگا جسکا بیشتر حصہ ٹیکسوں سے اکٹھا کِیا جاتا ہے۔“‏ اس صدی کے بعد، چرچ اپنے بشپ خود مقرر کریگا۔‏

جبکہ بے‌اعتنائی اور روبہ‌تنزل رُکنیت مسیحی دُنیا کو پریشانی میں مبتلا رکھتی ہے، یہوواہ کے گواہ سویڈن میں ترقی کرتے جا رہے ہیں۔ ۱۹۹۷ ائیر بُک آف جیہوواز وٹنسز رپورٹ دیتی ہے کہ اس ملک میں خدا کی بادشاہت کے ۲۴،۴۸۷ پبلشر ہیں اور ۱۰ فیصد کے قریب کُل‌وقتی پائنیر خادموں کے طور پر منادی کر رہے ہیں۔ ان میں سے بہتیرے خدمت کے بڑے استحقاقات کیلئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، ۱۹۹۵ کی یہوواہ کے گواہوں کی ڈسٹرکٹ کنونشنوں کے دوران، ۲۰ شادی‌شُدہ جوڑوں نے واچ‌ٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ میں مشنری ٹریننگ کیلئے درخواستیں داخل کیں۔ اُس وقت تک، گلئیڈ کی پچھلی کلاسوں کے تقریباً ۷۵ سویڈیش گریجوایٹ تھے جو دُنیا کے مختلف حصوں میں مشنری خدمت انجام دے رہے تھے۔ بِلاشُبہ، اُنکا عمدہ نمونہ اور حوصلہ‌افزا خطوط اور ملاقاتیں اُن لوگوں میں تحریک پیدا کرنے والا اثر رکھتی ہیں جو اب اس عظیم شرف پر غوروخوض کر رہے ہیں۔‏

اگرچہ دُنیائے مسیحیت کے لاکھوں لوگوں کے حوصلے پست ہوتے جا رہے ہیں تو بھی یہوواہ کے گواہ ”‏دل کی خوشی سے گا“‏ رہے ہیں۔—‏یسعیاہ ۶۵:‏ ۱۳، ۱۴‏۔‏

‏[‏صفحہ 30 پر نقشہ]‏

سویڈن

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں