کیا نفرت کبھی ختم ہوگی؟
اگرآپ نے چند ٹیلیوژن خبرناموں کو دیکھ لیا ہے تو پھر آپ نفرت سے بیگانے نہیں ہیں۔ نفرت وہ عام خصلت ہے جو ایسے قتلوغارت کی جڑ ہے جو اِس دُنیا میں روزانہ اپنا خونی نقش چھوڑتی دکھائی دیتی ہے۔ بیلؔفاسٹ سے بوؔسنیا تک، یرؔوشلیم سے جوؔہانسبرگ تک، بدقسمت تماشائی ہی ذبح ہوئے ہیں۔
متاثرین اپنے اُوپر حملہ کرنے والوں کے لئے عموماً انجانے ہوتے ہیں۔ اُن کا ”جُرم“ صرف اتنا ہے کہ وہ ”مخالف فریق“ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک بھیانک تبادلے میں، ایسی اموات کسی سابقہ ظلم یا ایک قسم کی ”نسلی بیخکنی“ کے لئے انتقامی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ تشدد کا ہر راؤنڈ حریف گروپوں کے درمیان نفرت کے شعلوں کو ہوا دینے کا کام کرتا ہے۔
نفرت کے یہ دہشتناک دَور بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ قبیلوں، نسلوں، اور نسلی یا مذہبی گروہوں کے درمیان خونی جھگڑے پھوٹ رہے ہیں۔ کیا نفرت کو کبھی ختم کِیا جا سکتا ہے؟ اِس کا جواب دینے کیلئے، ہمیں نفرت کے اسباب کو سمجھنے کی ضرورت ہے اس لئے کہ ہم نفرت کرنے کیلئے پیدا نہیں ہوئے تھے۔
نفرت کے بیج بونا
زؔلاتا فیلیپووک، سرائیوؔو سے بوؔسنیا کی ایک نوجوان لڑکی، نے ابھی نفرت کرنا نہیں سیکھا ہے۔ وہ اپنی ڈائری میں نسلی تشدد کی بابت بڑے واضح انداز میں لکھتی ہے: ”مَیں پوچھتی رہتی ہوں کہ کیوں؟ کس لئے؟ الزام کس کو دیں؟ مَیں پوچھتی تو ہوں مگر جواب کوئی نہیں ملتا۔ . . . میری سہیلیوں میں، میرے دوستوں میں، میرے خاندان میں، سرب اور کروشیائی اور مسلمان شامل ہیں۔ . . . ہم اچھے لوگوں سے رفاقت رکھتے ہیں، بُرے لوگوں کے ساتھ نہیں۔ اور اچھے لوگوں میں سرب اور کروشیائی اور مسلمان ہیں، جیسےکہ یہ بُرے لوگوں میں شامل ہیں۔“
دوسری جانب، بہتیرے بالغ، بالکل اسکے برعکس سوچتے ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اُنکے پاس نفرت کرنے کی کافی وجہ ہے۔ کیوں؟
ناانصافی۔ غالباً نفرت کے لئے بنیادی ایندھن ناانصافی اور ظلم ہے۔ جیسےکہ بائبل کہتی ہے، ”ظلم دانشور آدمی کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔“ (واعظ ۷:۷) جب لوگوں کو ایذا پہنچائی جاتی ہے یا اُن سے وحشیانہ سلوک کِیا جاتا ہے تو اُن کیلئے ظالموں کیخلاف نفرت پیدا کر لینا آسان بات ہوتی ہے۔ اور اگرچہ یہ نامعقول، یا ”دیوانگی“ ہو سکتی ہے تو بھی نفرت اکثر ایک پورے گروہ کیخلاف ظاہر کی جاتی ہے۔
اگرچہ ناانصافی، حقیقی یا تصوراتی، نفرت کا بنیادی سبب ہو سکتی ہے، لیکن صرف یہی ایک نہیں ہے۔ ایک اَور سبب تعصب ہے۔
تعصب۔ تعصب اکثر کسی خاص نسلی یا قومی گروہ کے سلسلے میں جہالت سے شروع ہوتا ہے۔ کسی افواہ، روایتی دشمنی، یا ایک یا دو اشخاص کیساتھ کسی بُرے تجربے کے باعث، بعض لوگ منفی خصائل کو ایک پوری نسل یا قومیت کے ساتھ منسوب کر سکتے ہیں۔ ایک دفعہ جب تعصب جڑ پکڑ لیتا ہے تو یہ لوگوں کو سچائی سے بےبہرہ کر سکتا ہے۔ ”ہم بعض اشخاص سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ ہم اُنہیں جانتے تک نہیں؛ اور ہم اُنہیں جانینگے بھی نہیں کیونکہ ہم اُن سے نفرت کرتے ہیں،“ انگریز مصنف چارلسؔ کالب کولٹن نے بیان کِیا۔
دوسری جانب، سیاستدان اور تاریخدان تعصب کو سیاسی یا قومپرستانہ مقاصد کیلئے آزادانہ طور پر فروغ دے سکتے ہیں۔ ہٹلرؔ اوّلین مثال تھا۔ہٹلرؔ یوتھ موومنٹ کا ایک سابق رکن جاؔرج کہتا ہے: ”نازی پروپیگنڈے نے ہمیں پہلے یہودیوں سے، پھر روسیوں سے، پھر ’رائخ (نازی حکومت) کے تمام دشمنوں‘ سے نفرت کرنا سکھایا۔ ایک نوعمر کے طور پر، مجھے جو کچھ بتایا گیا مَیں نے وہی سچ مان لیا۔ بعد میں، مجھے احساس ہوا کہ مجھے دھوکا دیا گیا ہے۔“ جیسےکہ نازی جرمنیؔ اور دیگر جگہوں پر ہوا، نفرت کے ایک اَور ذریعے یعنی قومپرستی کیلئے اپیلوں کے ذریعے نسلیاتی یا طبقاتی تعصب کی توجیہ کی گئی ہے۔
قومپرستی، فرقہپرستی، اور نسلپرستی۔ اپنی کتاب دی کلٹیویشن آف ہیٹرڈ میں، تاریخدان پیٹرؔ گیے پہلی عالمی جنگ کے آغاز پر جو کچھ واقع ہوا اسے بیان کرتا ہے: ”وفاداریوں کی جنگ میں قومپرستی دیگر تمام کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ثابت ہوئی۔ اپنے ملک کی محبت اور اِسکے دشمنوں کےلئے نفرت نے دُوررس انیسویں صدی کی پیداکردہ جارحیت کے لئے نہایت طاقتور پُرفریب توجیہ کو ثابت کِیا۔“ جرمنیؔ کا قومپرستانہ نقطۂنظر ایک فوجی گیت کے مقبول ہونے کا سبب بنا جس کا نام تھا ”نفرت کی ثنا کا گیت۔“ گؔیے وضاحت کرتا ہے کہ برؔطانیہ اور فرانسؔ میں نفرت کو ہوا دینے والوں نے جرمن فوجیوں کی بابت عورتوں کو بےآبرو کرنے اور ننھے بچوں کو قتل کرنے کی کہانیاں گھڑ لی تھیں۔ سگؔفریڈ ساسون، ایک انگریز فوجی، برطانوی جنگی پروپیگنڈے کا لُبِلُباب بیان کرتا ہے: ”یوں لگتا ہے، جیسے آدمی جرمنوں کی جان نکالنے کیلئے ہی خلق کِیا گیا ہے۔“
قومپرستی کی طرح، کسی طبقاتی گروہ یا نسل کی حد سے زیادہ بڑائی دوسرے طبقاتی گروہوں یا نسلوں کی نفرت کو اُبھارنے کا کام کر سکتی ہے۔ فرقہپرستی بہت سے افریقی ممالک میں تشدد کا بازار گرم کئے ہوئے ہے جبکہ نسلپرستی نے ابھی تک مغربی یورپ اور شمالی امریکہ کے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ ایک اَور نزاعخیز عنصر مذہب ہے جو قومپرستی کیساتھ مِل سکتا ہے۔
مذہب۔ دُنیا کے قابو سے باہر جھگڑوں میں سے زیادہ کے اندر زبردست مذہبی عنصر شامل ہوتا ہے۔ شمالی آؔئرلینڈ میں، مشرقِوسطیٰ میں اور دیگر جگہوں پر، لوگوں سے اُس مذہب کے باعث نفرت کی جاتی ہے جسکے وہ معتقد ہوتے ہیں۔ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ پہلے، انگریز مصنف جوؔناتھن سویفٹ نے مشاہدہ کِیا: ”ہمارے پاس تو مذہب کا اثرورسوخ صرف نفرت کرنے کیلئے ہے، لیکن ایک دوسرے سے محبت کرنے کیلئے نہیں ہے۔“
۱۹۳۳ میں، ہٹلرؔ نے اوسنابروک کے بشپ کو مطلع کِیا: ’یہودیوں کے متعلق، مَیں تو محض اُسی حکمتِعملی کو اپنائے ہوئے ہوں جو کیتھولک چرچ نے ۱۵۰۰ سال سے اختیار کر رکھی ہے۔‘ جرمنؔ کے چرچ لیڈروں نے اُسکی نفرتانگیز منظم قتلِعام کی مہمات کی کبھی مذمت نہ کی۔ پالؔ جانسن اپنی کتاب اے ہسٹری آف کرسچینٹی میں لکھتا ہے کہ ”چرچ نے اُن کیتھولک لوگوں کو خارج کر دیا جنہوں نے اپنی وصیتوں میں لکھا تھا کہ اُنکی لاش کو جلا دیا جائے، . . . لیکن اِس نے اُنہیں اذیتی یا قضائی مراکز میں کام کرنے سے منع نہ کِیا۔“
بعض مذہبی راہنما نفرت کو نظرانداز کرنے سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں—اُنہوں نے اِسے روا قرار دے دیا ہے۔ ۱۹۳۶ میں، ہسپانوی خانہجنگی کے آغاز پر، پوپ پائیس XI نے جمہوریتپسندوں کی ’خدا کی بابت حقیقی شیطانی نفرت‘ کی مذمت کی—اگرچہ کیتھولک پادری جمہوریتپسندوں کی طرف تھے۔ اِسی طرح، خانہجنگی کے درمیان سپینؔ کے آرچ بشپ، کارڈینل گوؔما، نے دعویٰ کِیا کہ ’مسلح جدوجہد کے بغیر امن کی بحالی ناممکن تھی۔‘
مذہبی نفرت کم ہو جانے کا کوئی اشارہ نہیں دیتی۔ ۱۹۹۲ میں میگزین ہیومین رائٹس وِدآؤٹ فرنٹیئرز نے یہوؔواہ کے گواہوں کے خلاف نفرت کو بھڑکانے کے گریک آرتھوڈکس چرچ کے اہلکاروں کے طریقِکار کی مذمت کی۔ بہت سی مثالوں میں سے، اُس نے گریک آرتھوڈکس پادری کے مقدمے کا حوالہ دیا جس نے دو ۱۴سالہ گواہوں پر الزامات لگائے۔ الزام؟ اُس نے اُن پر ’اُسکا مذہب تبدیل کروانے کی کوشش کرنے‘ کا الزام لگایا۔
نفرت کے نتائج
پوری دُنیا میں، ناانصافی، تعصب، قومپرستی، اور مذہب کے ذریعے نفرت کے بیجوں کو بویا اور پانی دیا جا رہا ہے۔ ناگزیر پھل غصہ، جارحیت، جنگ اور تباہی ہے۔ ۱-یوحنا ۳:۱۵ میں بائبل کا بیان اِسکی سنجیدگی کو دیکھنے میں ہماری مدد کرتا ہے: ”جو کوئی اپنے بھائی سے عداوت رکھتا ہے وہ خونی ہے۔“ یقیناً، جہاں نفرت فروغ پاتی ہے وہاں امن—اگر تھوڑا بہت موجود ہو تو بھی—خطرے میں ہوتا ہے۔
نوبل پرائز جیتنے والا اور یہودی قتلِعام سے زندہ بچنے والا ایلیؔ ویزل لکھتا ہے: ”زندہ بچ جانے والے کا فرض ہے کہ جو کچھ واقع ہوا اُس کی شہادت دے . . . آپ نے لوگوں کو مطلع کرنا ہے کہ یہ باتیں واقع ہو سکتی ہیں، یہ کہ بربادی قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ نسلی نفرت، تشدد، بُتپرستیاں—وہ ابھی تک پنپتی ہیں۔“ ۲۰ ویں صدی کی تاریخ ثبوت فراہم کرتی ہے کہ نفرت ایسی آگ نہیں جو خودبخود ہی بجھ جائیگی۔
کیا نفرت کبھی انسانوں کے دلوں سے اُکھاڑ پھینکی جائیگی؟ کیا نفرت ہمیشہ تباہکُن ہی ہوتی ہے یا کوئی مثبت پہلو بھی ہے؟ آئیے دیکھیں۔ (۳ ۶/۱۵ w۹۵)