روشنی کی کرنیں—بڑی اور چھوٹی حصہ اوّل
”صادقوں کی راہ نُورِ سحر کی مانند ہے جس کی روشنی دوپہر تک بڑھتی ہی جاتی ہے۔“—امثال ۴:۱۸۔
۱. سچائی کا انکشاف بتدریج کیوں کیا گیا ہے؟
امثال ۴:۱۸ کی مطابقت میں، یہ الہٰی حکمت کا ثبوت ہے کہ روشنی کی کرنوں کے ذریعے روحانی سچائیوں کا انکشاف بتدریج واقع ہوا ہے۔ اس سے پہلے کے مضمون میں، ہم نے دیکھا کہ کس طرح اس آیت کی تکمیل رسولی زمانے میں ہوئی تھی۔ اگر صحیفائی سچائی کے بڑے حصے کا ایک ساتھ ہی انکشاف کر دیا جاتا تو یہ چندھیا دینے اور ابتری میں ڈال دینے والی ہوتی—اسکا اثر تاریک غار میں سے سورج کی تابناک روشنی میں آنے کی مانند ہوتا۔ علاوہازیں، سچائی کا بتدریج انکشاف مسیحیوں کے ایمان کو لگاتار طریقے سے مضبوط کرتا ہے۔ یہ انکی اُمید کو ہمیشہ درخشاں اور جس راہ پر انہیں جانا ہے اس کو ہمیشہ زیادہ واضح کرتا ہے۔
”دیانتدار اور عقلمند نوکر“
۲. یسوؔع نے ظاہر کیا کہ وہ اپنے پیروکاروں کی خاطر روحانی روشنی لانے کے لئے کسے استعمال کریگا، اور یہ آلۂکار کن پر مشتمل ہے؟
۲ رسولی زمانے میں یسوؔع مسیح نے مافوقالفطرت ذرائع کو استعمال کرنا مناسب سمجھا تاکہ اپنے شاگردوں کو روشنی کی ابتدائی کرنیں عطا کرے۔ ہمارے پاس اسکی دو مثالیں ہیں: پنتِکُست ۳۳ س.ع. اور ۳۶ س.ع. میں کرنیلیسؔ کا تبدیلئمذہب کرنا۔ بعدازاں، مسیح نے انسانی ذریعے کو استعمال کرنا مناسب سمجھا، اس نے پیشگوئی بھی کی: ”وہ دیانتدار اور عقلمند نوکر کونسا ہے جسے مالک نے نوکر چاکروں پر مقرر کیا ہے کہ وقت پر انکو کھانا دے؟ مبارک ہے وہ نوکر جسے اس کا مالک آ کر ایسا ہی کرتے پائے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اُسے اپنے سارے مال کا مختار کر دے گا۔“ (متی ۲۴:۴۵-۴۷) یہ نوکر کوئی فردِواحد نہیں ہو سکتا کیونکہ اسے پنتِکُست پر مسیحی کلیسیا کے آغاز سے لیکر مالک یسوؔع مسیح کے حساب کیلئے آنے تک روحانی خوراک فراہم کرنا تھی۔ حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ یہ دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت زمین پر دئے گئے وقت میں ایک گروپ کی حیثیت سے تمام ممسوح مسیحیوں پر مشتمل ہے۔
۳. نوکر جماعت کے اوّلین ممبروں میں کون شامل تھے؟
۳ اس دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کے اولین ممبروں کے درمیان کون شامل تھے؟ ایک پطرؔس رسول تھا جس نے یسوؔع کے حکم پر دھیان دیا: ”میری بھیڑیں چرا۔“ (یوحنا ۲۱:۱۷) نوکر جماعت کے دیگر اولین ممبروں میں متیؔ، جس نے اپنے نام کی حامل انجیل تحریر کی اور پولسؔ، یعقوؔب، اور یہوؔداہ جنہوں نے الہامی خطوط قلمبند کئے، شامل تھے۔ یوؔحنا رسول جس نے مکاشفہ کی کتاب، اپنی انجیل، اور اپنے خطوط مندرج کئے وہ بھی اس دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کا حصہ تھا۔ ان آدمیوں نے یسوؔع کی طرف سے دئے گئے خاص حکم کی مطابقت میں تحریر کیا۔
۴. ”نوکرچاکر“ کون ہیں؟
۴ اگر گروپ کے طور پر تمام ممسوح، قطعنظر اس سے کہ وہ زمین پر کہاں رہتے ہیں، نوکر جماعت کے ممبر ہیں تو ”نوکرچاکر“ کون ہیں؟ یہ وہی ممسوح اشخاص ہیں مگر ایک مختلف نقطۂنظر سے انہیں—بحیثیت اشخاص—خیال کیا جاتا ہے۔ جیہاں، بحیثیت افراد انکا ”نوکر“ یا ”نوکرچاکر“ ہونا اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا وہ روحانی خوراک تقسیم کر رہے ہیں یا اس میں سے تناول کر رہے ہیں۔ اسے سمجھانے کیلئے مثال لیجئے: جیسے کہ ۲-پطرس ۳:۱۵، ۱۶ میں درج ہے، پطرؔس رسول پولسؔ کے خطوط کا حوالہ دیتا ہے۔ انہیں پڑھتے وقت پطرؔس روحانی کھانا کھاتے ہوئے نوکرچاکروں میں سے ایک ہوگا جو نوکر جماعت کے نمائندہ کے طور پر پولسؔ نے فراہم کی ہے۔
۵. (۱) رسولوں کے بعد صدیوں کے دوران نوکر کیساتھ کیا ہوا؟ (ب) ۱۹ ویں صدی کے آخری نصف حصے میں کونسی ترقیاں واقع ہوئیں؟
۵ اس سلسلے میں کتاب خدا کی ہزار سالہ بادشاہت آ گئی ہے (انگریزی) نے بیان کیا: ”مالک یسوؔع مسیح کے رسولوں کی موت کے بعد صدیوں کے دوران ’دیانتدار اور عقلمند نوکر‘ جماعت کا وجود کس طرح رہا اور کسطرح اس نے خدمت کی، ہمارے پاس اسکی کوئی واضح تاریخی تصویر نہیں ہے۔ واضح طور پر ’نوکر‘ جماعت کی ایک پُشت نے اپنی اگلی جانشین نسل کو سیر کیا۔ (۲-تیمتھیس ۲:۲) لیکن انیسویں صدی کے آخری نصف حصے میں خداترس اشخاص موجود تھے جو مقدس بائبل کی روحانی خوراک کو عزیز رکھتے تھے اور جنہوں نے اس خوراک کو حاصل کرتے رہنے کی تمنا کی . . . بائبل مطالعہ کی کلاسیں . . . تشکیل دی گئیں اور پاک صحائف کی بنیادی سچائیوں کی سمجھ میں ترقی کی۔ مخلص بےلوث اشخاص کے درمیان بائبل اسٹوڈنٹس روحانی خوراک کے ان نہایت اہم حصوں میں دوسروں کو شریک کرنے کے مشتاق تھے۔ وہ نوکرچاکروں کو ’عین وقت پر کھانا‘ دینے کے لئے مقرر ’نوکر‘ کی دیانتدار رُوح رکھتے تھے۔ وہ اس بات کی بصیرت رکھنے میں ’عقلمند‘ تھے کہ وہی عین اور مناسب وقت تھا اور یہ کہ خوراک دینے کے لئے بہترین ذرائع کیا تھے۔ انہوں نے اسے پیش کرنے کی کوشش کی۔“—صفحات ۳۴۴ تا ۳۴۵۔a
جدید زمانے میں روشنی کی ابتدائی کرنیں
۶. سچائی کے بتدریج انکشاف کے سلسلے میں کونسی حقیقت واضح طور پر نمایاں ہوتی ہے؟
۶ جنہیں یہوؔواہ نے اس روحانی روشنی کو بتدریج بڑھانے میں استعمال کیا ان کے سلسلے میں ایک حقیقت نمایاں طور پر ممتاز ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے اس کی نیکنامی اپنے سر نہ لی۔ واچٹاور سوسائٹی کے پہلے صدر سی. ٹی. رسلؔ کا رویہ ایسا تھا کہ خداوند ان کی ناچیز صلاحیت کو استعمال کرنے میں خوش تھا۔ ان القاب کے متعلق جو اس کے دشمن استعمال کرنے کی طرف مائل ہوئے، بھائی رسلؔ نے زوردار طریقے سے واضح کیا کہ وہ کبھی کسی ”رسلائیٹ“ سے نہیں ملا اور ”رسلازم“ جیسی کوئی چیز بھی نہیں ہے۔ تمام نیکنامی خدا کو حاصل ہوئی۔
۷. بھائی رسلؔ اور انکے ساتھی کارکنوں نے کونسی شہادت دی کہ وہ واقعی دیانتدار اور عقلمند نوکر کیساتھ رفاقت رکھتے ہیں؟
۷ نتائج کو پرکھنے سے، اس میں کوئی شک نہیں ہو سکتا کہ بھائی رسلؔ اور جو اسکے ساتھی بن گئے انکی کوششوں کی راہنمائی یہوؔواہ کی پاک رُوح کر رہی تھی۔ انہوں نے دیانتدار اور عقلمند نوکر کیساتھ شناخت کئے جانے کا ثبوت دیا۔ اگرچہ اس وقت کے پادری طبقے نے اس اعتقاد کا دعویٰ کیا کہ بائبل خدا کا الہامی کلام ہے اور یہ کہ یسوؔع خدا کا بیٹا تھا تو بھی انہوں نے تثلیث، انسانی جان کے غیرفانی ہونے، اور ابدی عذاب جیسے بابلی عقائد کی تائید کی۔ یسوؔع کے وعدہ کی مطابقت میں، یہ رُوحالقدس کی وجہ ہی سے تھا کہ بھائی رسلؔ اور اسکے ساتھیوں کی ناچیز کوششیں سچائی کے چمکنے کا سبب بنیں جیسے کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ (یوحنا ۱۶:۱۳) ان ممسوح بائبل اسٹوڈنٹس نے ثابت کر دیا کہ وہ واقعی دیانتدار اور عقلمند نوکر جماعت کا حصہ تھے جس کا کام مالک کے نوکرچاکروں کو روحانی خوراک فراہم کرنا تھا۔ ممسوح اشخاص کو جمع کرنے میں انکی کوششیں بہت بڑی مدد تھیں۔
۸. یہوؔواہ، بائبل، یسوؔع مسیح، اور رُوحالقدس کے متعلق کونسے بنیادی حقائق بائبل اسٹوڈنٹس نے واضح طور پر سمجھ لئے؟
۸ یہ دیکھنا نہایت شاندار ہے کہ یہوؔواہ نے، رُوحالقدس کے ذریعے، ان ابتدائی بائبل اسٹوڈنٹس پر روشنی کی کرنوں کیساتھ بڑی کرمفرمائی کی۔ سب سے پہلے، انہوں نے مضبوطی سے ثابت کیا کہ خالق وجود رکھتا ہے اور یہ کہ اسکا لاثانی نام یہوؔواہ ہے۔ (زبور ۸۳:۱۸؛ رومیوں ۱:۲۰) انہوں نے دیکھا کہ یہوؔواہ چار بنیادی اوصاف کا مالک ہے—قدرت، انصاف، حکمت، اور محبت۔ (پیدایش ۱۷:۱؛ استثنا ۳۲:۴؛ رومیوں ۱۱:۳۳؛ ۱-یوحنا ۴:۸) ان ممسوح اشخاص نے صاف طور پر ثابت کیا کہ بائبل خدا کا الہامی کلام ہے اور سچائی ہے۔ (یوحنا ۱۷:۱۷؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱۶، ۱۷) مزیدبرآں، وہ اس موقف پر قائم رہے کہ خدا کا بیٹا، یسوؔع مسیح خلق کیا گیا تھا اور یہ کہ اس نے تمام نسلِانسانی کے لئے اپنی زندگی بطور فدیہ کے دی۔ (متی ۲۰:۲۸؛ کلسیوں ۱:۱۵) تثلیث کے تیسرے شخص ہونے سے کہیں بعید رُوحالقدس کو خدا کی سرگرم قوت سمجھا گیا۔—اعمال ۲:۱۷۔
۹. (ا) آدمی کی حقیقت اور بائبل میں پائی جانے والی منازل کی بابت بائبل اسٹوڈنٹس نے کونسی سچائیوں کی واضح سمجھ حاصل کر لی؟ (ب) یہوؔواہ کے خادموں نے کونسی دیگر سچائیاں واضح طور پر سمجھ لیں؟
۹ بائبل اسٹوڈنٹس نے واضح طور پر دیکھ لیا کہ انسان غیرفانی جان نہیں رکھتا بلکہ ایک فانی جان ہے۔ انہوں نے پہچان لیا کہ ”گناہ کی مزدوری موت ہے،“ نہ کہ ابدی عذاب، کیونکہ آتشی دوزخ جیسی کوئی جگہ نہیں ہے۔ (رومیوں ۵:۱۲؛ ۶:۲۳؛ پیدایش ۲:۷؛ حزقیایل ۱۸:۴) مزیدبرآں، انہوں نے واضح طور پر سمجھ لیا کہ ارتقا کا نظریہ نہ صرف غیرصحیفائی بلکہ حقیقت پر بھی مبنی نہیں ہے۔ (پیدایش ۱ اور ۲ ابواب) انہوں نے یہ بھی پہچان لیا کہ بائبل دو منازل پیش کرتی ہے—مسیح کے نقشِقدم پر چلنے والے ممسوح ۱۴۴،۰۰۰ کیلئے آسمانی اور ”دوسری بھیڑوں“ کی اَنگنت ”بڑی بھیڑ“ کیلئے زمینی۔ (مکاشفہ ۷:۹؛ ۱۴:۱؛ یوحنا ۱۰:۱۶، اینڈبلیو) ان ابتدائی بائبل اسٹوڈنٹس نے پہچان لیا کہ زمین ہمیشہ قائم رہیگی اور جلائی نہ جائیگی، جیسے کہ بہتیرے مذاہب نے سکھایا ہے۔ (واعظ ۱:۴؛ لوقا ۲۳:۴۳) انہوں نے یہ بھی سیکھ لیا کہ مسیح کی واپسی نادیدہ ہوگی اور یہ کہ وہ تب قوموں کو عدالت میں لائیگا اور ایک زمینی فردوس لائیگا۔—اعمال ۱۰:۴۲؛ رومیوں ۸:۱۹-۲۱؛ ۱-پطرس ۳:۱۸۔
۱۰. بائبل اسٹوڈنٹس نے بپتسمے، پادری طبقے اور عوام کے درمیان امتیاز، اور مسیح کی موت کی یادگار کے متعلق کونسی سچائیاں سیکھی ہیں؟
۱۰ بائبل اسٹوڈنٹس نے سیکھ لیا کہ صحیفائی بپتسمہ شِیرخواروں پر چھڑکاؤ کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ متی ۲۸:۱۹، ۲۰ کی مطابقت میں، یہ ان ایمانداروں کی ڈبکی ہے جنہیں تعلیم دی گئی ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ پادری طبقے اور عوام کے درمیان امتیاز کی کوئی صحیفائی بنیاد نہیں ہے۔ (متی ۲۳:۸-۱۰) اسکے برعکس، تمام مسیحیوں کو خوشخبری کے مناد ہونا ہے۔ (اعمال ۱:۸) بائبل اسٹوڈنٹس نے اس بات کو سمجھ لیا کہ مسیح کی موت کی یادگار کو سال میں ایک مرتبہ ۱۴ نیسان کو منایا جانا چاہئے۔ مزیدبرآں، انہوں نے دیکھ لیا کہ ایسٹر ایک مُلحدانہ تہوار ہے۔ علاوہازیں، یہ ممسوح اشخاص اس بات کیلئے کہ خدا انکے کام کی پُشتپناہی کر رہا ہے اسقدر پُراعتماد تھے کہ انہوں نے کبھی چندہ اکٹھا نہیں کیا۔ (متی ۱۰:۸) ابتدائی وقتوں ہی سے انہوں نے سمجھ لیا کہ مسیحیوں کو بائبل اصولوں کی مطابقت میں زندگی بسر کرنی چاہئے، جس میں خدا کی رُوحالقدس کے پھل پیدا کرنا شامل ہے۔—گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳۔
روشنی کی بڑھتی ہوئی کرنیں
۱۱. مسیحی فریضے اور یسوؔع کی بھیڑوں بکریوں والی تمثیل پر کونسی روشنی چمکی؟
۱۱ خاصکر ۱۹۱۹ سے لیکر یہوؔواہ کے خادموں کو روشنی کی بڑھتی ہوئی کرنوں کی برکت بخشی گئی ہے۔ ۱۹۲۲ سیدر پوائنٹ کنونشن پر جب واچٹاور سوسائٹی کے دوسرے صدر نے یہوؔواہ کے خادموں کے اوّلین فریضے پر سختی سے زور دیا کہ ”اشتہار دو، اشتہار دو، اشتہار دو، بادشاہ اور اسکی بادشاہت کا“ تو روشنی کی کیا ہی درخشاں کرن پھوٹی! اسکے اگلے ہی سال، تابناک روشنی بھیڑوں اور بکریوں کی تمثیل پر چمکی۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ اس پیشینگوئی کو خداوند کے موجودہ دن میں پورا ہونا ہے نہ کہ ہزارسال کے دوران مستقبل میں جیسا کہ پہلے خیال کیا گیا تھا۔ عہدِہزارسالہ میں، مسیح کے بھائی بیمار نہیں ہونگے، نہ ہی وہ قید میں ڈالے جائیں گے۔ اسکے علاوہ، عہدِہزارسالہ کے اختتام پر یہوؔواہ خدا، نہ کہ یسوؔع مسیح، عدالت کریگا۔—متی ۲۵:۳۱-۴۶۔
۱۲. ہرمجِدّؔون کے متعلق روشنی کی کونسی کرن تھی؟
۱۲ ۱۹۲۶ میں روشنی کی ایک اَور روشن کرن پھوٹی کہ ہرمجِدّؔون کی جنگ کو ایک معاشی انقلاب نہیں ہونا تھا، جیسے کہ بائبل اسٹوڈنٹس پہلے خیال کرتے تھے۔ اسکے برعکس، یہ ایک جنگ ہوگی جس میں یہوؔواہ اپنی قدرت کو اس قدر واضح طور پر ظاہر کریگا کہ تمام لوگوں کو یقین آ جائیگا کہ وہ ہی خدا ہے۔—مکاشفہ ۱۶:۱۴-۱۶؛ ۱۹:۱۷-۲۱۔
کرسمس—ایک مُلحدانہ تہوار
۱۳. (ا) کرسمس کی تقریبات پر کونسی روشنی ڈالی گئی؟ (ب) جنم دن اس وقت سے کیوں نہیں منائے گئے؟ (فٹنوٹ شامل کریں۔)
۱۳ اسکے تھوڑی دیر بعد، روشنی کی ایک کرن بائبل اسٹوڈنٹس کے کرسمس منانے کو بند کرنے کا سبب بنی۔ اس وقت سے پہلے بائبل اسٹوڈنٹس ہمیشہ کرسمس منایا کرتے تھے اور بروکلن ہیڈکواٹر میں اس کی تقریب نہایت ہی مسرتآفرین موقع ہوا کرتی تھی۔ لیکن اس وقت پہچان لیا گیا تھا کہ ۲۵ دسمبر کا منایا جانا درحقیقت مُلحدانہ تھا اور برگشتہ مسیحی دنیا نے مُلحد لوگوں کے مذہب کی تبدیلی کو آسان بنانے کی خاطر اس کا انتخاب کیا تھا۔ مزیدبرآں، یہ بھی دریافت کر لیا گیا کہ یسوؔع سردی میں پیدا نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ چرواہے میدان میں اپنے گلوں کو چرا رہے تھے—ایسا کام جو وہ دسمبر کے آخر میں رات کو نہیں کر رہے ہونگے۔ (لوقا ۲:۸) اس کے برعکس صحائف ظاہر کرتے ہیں کہ یسوؔع تقریباً یکم اکتوبر کو پیدا ہوا تھا۔ بائبل اسٹوڈنٹس نے اس بات کو بھی پہچان لیا کہ نامنہاد دانشمند آدمی جو یسوؔع کی پیدائش کے تقریباً دو سال بعد اس سے ملنے کے لئے آئے وہ مُلحد مجوسی تھے۔b
ایک نیا نام
۱۴. نام بائبل اسٹوڈنٹس یہوؔواہ کے لوگوں کی موزوں نمائندگی کیوں نہیں کرتا؟
۱۴ ۱۹۳۱ میں سچائی کی ایک روشن کرن نے ان بائبل اسٹوڈنٹس پر ایک موزوں صحیفائی نام کو آشکارا کِیا۔ یہوؔواہ کے لوگ سمجھ چکے تھے کہ وہ دوسروں کی طرف سے رکھے ہوئے نام قبول نہیں کر سکتے تھے جیسے کہ رسلائیٹ (رسلؔ کے پیرو) ملینئل ڈانیسٹس (ہزار سال کی سحر کرنے والے) اور ”نو ہیلر“ (دوزخ کی نفی کرنے والے)۔c لیکن وہ اس بات کو بھی سمجھنے لگے کہ نام جو انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے—انٹرنیشنل بائبل اسٹوڈنٹس—وہ بھی انکی موزوں نمائندگی نہیں کرتا۔ وہ محض بائبل اسٹوڈنٹس ہونے سے کہیں بعید تھے۔ اسکے علاوہ، ہمیشہ سے بہتیرے اشخاص رہے تھے جو بائبل کے طالبعلم تھے لیکن وہ بائبل اسٹوڈنٹس کیساتھ کوئی مشترک بات نہیں رکھتے تھے۔
۱۵. ۱۹۳۱ میں بائبل اسٹوڈنٹس نے کونسا نام اپنا لیا، اور کیوں یہ موزوں ہے؟
۱۵ بائبل اسٹوڈنٹس نے نیا نام کیسے رکھ لیا؟ برسوں سے مینارِنگہبانی یہوؔواہ کا نام ممتاز کر رہا تھا۔ لہٰذا، یہ موزوں تھا کہ بائبل اسٹوڈنٹس کو یسعیاہ ۴۳:۱۰ میں پائے جانے والے نام کو اختیار کر لینا چاہئے: ”خداوند فرماتا ہے تم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کہ میں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔“
برأت اور ”بڑی بِھیڑ“
۱۶. بحالی کی بابت پیشینگوئیوں کا اطلاق فلسطینؔ لوٹ آنے والے اصلی یہودیوں پر کیوں نہیں ہوتا، لیکن انکا اطلاق کن پر ہوتا ہے؟
۱۶ ونڈیکیشن (برأت) کی دوسری جِلد میں جو واچٹاور سوسائٹی نے ۱۹۳۲ میں شائع کی، روشنی کی ایک کرن پھوٹی کہ یسعیاؔہ، یرؔمیاہ، حزؔقیایل اور دوسرے نبیوں کی بحالی کی بابت پیشینگوئیوں کا اطلاق جسمانی یہودیوں پر نہیں ہوتا (جیسا کہ پہلے خیال کیا گیا تھا) جو فلسطینؔ میں بےایمانی کی حالت اور سیاسی عزائم کیساتھ لوٹ رہے تھے۔ اسکے برعکس، یہ بحالی کی پیشینگوئیاں جو ۵۳۷ ق.س.ع. میں یہودیوں کے بابلی اسیری سے لوٹتے وقت چھوٹی تکمیل رکھتی تھیں، انکی بڑی تکمیل ۱۹۱۹ میں شروع ہونے والی روحانی اسرائیل کی رہائی اور بحالی اور روحانی فردوس میں منتج خوشحالی پر ہوئی تھی جس سے آجکل یہوؔواہ کے سچے خادم لطف اُٹھاتے ہیں۔
۱۷، ۱۸. (ا) وقت آنے پر، روشنی کی ایک کرن کے ذریعے کس بات کو یہوؔواہ کا سب سے بڑا مقصد ظاہر کیا گیا تھا؟ (ب) ۱۹۳۵ میں مکاشفہ ۷:۹-۱۷ کے متعلق کونسی روشنی کی کرن پھوٹی؟
۱۷ وقت آنے پر روشنی کی کرنوں نے انکشاف کیا کہ یہوؔواہ کا سب سے بڑا مقصد خلائق کی نجات نہیں بلکہ اسکی حاکمیت کی برأت تھا۔ بائبل کا اہمترین موضوع فدیہ نہیں بلکہ بادشاہت معلوم ہوتا تھا کیونکہ یہ یہوؔواہ کی حاکمیت کی برأت کرے گی۔ روشنی کی یہ کیا ہی کرن تھی! مخصوصشُدہ مسیحی اب سے بنیادی طور پر اپنے آسمان پر جانے کی بابت فکرمند نہ تھے۔
۱۸ ۱۹۳۵ میں روشنی کی ایک درخشاں کرن نے انکشاف کیا کہ مکاشفہ ۷:۹-۱۷ میں مزکور بڑی بِھیڑ ثانوی آسمانی جماعت نہیں تھی۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ ان آیات میں جن اشخاص کا ذکر ہے وہ ان ممسوحوں میں سے بعض ہیں جو پوری طرح وفادار نہیں رہے اور اسلئے یسوؔع مسیح کیساتھ بادشاہوں اور کاہنوں کے طور پر حکمرانی کرنے کیلئے تختوں پر بیٹھنے کی بجائے تخت کے سامنے کھڑے ہیں۔ لیکن محض جُزوی طور پر وفادار ہونے والی کوئی بات نہیں ہے۔ ایک شخص یا تو وفادار ہے یا بےوفا۔ پس یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ یہ پیشینگوئی اَنگنت بڑیبِھیڑ کیلئے ہے جو اب تمام قوموں میں سے جمع کی جا رہی ہے اور جن کی اُمیدیں زمینی ہیں۔ وہ متی ۲۵:۳۱-۴۶ کی ”بھیڑیں“ اور یوحنا ۱۰:۱۶ (اینڈبلیو) کی ”دوسری بھیڑیں“ ہیں۔
صلیب—ایک مسیحی نشان نہیں
۱۹، ۲۰. صلیب سچے مسیحیوں کا نشان کیوں نہیں ہو سکتی؟
۱۹ بہت سالوں تک بائبل اسٹوڈنٹس نے صلیب کو مسیحیت کے نشان کے طور پر ممتاز کیا۔ وہ ”صلیب اور تاج“ کو جوڑ کر رکھتے تھے۔ کنگ جیمز ورشن کے مطابق یسوؔع نے اپنے پیروکاروں سے ”صلیب“ اُٹھانے کیلئے کہا اور بہتیروں نے یقین کر لیا کہ وہ صلیب پر مرا تھا۔ (متی ۱۶:۲۴؛ ۲۷:۳۲) دہوں تک یہ نشان مینارِنگہبانی کے رسالے کے سرِورق پر بھی ظاہر ہوتا رہا تھا۔
۲۰ کتاب ریچز (دولت) نے جسے سوسائٹی نے ۱۹۳۶ میں شائع کیا واضح کیا کہ یسوؔع صلیب پر نہیں بلکہ ایک سیدھے کھمبے یا سولی پر مرا تھا۔ ایک ماہر کے مطابق، جس یونانی لفظ (سٹاروس) کا ترجمہ کنگ جیمز ورشن میں ”صلیب“ کیا گیا ہے وہ ”بنیادی طور پر ایک سیدھی نوکدار بَلّی یا کھمبے کا حوالہ دیتی ہے۔ [اس کو] دو ستونوں والی صلیب کی راہبانہ قسم سے فرق ہونا ہے۔ . . . مؤخرالذکر کی اصل قدیم کسدؔستان سے تھی، اور تموؔز دیوتا کی علامت کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ جس چیز پر یسوؔع کو لٹکایا گیا تھا اس کے پرستار ہونے سے بعید اسے سخت نفرت کے لائق خیال کیا جانا چاہئے۔
۲۱. اسکے بعد والے مضمون میں کس بات پر غور کیا جائے گا؟
۲۱ روشنی کی بڑی کرنوں اور جنہیں چھوٹی خیال کیا جا سکتا ہے دونوں کی اَور بھی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ان پر باتچیت کیلئے، براہِمہربانی اس کے بعد والے مضمون کو دیکھیں۔ (۱۵ ۵/۱۵ w۹۵)
[فٹنوٹ]
a واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیویارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔
b وقت آنے پر یہ دیکھ لیا گیا کہ اگر کبھی واقع ہونے والی اہمترین پیدائش کو نہیں منایا جا سکتا تو پھر ہمیں کسی بھی جنم دن کو نہیں منانا چاہئے۔ اسکے علاوہ، نہ تو اسرائیلیوں نے نہ ہی ابتدائی مسیحیوں نے جنم دن منائے۔ بائبل صرف دو جنمدنوں کا ذکر کرتی ہے، ایک فرعوؔن کا اور دوسرا ہیرؔودیس انتپاس کا۔ ہر تقریب کو سزائے موت نے کِرکِرا کر دیا تھا۔ یہوؔواہ کے گواہ جنمدنوں کو اس لئے نہیں مناتے کیونکہ یہ تقریبات مُلحد اصل سے ہیں اور جس کا جنم دن ہے اُسے سرفراز کرنے کی طرف مائل ہوتی ہیں۔—پیدایش ۴۰:۲۰-۲۲؛ مرقس ۶:۲۱-۲۸۔
c یہ مسیحی دنیا کے کئی فرقوں کی غلطی تھی۔ لوتھرن ایک لقب تھا جو کہ ماؔرٹن لوتھر کے دشمنوں نے اسکے پیروکاروں کو دیا، جسے بعد میں اپنا لیا گیا۔ اسی طرح بپٹسٹس نے اس لقب کو اپنا لیا جو باہر والوں نے انہیں دیا تھا کیونکہ انہوں نے ڈبکی دینے سے بپتسمے کی منادی کی۔ اسی طرح کسی حد تک میتھوڈسٹ نے اس نام کو اپنا لیا جو ایک باہر والے نے دیا تھا۔ سوسائٹی آف فرینڈز کوئیکر کس طرح کہلائی جانے لگی اسکے متعلق دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے: ”لفظ کوئیکر سے بنیادی طور پر مراد فوکسؔ [جو اسکا بانی ہے] کی توہین تھی جس نے ایک انگریز جج سے کہا کہ ’خداوند کے کلام سے ڈرے۔‘ جج نے فوکسؔ کو ’کوئیکر‘ کا نام دیا۔“
کیا آپ کو یاد ہے؟
▫ ”دیانتدار اور عقلمند نوکر“ کون ہے، اور ”نوکرچاکر“ کون ہیں؟
▫ جدید زمانے میں ابتدائی روشنی کی بعض کرنیں کونسی تھیں؟
▫ نیا نام یہوؔواہ کے گواہ کیوں موزوں تھا؟
▫ ۱۹۳۵ میں کونسی نمایاں سچائیوں کا انکشاف ہوا؟
[تصویر]
سی۔ ٹی۔ رؔسل اور اسکے ساتھیوں نے روحانی روشنی پھیلائی، لیکن اس تمام کی نیکنامی یہوؔواہ کو ملی