جب خطرے کا اندیشہ ہو تو اپنا فاصلہ رکھیں
کم ہی لوگ خطروں کی بابت جہازرانوں سے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ انہیں موسم، موجوں اور ساحل سے اپنے جہاز کی نزدیکی پر ضرور چوکس نظر رکھنی چاہئے۔ جب موجیں اور ہوائیں دونوں جہاز کو ساحل کی طرف دھکیلنے کیلئے اکٹھی ہو جاتی ہیں تو جہازرانوں کو سخت محنت اور خطرہ درپیش ہوتا ہے۔
ان حالات کے تحت—جو ہوا کے رخ والا کنارا کہلاتے ہیں—جہازران اپنی کشتی اور ساحل کے درمیان کافی سمندری فاصلہ رکھتا ہے خاصکر اگر جہاز صرف بادبان سے چلنے والا ہو۔ جہازرانی کی بابت درسی کتاب وضاحت کرتی ہے کہ ”ہوا کے رخ والے کنارے پر تند آندھی کی گرفت میں آ جانا ایسی بدترین حالت ہے جس میں کوئی جہازران خود کو پا سکتا ہے۔ قابلقبول حل؟ ”اپنے جہاز کو کبھی ایسی ناگوار صورتحال میں پائے جانے کی اجازت نہ دیں۔“ ریت کے ٹیلے یا چٹانی کنارے سے ٹکرا کر غرق ہو جانے سے بچنے کا محفوظ طریقہ یہ ہے کہ خطرے سے کافی فاصلہ رکھا جائے۔
مسیحیوں کو ایسے خطرات کے بارے میں حساس ہونا چاہئے جو انکے ایمان کے جہاز کو غرق کر سکتے ہیں۔ (۱-تیمتھیس ۱:۱۹) آجکل، متوازن روش کو قائم رکھنے کیلئے حالات ہرگز بھی بہترین نہیں ہیں۔ جس طرح سے موجیں اور ہوائیں ایک کشتی کو راہ سے ہٹا سکتی ہیں بالکل اسی طرح ہمارے ناکامل جسم کے مسلسل جھٹکے اور دنیا کی روح—اب شدت میں غالباً سخت آندھی کی قوت—کے بیرحم تھپیڑے لگنے کی وجہ سے ہماری مخصوصشدہ زندگیاں اپنی سمت کھو سکتی ہیں۔
ایک شخص جس نے خطرناک طریقے سے زندگی بسر کی
نادانستہ طور پر خطرناک روحانی پانیوں میں کود پڑنا کسقدر آسان ہے!
ایک مثال پر غور کریں جو بحرمردار یعنی خشکی میں محصور، پانی کے قطعے، کے نزدیک واقع ہوئی۔ ہم لوط کی مثال کا ذکر کرتے ہیں۔ سدوم میں رہنے کی بابت اسکا فیصلہ اسکے لئے بہت سے مسائل اور کافی غم کا باعث ہوا۔ اپنے چرواہوں کے درمیان جھگڑے کے بعد، ابرہام اور لوط مختلف علاقوں میں رہنے پر متفق ہو گئے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ لوط نے یردن کی ترائی کا علاقہ منتخب کیا اور اس علاقے کے شہروں کے درمیان اپنا خیمہ لگا لیا۔ بعدازاں، اس نے سدوم میں رہنے کا فیصلہ کر لیا، اگرچہ سدومیوں کا طرززندگی اسکے لئے بڑے رنج کا باعث ہوا۔—پیدایش ۱۳:۵-۱۳، ۲-پطرس ۲:۸۔
لوط نے ایسے بدنامزمانہ غیراخلاقی شہر میں رہنا کیوں جاری رکھا جس نے یہوواہ کو سخت ناراض کیا اور آسپاس کے شہروں میں رہنے والے لوگوں کیطرف سے چیخوپکار کا باعث بھی ہوا۔ سدوم خوشحال شہر تھا اور بلاشبہ لوط کی بیوی شہری زندگی کے فوائد سے لطفاندوز ہوتی تھی۔ (حزقیایل ۱۶: ۴۹، ۵۰) شاید لوط کو بھی سدوم کی خوشحال مالی حالت دلکش لگی ہو۔ وہاں رہنے کیلئے اسکی وجہ خواہ کوئی بھی تھی، اسے اسوقت سے پہلے وہاں سے نکل جانا چاہئے تھا۔ صرف یہوواہ کے فرشتوں کے سخت اصرار پر ہی لوط کے خاندان نے بالآخر اس علاقے کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
پیدایش کا بیان کہتا ہے: ”جب صبح ہوئی تو فرشتوں نے لوط سے جلدی کرائی اور کہا کہ اٹھ اپنی بیوی اور اپنی دونوں بیٹیوں کو جو یہاں ہیں لے جا۔ ایسا نہ ہو کہ تو بھی اس شہر کی بدی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہو جائے۔“ لیکن اس پراصرار آگاہی کے باوجود لوط نے ”دیر لگائی۔“ انجامکار فرشتوں نے ”اسکا اور اسکی بیوی اور اسکی دونوں بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا ... اور اسے نکال کر شہر سے باہر کر دیا۔“—پیدایش ۱۹:۱۵، ۱۶۔
شہر کے دورافتادہ علاقے میں پہنچ کر فرشتوں نے لوط کے خاندان کو کچھ آخری ہدایات دیں: ”اپنی جان بچانے کو بھاگ۔ نہ تو پیچھے مڑ کر دیکھنا نہ کہیں میدان میں ٹھہرنا۔ اس پہاڑ کو چلا جا تا نہ ہو کہ تو ہلاک ہو جائے۔“ (پیدایش ۱۹:۱۷) پھر بھی لوط نے اس علاقے کو مکمل طور پر چھوڑ دینے کی بجائے قریبی شہر ضغر میں جانے کی اجازت مانگی۔ (پیدایش ۱۹:۱۸-۲۲) ظاہر ہے کہ لوط خطرے سے ممکنہ حد تک فاصلہ رکھنے پر آمادہ نہ تھا۔
ضغر کیطرف جاتے ہوئے راستے میں، لوط کی بیوی نے بظاہر ان چیزوں کی تمنا کرتے ہوئے جنکو وہ پیچھے چھوڑ آئی تھی، پیچھے مڑ کر سدوم پر نظر کی۔ فرشتوں کی ہدایت کو نظرانداز کر دینے کی وجہ سے اس نے اپنی جان گنوا دی۔ لوط—راستباز شخص—اپنی دو بیٹیوں سمیت اس شہر کیساتھ تباہ ہونے سے بچ گیا۔ لیکن خطرے کے قریب رہنے کا انتخاب کرنے کی اسے کیا ہی قیمت چکانی پڑی!—پیدایش ۱۹:۱۸-۲۶، ۲-پطرس ۲:۷۔
خطرے سے دور رہنا
لوط کا تلخ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر ہم کسی خطرناک ماحول کے نزدیک آ جائیں یا اس کے اندر زیادہ دیر تک رہیں تو کیا واقع ہو سکتا ہے۔ حکمت یہی کہے گی کہ اچھے جہازرانوں کی مانند ہم خود کو ایسی ناگوار صورتحال میں پڑنے کی اجازت نہ دیں۔ خطرے والے بعض کونسے ایسے حلقے ہیں جن سے ہمیں دور رہنا چاہئے۔ بعض مسیحی کاروباری کاموں میں بہت زیادہ الجھ جانے سے، دنیاوی ساتھیوں کیساتھ گہری دوستی پیدا کرنے سے، یا شادی کرنے کیلئے آزاد نہ ہوتے ہوئے مخالف جنس کے کسی شخص کیساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہو جانے سے گمراہ ہو گئے ہیں۔
ہر صورت میں عقلمندی کی روش یہ ہے کہ خطرے سے اپنا فاصلہ رکھیں۔ مثال کیطور پر، کاروبار کا ایک نامنہاد سنہری موقع جن روحانی خطروں کا باعث بن سکتا ہے کیا ہم انکی بابت چوکس ہیں؟ بعض بھائیوں نے اپنے خاندانوں، اپنی صحت اور اپنی تھیوکریٹک ذمہداریوں کے نقصان کے عوض خود کو تجارتی مہموں میں غرق کر لیا ہے۔ بعضاوقات پرکشش چیز پرآسائش طرززندگی ہوتی ہے جسے پیسہ خرید سکتا ہے۔ دیگر اوقات پر یہ انکی کاروباری ہوشمندی کی طاقت کو ثابت کرنے کی بات ہوتی ہے۔ بعض شاید یہ دلیل دیں کہ انکی نیت دوسرے بھائیوں کیلئے کام مہیا کرنے کی ہے یا عالمگیر کام کی خاطر زیادہ فیاضی کیساتھ عطیہ دینے کی ہے۔ شاید وہ یہ سوچتے ہیں کہ جب کاروبار خوب چلے گا تو بادشاہی مفادات کے واسطے مختص کرنے کیلئے انکے پاس بہت زیادہ وقت ہوگا۔
بعض پوشیدہ خطرے کیا ہیں؟ غیریقینی مالی ماحول اور ”حادثہ“ بہترین طور پر منظمکردہ کاروبار کو غرق کر سکتے ہیں۔ (واعظ ۹:۱۱) بھاری قرضے کیساتھ مارے مارے پھرنا کوفت کا باعث بن سکتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ روحانی باتوں کیلئے جگہ باقی نہ بچے۔ اور جب کوئی کاروبار خوب اچھی طرح بھی چل رہا ہو، تو اغلب ہے کہ یہ کافی وقت اور ذہنی توانائی لے لیگا اور ہو سکتا ہے کہ یہ کافی زیادہ دنیاوی رفاقت کا بھی تقاضا کرے۔
سپین میں ایک مسیحی بزرگ کو جب ایک بیمہ کمپنی نے للچا دینے والی پیشکش کی تو اسوقت وہ سخت مالی مشکلات کا شکار تھا۔ اگرچہ بطور ایک بلاملازمت بیمہ ایجنٹ کے اسکے پاس کافی زیادہ پیسہ کمانے کے امکان تھے، اس نے بالآخر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ ”یہ کوئی آسان فیصلہ نہ تھا، مگر میں خوش ہوں کہ میں نے نہ کہہ دی،“ وہ وضاحت کرتا ہے۔ ”ایک بات تو یہ تھی کہ میں اپنے تھیوکریٹک تعلقات کے ذریعے پیسہ بنانے پر—براہراست بھی—آمادہ نہ تھا۔ اور اگرچہ میں خود ہی اپنا آقا ہونے کے خیال کو پسند کرتا تھا تو بھی مجھے کافی زیادہ سفر کرنا پڑا ہوتا اور کام پر کئی گھنٹے صرف کرنے پڑے ہوتے لازماً اسکا مطلب اپنے خاندان اور کلیسیا سے غفلت کرنا ہوتا۔ سب سے بڑھکر، مجھے یقین ہے کہ اگر میں نے وہ پیشکش کو قبول کر لی ہوتی تو میں نے اپنی زندگی پر قابو کھو دیا ہوتا۔“
کوئی مسیحی اپنی زندگی پر قابو کھونے کی استطاعت نہیں رکھ سکتا۔ یسوع نے ایک شخص کی تمثیل سناتے ہوئے ایسی روش کے المناک نتائج کو ظاہر کیا جس نے ریٹائر ہونے اور آرام سے زندگی گزارنے کیلئے زیادہ سے زیادہ دولت جمع کی۔ مگر عین جس رات اس نے فیصلہ کیا کہ اسکے پاس کافی پیسہ ہے اسی رات وہ مر گیا۔ ”ایسا ہی وہ شخص ہے جو اپنے لئے خزانہ جمع کرتا ہے اور خدا کے نزدیک دولتمند نہیں،“ یسوع نے خبردار کیا۔—لوقا ۱۲:۱۶-۲۱، مقابلہ کریں یعقوب ۴:۱۳-۱۷۔
ہمیں بھی دنیاوی لوگوں کیساتھ بہت زیادہ رفاقت سے ضرور بچنا چاہئے۔ شاید یہ کوئی پڑوسی ہے، سکول کا دوست ہے، ساتھی کارکن ہے، یا کاروباری ساتھی ہے۔ ہم شاید یہ دلیل دیں، ”وہ گواہوں کا احترام کرتا ہے، وہ پاکصاف زندگی گزارتا ہے اور ہم کبھیکبھار سچائی کے متعلق بھی گفتگو کرتے ہیں۔“ تو بھی دوسروں کا تجربہ ثابت کرتا ہے کہ کچھ وقت گزرنے کے بعد ہم شاید ایسی دنیاوی رفاقت کو روحانی بھائیوں اور بہنوں کی رفاقت پر ترجیح دیں۔ ایسی دوستی کے بعض خطرے کیا ہیں؟
ہو سکتا ہے کہ ہم جس وقت میں رہتے ہیں ہم اسکی اہمیت کو کم سمجھنا یا روحانی چیزوں کی بجائے مادی چیزوں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی لینا شروع کر دیں۔ شاید اپنے دنیاوی دوست کو ناراض کرنے کے خوف کی وجہ سے ہم دنیا کے نزدیک قابلقبول ہونا چاہیں۔ (مقابلہ کریں ۱-پطرس ۴:۳-۷۔) اسکی دوسری جانب، زبونویس داؤد نے ایسے لوگوں کیساتھ رفاقت رکھنے کو ترجیح دی جو یہوواہ سے محبت رکھتے تھے۔ ”میں اپنے بھائیوں سے تیرے نام کا اظہار کرونگا۔ جماعت میں تیری ستائش کرونگا،“ اس نے لکھا۔ (زبور ۲۲:۲۲) ایسی دوستی کے طالب ہوتے ہوئے جو ہمیں روحانی طور پر تقویت دے سکتی ہے، اگر ہم داؤد کے نمونے کی نقل کریں تو ہمیں تحفظ حاصل ہوگا۔
ایک اور نہایت خطرناک روش مخالف جنس کے کسی شخص کیساتھ جذباتی طور پر الجھ جانے کی ہے جبکہ ایک شخص شادی کرنے کیلئے آزاد نہیں ہے۔ اسوقت خطرہ پیدا ہو سکتا ہے جب کسی کی رغبت کسی ایسے شخص کی طرف ہو جائے جو پرکشش ہو، جسکی گفتگو تحریک دینے والی ہو اور جسکا نکتہنظر اور مزاحفہمی بھی ویسی ہی ہو۔ کوئی یہ استدلال کرتے ہوئے شاید اس مرد یا عورت کی رفاقت بھی پسند کرے کہ ”مجھے اپنی حد معلوم ہے۔ ہم تو محض دوست ہیں۔“ البتہ، جذبات جب ابھر جائیں تو ان پر قابو پانا آسان نہیں ہوتا۔
ایک نوجوان شادیشدہ بہن، میری، کو مائیکل کی رفاقت سے لطف حاصل ہوتا تھا۔a وہ ایک عمدہ بھائی تھا مگر اس نے دوست بنانے کو مشکل پایا۔ ان میں بہت سی باتیں مشترک تھیں اور انہیں معلوم ہوا کہ وہ مل کر مذاق کر سکتے ہیں۔ میری یہ سوچ کر بہت فخر کرتی تھی کہ ایک غیرشادیشدہ بھائی اسے اپنا ہمراز بنانا چاہتا تھا۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ جو بات بےضرر دوستی لگتی تھی، گہری جذباتی وابستگی بن گئی۔ انہوں نے زیادہ سے زیادہ وقت اکٹھے گزارا اور بالآخر حرامکاری کے مرتکب ہوئے۔ میری آہیں بھر کر کہتی ہے کہ ”مجھے شروع ہی میں خطرے کو بھانپ لینا چاہئے تھا۔ جب دوستی کی نشوونما ہوئی تو یہ ہمیں مزید گہرے طور پر غرق کرنے والی ریگرواں کی مانند بن گئی۔“
ہمیں بائبل کی اس آگاہی کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے: ”دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہباز اور لاعلاج ہے۔ اسکو کون دریافت کر سکتا ہے؟“ (یرمیاہ ۱۷:۹) اس موج کی مانند جو بادبانی کشتی کو چٹانوں پر دے مارتی ہے، ہمارا حیلہباز دل ہمیں تباہکن جذباتی وابستگی میں دھکیل سکتا ہے۔ اسکا حل؟ اگر آپ شادی کرنے کیلئے آزاد نہیں ہیں تو جس شخص کو آپ پرکشش پاتے ہیں، اس سے اپنا جذباتی فاصلہ رکھنے کیلئے سوچسمجھ کر کام کریں۔—امثال ۱۰:۲۳۔
خطرے سے آزاد ہونا اور آزاد رہنا
اگر ہم پہلے ہی سے خود کو روحانی خطروں میں پاتے ہیں تو پھر کیا؟ جب ہوا اور موج جہازرانوں کو چٹانی کنارے کیطرف دھکیل رہی ہوتی ہیں تو وہ جان پر کھیل کر اپنے جہازوں کو سمندر کیطرف لیجانے کیلئے یا انکے چنگل سے نجات حاصل کرنے کیلئے اسوقت تک کام کرتے ہیں جبتک کہ وہ محفوظ پانیوں میں نہیں پہنچ جاتے۔ اسی طرح سے ہمیں خود کو آزاد کرانے کیلئے جدوجہد کرنا لازم ہے۔ صحیفائی مشورت پر دھیان دینے سے، یہوواہ کی مدد کیلئے سنجیدگی کیساتھ دعا کرنے سے، اور پختہ مسیحی بھائیوں کی مدد حاصل کرنے سے، ہم واپس محفوظ روش پر آ سکتے ہیں۔ ہمیں پھر سے ذہنی اور قلبی سکون سے نوازا جائیگا۔—۱-تھسلینیکیوں۵:۱۷۔
ہمارے حالات خواہ کیسے بھی ہوں، اگر ہم ”دنیا کی باتوں“ سے دور رہتے ہیں تو ہم عقلمند ہیں۔ (گلتیوں ۴:۳، اینڈبلیو) لوط کیساتھ موازنے میں، ابرہام نے دنیادار کنعانیوں سے علیحدہ رہنے کا انتخاب کیا اگرچہ اسکا مطلب بہت سالوں تک خیموں میں بودوباش کرنا تھا۔ شاید اسکے پاس بعض مادی آسائشوں کی کمی تھی، مگر اسکے سادہ طرززندگی نے روحانی طور پر اسکی حفاظت کی۔ اپنے ایمان کے جہاز کو غرق کر لینے کی بجائے، وہ ”ان سب کا باپ [ٹھہرا] جو ... ایمان لاتے ہیں۔“—رومیوں ۴:۱۱۔
جبکہ ہم ایک تنپرور دنیا سے گھرے ہوئے ہیں جسکی ”روح“ پہلے سے زیادہ طاقتور ہے تو ہمیں ابرہام کے نمونے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ (افسیوں ۲:۲) اگر ہم تمام باتوں میں یہوواہ کی ہدایت قبول کریں گے تو ہم براہراست اسکے پرمحبت تحفظ کا تجربہ کرنے کی برکت پائیں گے۔ ہم داؤد کی طرح محسوس کریں گے: ”وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔ وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں میں لے چلتا ہے۔ یقیناً بھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گی اور میں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کرونگا۔“ اسکی بابت کوئی شبہ نہیں کہ خطرے والے راستوں کیطرف رخ موڑنے کی بجائے صداقت کی راہوں پر چلنا، ابدی برکات کا باعث ہوگا۔—زبور ۲۳:۳، ۶۔ (۹۴ ۲۲ ۲/۱۵ w)
[فٹنوٹ]
a بعض نام تبدیل کر دئے گئے ہیں
[تصویر]
اگر آپ شادی کرنے کیلئے آزاد نہیں ہیں تو جس شخص کو آپ پرکشش پاتے ہیں اس سے جذباتی فاصلہ رکھیں