تشدّد کا مستقل خاتمہ—کیسے؟
تشدد کی لہر کو روکنے کیلئے، ریاستہائے متحدہ کے متعدد شہروں نے ایک انوکھی تجویز کو آزمایا—جو کوئی اپنے ہتھیار جمع کرائے گا اُسے بِلااستفسار روپیہ یا مال دیا جائیگا۔ نتیجہ؟ مثلاً، سینٹ لوئس کے شہر نے ۳۴۱،۰۰۰ ڈالر کے عوض ۸،۵۰۰ بندوقیں جمع کیں۔ نیو یارک شہر میں اِسی طرح کے ایک پروگرام نے ایک ہزار سے زائد ہتھیار پکڑے۔
اس تمام کا جُرم پر کیا اثر ہوا؟ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت کم۔ اگلے ہی سال سینٹ لوئس میں بندوق سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد انتہا کو پہنچ گئی۔ نیو یارک شہر میں، ابھی تک عام لوگوں کے پاس تخمیناً دو ملین بندوقیں ہیں۔ ریاستہائے متحدہ میں، تقریباً ۲۰۰ ملین بندوقیں عام لوگوں کی ملکیت ہیں، تقریباً ہر مرد، عورت اور بچے کیلئے ایک۔ دیگر ممالک میں، بندوق سے کِیا جانے والا تشدد خطرناک شرح کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ برؔطانیہ میں ”۱۹۸۳ اور ۱۹۹۳ کے درمیان، پولیس کی طرف سے اُن درجشُدہ خلافورزیوں کی تعداد، جن میں اسلحہ استعمال ہوا ہے، تقریباً دُگنی ہو کر ۱۴،۰۰۰ تک پہنچ گئی ہے،“ دی اِکانومسٹ بیان کرتا ہے۔ اگرچہ قتل کی شرح میں نسبتاً کمی واقع ہوئی ہے، اُس مُلک میں تقریباً ایک ملین غیرقانونی ہتھیار ہیں۔
یقینی طور پر، ان خوفناک اعدادوشمار میں کمی آگے کی جانب ایک قدم ہے۔ تاہم، ایسے متذکرہبالا اقدام شاید ہی تشدد کی اصل وجوہات تک پہنچ سکیں۔ وہ کونسی وجوہات ہیں؟ بہت سے اسباب بیان کئے گئے ہیں لیکن ان میں سے چند ایک بنیادی ہیں۔ خاندانی استحکام اور اخلاقی تربیت کی کمی نے بہتیرے نوجوانوں کو کوئی مقام حاصل کرنے کے احساس کے ساتھ جرائم پیشہ گروہوں میں شامل ہونے پر اُکسایا ہے۔ بہت زیادہ نفع کی کشش بہتیروں کو تشدد کی طرف راغب کرتی ہے۔ دیگر کو ناانصافی تشدد کے ذریعے معاملات کو سدھارنے پر آمادہ کرتی ہے۔ مُلک، نسل یا زندگی میں مقام کا تکبّر، لوگوں کے لئے دوسروں کی تکالیف کو نظرانداز کرنے کا سبب بنتا ہے۔ یہ انتہائی عمیق عناصر ہیں جن کے آسان حل دستیاب نہیں ہیں۔
کیا کِیا جا سکتا ہے؟
زیادہ پولیس، قیدبامشقت کی معیادیں، بندوق پر پابندی، سزائے موت—یہ تمام باتیں تجویز کی گئیں اور جُرم اور تشدد پر قابو پانے کے ذریعہ کے طور پر آزمائی گئی ہیں۔ وہ مختلف نوعیت کی کامیابی پر منتج ہوئی ہیں، مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تشدد ابھی بھی بڑی حد تک ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ کیوں؟ یہ اس لئے ہے کیونکہ یہ اقدام محض علامات کا تدارک کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، بہتیرے ماہرین محسوس کرتے ہیں کہ تشدد کو ختم کرنے کی کُنجی تعلیم ہے۔ اگرچہ یہ خیال درست ہے، تاہم ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ تشدد محض اُن اقوام تک محدود نہیں ہے جہاں تعلیمی مواقع محدود ہیں۔ درحقیقت، ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بعض انتہائی پُرتشدد قومیں وہ ہیں جنکے تعلیمی معیار بہت بلند ہیں۔ یہ جاننا مشکل نہیں ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض تعلیم نہیں بلکہ صحیح قسم کی تعلیم ہے۔ یہ کونسی قسم ہوگی؟ کیا کوئی ایسا شخص موجود ہے جو لوگوں کو اَمنپسند اور دیانتدار اشخاص بننے کی تعلیم دینے کے قابل ہے؟
”مَیں ہی خداوند تیرا خدا ہوں جو تجھے مفید تعلیم دیتا ہوں اور تجھے اُس راہ میں جس میں تجھے جانا ہے لے چلتا ہوں۔ کاش کہ تُو میرے احکام کا شنوا ہوتا اور تیری سلامتی نہر کی مانند اور تیری صداقت سمندر کی موجوں کی مانند ہوتی۔“ (یسعیاہ ۴۸:۱۷، ۱۸) یہوؔواہ خدا لوگوں کو اَمنپسند اور راستباز بننے کی کیسے تعلیم دیتا ہے؟ بنیادی طور پر اپنے کلام، بائبل کے ذریعے۔
خدا کے کلام کی قوت
بائبل قدیم حکایات اور متروک اور بےمحل مقولوں کے مجموعے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس میں نوعِانسان کے خالق کے اُصول اور نظریات پائے جاتے ہیں، جو اپنے اعلیٰ نقطۂنظر کے باعث انسانی فطرت کو کسی بھی دوسرے شخص کی نسبت زیادہ بہتر جانتا ہے۔ ”جس قدر آسمان زمین سے بلند ہے اُسی قدر میری راہیں تمہاری راہوں سے اور میرے خیال تمہارے خیالوں سے بلند ہیں،“ یہوؔواہ خدا فرماتا ہے۔—یسعیاہ ۵۵:۹۔
اسی وجہ سے پولسؔ رسول تصدیق کرتا ہے کہ ”خدا کا کلام زندہ اور مؤثر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زیادہ تیز ہے اور جان اور رُوح اور بندبند اور گودے کو جدا کر کے گزر جاتا ہے اور دِل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچتا ہے۔“ (عبرانیوں ۴:۱۲) جیہاں، خدا کا کلام ایک شخص کے دل تک پہنچنے اور اُسے چھونے اور اُس کی سوچ اور طرزِعمل کو تبدیل کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ کیا آجکل لوگوں کی پُرتشدد راہوں کو تبدیل کرنے کے لئے اسی چیز کی ضرورت نہیں ہے؟
یہوؔواہ کے گواہ، جن کی تعداد اس وقت ۲۳۰ سے زیادہ ممالک کے اندر تقریباً پانچ ملین ہے، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ خدا کا کلام بہتر حالت کے لئے زندگیوں کو تبدیل کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ اُن کے درمیان ہر ایک قومیت، زبان اور نسل کے لوگ موجود ہیں۔ وہ زندگی کے ہر شعبے اور معاشرتی پسمنظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اُن میں سے بعض ماضی میں متشدّد اور مُتکلِف زندگیاں گزارتے تھے۔ لیکن ایسے عناصر کو اپنے درمیان سخت دُشمنی، رقابت، ناموافق سلوک، اور نفرت کو بڑھنے کا موقع دینے کی بجائے، اُنہوں نے ان رُکاوٹوں پر قابو پانا سیکھ لیا ہے اور عالمگیر پیمانے پر اَمنپسند اور متحد لوگ بن گئے ہیں۔ کس چیز نے اسے ممکن بنایا ہے؟
ایک مہم جو تشدد کو ختم کرتی ہے
یہوؔواہ کے گواہوں نے دوسروں کو خدا کے مقصد کی بابت جیسےکہ اُس کے کلام، بائبل میں آشکارا ہے، صحیح علم حاصل کرنے میں مدد دینے کی ذمہداری لی ہے۔ زمین کے ہر گوشے میں، وہ اُن لوگوں کو تلاش کر رہے ہیں جو یہوؔواہ کی راہوں کی بابت سیکھنا اور اُس سے تعلیم پانا چاہتے ہیں۔ اُن کی کوششیں پھلدار ثابت ہو رہی ہیں۔ اس تعلیمی مہم کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک حیرتانگیز پیشینگوئی پوری ہو رہی ہے۔
کوئی ۲،۷۰۰ سال پہلے، یسعیاؔہ نبی کو یہ تحریر کرنے کا الہام بخشا گیا تھا: ”آخری دِنوں میں یوں ہوگا کہ . . . بہت سی اُمتیں آئینگی اور کہیں گی آؤ خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوؔب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائیگا اور ہم اُس کے راستوں پر چلینگے۔“—یسعیاہ ۲:۲، ۳۔
یہوؔواہ سے تعلیم پانا اور اُس کے راستوں پر چلنا لوگوں کی زندگیوں میں حیرتانگیز تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ایک تبدیلی اِسی پیشینگوئی میں پہلے سے بیان کر دی گئی ہے: ”وہ اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالیں گے اور قوم قوم پر تلوار نہ چلائے گی اور وہ پھر کبھی جنگ کرنا نہ سیکھیں گے۔“ (یسعیاہ ۲:۴) بہتیرے لوگوں نے اس صحیفے کو پڑھا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ عبارت نیو یارک شہر میں اقوامِمتحدہ کی عمارت کی دیوار پر کندہ ہے۔ یہ اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ اقوامِمتحدہ ایسا کرنے کا عزم رکھتی ہے مگر اسے عملیجامہ پہنانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ جنگ اور تشدد کا یہ خاتمہ کسی انسانساختہ سیاسی تنظیم کے ذریعے انجام نہیں پائیگا۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جسے صرف یہوؔواہ خدا ہی کرنے کے قابل ہے۔ وہ اسے کیسے سرانجام دے گا؟
ظاہر ہے کہ ہر ایک ”یہوؔواہ کے پہاڑ پر چڑھنے“ اور ’اُس کی راہوں کی بابت سیکھنے‘ اور ”اُس کے راستوں پر چلنے“ کی دعوت کے لئے جوابیعمل نہیں دکھائے گا؛ نہ ہی تمام ”اپنی تلواروں کو توڑ کر پھالیں اور اپنے بھالوں کو ہنسوے بنا ڈالنے“ کے لئے تیار ہونگے۔ یہوؔواہ ایسے اشخاص کے سلسلے میں کیا کرے گا؟ وہ اس موقع کا دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رکھے گا نہ ہی اُن کے تبدیلی لانے کا انتظار کرے گا۔ تشدد کو ختم کرنے کے لئے، یہوؔواہ اُنہیں بھی ختم کرے گا جو اپنی تشددآمیز راہوں پر بضد ہیں۔
ایک نہایت اہم سبق
جوکچھ خدا نے نوؔح کے دِنوں میں کِیا آجکل ہمارے لئے آگاہی کا ایک سبق فراہم کرتا ہے۔ بائبل کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ اُس وقت کس قسم کی دُنیا موجود تھی: ”زمین خدا کے آگے ناراست ہو گئی تھی اور وہ ظلم سے بھری تھی۔“ اس وجہ سے، خدا نے نوؔح کو آگاہ کِیا: ”تمام بشر کا خاتمہ میرے سامنے آ پہنچا ہے کیونکہ اُن کے سبب سے زمین ظلم سے بھر گئی۔ سو دیکھ مَیں زمین سمیت اُنکو ہلاک کرونگا۔“—پیدایش ۶:۱۱، ۱۳۔
ہمیں ایک اہم نکتے پر غور کرنا چاہئے۔ اُس نسل پر شدید طوفان لاتے وقت، خدا نے نوؔح اور اُس کے خاندان کو بچا لیا۔ کیوں؟ بائبل جواب دیتی ہے: ”نوؔح مردِراستباز اور اپنے زمانہ کے لوگوں میں بےعیب تھا اور نوؔح خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔“ (پیدایش ۶:۹؛ ۷:۱) اگرچہ اُس وقت میں رہنے والا ہر شخص ضروری طور پر ظالم نہیں تھا، صرف نوؔح اور اُس کا خاندان ”خدا کے ساتھ ساتھ چلتا رہا۔“ اس وجہ سے جب اُس پُرتشدد دُنیا کو ختم کِیا گیا تو وہ بچ گئے۔
جب ہم ایک بار پھر دُنیا کو ”ظلم سے بھرا“ ہوا دیکھتے ہیں تو ہم اس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہ خدا کی نظروں سے بچ نہیں سکے گی۔ جیسے اُس نے نوؔح کے دِنوں میں کِیا تھا، اُسی طرح جلد ہی وہ کارروائی کریگا اور تشدد کو—مستقل طور پر ختم کر دیگا۔ لیکن وہ اُن کے لئے جو اب ’سچے خدا کے ساتھ ساتھ چلنا‘ سیکھ رہے ہیں بچنے کی راہ بھی مہیا کر دیگا، اُن کے لئے جو اَمن کے لئے اُس کی عظیم تعلیمی مہم کے لئے جوابیعمل دکھا رہے ہیں۔
زبورنویس کے ذریعے، یہوؔواہ یہ یقیندہانی کراتا ہے: ”کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا۔ تُو اُس کی جگہ کو غور سے دیکھیگا پر وہ نہ ہوگا۔ لیکن حلیم مُلک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“—زبور ۳۷:۱۰، ۱۱۔
یہوؔواہ کے گواہ آپ کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کرنے سے خوش ہونگے تاکہ آپ اُن کے ساتھ شامل ہو سکیں جو کہتے ہیں: ”آؤ خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوؔب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائیگا اور ہم اُس کے راستوں پر چلینگے۔“ (یسعیاہ ۲:۳) ایسا کرنے سے، آپ اُن لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جو تمام بدکاری اور تشدد کا خاتمہ دیکھیں گے۔ آپ ”سلامتی کی فراوانی سے شادمان“ ہو سکتے ہیں۔ (۵ ۰۲/۱۵ w۹۶)
[تصویر کا حوالہ]
Reuters/Bettmann