سوالات از قارئین
بعضاوقات ہم بھائیوں کو خدا کی بادشاہی کے زمین پر آنے کی بابت دُعا یا باتچیت کر تے سنتے ہیں۔ کیا یہ دُرست اظہار ہے؟
درحقیقت چیزوں کو بیان کرنے کا یہ صحیفائی طریقہ نہیں ہے۔ خدا کی بادشاہی آسمانی ہے۔ لہذا، پولسؔ رسول لکھ سکتا تھا: ”خداوند مجھے ہر ایک بُرے کام سے چھڑائیگا اور اپنی آسمانی بادشاہی میں صحیح سلامت پہنچا دیگا۔ اُس کی تمجید ابدالآباد ہوتی رہے۔ آمین۔“—۲-تیمتھیس ۴:۱۸؛ متی ۱۳:۴۴؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۰۔
بادشاہت ۱۹۱۴ میں آسمان پر قائم ہوئی تھی اور یہ کبھی بھی بحالشُدہ زمینی فردوس یا کسی دوسری جگہ منتقل نہیں کی جائیگی۔ یسوؔع مسیح بادشاہت کا بادشاہ ہے۔ بادشاہ کے طور پر، یسوؔع فرشتگان پر اختیار رکھتا ہے۔ لہٰذا، حکمرانی کرنے کا اُس کا صحیح مقام آسمان پر خدا کے دہنے ہاتھ ہے۔ ممسوح مسیحی بادشاہوں اور کاہنوں کے طور پر آسمان پر اُس کیساتھ شریک ہوتے ہیں۔—افسیوں ۱:۱۹-۲۱؛ مکاشفہ ۵:۹، ۱۰؛ ۲۰:۶۔
تاہم، کیا اسکا یہ مطلب ہے کہ ہمیں اب کے بعد خدا سے یہ درخواست نہیں کرنی چاہئے جوکہ خداوند کی دُعا کے ایک حصے میں پائی جاتی ہے جو کہتی ہے: ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو“؟ (متی ۶:۱۰) اسکے برعکس، وہ دُعا مناسب ہے اور ابھی تک پُرمطلب ہے۔
مستقبل میں خدا کی بادشاہت اس زمین کیلئے فیصلہکُن کارروائی کریگی، اور یہی چیز ہمارے ذہن میں ہوتی ہے جب ہم دُعا کرتے اور خداوند کی دُعا کی طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، دانی ۲:۴۴ پہلے سے بیان کرتی ہے کہ بادشاہی تمام مملکتوں کو نیست کرنے کیلئے ”آئے“ گی اور اس زمین کی حکمرانی کو اپنے قبضہ میں کر لیگی۔ مکاشفہ ۲۱:۲ آسمان سے اُترتے ہوئے نئے یرؔوشلیم کا ذکر کرتی ہے۔ نیا یرؔوشلیم ۱۴۴،۰۰۰ ممسوح مسیحیوں پر مشتمل ہے جو مسیح کی دُلہن ہونگے۔ وہ یسوؔع کیساتھ بادشاہت میں ساتھی حکمران بھی ہیں۔ لہٰذا مکاشفہ ۲۱:۲ اُنکے زمین پر توجہ دینے کا ذکر کرتی ہے جو نوعِانسان کیلئے عظیم برکات پر منتج ہوتا ہے۔—مکاشفہ ۲۱:۳، ۴۔
جبتک یہ اور دیگر شاندار پیشینگوئیاں پوری نہیں ہو جاتیں، یسوؔع کے الفاظ ”تیری بادشاہی آئے“ کی مطابقت میں یہوؔواہ خدا سے دُعا کرتے رہنا مناسب ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بادشاہت حقیقی مفہوم میں زمینی سیّارے پر نہیں آئیگی۔ بادشاہتی حکومت آسمان پر قائم ہے، زمین پر نہیں۔ (۳۱ ۰۶/۰۱ w۹۶)