یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏10 ص.‏ 3-‏4
  • خوف دنیا کو گرفت میں لے لیتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • خوف دنیا کو گرفت میں لے لیتا ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • نیوکلیئر خطرات قائم رہتے ہیں
  • تشدد خوف کو بڑھاتا ہے
  • ایڈز کا خوف
  • نیوکلیئر خطرہ بالآخر ٹل گیا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏10 ص.‏ 3-‏4

خوف دنیا کو گرفت میں لے لیتا ہے

ایک بہت بڑے کار بم کے دھماکے نے فروری ۲۶، ۱۹۹۳ کو نیو یارک شہر میں ۱۱۰ منزلہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہزاروں کارکن رُکی ہوئی لِفٹوں میں پھنس گئے یا پھر اُنہیں دھوئیں سے بھری سیڑھیوں کے راستے نیچے بھاگنا پڑا۔ اُنہیں خوف محسوس ہوا جو اب اس متشدّد دنیا میں ہر طرف پھیلا ہوا ہے۔‏

بہت سے ممالک میں لوگ بموں کے ذریعے دہشت‌زدہ ہو گئے ہیں، جو کہ آئرلینڈ اور لبنان جیسے ممالک میں معمول کی بات بن گئی ہے۔ بمبئی، انڈیا میں—‏مارچ ۱۲، ۱۹۹۳ کو—‏صرف ایک ہی دن کے اندر ۱۳ دھماکے ہوئے، کوئی ۲۰۰ لوگ ہلاک ہو گئے!‏ ایک مشاہد نے کہا:‏ ”‏پورے بمبئی میں خوف‌وہراس کی لہر ہے۔“‏ نیوز ویک رسالے کے مطابق، کار بم کا ”‏معمول کا واقعہ بن جانا اسے اور زیادہ خوفناک بنانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔“‏

نیوکلیئر خطرات قائم رہتے ہیں

اس بات کا بھی خوف ہے کہ نیوکلیئر ری‌ایکٹر بموں سے غیرمحفوظ ہیں۔ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک کامیاب حملہ بے‌حساب نقصان اور مصیبت کا موجب بن سکتا ہے۔ ریاستہائے متحدہ میں تھری مائل آئی‌لینڈ نیوکلیئر پاور سٹیشن پر ایک شخص کے حفاظتی دروازے میں سے اپنی کار کو زبردستی گزار کر تباہ کرنے کی کوشش نے اس خوف کو یقینی بنا دیا۔‏

بہتیرے لوگ ڈرتے ہیں کہ دہشت‌گرد اور اقتدار کے بھوکے حکمران نیوکلیئر ہتھیار حاصل کر لینگے۔ بعض اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ سابقہ سوویت یونین کے ہزاروں بے‌روزگار نیوکلیئر سائنسدان اپنی مہارتوں کو بیچنے کی کوشش کرینگے۔ مزیدبرآں، اگرچہ ایس‌ٹی‌اےآرٹی (‏سٹارٹ)‏ معاہدہ تمام نیوکلیئر جنگی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا تقاضا کرتا ہے تو بھی اسکا نفاذ ۱۹۹۹ کے آخر یا اس سے بھی بعد تک مکمل نہیں ہوگا۔ اسی دوران، کسی جنونی نئے نواب کے ذریعے ان ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کا خطرہ نوعِ‌انسانی پر چھائے ہوئے طوفانی بادل کی مانند ضرور منڈلاتا ہے۔‏

تشدد خوف کو بڑھاتا ہے

تشددآمیز جرم میں وسیع اضافہ لوگوں کو اُنکے گھروں اور گلی کوچوں میں خوفزدہ کرتا ہے۔ ۱۹۹۰ میں اندازاً ۲۳،۲۰۰ امریکیوں کا قتل ہوا تھا۔ مثال کے طور پر شکاگو کے شہر میں خالص کوکین کے استعمال میں اضافہ ایک ہی سال میں ۷۰۰ قتلوں کا سبب بنا۔ بعض شہروں کے کچھ علاقے لڑائی کے میدان بن گئے ہیں جہاں پر بشمول بچوں کے راہگیروں کو گولیوں کی بوچھاڑ سے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ ایک رسالہ کہتا ہے:‏ ”‏درمیانے درجے کے شہروں میں تشدد بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے .‏ .‏ .‏ کوئی بھی محفوظ نہیں اسلئے کہ [‏ریاستہائے متحدہ]‏ میں پھیلی ہوئی آبادیاں منشیات اور نوجوانوں کی غنڈہ‌گردیوں سے بھری پڑی ہیں۔ ہر سال ہر ۴ امریکی گھرانوں میں سے ۱ کسی تشددآمیز جرم یا چوری کا تجربہ کرتا ہے۔“‏—‏یو۔ایس۔نیوز ویک اینڈ ورلڈ رپورٹ، اکتوبر ۷، ۱۹۹۱۔‏

آبروریزی کا خوف عورتوں کو پریشان کر دیتا ہے۔ فرانس میں ایسی آبروریزیاں جنکی اطلاع پولیس کو دی گئی وہ ۱۹۸۵ سے ۱۹۹۰ تک ۶۲ فیصد بڑھ گئیں۔ کینیڈا میں چھ ہی سالوں کے اندر جنسی حملے دو گُنا بڑھ کر ۲۷۰۰۰ ہزار ہو گئے۔ جرمنی نے ہر سات منٹ میں ایک عورت پر ایک جنسی حملے کی رپورٹ دی۔‏

بچے بھی اپنے تحفظ کیلئے خوفزدہ ہیں۔ نیوز ویک رپورٹ دیتا ہے کہ ریاستہائے متحدہ میں، ”‏چوتھے اور پانچویں گریڈ کے بچے بھی خود کو ہتھیاروں سے لیس رکھتے ہیں اور اساتذہ اور سکول کے اہلکار خائف ہیں۔“‏ صورتحال اسقدر سنگین ہے کہ بڑے شہری سکول والے علاقوں کے ایک چوتھائی حصے نے میٹل ڈی‌ٹیکٹر (‏دھات کا سراغ لگا لینے پر اشارہ دینے والا برقی آلہ)‏ استعمال کرنا شروع کر دئے ہیں، لیکن باعزم نوجوان لوگ کھڑکیوں کے راستے دوسروں تک بندوقیں پہنچا کر ان سے بچنے کا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔‏

ایڈز کا خوف

زیادہ‌تر لوگ متعدی ایڈز سے خوفزدہ ہیں۔ صرف ریاستہائے متحدہ میں ہی ۲۳۰،۰۰۰ سے زائد مریض ہو گئے ہیں۔ ایڈز ۱۵ سے ۲۴ سال کی عمر کے لوگوں میں موت کی چھٹی بڑی وجہ بن گئی ہے۔ ”‏مستقبل کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بیماری کا خوفزدہ کرنے والا امکان تھامے ہوئے ہے،“‏ نیوز ویک کہتا ہے۔‏

ایڈز کے باعث موت ڈانس، تھیئٹر، فلموں، موسیقی، فیشن، ٹیلی‌وژن، آرٹ کے پیشوں اور انکی طرح کے دیگر پیشوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں بڑی حد تک عام ہے۔ ایک رپورٹ نے کہا کہ جرنلزم، آرٹ اور تفریحِ‌طبع کے پیشوں سے منسلک ۲۵ تا ۴۴ سال کی عمر کے پیرس میں رہنے والے آدمیوں کی ۶۰ فیصد اموات ایڈز کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ ڈبلیوایچ‌او (‏ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن)‏ رپورٹ دیتا ہے کہ پوری دنیا میں ۸ ملین سے ۱۰ ملین لوگ ایچ‌آئی‌وی سے متاثر ہیں۔ ڈبلیوایچ‌او کے ڈائریکٹر، مائیکلؔ مرسن کہتے ہیں:‏ ”‏یہ بات اب واضح ہے کہ پوری دنیا میں، بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں ایچ‌آئی‌وی انفیکشن کا خطرہ بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔“‏

بلا‌شُبہ، ماحولیاتی اور دیگر خطرات بھی ہیں۔ پھر بھی، مذکورہ‌بالا رپورٹیں اس بات کو عیاں کر دیتی ہیں کہ خوف دنیا کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ کیا اسکی بابت کوئی چیز خاص اہمیت کی حامل ہے؟ کیا ہم کبھی خوف سے آزادی کا لطف اُٹھانے کی توقع کر سکتے ہیں؟ (‏۳ ۷/۱۵ w۹۴)‏

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

‏;Cover photos: Left: Tom Haley/Sipa Press

Bottom: Malanca/Sipa Press

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Bob Strong/Sipa Press

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں