روشنی کی کرنیں—بڑی اور چھوٹی حصہ دوئم
”تیرے نُور کی بدولت ہم روشنی دیکھینگے۔“—زبور ۳۶:۹۔
۱. مکاشفہ کی کتاب کی علامتی زبان کو سمجھنے کیلئے پہلی کوشش کونسی تھی؟
بائبل کی مکاشفہ کی کتاب نے ابتدائی وقتوں ہی سے مسیحیوں کے دل میں شوق پیدا کِیا ہے۔ یہ ایک عمدہ نمونہ فراہم کرتی ہے کہ کیسے سچائی کی روشنی پہلے سے تیزتر ہو جاتی ہے۔ ۱۹۱۷ میں، یہوؔواہ کے لوگوں نے دی فنشڈ مسٹری کتاب میں مکاشفہ کی تشریح شائع کی۔ اِس نے بےباکی کیساتھ مسیحی دُنیا کے مذہبی اور سیاسی راہنماؤں کو بےنقاب کِیا، لیکن اِسکی بہت سے تشریحات مختلف ذرائع سے عاریتاً لی گئی تھیں۔ پھر بھی، دی فنشڈ مسٹری نے دیدنی ذریعے کیلئے بائبل اسٹوڈنٹس کی وفاداری کو پرکھنے کا کام دیا جسے یہوؔواہ استعمال کر رہا تھا۔
۲. مضمون ”قوم کی پیدائش“ نے مکاشفہ کی کتاب پر کیا روشنی ڈالی؟
۲ یکم مارچ، ۱۹۲۵ کے دی واچٹاور میں ”قوم کی پیدائش“ کے مضمون کی اشاعت کیساتھ مکاشفہ کی کتاب پر روشنی کی ایک جاذبِتوجہ کرن چمکی۔ یہ خیال کِیا جاتا رہا تھا کہ مکاشفہ ۱۲ باب نے مُلحد روم اور پاپائی روم کے مابین لڑائی کو، نر بچے کو پاپائیت کی نمائندگی کرتے ہوئے بیان کِیا ہے۔ لیکن مضمون نے ظاہر کِیا کہ مکاشفہ ۱۱:۱۵-۱۸ باب ۱۲ کے مفہوم سے تعلق رکھتا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ خدا کی بادشاہت کے ظہور سے متعلق ہے۔
۳. کونسی مطبوعات نے مکاشفہ پر اضافی روشنی ڈالی؟
۳ یہ سب کچھ مکاشفہ کی زیادہ واضح سمجھ کا باعث ہوا جو ۱۹۳۰ میں، دو جِلدوں پر مشتمل، لائٹ کی اشاعت کے ساتھ حاصل ہوئی۔ تاہم ”بیبلون دی گریٹ ہیز فالن!“ گاڈز کنگڈم رولز! (۱۹۶۳) اور ”دَین از فنشڈ دی مسٹری آف گاڈ“ (۱۹۶۹) میں مزید تبدیلیاں ظاہر ہوئیں۔ پھر بھی، مکاشفہ کی نبوّتی کتاب کی بابت ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی تھا۔ جیہاں، ۱۹۸۸ میں ریولیشن—اٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ! کی اشاعت کے ساتھ اس پر اور زیادہ روشنی چمکی۔ اِس بتدریج آگاہی کی کُنجی کو اس بات کی حقیقت سمجھا جا سکتا ہے کہ مکاشفہ کی پیشینگوئی کا اطلاق ”خداوند کے دن“ میں ہوتا ہے جو ۱۹۱۴ میں شروع ہوا۔ (مکاشفہ ۱:۱۰) اسلئے جب وہ دن چڑھے گا تو مکاشفہ کی کتاب کو زیادہ واضح طور پر سمجھا جائیگا۔
”اعلیٰ اقتدار“ کی وضاحت کر دی گئی
۴، ۵. (ا) بائبل اسٹوڈنٹس رومیوں ۱۳:۱ کو کیسے خیال کرتے تھے؟ (ب) ”اعلیٰ اقتدار“ کے سلسلے میں صحیفائی موقف ہونے کیلئے بعد میں کیا دیکھ لیا گیا تھا؟
۴ رومیوں ۱۳:۱ کے سلسلے میں ۱۹۶۲ میں نور کی ایک روشن کرن دیکھی گئی تھی، جو کہتی ہے: ”ہر شخص اعلیٰ اقتدار [”اعلیٰ حکومتوں،“ اینڈبلیو] کا تابعدار رہے۔“ (کنگ جیمز ورشن) ابتدائی بائبل اسٹوڈنٹس نے سمجھا کہ یہاں متذکرہ ”اعلیٰ اقتدار“ دُنیاوی حکومتوں کا اشارہ دیتے ہیں۔ اُنہوں نے اِس صحیفے کو یوں سمجھا کہ اگر ایک مسیحی کو جنگ کے دنوں میں طلب کر لیا جاتا ہے تو وہ یونیفارم پہننے، کندھے پر بندوق اُٹھانے، اور محاذ یعنی اگلے مورچوں میں جانے کا پابند ہے۔ یہ محسوس کِیا گیا تھا کہ چونکہ ایک مسیحی ایک ساتھی انسان کو ہلاک نہیں کر سکتا تو اگر ایسی بُری حالت آ جائے تو وہ ہوا میں فائر کرنے کیلئے مجبور ہوگا۔a
۵ نومبر ۱۵ اور یکم دسمبر ۱۹۶۲ کے دی واچٹاور نے متی ۲۲:۲۱ میں یسوؔع کے الفاظ ”جو قیصر کا ہے قیصر کو اور جو خدا کا ہے خدا کو ادا کرو“ پر باتچیت کرتے ہوئے مضمون پر واضح روشنی ڈالی۔ اعمال ۵:۲۹ میں رسولوں کے الفاظ ”ہمیں آدمیوں کے حکم کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ فرض ہے،“ اِس سے متعلق تھے۔ مسیحی قیصر—”اعلیٰ اقتدار“—کے تابع ہیں صرف اُس وقت تک جب یہ اِس بات کا تقاضا نہیں کرتا کہ مسیحی خدا کے قانون کی خلافورزی کریں۔ قیصر کی تابعداری کو نسبتی سمجھا گیا تھا نہ کہ حتمی۔ مسیحی قیصر کو صرف وہی ادا کرتے ہیں جو خدا کے تقاضوں سے نہیں ٹکراتا۔ اِس موضوع کی واضح سمجھ حاصل کرنا کتنا تسلیبخش تھا!
تنظیمی معاملات پر روشنی کی کرنیں
۶. (ا) مسیحی دُنیا میں رائج نظامِمراتب سے بچنے کیلئے، کس اُصول کو اختیار کِیا گیا تھا؟ (ب) کلیسیا کی نگہبانی کرنے والوں کو منتخب کرنے کیلئے بالآخر کس چیز کو درست طریقہ سمجھا گیا؟
۶ ایک سوال یہ تھا کہ کلیسیاؤں میں ڈیکن اور بزرگوں کے طور پر کن کو خدمت کرنی چاہئے۔ مسیحی دُنیا میں رائج نظامِمراتب سے بچنے کیلئے، یہ فیصلہ کِیا گیا کہ اِنکو جمہوری طریقے سے ہر کلیسیا کے اراکین کی رائےدہی کے ذریعے منتخب کِیا جانا چاہئے۔ لیکن یکم ستمبر اور اکتوبر ۱۵، ۱۹۳۲ کے دی واچٹاور میں پائی جانے والی بڑھتی ہوئی روشنی نے ظاہر کِیا کہ صحائف منتخب بزرگوں کیلئے کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتے۔ لہٰذا اِنکی جگہ سروس کمیٹی کو دے دی گئی، اور سوسائٹی کے ذریعے ایک سروس ڈائریکٹر کو چن لیا جاتا تھا۔
۷. کلیسیا میں خادموں کی تقرری کے طریقِکار میں روشنی کی کرنیں کن اصلاحات پر منتج ہوئیں؟
۷ یکم جون اور جون ۱۵، ۱۹۳۸ کے دی واچٹاور میں پائی جانے والی روشنی کی کرنوں نے ظاہر کِیا کہ کلیسیا میں خادموں کو منتخب نہیں، بلکہ مقرر ہونا تھا، یعنی تھیوکریٹک طریقے سے مقرر۔ ۱۹۷۱ میں روشنی کی ایک اَور کرن نے ظاہر کِیا کہ ہر کلیسیا کی صرف ایک کانگریگیشن سرونٹ کے ذریعے راہنمائی نہیں ہونی تھی۔ بلکہ، ہر ایک کی یہوؔواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کے ذریعے تفویضکردہ بزرگوں، یا نگہبانوں کی جماعت ہونی چاہئے۔ لہٰذا تقریباً ۴۰ سے زائد سالوں کی بڑھتی ہوئی روشنی کے ذریعے یہ بات عیاں ہو گئی کہ بزرگ اور ڈیکن، جو اب خدمتگزار خادموں کے طور پر جانے جاتے ہیں، ”دیانتدار اور عقلمند نوکر،“ کی طرف سے اِسکی گورننگ باڈی کے ذریعے مقرر ہونے چاہئیں۔ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) جو کچھ رسولی زمانے میں واقع ہوا یہ اُسکی مطابقت میں تھا۔ پہلی صدی کی گورننگ باڈی کے ذریعے تیمتھیسؔ اور ططسؔ جیسے اشخاص کو نگہبانوں کے طور پر مقرر کِیا گیا تھا۔ (۱-تیمتھیس ۳:۱-۷؛ ۵:۲۲؛ ططس ۱:۵-۹) یہ سب کچھ یسعیاہ ۶۰:۱۷ کی غیرمعمولی تکمیل میں ہے: ”مَیں پیتل کے بدلے سونا لاؤنگا اور لوہے کے بدلے چاندی اور لکڑی کے بدلے پیتل اور پتھروں کے بدلے لوہا اور مَیں تیرے حاکموں کو سلامتی اور تیرے عاملوں کو صداقت بناؤنگا۔“
۸. (ا) بڑھتی ہوئی سچائی سوسائٹی کی کارکردگی کے طریقے میں کونسی اصلاحات لائی؟ (ب) گورننگ باڈی کی کمیٹیاں کیا ہیں اور کارگزاری یا نگہبانی کے اُنکے متعلقہ حلقے کیا ہیں؟
۸ پھر واچٹاور سوسائٹی کی کارکردگی کا معاملہ بھی تھا۔ کئی سال تک یہوؔواہ کے گواہوں کی گورننگ باڈی کو واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف پینسلوانیہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے مترادف سمجھا جاتا تھا، اور معاملات کافی حد تک اِسکے صدر کے ہاتھ میں تھے۔ جیسے ۱۹۷۷ ائیربُک آف جیہوواز وٹنسز (صفحات ۲۵۸-۲۵۹) میں ظاہر کِیا گیا، ۱۹۷۶ میں گورننگ باڈی نے چھ کمیٹیوں کیساتھ کام کرنا شروع کر دیا، ہر ایک کو عالمگیر کام کے بعض حلقوں کی نگہداشت کرنے کی تفویض دی گئی۔ پرسونل کمیٹی کارکنوں سے متعلق معاملات، بشمول عالمی بیتایل خاندان میں خدمت کرنے والوں کے فلاحی معاملات کی دیکھبھال کرتی ہے۔ پبلشنگ کمیٹی تمام سرکاری اور قانونی جیسے کہ پراپرٹی اور پرنٹنگ کے معاملات کی دیکھبھال کرتی ہے۔ سروس کمیٹی خود کو گواہی کے کام سے متعلق معاملات میں مصروف رکھتی ہے اور سفری نگہبانوں، پائنیروں، اور کلیسیائی پبلشروں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ ٹیچنگ کمیٹی کلیسیائی اجلاسوں، سپیشل اسمبلی ڈیز، سرکٹ اسمبلیوں، اور ڈسٹرکٹ اور انٹرنیشنل کنونشنوں نیز خدا کے لوگوں کی روحانی تعلیم کیلئے مختلف سکولوں کیلئے ذمہدار ہے۔ رائٹنگ کمیٹی یہ یقین کرتے ہوئے کہ ہر چیز صحائف کی مطابقت میں ہے، ہر طرح کی اشاعتوں کی تیاری اور ترجمے کی نگرانی کرتی ہے۔ چیئرمینز کمیٹی ایمرجنسی والے اور دیگر ضروری معاملات کی نگہداشت کرتی ہے۔b اِسی طرح ۱۹۷۰ کے دہے میں، واچٹاور سوسائٹی کے برانچ دفاتر نے ایک اوورسیئر کی بجائے ایک کمیٹی کی زیرِہدایت کام کرنا شروع کر دیا۔
مسیحی چالچلن سے متعلق روشنی
۹. سچائی کی روشنی دُنیا کی حکومتوں کیساتھ مسیحیوں کے رشتے پر کیسے اثرانداز ہوئی؟
۹ روشنی کی بہت سی کرنوں کا واسطہ مسیحی چالچلن سے رہا ہے۔ مثال کے طور پر، غیرجانبداری کے معاملے پر غور کریں۔ یکم نومبر، ۱۹۳۹ کے دی واچٹاور میں آنے والے مضمون ”غیرجانبداری“ میں اِس موضوع پر روشنی کی کرن خاص طور پر چمکی۔ اِسکا دوسری عالمی جنگ کے شروع ہونے کے بعد ہی آنا، کتنا بروقت تھا! مضمون نے غیرجانبداری کی تشریح کی اور ظاہر کِیا کہ مسیحیوں کو سیاسی معاملات اور قوموں کے درمیان آویزشوں میں نہیں الجھنا چاہئے۔ (میکاہ ۴:۳، ۵؛ یوحنا ۱۷:۱۴، ۱۶) تمام قوموں کے ذریعے اُن سے نفرت کئے جانے میں یہ ایک عنصر ہے۔ (متی ۲۴:۹) قدیم اسرائیل کی جنگیں مسیحیوں کیلئے کوئی نظیر فراہم نہیں کرتیں، جیسے یسوؔع متی ۲۶:۵۲ میں واضح کرتا ہے۔ علاوہازیں، جیسے قدیم اسرائیل تھا، کوئی بھی سیاسی قوم آجکل تھیوکریسی یعنی خدا کے ذریعے حکمرانی نہیں ہے۔
۱۰. مسیحیوں کو خون کو جس طرح سمجھنا چاہئے اس سلسلے میں روشنی کی کرنوں نے کیا آشکارا کِیا؟
۱۰ خون کے تقدس پر بھی روشنی چمکی تھی۔ بائبل اسٹوڈنٹس نے خیال کِیا کہ اعمال ۱۵:۲۸، ۲۹ میں خون کھانے کے خلاف ممانعت، یہودی مسیحیوں تک محدود تھی۔ تاہم، اعمال ۲۱:۲۵ ظاہر کرتی ہے کہ رسولی زمانے میں اِس حکم کا قوموں کے اُن لوگوں پر بھی اطلاق ہونا تھا جو ایماندار بن گئے۔ پس جیسے یکم جولائی، ۱۹۴۵ کے دی واچٹاور میں ظاہر کِیا گیا، خون کے تقدس کا اطلاق سب مسیحیوں پر ہوتا ہے۔ اِسکا مطلب نہ صرف جانور کا خون کھانے سے انکار کرنا ہے، جیسے بلڈ ساسیج، بلکہ انسانی خون سے بھی پرہیز کرنا، جیسے انتقالِخون کے معاملے میں۔
۱۱. تمباکو کے استعمال کی بابت مسیحی نقطۂنظر کے سلسلے میں کیا سمجھ لیا گیا تھا؟
۱۱ اضافی روشنی کے باعث، وہ عادات جنکو شروع میں صرف ناپسند کِیا جاتا تھا، بعد میں اُنکے ساتھ سختی سے نپٹا گیا۔ اِسکی ایک مثال تمباکو کے استعمال کے سلسلے میں ہے۔ یکم اگست، ۱۸۹۵ کے زائنز واچٹاور میں، بھائی رسلؔ نے ۱-کرنتھیوں ۱۰:۳۱ اور ۲-کرنتھیوں ۷:۱ پر توجہ مبذول کرائی اور لکھا: ”مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی بھی مسیحی کیلئے کسی بھی شکل میں تمباکو استعمال خدا کے جلال، یا اُسکے اپنے فائدے میں ہوگا۔“ ۱۹۷۳ سے لیکر یہ بات واضح طور پر سمجھ لی گئی ہے کہ کوئی تمباکو کا استعمال کرنے والا یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک نہیں بن سکتا۔ ۱۹۷۶ میں اِس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی گواہ جوئےباز ادارے میں ملازمت کرے اور کلیسیا میں اچھی حیثیت میں رکھے۔
دیگر تبدیلیاں
۱۲. (ا) پطرؔس کو سونپی گئی کُنجیوں کی تعداد کی بابت روشنی کی کرن نے کیا آشکارا کِیا؟ (ب) جب پطرؔس نے ہر کُنجی کو استعمال کِیا تو حالات کیا تھے؟
۱۲ اُن علامتی کُنجیوں پر بھی اضافی روشنی پڑی ہے جو یسوؔع نے پطرؔس کو دی تھیں۔ بائبل اسٹوڈنٹس یہ مانتے تھے کہ پطرؔس کو دو کُنجیاں ملیں جنہوں نے لوگوں کیلئے بادشاہت کے وارث بننے کیلئے راہ کھول دی—ایک یہودیوں کیلئے، جسے ۳۳ س.ع. کے پنتِکُست پر استعمال کِیا گیا، اور دوسری غیرقوموں کیلئے، پہلی مرتبہ ۳۶ س.ع. میں استعمال کِیا گیا، جب پطرؔس نے کرنیلیسؔ کو منادی کی۔ (اعمال ۲:۱۴-۴۱؛ ۱۰:۳۴-۴۸) وقت آنے پر یہ دیکھ لیا گیا تھا کہ ایک تیسرا گروہ بھی شامل تھا—سامری۔ پطرؔس نے اُن کیلئے بادشاہت کا موقع کھولتے ہوئے دوسری کُنجی کو استعمال کِیا۔ (اعمال ۸:۱۴-۱۷) لہٰذا، تیسری کُنجی اُس وقت استعمال کی گئی جب پطرؔس نے کرنیلیسؔ کو منادی کی۔—دی واچٹاور، یکم اکتوبر، ۱۹۷۹، صفحات ۱۶-۲۲، ۲۶۔
۱۳. یوحنا ۱۰ باب میں متذکرہ بھیڑخانوں کی بابت روشنی کی کرنوں نے کیا آشکارا کِیا؟
۱۳ روشنی کی ایک اَور شعاع سے، یہ دیکھا گیا کہ یسوؔع نے صرف دو کا نہیں بلکہ تین بھیڑخانوں کا اشارہ دیا۔ (یوحنا باب ۱۰) یہ تھے (ا) یہودی بھیڑخانہ جس کا یوؔحنا بپتسمہ دینے والا دربان تھا، (۲) بادشاہت کے ممسوح وارثوں کا باڑا، اور (۳) ”دوسری بھیڑوں“ کا باڑا، جو زمینی اُمید رکھتی ہیں۔—یوحنا ۱۰:۲، ۳، ۱۵، ۱۶؛ مینارِنگہبانی مارچ ۱۹۸۵ صفحات ۲۱-۳۱۔
۱۴. عکس پیش کرنے والی یوبلی کے آغاز کے سلسلے میں اضافی روشنی نے معاملات کو کیسے واضح کِیا؟
۱۴ عکس پیش کرنے والی یوبلی کی بابت سمجھ نے بھی کچھ وضاحت حاصل کی۔ شریعت کے تحت، ہر پچاسواں سال ایک بڑی یوبلی تھا، جس میں چیزیں اصلی مالکان کو واپس کر دی جاتی تھیں۔ (احبار ۲۵:۱۰) اِسے بہت عرصہ پہلے سمجھ لیا گیا تھا کہ اِس نے مسیح کی ہزار سالہ حکمرانی کا عکس پیش کِیا۔ تاہم، زیادہ حالیہ وقتوں میں، یہ دیکھا گیا تھا کہ یہ عکس پیش کرنے والی یوبلی درحقیقت ۳۳ س.ع. پنتِکُست پر شروع ہوئی، جب انڈیلی گئی روحالقدس حاصل کرنے والوں کو موسوی شریعت کی غلامی سے آزاد کر دیا گیا تھا۔—دی واچٹاور، یکم جنوری، ۱۹۸۷، صفحات ۱۸-۲۸۔
اصطلاحات پر اضافی روشنی
۱۵. لفظ ”منصوبے“ کے استعمال پر کیا روشنی ڈالی گئی تھی؟
۱۵ ”واؔعظ دِلآویز باتوں کی تلاش میں رہا۔ اُن سچی باتوں کی جو راستی سے لکھی گئیں۔“ (واعظ ۱۲:۱۰) اِن الفاظ کا ہمارے موجودہ موضوع پر خوب اطلاق ہو سکتا ہے، کیونکہ روشنی صرف عقائد اور چالچلن جیسے اہم معاملات کے سلسلے میں ہی نہیں چمکی بلکہ مسیحی اصطلاحات اور اُنکے معنی کے سلسلے میں بھی۔ مثال کے طور پر، بائبل اسٹوڈنٹس کے درمیان، نہایت پسندیدہ مطبوعات میں سے ایک اسٹڈی ان دی سکرپچرز کی پہلی جِلد تھی جسکا عنوان تھا دی ڈیوائن پلان آف دی ایجز۔ تاہم، وقت آنے پر یہ سمجھ لیا گیا کہ خدا کا کلام صرف انسانوں کا منصوبہسازوں کے طور پر ذکر کرتا ہے۔ (امثال ۱۹:۲۱) صحائف کبھی بھی یہوؔواہ کا منصوبہساز کے طور پر ذکر نہیں کرتے۔ اُسے منصوبہ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ جو کچھ بھی قصد کرتا ہے اُسکا اُسکی لامحدود حکمت اور قدرت کے باعث کامیاب ہونا یقینی ہے، جیسے کہ ہم افسیوں ۱:۹، ۱۰ میں پڑھتے ہیں: ”اُس نے اپنی مرضی کے بھید کو اپنے اُس نیک اِرادہ کے موافق ہم پر ظاہر کِیا۔ جسے اپنے آپ میں ٹھہرا لیا تھا۔ تاکہ زمانوں کے پورے ہونے کا . . . انتظام ہو۔“ بتدریج یہ سمجھ لیا گیا کہ اصطلاح ”ٹھہرانا“ یہوؔواہ کا حوالہ دیتے وقت زیادہ مناسب ہے۔
۱۶. لوقا ۲:۱۴ کی صحیح سمجھ کی بابت بتدریج کیا دیکھ لیا گیا تھا؟
۱۶ پھر لوقا ۲:۱۴ کی واضحترین سمجھ حاصل کرنے کا معاملہ تھا۔ کنگ جیمز ورشن کے مطابق، یہ یوں پڑھی جاتی ہے: ”عالمِبالا پر خدا کی تمجید ہو، اَور زمین پر نیک اِرادے والے آدمیوں کیلئے امن۔“ یہ دیکھا گیا کہ یہ صحیح خیال کو پیش نہیں کرتی کیونکہ خدا کا نیک اِرادہ بدکاروں کیلئے ظاہر نہیں کِیا گیا ہے۔ اسلئے گواہوں نے اِسے اُن آدمیوں کیلئے امن کا معاملہ خیال کِیا جو خدا کیلئے نیک اِرادہ رکھتے تھے۔ لہٰذا وہ بائبل میں دلچسپی رکھنے والوں کا نیک اِرادے والے اشخاص کے طور پر حوالہ دیتے رہے۔ لیکن پھر یہ سمجھ لیا گیا کہ جو بات اِس میں شامل تھی وہ انسانوں کا نہیں بلکہ خدا کا نیک اِرادہ تھا۔ لہٰذا، لوقا ۲:۱۴ پر نیو ورلڈ ٹرانسلیشن فٹنوٹ اُن ”آدمیوں“ کا ذکر کرتا ہے ”جنہیں وہ [خدا] پسند کرتا ہے۔“ تمام مسیحیوں کو جو مخصوصیت کے اپنے وعدے کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں خدا کا نیک اِرادہ حاصل ہے۔
۱۷، ۱۸. یہوؔواہ کس کی برأت کریگا اور وہ کس کی تقدیس کریگا؟
۱۷ اِسی طرح، طویل عرصہ سے، گواہوں نے یہوؔواہ کے نام کی برأت کی بابت کلام کِیا ہے۔ لیکن کیا شیطان نے یہوؔواہ کے نام کو مشتبہ بنا دیا تھا؟ اِس سلسلے میں، کیا شیطان کے نمائندوں میں سے کسی نے ایسے کِیا تھا، گویا کہ یہوؔواہ اِس نام کا حقدار ہی نہیں تھا؟ نہیں، ہرگز نہیں۔ یہ یہوؔواہ کا نام نہیں تھا جسکو کہ چیلنج کِیا گیا اور جسکی برأت کئے جانے کی ضرورت تھی۔ اِسی وجہ سے واچٹاور سوسائٹی کی حالیہ مطبوعات یہوؔواہ کے نام کی برأت کئے جانے کا ذکر نہیں کرتیں۔ وہ یہوؔواہ کی حاکمیت کی برأت کئے جانے اور اُسکے نام کی تقدیس کئے جانے کا ذکر کرتی ہیں۔ یہ اُسی بات کی مطابقت میں ہے جسکی بابت یسوؔع نے ہمیں دُعا کرنے کیلئے کہا تھا: ”تیرا نام پاک مانا جائے۔“ (متی ۶:۹) بار بار، یہوؔواہ نے فرمایا کہ وہ اپنے نام کی تقدیس کرنے والا ہے، جسکو اسرائیلیوں نے چیلنج تو نہیں کِیا تھا البتہ بےحُرمت ضرور کِیا تھا۔—حزقیایل ۲۰:۹، ۱۴، ۲۲؛ ۳۶:۲۳۔
۱۸ دلچسپی کی بات ہے کہ ۱۹۷۱ میں، کتاب ”دی نیشنز شیل نو دیٹ آئی ایم جیہووا“—ہاؤ؟ نے یہ امتیازی بیان دیا: ”یسوؔع مسیح . . . یہوؔواہ کی عالمگیر حاکمیت کی برأت کیلئے اور یہوؔواہ کے نام کی بزرگی کیلئے جنگ کرتا ہے۔“ (صفحات ۳۶۴، ۳۶۵) ۱۹۷۳ میں، گاڈز کنگڈم آف اے تھاؤزینڈ ائیر ہیز اپروچڈ نے کہا: ”آنے والی ’بڑی مصیبت‘ قادرِمطلق یہوؔواہ خدا کیلئے اپنی عالمگیر حاکمیت کی برأت کرنے اور اپنے قابلِاحترام نام کی تقدیس کرنے کا وقت ہے۔“ (صفحہ ۴۰۹) پھر، ۱۹۷۵ میں، مینز سالویشن آؤٹ آف ورلڈ ڈسٹریس ایٹ ہینڈ! نے بیان کِیا: ”پھر عالمگیر تاریخ کا عظیمترین واقعہ—یہوؔواہ کی عالمگیر حاکمیت کی برأت اور اُسکے پاک نام کی تقدیس—تکمیل پا چکا ہوگا۔“—صفحہ ۲۸۱۔
۱۹، ۲۰. روحانی روشنی کی کرنوں کیلئے ہم اپنی قدردانی کیسے ظاہر کر سکتے ہیں؟
۱۹ اِس ہر طرح کی روحانی روشنی سے استفادہ کرکے یہوؔواہ کے لوگ کتنے بابرکت ہیں! نمایاں فرق ظاہر کرتے ہوئے، جس روحانی تاریکی میں مسیحی دُنیا کے راہنما خود کو پاتے ہیں اُسکی بابت ایک پادری کا بیان بہت معنیخیز ہے: ”گناہ کیوں؟ دُکھ کیوں؟ اِبلیس کیوں؟ یہ وہ سوال ہیں جو مَیں آسمان پر جاکر خداوند سے پوچھنا چاہتا ہوں۔“ لیکن یہوؔواہ کے گواہ اُسے بتا سکتے ہیں کہ کیوں: یہوؔواہ کی حاکمیت کی راستی کے مسئلے اور اِس سوال کی وجہ سے کہ آیا اِبلیس کی مخالفت کے باوجود انسانی مخلوقات خدا کیلئے راستی برقرار رکھ سکتی ہیں۔
۲۰ سالوں سے، روشنی کی بڑی اور چھوٹی دونوں طرح کی کرنیں یہوؔواہ کے مخصوصشُدہ خادموں کی راہ کو روشن کر رہی ہیں۔ یہ زبور ۹۷:۱۱ اور امثال ۴:۱۸ جیسے صحائف کی تکمیل میں ہے۔ لیکن آئیں کبھی نہ بھولیں کہ روشنی میں چلنے کا مطلب اضافی روشنی کیلئے قدردانی رکھنا اور اُسکی مطابقت میں زندگی بسر کرنا ہے۔ جیسے کہ ہم دیکھ چکے ہیں، اِس اضافی روشنی میں ہمارا چالچلن اور منادی کیلئے ہماری تفویض دونوں شامل ہیں۔ (۲۱ ۵/۱۵ w۹۵)
[فٹنوٹ]
a اِس نظریے کے ردِعمل میں، یکم جون اور ۱۵ جون، ۱۹۲۹ کے واچٹاور نے یہوؔواہ خدا اور یسوؔع مسیح کے ”اعلیٰ اقتدار“ ہونے کے طور پر تشریح کی۔ ابتدائی طور پر یہی موقف تھا جسکی ۱۹۶۲ میں درستی کی گئی تھی۔
b اکتوبر ۱۹۹۲ کے مینارِنگہبانی نے اعلان کِیا کہ عزؔرا کے دنوں کے نتنیم کے مماثل ”دوسری بھیڑوں“ میں سے منتخب بھائیوں کو گورننگ باڈی کی کمیٹیوں کی مدد کرنے کیلئے تفویض کِیا جا رہا تھا۔—یوحنا ۱۰:۱۶، اینڈبلیو؛ عزرا ۲:۵۸۔
کیا آپ کو یاد ہے؟
▫ ”اعلیٰ اقتدار“ کی تابعداری پر کیا روشنی ڈالی گئی ہے؟
▫ روشنی کی کرنیں کن تنظیمی ترقیوں پر منتج ہوئی ہیں؟
▫ اضافی روشنی مسیحی چالچلن پر کیسے اثرانداز ہوئی ہے؟
▫ روحانی روشنی نے بعض صحیفائی نکات پر ہماری سمجھ میں کونسی تبدیلیاں کی ہیں؟
[تصویر کا حوالہ]
,Keys on page 31: Drawing based on photo taken in Cooper-Hewitt
National Design Museum, Smithsonian Institution