سوالات از قارئین
افسیوں ۳:۱۴، ۱۵ بیان کرتی ہیں کہ خدا سے ”آسمان اور زمین کا ہر ایک خاندان نامزد ہے۔“ کیا آسمان پر خاندان موجود ہیں، اور کیا ہر انسانی خاندان کسی نہ کسی طرح یہوؔواہ سے اپنا نام حاصل کرتا ہے؟
آسمان میں کوئی خاندان نہیں ہیں جیسےکہ یہاں زمین پر ہیں، جن میں باپ، ماں، اور بچے ہوتے ہیں—جسمانی طور پر سب ایک دوسرے کیساتھ وابستہ۔ (لوقا ۲۴:۳۹؛ ۱-کرنتھیوں ۱۵:۵۰) یسوؔع نے واضح طور پر بیان کِیا کہ فرشتے شادی نہیں کرتے، اور کوئی بھی چیز یہ ظاہر نہیں کرتی کہ وہ کسی بھی طرح اولاد پیدا کرتے ہیں۔—متی ۲۲:۳۰۔
تاہم، بائبل علامتی طور پر یہوؔواہ خدا کے اپنی آسمانی تنظیم کیساتھ بیاہے جانے کا ذکر کرتی ہے؛ وہ روحانی اعتبار سے شادیشُدہ ہے۔ (یسعیاہ ۵۴:۵) وہ آسمانی تنظیم اولاد پیدا کرتی ہے، جیسےکہ فرشتے۔ (ایوب ۱:۶؛ ۲:۱؛ ۳۸:۴-۷) لہٰذا، اس مفہوم میں، آسمان پر ایک شاندار روحانی خاندان موجود ہے۔
مزیدبراں، یسوؔع مسیح اور ۱۴۴،۰۰۰ کی اُسکی کلیسیائی دلہن پر مشتمل، ایک نیا علامتی خاندان آسمان میں تکمیل پا رہا ہے۔ (۲-کرنتھیوں ۱۱:۲) ان ممسوحوں میں سے بیشتر آسمانی زندگی کو نگاہ میں رکھتے ہوئے پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ کچھ ابھی تک زمین پر زندہ ہیں۔ سب کے سب بڑے اشتیاق سے ”برّہ کی“ آسمانی ”شادی“ کے منتظر ہیں۔ بائبل اس شادی کو آنے والی بڑی مصیبت—بڑے بابلؔ کی تباہی، اور پھر شیطان کے باقیماندہ نظام کے خاتمے کے وقت کیساتھ منسلک کرتی ہے۔—مکاشفہ ۱۸:۲-۵؛ ۱۹:۲، ۷، ۱۱-۲۱؛ متی ۲۴:۲۱۔
زمینی خاندانوں کے سلسلے میں، پولسؔ افسیوں ۳:۱۵ میں یہ بیان نہیں کر رہا تھا کہ ہر ایک خاندانی گروہ براہِراست یہوؔواہ سے اپنا نام حاصل کرتا ہے۔ اسکے برعکس، بدیہی طور پر پولسؔ کے ذہن میں بڑے بڑے خاندانی نسبنامے تھے جو ایک نام کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یشوع ۷:۱۶-۱۹ ایک مثال مہیا کرتی ہیں۔ یہاں یہوؔواہ عکنؔ کے گناہ کو فاش کر رہا تھا۔ پہلے، جُرم یہوؔداہ کے قبیلے پر عائد کِیا گیا یا اُسی تک محدود کِیا گیا۔ پھر اسے زاؔرح کے خاندان تک محدود کر دیا گیا۔ آخرکار، عکنؔ کے گھرانے کو بےنقاب کِیا گیا۔ عکنؔ اپنے بیوی بچوں سمیت، عکنؔ کے دادا زؔبدی کے گھرانے (یا، خاندان) کا حصہ سمجھے جاتے یا کہلاتے تھے۔ پھر، وہ خاندان ایک بہت بڑا گروہ تھا جو اپنے جد زاؔرح کے نام سے منسوب تھا۔
عبرانی لوگوں کے درمیان، ایسے خاندانی نسبنامے بڑی اہمیت کے حامل ہوا کرتے تھے، بہتیرے بائبل میں درج کئے گئے ہیں۔ جہاں یہ ضروری تھا، وارثوں کے مُتوَفّی بھائی کی بیوہ کیساتھ دیور کی شادی کرنے کے ذریعے خاندانی نام کو آگے بڑھانے کا اہتمام کرنے سے خدا نے اُنکے محفوظ رکھنے کی حمایت کی۔—پیدایش ۳۸:۸، ۹؛ استثنا ۲۵:۵، ۶۔
ایسے بڑے یا وسیع خاندانوں کی ایک اَور مثال کے طور پر یسوؔع کے داؔؤد کا بیٹا ہونے پر غور کریں۔ داؔؤد کی وفات کے صدیوں بعد پیدا ہونے کے باعث بظاہر وہ داؔؤد بادشاہ کی براہِراست اولاد نہیں تھا۔ تاہم، مسیحا کا ایک شناختی نشان یہ تھا کہ اُسے داؔؤد کے خاندان سے ہونا تھا، جیسےکہ یہودی بالعموم جانتے تھے۔ (متی ۲۲:۴۲) یسوؔع اپنی ماں اور پالنے والے باپ دونوں کی طرف سے داؔؤد کے خاندان سے تھا۔—متی ۱:۱؛ لوقا ۲:۴۔
لیکن ایسے خاندان یہوؔواہ سے اپنا نام کیسے حاصل کرتے ہیں؟ یہ حقیقت ہے کہ ایسے چند ایک مواقع تھے—جیسےکہ اؔبرہام اور اضحاؔق کے معاملے میں—جب یہوؔواہ نے واقعی ایک خاندان کے سردار کا نام رکھا۔ (پیدایش ۱۷:۵، ۱۹) یہ غیرمعمولی واقعات تھے۔ زیادہتر، خدا ہر ایک خاندان کو نام نہیں دیتا جسے یہ بچوں میں منتقل کرتا ہے۔
تاہم، یہوؔواہ نے، خاندانی اکائی کا آغاز کِیا جب اُس نے آؔدم اور حوؔا کو حکم دیا کہ ”پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو۔“ (پیدایش ۱:۲۸) اور یوں تمام انسانی خاندانوں کیلئے ایک بنیاد قائم کرتے ہوئے یہوؔواہ نے ناکامل آؔدم اور حوؔا کو اولاد پیدا کرنے کی اجازت دی۔ (پیدایش ۵:۳) لہٰذا ایک سے زیادہ مفہوم میں، خدا خاندانی ناموں کا بانی کہلا سکتا ہے۔
آجکل بہتیری ثقافتیں نسلوں کیلئے خاندانی ناموں کو قائم رکھنے کیلئے ضرورت محسوس نہیں کرتیں۔ تاہم، تمام ممالک میں مسیحی خاندانی انتظام کیلئے یہوؔواہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اپنی ہر خاندانی اکائی کو کامیاب بنانے کیلئے جانفشانی کرنے سے اُسکی تعظیم کرتے ہیں۔ (۳۱ ۰۳/۱۵ w۹۶)