یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏12 ص.‏ 8-‏13
  • خاک سے بنائے جانے کے باوجود، آگے بڑھیں!‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خاک سے بنائے جانے کے باوجود، آگے بڑھیں!‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • حالات کی تبدیلی
  • وہ بھی خاک سے بنے ہوئے تھے
  • انفرادی طور پر ہمارے لئے خاک سے بنائے جانے کا کیا مطلب ہے؟‏
  • مرنے کے بعد اِنسان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‏
    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب
  • حوصلہ‌شکنی کی بابت کیا کِیا جا سکتا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1999ء
  • آپ مایوسی کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2020ء
  • یہوواہ مصیبت‌زدوں کو رہائی بخشتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2006ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏12 ص.‏ 8-‏13

خاک سے بنائے جانے کے باوجود‏، آگے بڑھیں!‏

‏”‏وہ ہماری سرِشت سے واقف ہے۔ اُسے یاد ہے کہ ہم خاک ہیں۔“‏—‏زبور ۱۰۳:‏۱۴‏۔‏

۱.‏ کیا بائبل سائنسی اعتبار سے یہ کہنے میں درست ہے کہ انسان مٹی کے بنے ہوئے ہیں؟ وضاحت کریں۔‏

جسمانی لحاظ سے، ہم خاک ہیں۔ ”‏خداوند خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اُسکے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔“‏ (‏پیدایش ۲:‏۷‏)‏ انسان کی تخلیق کا یہ سادہ سا بیان سائنسی حقیقت کی مطابقت میں ہے۔ ۹۰ سے زیادہ عناصر جن سے انسانی بدن بنایا گیا ہے ”‏زمین کی مٹی“‏ میں پائے جاتے ہیں۔ ایک کیمیادان نے ایک مرتبہ یہ دعویٰ کِیا کہ ایک بالغ انسانی بدن ۶۵ فیصد آکسیجن، ۱۸ فیصد کاربن، ۱۰ فیصد ہائیڈروجن، ۳ فیصد نائٹروجن، ۵ء۱ فیصد کیلسیم اور ۱ فیصد فاسفورس ہے، باقی حصہ دیگر عناصر سے بنایا گیا ہے۔ یہ بات غیراہم ہے کہ آیا یہ تخمینہ‌جات بالکل صحیح ہیں۔ حقیقت برقرار رہتی ہے:‏ ”‏ہم خاک ہیں“‏!‏

۲.‏ جس طریقے سے خدا نے انسان کو خلق کِیا وہ آپ کے اندر کیسا تاثر پیدا کرتا ہے اور کیوں؟‏

۲ یہوؔواہ کے سوا اَور کون محض مٹی سے ایسی پیچیدہ مخلوقات خلق کر سکتا ہے؟ خدا کے کام کامل اور بے‌عیب ہیں، لہٰذا اُسکا اس طریقے سے انسان کو خلق کرنے کا انتخاب کرنا یقیناً کسی شکایت کا باعث نہیں ہے۔ بے‌شک، عظیم خالق ایک مہیب اور عجیب‌وغریب طریقے سے انسان کو زمین کی مٹی سے بنانے کے لائق تھا جو اُسکی لامحدود طاقت، مہارت اور عملی حکمت کے لئے ہماری قدردانی کو بڑھاتا ہے۔—‏استثنا ۳۲:‏۴، فٹ‌نوٹ، این‌ڈبلیو؛ زبور:‏ ۱۳۹:‏۱۴۔‏

حالات کی تبدیلی

۳، ۴.‏ (‏ا)‏ انسان کو مٹی سے خلق کرنے میں خدا کا کیا مقصد نہیں تھا؟ (‏ب)‏ زبور ۱۰۳:‏۱۴ میں داؔؤد کس چیز کا حوالہ دے رہا تھا اور اس نتیجے پر پہنچنے کیلئے سیاق‌وسباق ہماری کسطرح مدد کرتا ہے؟‏

۳ خاکی مخلوقات کی حدود ہوتی ہیں۔ تاہم، خدا کا ہرگز مقصد نہیں تھا کہ یہ سخت اور حد سے زیادہ پابند کرنے والی ہوں۔ ان حدود کا مقصد حوصلہ‌شکنی کا سبب بننا یا بیزاری پر منتج ہونا نہیں تھا۔ پھر بھی، جیسا کہ زبور ۱۰۳:‏۱۴ میں داؔؤد کے الفاظ کا سیاق‌وسباق ظاہر کرتا ہے کہ انسان جن حدود کے تابع ہیں وہ حوصلہ‌شکنی کر سکتیں اور بیزاری پر منتج ہو سکتی ہیں۔ کیوں؟ جب آؔدم اور حوؔا نے خدا کی نافرمانی کی تو وہ اپنے آئندہ خاندان کیلئے ایک تبدیل شُدہ حالت لے آئے۔ مٹی سے بنائے جانے نے پھر نئے ضمنی مفہوم اختیار کر لئے۔‏a

۴ داؔؤد اُن طبعی حدود کی نہیں جو کہ مٹی سے بنے ہوئے کامل انسانوں میں بھی ہوتی ہیں بلکہ موروثی ناکاملیت کے باعث پیدا ہونے والی انسانی کمزوریوں کی بابت بات کر رہا تھا۔ ورنہ اُس نے یہوؔواہ کے بارے میں یہ نہ کہا ہوتا:‏ ”‏وہ تیری ساری بدکاری کو بخشتا ہے۔ وہ تجھے تمام بیماریوں سے شفا دیتا ہے۔ وہ تیری جان ہلاکت سے بچاتا ہے۔ [‏جس]‏ نے ہمارے گناہوں کے موافق ہم سے سلوک نہیں کِیا اور ہماری بدکاریوں کے مطابق ہمکو بدلہ نہیں دیا۔“‏ (‏زبور ۱۰۳:‏۲-‏۴،‏ ۱۰‏)‏ مٹی سے بنائے جانے کے باوجود اگر کامل انسان وفادار رہے ہوتے تو اُنہوں نے کبھی خطا، گناہ نہ کِیا ہوتا جس کیلئے معافی درکار ہوتی؛ نہ ہی اُن میں شفا کا تقاضا کرنے والی بیماریاں پائی جاتیں۔ سب سے بڑھکر، اُنہیں کبھی بھی موت کے گڑھے میں نہ اُترنا پڑتا جہاں سے اُنہیں صرف قیامت کے ذریعے ہی نکالا جاتا۔‏

۵.‏ ہمارے لئے داؔؤد کے الفاظ کو سمجھنا مشکل کیوں نہیں ہے؟‏

۵ ناکامل ہوتے ہوئے ہم سب نے اُن باتوں کا تجربہ کِیا ہے جن کا ذکر داؔؤد نے کِیا۔ ناکاملیت کے باعث ہم ہمیشہ اپنی حدود سے باخبر رہتے ہیں۔ ہم اُسوقت بہت غمگین ہوتے ہیں جب بعض اوقات یہ یہوؔواہ کے ساتھ اور ہمارے مسیحی بھائیوں کے ساتھ ہمارے رشتے کو نقصان پہنچاتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ ہماری ناکاملیتیں اور شیطان کی دنیا کے بوجھ کبھی‌کبھار ہمیں نااُمیدی کی حالت میں ڈال دیتے ہیں۔ چونکہ شیطان کی حکمرانی بڑی تیزی کے ساتھ اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہی ہے اسلئے اُسکی دنیا بالعموم لوگوں پر اور بالخصوص مسیحیوں پر پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ ڈال رہی ہے۔—‏مکاشفہ ۱۲:‏۱۲‏۔‏

۶.‏ بعض مسیحی بے‌حوصلہ کیوں محسوس کر سکتے ہیں اور شیطان اس قسم کے احساس سے کیسے فائدہ اُٹھا سکتا ہے؟‏

۶ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ ایک مسیحی زندگی بسر کرنا زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے؟ بعض مسیحیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جتنی دیر سے وہ سچائی میں ہیں وہ اُتنے ہی زیادہ ناکامل بنتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم، بہت اغلب ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ وہ اپنی ذاتی ناکاملیتوں اور جس طرح وہ چاہیں گے اُس طریقے سے یہوؔواہ کے کامل معیاروں کے مطابق عمل کرنے کیلئے اپنی نااہلیت سے زیادہ باخبر ہوگئے ہیں۔ اگرچہ، درحقیقت یہ شاید یہوؔواہ کے راست تقاضوں کے علم اور قدردانی میں مسلسل بڑھتے رہنے کا نتیجہ ہے۔ یہ نہایت اہم ہے کہ ہم کبھی بھی کسی ایسی آگاہی کو ابلیس کے ہاتھوں کھلونا بننے کی حد تک ہمیں بے‌حوصلہ کرنے کی اجازت نہ دیں۔ یہوؔواہ کے خادموں سے سچی پرستش ترک کروانے کی غرض سے صدیوں کے دوران اُس نے بار بار حوصلہ‌شکنی سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، خدا کی حقیقی محبت اور شیطان سے ”‏پوری عداوت“‏ نے ان میں سے بہتیروں کو ایسا کرنے سے روکا ہے۔—‏زبور ۱۳۹:‏۲۱، ۲۲؛‏ امثال ۲۷:‏۱۱‏۔‏

۷.‏ کس لحاظ سے ہم بعض اوقات اؔیوب کی مانند ہو سکتے ہیں؟‏

۷ پھر بھی، یہوؔواہ کے خادم بعض‌اوقات بے‌حوصلہ محسوس کر سکتے ہیں۔ اپنی کامرانیوں سے بے‌اطمینانی بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ جسمانی عناصر یا خاندانی ارکان، دوست‌احباب، یا ساتھی کارندوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات شامل ہو سکتے ہیں۔ وفادار ایوؔب اسقدر بے‌حوصلہ ہو گیا تھا کہ اُس نے خدا سے التجا کی:‏ ”‏کاشکہ تُو مجھے پاتال میں چھپا دے اور جبتک تیرا قہر ٹل نہ جائے مجھے پوشیدہ رکھے اور کوئی مُعیّن وقت میرے لئے ٹھہرائے اور مجھے یاد کرے!‏“‏ اب اگر مشکل حالات ایوؔب جیسے ”‏کامل اور راستباز آدمی“‏ کو ”‏جو خدا سے ڈرتا اور بدی سے دُور رہتا،“‏ تھا حوصلہ‌شکنی کے اوقات میں مبتلا کر سکتے ہیں تو اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہو سکتا ہے۔—‏ایوب ۱:‏۸،‏ ۱۳-‏۱۹؛‏ ۲:‏۷-‏۹،‏ ۱۱-‏۱۳؛‏ ۱۴:‏۱۳‏۔‏

۸.‏ کبھی‌کبھار کی حوصلہ‌شکنی ایک مثبت علامت کیوں ہو سکتی ہے؟‏

۸ یہ جاننا کتنی تسلی کی بات ہے کہ یہوؔواہ دلوں میں جھانکتا ہے اور نیک محرکات کو نظرانداز نہیں کرتا!‏ وہ کبھی اُن لوگوں کو ردّ نہیں کریگا جو پوری خلوص نیتی سے اُسے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کبھار کی حوصلہ‌شکنی اس بات کے اظہار کی مثبت علامت ہو سکتی ہے کہ ہم یہوؔواہ کیلئے اپنی خدمت کو معمولی خیال نہیں کر رہے ہیں۔ اس نقطۂ‌نظر سے دیکھتے ہوئے، جو شخص حوصلہ‌شکنی کے خلاف کبھی جدوجہد نہیں کرتا وہ اپنی کمزوریوں سے روحانی طور پر اتنا باخبر نہیں ہو سکتا جتنا کہ دوسرے اپنی کمزوریوں سے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں:‏ ”‏جو کوئی اپنے آپ کو قائم سمجھتا ہے وہ خبردار رہے کہ گر نہ پڑے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۱۲؛‏ ۱-‏سموئیل ۱۶:‏۷؛‏ ۱-‏سلاطین ۸:‏۳۹؛‏ ۱-‏تواریخ ۲۸:‏۹‏۔‏

وہ بھی خاک سے بنے ہوئے تھے

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ مسیحی کس کے ایمان کی تقلید کرکے اچھا کرتے ہیں؟ (‏ب)‏ اپنی تفویض کیلئے موسیٰؔ نے کیسا ردِعمل دکھایا؟‏

۹ عبرانیوں ۱۱ باب مسیحیوں سے قبل ایسے کئی یہوؔواہ کے گواہوں کی فہرست دیتا ہے جنہوں نے مضبوط ایمان کا مظاہرہ کِیا۔ پہلی صدی اور جدید زمانے کے مسیحیوں نے بالکل ایسا ہی کِیا ہے۔ اُن سے سیکھے جانے والے اسباق انمول ہیں۔ (‏مقابلہ کریں عبرانیوں ۱۳:‏۷‏۔)‏ مثال کے طور پر موسیٰؔ سے بہتر اور کس کے ایمان کی مسیحی تقلید کر سکتے ہیں؟ اُس سے اپنے زمانے کے سب سے زیادہ طاقتور دنیاوی حکمران، مصر کے فرؔعون، کے خلاف عدالتی پیغامات کا اعلان کرنے کا تقاضا کِیا گیا تھا۔ آجکل، یہوؔواہ کے گواہوں کیلئے جھوٹے مذہب اور دیگر ایسی تنظیموں کے خلاف جو مسیح کی قائم شُدہ بادشاہت کی مخالفت میں ہیں ایسے ہی عدالتی پیغامات سنانا لازم ہے۔—‏مکاشفہ ۱۶:‏۱-‏۱۵‏۔‏

۱۰ جیساکہ موسیٰؔ نے ظاہر کِیا اس تفویض کو پورا کرنا آسان کام نہیں ہے۔ ”‏میں کون ہوں جو فرؔعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں؟“‏ اُس نے پوچھا۔ ہم اُسکی نااہلیت کے احساسات کو سمجھ سکتے ہیں۔ اُسے اس بات کی بھی پریشانی تھی کہ ساتھی اسرائیلی کیسا ردِعمل دکھائیں گے:‏ ”‏وہ تو میرا یقین ہی نہیں کرینگے نہ میری بات سنیں گے۔“‏ پھر جس طرح وہ اپنے اختیار کو ثابت کر سکتا تھا یہوؔواہ نے اُسکے سامنے اسکی وضاحت کی لیکن موسیٰؔ کی ایک اَور مشکل تھی۔ اُس نے کہا:‏ ”‏اَے خداوند!‏ میں فصیح نہیں۔ نہ تو پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تُو نے اپنے بندے سے کلام کِیا بلکہ رُک رُک کر بولتا ہوں۔“‏—‏خروج ۳:‏۱۱؛ ۴:‏۱، ۱۰۔‏

۱۱.‏ موسیٰؔ کی طرح، ہم تھیوکریٹک ذمہ‌داریوں کیلئے کیسا ردِعمل دکھا سکتے ہیں، لیکن ایمان ظاہر کرنے سے ہم کس چیز کی بابت پُراعتماد ہو سکتے ہیں؟‏

۱۱ کبھی کبھار، ہم بھی موسیٰؔ کی مانند محسوس کر سکتے ہیں۔ اپنی تھیوکریٹک ذمہ‌داریوں کو پہچاننے کے باوجود ہم سوچ سکتے ہیں کہ ہم کسطرح انہیں پورا کر سکتے ہیں۔ ’‏میں کون ہوں جو مجھے اعلیٰ سماجی، معاشی، یا تعلیمی مرتبہ رکھنے والے لوگوں کے پاس جانا اور اُنہیں خدا کی راہ میں تعلیم دینے کی جرأت کرنی چاہئے؟ جب میں مسیحی اجلاسوں پر تبصرے کرتا یا تھیوکریٹک منسٹری سکول میں پلیٹ فارم سے مظاہرے پیش کرتا ہوں تو میرے روحانی بھائی کیسا ردِعمل دکھائیں گے؟ کیا وہ میری خامیوں کو نہیں دیکھیں گے؟‘‏ لیکن یاد رکھیں، یہوؔواہ موسیٰؔ کے ساتھ تھا اور اُسے اُسکی تفویض کیلئے لیس کِیا اسلئے کہ موسیٰؔ نے ایمان ظاہر کِیا تھا۔ (‏خروج ۳:‏۱۲؛ ۴:‏۲-‏۵، ۱۱، ۱۲)‏ اگر ہم موسیٰؔ کے ایمان کی تقلید کرتے ہیں تو یہوؔواہ ہمارے ساتھ ہوگا اور ہمیں بھی ہمارے کام کیلئے لیس کریگا۔‏

۱۲.‏ گناہوں یا خطاؤں کے باعث حوصلہ‌شکنی کے باوجود داؔؤد کا ایمان ہمیں کیسے حوصلہ دے سکتا ہے؟‏

۱۲ جو کوئی بھی گناہوں یا خطاؤں کی وجہ سے مایوس یا بے‌حوصلہ محسوس کرتا ہے یقیناً اُسکا موازنہ داؔؤد کیساتھ کِیا جا سکتا ہے جب اُس نے کہا:‏ ”‏میں اپنی خطاؤں کو مانتا ہوں اور میرا گناہ ہمیشہ میرے سامنے ہے۔“‏ یہوؔواہ سے التجا کرتے ہوئے داؔؤد نے یہ بھی کہا:‏ ”‏میرے گناہوں کی طرف سے مُنہ پھیر لے اور میری سب بدکاری مٹا ڈال۔“‏ تاہم، اُس نے کبھی بھی حوصلہ‌شکنی کو یہ اجازت نہ دی کہ اُس سے یہوؔواہ کی خدمت کرنے کی خواہش چھین لے۔ ”‏مجھے اپنے حضور سے خارج نہ کر اور اپنی پاک روح کو مجھ سے جُدا نہ کر۔“‏ داؔؤد واقعی ”‏خاک“‏ تھا، لیکن یہوؔواہ اُس سے دستبردار نہ ہوا، کیونکہ داؔؤد نے ”‏شکستہ اور خستہ دل“‏ کو حقیر نہ جاننے کے یہوؔواہ کے وعدے پر ایمان ظاہر کِیا تھا۔—‏زبور ۳۸:‏۱-‏۹؛‏ ۵۱:‏۳،‏ ۹،‏ ۱۱،‏ ۱۷‏۔‏

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏ ہمیں انسانوں کے پیروکار کیوں نہیں بننا چاہئے؟ (‏ب)‏ پولسؔ اور پطرؔس کی مثالیں کسطرح ظاہر کرتی ہیں کہ وہ بھی خاک سے بنے ہوئے تھے؟‏

۱۳ تاہم، نوٹ کریں کہ ”‏اُس دوڑ میں صبر سے دوڑنے“‏ کیلئے ”‏جو ہمیں درپیش ہے“‏ حوصلہ‌افزائی کے طور پر ہمیں ”‏گواہوں“‏ کے اس ”‏بڑے بادل“‏ پر غور کرنا ہے لیکن ہمیں انکے پیروکار بننے کیلئے نہیں کہا گیا ہے۔ ہمیں ”‏ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوؔع“‏ کے نقشِ‌قدم پر چلنے کیلئے کہا گیا ہے نہ کہ ناکامل انسانوں کے—‏پہلی صدی کے وفادار رسولوں کے بھی نہیں۔—‏عبرانیوں ۱۲:‏۱، ۲؛‏ ۱-‏پطرس ۲:‏۲۱‏۔‏

۱۴ مسیحی کلیسیا کے ستونوں، پولسؔ اور پطرؔس رسول نے بعض اوقات ٹھوکر کھائی۔ ”‏جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اُسے کر لیتا ہوں،“‏ پولسؔ نے لکھا۔ ”‏میں کیسا کم‌بخت آدمی ہوں!‏“‏ (‏رومیوں ۷:‏۱۹،‏ ۲۴‏)‏ اور حد سے زیادہ خوداعتمادی کے لمحے میں پطرؔس نے یسوؔع سے کہا:‏ ”‏گو سب تیری بابت ٹھوکر کھائیں لیکن میں کبھی ٹھوکر نہ کھاؤنگا۔“‏ جب یسوؔع نے پطرؔس کو آگاہ کِیا کہ وہ تین مرتبہ اُسکا انکار کریگا تو پطرؔس نے دیدہ‌دلیری کے ساتھ اپنے اُستاد کی تردید کی:‏ ”‏اگر تیرے ساتھ مجھے مرنا بھی پڑے تو بھی تیرا انکار ہرگز نہ کرونگا۔“‏ لیکن اُس نے یسوؔع کا انکار کِیا، ایک ایسی غلطی جس نے اُسے زار زار رُلایا۔ جی‌ہاں، پولسؔ اور پطرؔس خاک کے بنے ہوئے تھے۔—‏متی ۲۶:‏۳۳-‏۳۵‏۔‏

۱۵.‏ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم خاک سے بنے ہوئے ہیں، آگے بڑھنے کیلئے ہمارے پاس کونسا محرک ہے؟‏

۱۵ تاہم، اپنی کمزوریوں کے باوجود موسیٰؔ، داؔؤد، پولسؔ، پطرؔس اور اُنکی مانند دیگر لوگ فاتح ثابت ہوئے۔ کیوں؟ کیونکہ اُنہوں نے یہوؔواہ پر مضبوط ایمان ظاہر کِیا، اُس پر کامل بھروسہ رکھا اور رکاوٹوں کے باوجود اُسی کی قربت میں رہے۔ اُنہوں نے ”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ فراہم کرنے کیلئے اُس پر بھروسہ کِیا۔ اور اُس نے ایسا کِیا، اُنہیں بحال ہونے کی حالت سے زیادہ پست نہ ہونے دیا۔ اگر ہم ایمان کا مظاہرہ کرتے رہیں تو ہم یقین رکھ سکتے ہیں کہ جب ہمارے معاملے میں عدالت کی جاتی ہے تو یہ ان الفاظ کی مطابقت میں ہوگی:‏ ”‏خدا بے‌انصاف نہیں جو تمہارے کام اور اُس محبت کو بھول جائے جو تم نے اُسکے نام کے واسطے .‏ .‏ .‏ ظاہر کی۔“‏ اس حقیقت کے باوجود کہ ہم خاک سے بنے ہوئے ہیں آگے بڑھنے کیلئے یہ ہمیں کتنا عمدہ محرک عطا کرتا ہے!‏—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۷؛‏ عبرانیوں ۶:‏۱۰‏۔‏

انفرادی طور پر ہمارے لئے خاک سے بنائے جانے کا کیا مطلب ہے؟‏

۱۶، ۱۷.‏ جب عدالت کرنے کی بات آتی ہے تو یہوؔواہ گلتیوں ۶:‏۴ میں بیان‌کردہ اصول کا اطلاق کسطرح کرتا ہے؟‏

۱۶ تجربے نے بہت سے والدین اور اساتذہ کو چھوٹے بہن بھائیوں یا ہم‌مکتبوں کے ساتھ باہمی مقابلوں کی بنا پر نہیں بلکہ انفرادی لیاقت کے مطابق بچوں یا طالبعلموں کے متعلق رائے قائم کرنے کی حکمت سکھائی ہے۔ یہ بات بائبل کے اصول کی مطابقت میں ہے جسکی پیروی کرنے کیلئے مسیحیوں سے کہا گیا ہے:‏ ”‏پس ہر شخص اپنے ہی کام کو آزما لے۔ اس صورت میں اُسے اپنی ہی بابت فخر کرنے کا موقع ہوگا نہ کہ دوسرے کی بابت۔“‏—‏گلتیوں ۶:‏۴‏۔‏

۱۷ اس اصول کی مطابقت میں، اگرچہ یہوؔواہ اپنے لوگوں کے ساتھ ایک منظم گروہ کے طور پر پیش آتا ہے تو بھی وہ فرداً فرداً اُنکی عدالت کرتا ہے۔ رومیوں ۱۴:‏۱۲ کہتی ہے:‏ ”‏ہم میں سے ہر ایک خدا کو اپنا حساب دیگا۔“‏ یہوؔواہ اپنے ہر خادم کی توارثی ساخت سے واقف ہے۔ وہ اُنکی جسمانی اور ذہنی ساخت، اُنکی صلاحیتوں، اُنکی موروثی قوتوں اور کمزوریوں، اُنہیں حاصل امکانات، اسکے ساتھ ساتھ مسیحی پھل پیدا کرنے کیلئے اُن امکانات سے فائدہ اُٹھانے کی حد کو جانتا ہے۔ ہیکل کے خزانے میں دو دمڑیاں ڈالنے والی بیوہ کی بابت یسوؔع کے بیانات اور اچھی زمین میں بوئے گئے بیجوں کی بابت اُسکی تمثیل ایسے مسیحیوں کے لئے حوصلہ‌افزا مثالیں ہیں جو شاید دوسروں کے ساتھ اپنا غیردانشمندانہ موازنہ کرنے کی وجہ سے افسردہ محسوس کریں۔—‏مرقس ۴:‏۲۰؛‏ ۱۲:‏۴۲-‏۴۴‏۔‏

۱۸.‏ (‏ا)‏ خاک ہونے کا ہمارے لئے انفرادی طور پر جو مطلب ہے ہمیں اس کا تعیّن کیوں کرنا چاہئے؟ (‏ب)‏ ایک دیانتدارانہ ذاتی جائزے کو ہمارے لئے مایوسی کا باعث کیوں نہیں بننا چاہئے؟‏

۱۸ یہ نہایت اہم ہے کہ ہم اس بات کا تعیّن کریں کہ ہمارے اپنے ذاتی معاملے میں خاک سے بنائے جانے کا کیا مطلب ہے تاکہ ہم اپنی پوری لیاقت سے خدمت کر سکیں۔ (‏امثال ۱۰:‏۴؛‏ ۱۲:‏۲۴؛‏ ۱۸:‏۹؛‏ رومیوں ۱۲:‏۱‏)‏ صرف اپنی ذاتی کوتاہیوں اور کمزوریوں سے بخوبی واقف ہونے سے ہی ہم بہتری کے امکانات اور حاجت کیلئے چوکس رہ سکتے ہیں۔ ذاتی جائزہ لینے میں، آئیں بہتری پیدا کرنے میں اپنی مدد کیلئے روح‌القدس کی طاقت کو کبھی بھی نظرانداز نہ کریں۔ اسکے ذریعے سے کائنات پیدا کی گئی، بائبل لکھی گئی اور دم توڑتی ہوئی دنیا کے درمیان ایک نئے پُرامن دنیاوی معاشرے کو وجود میں لایا گیا ہے۔ لہٰذا خدا کی روح‌القدس یقیناً اتنی طاقتور ہے کہ اپنے مانگنے والوں کو راستی برقرار رکھنے کیلئے درکار حکمت اور قوت عطا کرے۔—‏میکاہ ۳:‏۸؛‏ رومیوں ۱۵:‏۱۳؛‏ افسیوں ۳:‏۱۶‏۔‏

۱۹.‏ ہمارا خاک سے بنایا جانا کس بات کا عُذر نہیں ہے؟‏

۱۹ یہ جاننا کتنا اطمینان‌بخش ہے کہ یہوؔواہ یاد رکھتا ہے کہ ہم خاک ہیں!‏ تاہم، ہمیں کبھی بھی یہ دلیل نہیں دینی چاہئے کہ سُست پڑ جانے یا شاید غلط کام کرنے کیلئے یہ ایک جائز عُذر ہے۔ ہرگز نہیں!‏ یہوؔواہ کا یہ یاد رکھنا کہ ہم خاک ہیں اُسکے غیرمستحق فضل کا ایک اظہار ہے۔ لیکن ہم اُنکی مانند نہیں ہونا چاہتے جو ”‏بیدین ہیں اور ہمارے خدا کے فضل کو شہوت‌پرستی سے بدل ڈالتے ہیں اور ہمارے واحد مالک اور خداوند یسوؔع مسیح کا انکار کرتے ہیں۔“‏ (‏یہوداہ ۴‏)‏ خاک سے بنایا جانا بیدین ہونے کیلئے کوئی عُذر نہیں ہے۔ ایک مسیحی ”‏خدا کے پاک روح کو رنجیدہ“‏ کرنے سے گریز کرنے کیلئے اپنے بدن کو مارتے کوٹتے اور قابو میں رکھتے ہوئے بُرے رجحانات کے خلاف جدوجہد کرتا ہے۔—‏افسیوں ۴:‏۳۰؛‏ ۱-‏کرنتھیوں ۹:‏۲۷‏۔‏

۲۰.‏ (‏ا)‏ ہمیں کن دو حلقوں میں ”‏خداوند کے کام میں افزائش“‏ کرنی ہے؟ (‏ب)‏ ہمارے پاس پُراُمید ہونے کی وجہ کیوں ہے؟‏

۲۰ اب، شیطان کے دنیاوی نظام کے اختتامی سالوں کے دوران، سُست پڑ جانے کا کوئی وقت نہیں ہے—‏جہاں تک بادشاہتی منادی کا تعلق ہے نہ تو اُس میں اور نہ ہی جہاں تک خدا کی روح کے پھلوں کو مکمل طور پر پیدا کرنے کا تعلق ہے۔ دونوں حلقوں میں ہمیں ”‏افزائش“‏ کرنی ہے۔ اب آگے بڑھنے کا وقت ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری ”‏محنت .‏ .‏ .‏ بے‌فائدہ نہیں ہے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۵۸‏)‏ یہوؔواہ ہمیں سنبھالے گا کیونکہ اُسکی بابت داؔؤد نے کہا:‏ ”‏وہ صادق کو کبھی جنبش نہ کھانے دیگا۔“‏ (‏زبور ۵۵:‏۲۲‏)‏ یہ جاننا کتنی خوشی کی بات ہے کہ یہوؔواہ ہمیں ذاتی طور پر ایسے عظیم‌ترین کام میں شریک ہونے کی اجازت دے رہا ہے جو کبھی ناکامل انسانی مخلوقات کو کرنے کیلئے تفویض کِیا گیا ہو—‏اور یہ ہمارے خاک سے بنائے جانے کے باوجود ہے!‏ (‏۸ ۹/۱ w۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a زبور ۱۰۳:‏۱۴ پر تبصرہ کرتے ہوئے تفسیربائبل ہرڈرز بیبل کومینتار نوٹ کرتی ہے:‏ ”‏وہ خوب جانتا ہے کہ اُس نے انسانوں کو زمین کی مٹی سے خلق کِیا اور وہ اُنکی زندگی کی کمزوریوں اور بے‌ثبات نوعیت کو جانتا ہے، جو پہلے گناہ سے لیکر اُن پر بھاری بوجھ ڈالتی ہے۔“‏—‏نسخ عبارت ہماری ہے۔‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

▫ انسانوں کے خاک سے بنائے جانے کا حوالہ دینے میں پیدایش ۲:‏۷ اور زبور ۱۰۳:‏۱۴ کیسے اختلاف رکھتی ہیں؟‏

▫ آجکل مسیحیوں کیلئے عبرانیوں ۱۱ باب حوصلہ‌افزائی کا ذریعہ کیوں ہے؟‏

▫ گلتیوں ۶:‏۴ میں بیان کردہ اصول کا اطلاق کرنے سے ہم دانشمند کیوں ہیں؟‏

▫ حوصلہ‌شکنی سے بچنے کیلئے عبرانیوں ۶:‏۱۰ اور ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۵۸ کیسے مدد کر سکتی ہیں؟‏

‏[‏تصویریں]‏

مسیحی ساتھی پرستاروں کے ایمان کی تقلید کر تے ہیں، لیکن وہ اپنے ایمان کے کامل کر نے وا لے، یسوؔع کی پیروی کر تے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں