یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م96 1/‏10 ص.‏ 27-‏31
  • مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خاندان میں
  • کلیسیا میں
  • بزرگ مسیح کی شریعت کا اطلاق کرتے ہیں
  • مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنا
  • مسیح کی شریعت سرگرمِ‌عمل ہے!‏
  • مسیح کی شریعت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
  • مسیحی کلیسیا میں محبت اور اِنصاف کی اہمیت
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2019ء
  • دُہرائی کے لیے سوال
    حلقے کے اِجتماع کا پروگرام 2017ء-‏2018ء—‏برانچ کے نمائندے کے ساتھ
  • آجکل یہوواہ ہم سے کیا تقاضا کرتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1996ء
م96 1/‏10 ص.‏ 27-‏31

مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنا

‏”‏ایک دوسرے کا بار اُٹھاؤ اور یوں مسیح کی شریعت کو پورا کرو۔“‏—‏گلتیوں ۶:‏۲‏۔‏

۱.‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ مسیح کی شریعت آجکل نیکی کیلئے ایک طاقتور اثر رکھتی ہے؟‏

روانڈا میں، ہوتو اور توتسی یہوواہ کے گواہوں نے حال ہی میں اس ملک کا صفایا کرنے والے قتلِ‌عام سے ایک دوسرے کو بچانے کے لئے اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیں۔ کوبے، جاپان، میں یہوواہ کے گواہ جو تباہ‌کُن زلزلے میں خاندانی افراد کو کھو بیٹھے اپنے نقصان پر دلگیر تھے۔ تاہم، اُنہوں نے دیگر مصیبت‌زدگان کو بچانے کے لئے بِلاتاخیر کارروائی کی۔ جی‌ہاں، پوری دُنیا سے دل کو گرما دینے والی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ آجکل مسیح کی شریعت کارفرما ہے۔ یہ نیکی کے لئے طاقتور اثر رکھتی ہے۔‏

۲.‏ مسیحی دُنیا کیسے مسیح کی شریعت کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے، اور ہم اُس شریعت کو پورا کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں؟‏

۲ اس کیساتھ ساتھ، اس تشویشناک ”‏اخیر زمانہ“‏ کی بابت ایک بائبل پیشینگوئی بھی تکمیل پا رہی ہے۔ بہتیرے ”‏دینداری کی وضع“‏ تو رکھتے ہیں لیکن ’‏اسکے اثر کو قبول نہیں کرتے۔‘‏ (‏۲-‏تیمتھیس ۳:‏۱،‏ ۵‏)‏ بالخصوص مسیحی دُنیا میں، مذہب اکثر دل کا نہیں رسم‌ورواج کا معاملہ ہے۔ کیا یہ اسلئے ہے کیونکہ مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنا بہت مشکل ہے؟ نہیں۔ یسوع ہمیں ایسی شریعت نہیں دیگا جس پر عمل ہی نہ کِیا جا سکے۔ مسیحی دُنیا محض اس شریعت کے مقصد کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔ وہ ان الہامی الفاظ پر دھیان دینے میں ناکام ہو چکی ہے:‏ ”‏ایک دوسرے کا بار اُٹھاؤ اور یوں مسیح کی شریعت کو پورا کرو۔“‏ (‏گلتیوں ۶:‏۲‏)‏ ہم ایک دوسرے کے بار اُٹھانے سے ”‏مسیح کی شریعت کو پورا“‏ کرتے ہیں، نہ کہ فریسیوں کی نقل کرنے اور اپنے بھائیوں کے بوجھوں میں ناقابلِ‌توجیہ اضافہ کرنے سے۔‏

۳.‏ (‏ا)‏ بعض احکام کونسے ہیں جو مسیح کی شریعت میں شامل ہیں؟ (‏ب)‏ یہ نتیجہ اخذ کرنا کیوں غلط ہوگا کہ مسیحی کلیسیا کو مسیح کے براہِ‌راست احکام کے علاوہ اَور کوئی اصول نہیں رکھنے چاہئیں؟‏

۳ مسیح کی شریعت میں مسیح یسوع کے تمام احکام شامل ہیں—‏خواہ منادی کرنا اور تعلیم دینا، آنکھ کو پاک اور سادہ رکھنا، اپنے پڑوسی کیساتھ صلح رکھنے کیلئے کام کرنا، یا کلیسیا سے گندگی کو دُور کرنا۔ (‏متی ۵:‏۲۷-‏۳۰؛‏ ۱۸:‏۱۵-‏۱۷؛‏ ۲۸:‏۱۹، ۲۰؛‏ مکاشفہ ۲:‏۱۴-‏۱۶‏)‏ یقیناً، بائبل میں پائے جانے والے ایسے تمام احکام کی پابندی کرنا مسیحیوں کا فرض ہے جو مسیح کے پیروکاروں کو دئیے گئے ہیں۔ اور اسکے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ یہوواہ کی تنظیم، نیز انفرادی کلیسیاؤں، کو عمدہ نظم‌وضبط بحال رکھنے کی غرض سے ضروری اصول اور طریقۂ‌کار وضع کرنے پڑتے ہیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۴:‏۳۳،‏ ۴۰‏)‏ مسیحی تو باہم جمع بھی نہیں ہو سکتے تھے اگر اس سلسلے میں اُنکے کچھ اصول نہ ہوتے کہ ایسے اجلاس کو کب، کہاں، اور کیسے منعقد کِیا جائے!‏ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏)‏ جن اشخاص کو تنظیم میں اختیار حاصل ہے انکے قائم‌کردہ معقول رہبر خطوط سے تعاون کرنا بھی مسیح کی شریعت کو پورا کرنے کا حصہ ہے۔—‏عبرانیوں ۱۳:‏۱۷‏۔‏

۴.‏ خالص پرستش کی پُشت پر متحرک کرنے والی کونسی قوت ہے؟‏

۴ تاہم، سچے مسیحی اپنی پرستش کو بے‌معنی ضابطۂ‌قوانین بننے کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ محض اسلئے یہوواہ کی خدمت نہیں کرتے کیونکہ کوئی شخص یا تنظیم اُنہیں ایسا کرنے کیلئے کہتی ہے۔ بلکہ، اُنکی پرستش کی پُشت پر متحرک کرنے والی قوت محبت ہے۔ پولس نے لکھا:‏ ”‏مسیح کی محبت ہم کو مجبور کر دیتی ہے۔“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۵:‏۱۴‏)‏ یسوع نے اپنے پیروکاروں کو ایک دوسرے سے محبت کرنے کا حکم دیا۔ (‏یوحنا ۱۵:‏۱۲، ۱۳‏)‏ خودایثارانہ محبت مسیح کی شریعت کی بنیاد ہے، اور یہ ہر جگہ، خاندان اور کلیسیا دونوں میں، سچے مسیحیوں کو ترغیب یا تحریک دیتی ہے۔ آئیے دیکھیں کیسے۔‏

خاندان میں

۵.‏ (‏ا)‏ گھر میں والدین کیسے مسیح کی شریعت کو پورا کر سکتے ہیں؟ (‏ب)‏ بچوں کو اپنے والدین سے کس چیز کی ضرورت ہوتی ہے، اور اس چیز کو مہیا کرنے کیلئے بعض والدین کو کن رُکاوٹوں پر قابو پانا چاہیے؟‏

۵ پولس رسول نے لکھا:‏ ”‏اَے شوہرو!‏ اپنی بیویوں سے محبت رکھو جیسے مسیح نے بھی کلیسیا سے محبت کر کے اپنے آپ کو اُسکے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔“‏ (‏افسیوں ۵:‏۲۵‏)‏ جب ایک شوہر مسیح کی نقل کرتا ہے اور اپنی بیوی کیساتھ محبت اور سمجھداری سے پیش آتا ہے تو وہ مسیح کی شریعت کے ایک نہایت اہم نقطے کو پورا کرتا ہے۔ مزیدبرآں، یسوع نے چھوٹے بچوں کو اپنی بانہوں میں لینے، اُن پر اپنے ہاتھ رکھنے اور اُنہیں برکت دینے سے اُن کیلئے محبت کا برملا اظہار کِیا۔ (‏مرقس ۱۰:‏۱۶‏)‏ جو والدین مسیح کی شریعت کو پورا کرتے ہیں وہ بھی اپنے بچوں کیلئے محبت دکھاتے ہیں۔ سچ ہے کہ ایسے والدین ہیں جو اس سلسلے میں یسوع کے نمونے کی پیروی کرنے کو ایک چیلنج سمجھتے ہیں۔ بعض فطرتاً جذبات کا اظہار نہیں کرتے۔ اَے اولاد والو، ایسے خیالات کو اجازت نہ دیں کہ آپکو اپنے بچوں کیلئے ایسی محبت دکھانے سے باز رکھیں جو آپ اُن کیلئے رکھتے ہیں!‏ صرف آپکا یہ سمجھنا کافی نہیں ہے کہ آپ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔ اُنہیں بھی اس سے واقف ہونا چاہیے۔ اور اُنہیں تب تک معلوم نہیں ہوگا جبتک آپ اپنی محبت ظاہر کرنے کے طریقے تلاش نہیں کر لیتے۔—‏مقابلہ کریں مرقس ۱:‏۱۱‏۔‏

۶.‏ (‏ا)‏ کیا بچوں کو والدین کے اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور آپ ایسا جواب کیوں دیتے ہیں؟ (‏ب)‏ بچوں کو گھرانے کے اصولوں کیلئے کس بنیادی وجہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے؟ (‏پ)‏ جب گھرانے میں مسیح کی شریعت مروج ہوتی ہے تو کن خطرات سے بچ جاتے ہیں؟‏

۶ اسکے ساتھ ساتھ، بچوں کو راہنمائیوں کی ضرورت ہوتی ہے، جسکا مطلب ہے کہ اُنکے والدین کو اصول وضع کرنے اور بعض‌اوقات تادیب کیساتھ ان اصولوں کو نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۲:‏۷،‏ ۹،‏ ۱۱‏)‏ پھربھی، بچوں کی ان اصولوں کی بنیادی وجہ کو سمجھنے میں بتدریج مدد کی جانی چاہیے:‏ اُنکے والدین اُن سے محبت کرتے ہیں۔ اور اُنہیں سیکھنا چاہیے کہ محبت ہی اُن کیلئے اپنے والدین کا حکم ماننے کی بہترین وجہ ہے۔ (‏افسیوں ۶:‏۱؛‏ کلسیوں ۳:‏۲۰؛‏ ۱-‏یوحنا ۵:‏۳‏)‏ ایک سمجھدار ماں‌یاباپ کا نصب‌العین چھوٹے بچوں کو اپنی ”‏قوتِ‌استدلال“‏ استعمال کرنا سکھانا ہے یوں وہ بالآخر خود پُختہ فیصلے کرینگے۔ (‏رومیوں ۱۲:‏۱‏، این‌ڈبلیو؛ مقابلہ کریں ۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۱۱‏۔)‏ اس کی دوسری جانب، اصول نہ تو بہت زیادہ ہونے چاہئیں نہ ہی تادیب بہت سخت۔ پولس بیان کرتا ہے:‏ ”‏اَے اولاد والو!‏ اپنے فرزندوں کو دق نہ کرو تاکہ وہ بیدل نہ ہو جائیں۔“‏ (‏کلسیوں ۳:‏۲۱؛‏ افسیوں ۶:‏۴‏)‏ جب مسیح کی شریعت گھرانے میں مروج ہوتی ہے تو پھر بے‌قابو غصے کیساتھ عمل میں لائی جانے والی تربیت یا تکلیف‌دہ طنز کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ایسے گھر میں، بچے شکستہ‌خاطر اور بوجھ تلے دبے ہوئے محسوس کرنے کی بجائے محفوظ اور بلندحوصلہ محسوس کرتے ہیں۔—‏مقابلہ کریں زبور ۳۶:‏۷‏۔‏

۷.‏ جب گھر میں اصول وضع کرنے کی بات آتی ہے تو بیت‌ایل ہومز کن طریقوں سے ایک نمونہ فراہم کر سکتے ہیں؟‏

۷ جن لوگوں نے پوری دُنیا میں بیت‌ایل ہومز کا دَورہ کِیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ خاندان کیلئے اُصولوں کے معاملے میں توازن کی عمدہ مثالیں ہیں۔ بالغوں پر مشتمل ہونے کے باوجود، ایسے ادارے بالکل خاندانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔‏a بیت‌ایل کے کام پیچیدہ ہیں اور اصولوں کی خاصی بڑی تعداد کا تقاضا کرتے ہیں—‏یقیناً اوسط خاندان سے کہیں زیادہ۔ تاہم، بیت‌ایل ہومز، دفاتر، اور فیکٹری کے کاموں میں پیشوائی کرنے والے بزرگ مسیح کی شریعت کا اطلاق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف کام کو منظم کرنے بلکہ روحانی ترقی اور اپنے ساتھی کارکنوں کے مابین ”‏خداوند کی شادمانی“‏ کو فروغ دینے کو اپنی تفویض کے طور پر خیال کرتے ہیں۔ (‏نحمیاہ ۸:‏۱۰‏)‏ اسلئے، وہ مثبت اور حوصلہ‌افزا طریقے سے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور معقول بننے کیلئے سخت جدوجہد کرتے ہیں۔ (‏افسیوں ۴:‏۳۱، ۳۲‏)‏ اس میں کوئی شک نہیں کہ بیت‌ایل خاندان اپنے شادمان جذبے کیلئے مشہور ہیں!‏

کلیسیا میں

۸.‏ (‏ا)‏ کلیسیا کے اندر ہمیشہ ہمارا نصب‌العین کیا ہونا چاہیے؟ (‏ب)‏ کن حالات کے تحت بعض نے اصولوں کا تقاضا کِیا ہے یا اصول بنانے کی کوشش کی ہے؟‏

۸ کلیسیا میں بھی ہمارا یہی نصب‌العین ہے کہ محبت کی رُو سے ایک دوسرے کی ترقی کا باعث بنیں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۱‏)‏ لہٰذا تمام مسیحیوں کو محتاط ہونا چاہیے کہ ذاتی پسند کے معاملات میں اپنے نظریات ٹھونسنے سے دوسروں کے بوجھوں میں اضافہ نہ کریں۔ کبھی‌کبھار، بعض ایسے معاملات پر اصولوں کی بابت پوچھنے کیلئے واچ ٹاور سوسائٹی کو لکھتے ہیں کہ چند مخصوص فلموں، کتابوں، اور حتیٰ‌کہ کھلونوں کے سلسلے میں اُنہیں کونسا نظریہ رکھنا چاہیے۔ تاہم، سوسائٹی کو ایسی چیزوں کی چھان‌بین کرنے اور ان پر فیصلے سنانے کا اختیار نہیں ہے۔ زیادہ‌تر حالتوں میں، یہ ایسے معاملات ہیں جن میں ایک فرد کو یا خاندان کے سردار کو، بائبل اصولوں کیلئے اپنی محبت پر مبنی، فیصلے کرنے چاہئیں۔ دیگر سوسائٹی کی تجاویز اور رہبر خطوط کو اصولوں کی شکل دینے کا میلان رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر، مینارِنگہبانی اپریل ، ۱۹۹۶ کے شمارے میں کلیسیا کے ارکان کیساتھ باقاعدگی سے گلّہ‌بانی کی ملاقاتیں کرنے کیلئے بزرگوں کی حوصلہ‌افزائی کرنے والا ایک عمدہ مضمون تھا۔ کیا اسکا مقصد اصول وضع کرنا تھا؟ نہیں۔ اگرچہ وہ جو تجاویز پر عمل کرنے کے قابل ہیں بہت سے فائدے حاصل کرتے ہیں، بعض بزرگ ایسا کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔ اسی طرح، دی واچ‌ٹاور اپریل ۱، ۱۹۹۵ کے شمارے میں مضمون ”‏سوالات‌ازقارئین“‏ نے انتہا تک پہنچنے سے، جیسے‌کہ بے‌قابو دعوت اُڑانے یا فاتحانہ تقریبات کا اہتمام کرنے سے، بپتسمے کے موقع کے وقار کو کم کرنے کیخلاف خبردار کِیا۔ بعض اس پُختہ مشورت کو انتہا تک لے گئے ہیں، حتیٰ‌کہ یہ اصول بنا دیا کہ اس موقع پر ایک حوصلہ‌افزائی کا کارڈ بھیجنا بھی غلط ہوگا!‏

۹.‏ یہ کیوں اہم ہے کہ ہم حد سے زیادہ نکتہ‌چیں اور ایک دوسرے کی عیب‌جوئی کرنے والے بننے سے گریز کریں؟‏

۹ نیز،غور کریں کہ اگر ”‏آزادی کی کامل شریعت“‏ کو ہمارے درمیان کام کرنا ہے تو ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ تمام مسیحیوں کے ضمیر ایک جیسے نہیں ہیں۔ (‏یعقوب ۱:‏۲۵‏)‏ اگر لوگ ایسے انفرادی انتخابات رکھتے ہیں جو صحیفائی اصولوں کی خلاف‌ورزی نہیں کرتے تو کیا ہمیں ایک مسئلہ کھڑا کر لینا چاہیے؟ نہیں۔ ہمارا ایسا کرنا اختلاف کا باعث ہوگا۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۰‏)‏ پولس، نے ہمیں کسی ساتھی مسیحی کی عیب‌جوئی کرنے کیخلاف آگاہ کرتے وقت، کہا:‏ ”‏اُسکا قائم رہنا یا گِر پڑنا اُسکے مالک ہی سے متعلق ہے بلکہ وہ قائم ہی کر دیا جائیگا کیونکہ خداوند اُسکے قائم کرنے پر قادر ہے۔“‏ (‏رومیوں ۱۴:‏۴‏)‏ اگر ہم ایسے معاملات پر جنہیں شخصی ضمیر پر چھوڑ دیا جانا چاہیے ایک دوسرے کیخلاف بولتے ہیں تو ہم خدا کو رنجیدہ کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔—‏یعقوب ۴:‏۱۰-‏۱۲‏۔‏

۱۰.‏ کن کو کلیسیا کی نگرانی سونپی گئی ہے، اور ہمیں اُنکی کیسے حمایت کرنی چاہیے؟‏

۱۰ آئیے ہم یہ بھی یاد رکھیں کہ بزرگوں کو خدا کے گلّے کی نگرانی کرنے کی تفویض سونپی گئی ہے۔ (‏اعمال ۲۰:‏۲۸‏)‏ وہ مدد کرنے کیلئے موجود ہیں۔ ہمیں مشورت کیلئے اُنکے پاس جانے سے ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ وہ بائبل کے طالبعلم ہیں اور جوکچھ واچ ٹاور سوسائٹی کے لٹریچر میں زیرِبحث آیا ہے اُس سے واقف ہیں۔ جب بزرگ ایسا چال‌چلن دیکھتے ہیں جو شاید صحیفائی اصولوں کی خلاف ورزی پر منتج ہوگا تو وہ دلیری سے درکار مشورت پیش کرتے ہیں۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱‏)‏ کلیسیا کے ارکان ان شفیق چرواہوں کیساتھ، تعاون کرنے سے جو اُنکے درمیان پیشوائی کرتے ہیں، مسیح کی شریعت پر عمل کرتے ہیں۔—‏عبرانیوں ۱۳:‏۷‏۔‏

بزرگ مسیح کی شریعت کا اطلاق کرتے ہیں

۱۱.‏ بزرگ کلیسیا میں مسیح کی شریعت کا اطلاق کیسے کرتے ہیں؟‏

۱۱ بزرگ کلیسیا میں مسیح کی شریعت کو پورا کرنے کے مشتاق ہیں۔ وہ خوشخبری کی منادی کرنے میں پیشوائی کرتے، دلوں تک پہنچنے کیلئے بائبل سے تعلیم دیتے اور، پُرمحبت، نرم‌مزاج چرواہوں کی مانند ”‏کم‌ہمتوں“‏ کیساتھ بات‌چیت کرتے ہیں۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۴‏)‏ وہ غیرمسیحی رویوں سے گریز کرتے ہیں جو مسیحی دُنیا کے بہتیرے مذاہب میں پائے جاتے ہیں۔ سچ ہے، یہ دُنیا بڑی تیزی سے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہی ہے، اور پولس کی طرح، ممکن ہے کہ بزرگ گلّے کیلئے فکر محسوس کریں؛ لیکن وہ ایسی پریشانیوں کے سلسلے میں کوئی بھی قدم اُٹھاتے وقت توازن برقرار رکھتے ہیں۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۲۸‏۔‏

۱۲.‏ جب کوئی مسیحی مدد کیلئے ایک بزرگ کے پاس جاتا ہے تو بزرگ کیسا جوابی‌عمل دکھا سکتا ہے؟‏

۱۲ مثال کے طور پر، شاید ایک مسیحی ایک بزرگ کیساتھ ایک اہم معاملے پر مشورہ کرنا چاہتا ہے جو کسی براہِ‌راست صحیفائی حوالے سے حل نہیں ہوا یا جو مختلف مسیحی اصولوں میں توازن قائم کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ شاید اُسے ملازمت پر کسی ترقی کی پیشکش کی گئی ہے جس میں زیادہ تنخواہ مگر ذمہ‌داری بڑی ہے۔ یا شاید کسی نوجوان مسیحی کا بے‌ایمان باپ اپنے بیٹے سے ایسے مطالبات کر رہا ہے جو اُس کی خدمتگزاری کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسی حالتوں میں بزرگ ذاتی رائے دینے سے گریز کرتا ہے۔ بلکہ، غالباً وہ بائبل کھولیگا اور متعلقہ اصولوں پر استدلال کرنے کیلئے اُس شخص کی مدد کریگا۔ اگر دستیاب ہے تو، وہ یہ دیکھنے کیلئے کہ ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ نے دی واچ‌ٹاور اور دیگر مطبوعات کے صفحات میں اس موضوع کی بابت کیا بیان کِیا ہے واچ ٹاور پبلیکیشنز انڈیکس استعمال کر سکتا ہے۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵‏)‏ اگر مسیحی بعدازاں کوئی ایسا فیصلہ کرتا ہے جو بزرگ کی نظر میں دانشمندانہ دکھائی نہیں دیتا تو کیا ہو؟ اگر فیصلہ بائبل اصولوں یا قوانین کی براہِ‌راست خلاف‌ورزی نہیں کرتا تو مسیحی یہ سمجھ لیگا کہ بزرگ، یہ جانتے ہوئے کہ ”‏ہر شخص اپنا ہی بوجھ اُٹھائیگا،“‏ ایسا فیصلہ کرنے کیلئے اُس شخص کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ تاہم، مسیحی کو یاد رکھنا چاہیے کہ ”‏آدمی جوکچھ بوتا ہے وہی کاٹیگا۔“‏—‏گلتیوں ۶:‏۵،‏ ۷‏۔‏

۱۳.‏ سوالات کے براہِ‌راست جوابات دینے یا اپنی ذاتی رائے پیش کرنے کی بجائے، بزرگ معاملات پر استدلال کرنے کیلئے دوسروں کی مدد کیوں کرتے ہیں؟‏

۱۳ تجربہ‌کار بزرگ کیوں اس طرح سے عمل کرتا ہے؟ کم‌ازکم دو وجوہات کی بِنا پر۔ اوّل، پولس نے ایک کلیسیا کو بتایا کہ وہ ’‏اُنکے ایمان پر حکومت نہیں جتاتا‘‏ تھا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۴‏)‏ بزرگ، اپنے بھائی کو صحائف پر استدلال کرنے اور اپنا ذاتی ہوشمندانہ فیصلہ کرنے کیلئے مدد دینے میں، پولس کی نقل کر رہا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اُسکے اختیار کی کچھ حدود ہیں، بالکل اسی طرح جیسے یسوع نے تسلیم کِیا کہ اُسکے اختیار کی حدود تھیں۔ (‏لوقا ۱۲:‏۱۳، ۱۴؛‏ یہوداہ ۹‏)‏ اسکے ساتھ ساتھ، جہاں ضروری ہو، بزرگ خوشی سے مفید، مگر پُرزور، صحیفائی مشورت پیش کرتے ہیں۔ دوم، وہ اپنے ساتھی مسیحی کی تربیت کر رہا ہے۔ پولس رسول نے بیان کِیا:‏ ”‏سخت غذا پوری عمر والوں کے لئے ہوتی ہے جنکے حواس کام کرتے کرتے نیک‌وبد میں امتیاز کرنے کے لئے تیز ہو گئے ہیں۔“‏ (‏عبرانیوں ۵:‏۱۴‏)‏ لہٰذا، پختگی تک پہنچنے کیلئے، ہمیں جوابات بتانے کیلئے ہمیشہ کسی دوسرے پر بھروسہ نہ کرتے ہوئے ہمیں اپنی ادراکی قوتوں کو استعمال کرنا ہوگا۔ بزرگ، اپنے ساتھی مسیحی کو یہ دکھانے سے کہ کیسے صحائف پر استدلال کِیا جائے، اس طرح سے ترقی کرنے میں اُسکی مدد کر رہا ہے۔‏

۱۴.‏ پُختہ لوگ کیسے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ یہوواہ پر بھروسہ کرتے ہیں؟‏

۱۴ ہم یہ ایمان رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ خدا اپنی روح‌القدس کے ذریعے سے سچے پرستاروں کے دلوں پر اثر کریگا۔ یوں، پُختہ مسیحی، اُن سے درخواست کرنے سے، اپنے بھائیوں کے دلوں کو چھو سکتے ہیں، جیسے کہ پولس رسول نے کِیا۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۸:‏۸؛‏ ۱۰:‏۱؛‏ فلیمون ۸، ۹‏)‏ پولس جانتا تھا کہ یہ صرف ناراست ہیں، راست نہیں، جنہیں خود کو درست رکھنے کیلئے مفصل قوانین کی ضرورت ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۱:‏۹‏)‏ اُس نے اپنے بھائیوں پر شک یا عدمِ‌اعتماد کی بجائے بھروسہ ظاہر کِیا۔ اُس نے ایک کلیسیا کو لکھا:‏ ”‏خداوند میں ہمیں تم پر بھروسا ہے۔“‏ (‏۲-‏تھسلنیکیوں ۳:‏۴‏)‏ پولس کے ایمان، بھروسے اور اعتماد نے اُن مسیحیوں کو تحریک دینے کیلئے یقیناً بہت کچھ کِیا۔ بزرگوں اور سفری نگہبانوں کے آجکل یہی مقاصد ہیں۔ جب وہ خدا کے گلّے کی پُرمحبت طریقے سے گلّہ‌بانی کرتے ہیں تو یہ وفادار اشخاص کسقدر تازگی‌بخش ہیں!‏—‏یسعیاہ ۳۲:‏۱، ۲؛‏ ۱-‏پطرس ۵:‏۱-‏۳‏۔‏

مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنا

۱۵.‏ یہ دیکھنے کیلئے کہ آیا ہم اپنے بھائیوں کیساتھ اپنے تعلق میں مسیح کی شریعت کا اطلاق کر رہے ہیں یا نہیں ہم خود سے کونسے سوال پوچھ سکتے ہیں؟‏

۱۵ ہم سب کو یہ دیکھنے کیلئے اپنی ذات کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا ہم مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں اور اسے فروغ دے رہے ہیں۔ (‏۲-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۵‏)‏ واقعی، ہم سب یہ پوچھنے سے مستفید ہو سکتے ہیں:‏ ’‏کیا مَیں حوصلہ‌افزائی کرنے والا یا نکتہ‌چینی کرنے والا ہوں؟ کیا مَیں متوازن ہوں یا انتہاپسند ہوں؟ کیا مَیں دوسروں کیلئے پاس‌ولحاظ دکھاتا ہوں یا اپنے ہی حقوق پر اصرار کرتا ہوں؟‘‏ ایک مسیحی کو اس سلسلے میں حکم چلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ اُسکے بھائی کو ایسے معاملات میں جو واضح طور پر بائبل میں بیان نہیں کئے گئے کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں کرنا چاہیے۔—‏رومیوں ۱۲:‏۱؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۴:‏۶‏۔‏

۱۶.‏ اس طرح مسیح کی شریعت کے ایک نہایت اہم نقطے کو پورا کرتے ہوئے، ہم اپنی بابت منفی نظریات رکھنے والوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں؟‏

۱۶ ان تشویشناک ایّام میں، ہمارے لئے ایک دوسرے کی حوصلہ‌افزائی کرنے کے طریقوں کی تلاش کرنا اشد ضروری ہے۔ (‏عبرانیوں ۱۰:‏۲۴، ۲۵‏؛ مقابلہ کریں متی ۷:‏۱-‏۵‏۔)‏ جب ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کو دیکھتے ہیں تو کیا اُنکی عمدہ خوبیوں کو ہمارے نزدیک اُنکی کمزوریوں سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہونا چاہیے؟ یہوواہ کی نظر میں، ہر شخص گراں‌بہا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ سب ایسا محسوس نہیں کرتے، حتیٰ‌کہ اپنی بابت بھی۔ بہتیرے صرف اپنی ذاتی غلطیوں اور ناکاملیتوں کو دیکھنے کا میلان رکھتے ہیں۔ ایسے اشخاص—‏اور دیگر—‏کی حوصلہ‌افزائی کرنے کیلئے کیا ہم اُنہیں یہ جاننے کا موقع دیتے ہوئے ہر اجلاس پر ایک یا دو لوگوں سے گفتگو کر سکتے ہیں کہ کیوں ہم اُنکی موجودگی اور اُس اہم مدد کی قدر کرتے ہیں جو وہ کلیسیا میں فراہم کرتے ہیں؟ اس طرح اُنکے بوجھ کو کم کرنا اور یوں مسیح کی شریعت کو پورا کرنا کتنی خوشی کی بات ہے!‏—‏گلتیوں ۶:‏۲‏۔‏

مسیح کی شریعت سرگرمِ‌عمل ہے!‏

۱۷.‏ کن مختلف طریقوں سے آپ اپنی کلیسیا میں مسیح کی شریعت کو سرگرمِ‌عمل دیکھتے ہیں؟‏

۱۷ مسیح کی شریعت مسیحی کلیسیا میں سرگرمِ‌عمل ہے۔ ہم روزانہ اسے دیکھتے ہیں—‏جب ساتھی گواہ اشتیاق کے ساتھ خوشخبری سناتے ہیں، جب وہ ایک دوسرے کو دلاسا اور حوصلہ دیتے ہیں، جب وہ مشکل‌ترین مسائل کے باوجود یہوواہ کی خدمت کرنے کیلئے جدوجہد کرتے ہیں، جب والدین مسرور دلوں کیساتھ یہوواہ سے محبت کرنے کی خاطر اپنے بچوں کی پرورش کرنے کیلئے جانفشانی کرتے ہیں، جب نگہبان گلّے کو گرمجوشی کیساتھ ہمیشہ یہوواہ کی خدمت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے، محبت اور تپاک کیساتھ خدا کے کلام کی تعلیم دیتے ہیں۔ (‏متی ۲۸:‏۱۹، ۲۰؛‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۱۱،‏ ۱۴‏)‏ جب ہم افراد کے طور پر اپنی زندگیوں میں مسیح کی شریعت کو کام کرنے دیتے ہیں تو یہوواہ کا دل کسقدر خوش ہوتا ہے!‏ (‏امثال ۲۳:‏۱۵‏)‏ وہ چاہتا کہ وہ تمام لوگ جو اُسکی کامل شریعت سے محبت کرتے ہیں ہمیشہ زندہ رہیں۔ آنے والے فردوس میں، ہم ایک ایسا وقت دیکھینگے جب نوعِ‌انسان کامل ہوگا، قانون‌شکنوں سے پاک وقت، اور ایک ایسا وقت جب ہمارے دلوں کا ہر خیال قابو میں ہوگا۔ مسیح کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کا کیا ہی شاندار اجر!‏ (‏۱۹ ۰۹/۰۱ w۹۶)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a یہ ہومز مسیحی دُنیا کی خانقاہوں کی طرح نہیں ہیں۔ اس لحاظ سے یہاں کوئی ”‏ایبوٹس،“‏ یا ”‏فادر“‏ نہیں ہوتے۔ (‏متی ۲۳:‏۹‏)‏ ذمہ‌دار بھائیوں کی عزت کی جاتی ہے، لیکن اُنکی خدمت کی رہنمائی بھی اُنہی اصولوں سے ہوتی ہے جو تمام بزرگوں پر عائد ہوتے ہیں۔‏

آپکا کیا خیال ہے؟‏

▫ مسیحی دُنیا مسیح کی شریعت کے مقصد کو سمجھنے سے کیوں قاصر رہی ہے؟‏

▫ ہم خاندان میں مسیح کی شریعت کو کیسے عمل میں لا سکتے ہیں؟‏

▫ کلیسیا میں مسیح کی شریعت کا اطلاق کرنے کیلئے، ہمیں کس چیز سے گریز کرنا چاہیے، اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟‏

▫ کلیسیا کیساتھ اپنے تعلقات میں بزرگ کیسے مسیح کی شریعت کی فرمانبرداری کر سکتے ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

ہمارے پُرمحبت چرواہے کتنے تازگی‌بخش ہیں!‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں