کیا آپ دنیا کی روح کی مزاحمت کر رہے ہیں؟
”ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے۔“—۱-کرنتھیوں ۲:۱۲۔
۱، ۲. بھوپال انڈیا، میں زہریلی گیس کے سلسلے میں کیا المیہ واقع ہوا، لیکن پوری دنیا کے اندر کونسی اس سے بھی زیادہ مہلک ”گیس“ میں سانس لیا جا رہا ہے؟
دسمبر ۱۹۸۴ کی ایک سرد رات کو، بھوپال، انڈیا میں ایک نہایت تکلیفدہ واقعہ پیش آیا۔ اس شہر میں ایک کیمیاوی کارخانہ ہے، اور دسمبر کی اس رات گیس کے ذخیرہخانوں میں سے ایک کے والو میں کچھ نقص پڑ گیا۔ اچانک، ٹنوں کے حساب سے میتھل آئسوسائنیٹ فضا میں بکھرنے لگی۔ ہوا کے ذریعے، یہ مہلک گیس گھروں کے اندر اور سوتے ہوئے خاندانوں کے اوپر گردش کرنے لگی۔ مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں تھی، اور بہتیرے معذور ہو گئے۔ یہ اس وقت تک کا بدترین صنعتی حادثہ تھا۔
۲ لوگوں نے جب بھوپال کی بابت سنا تو انہیں بہت زیادہ دکھ پہنچا۔ لیکن اگرچہ جانلیوا ہونے کے باعث، وہاں پر خارج ہونے والی گیس نے اس سے کئی گنا کم لوگوں کو ہلاک کیا جو کہ روحانی طور پر ایک ایسی ”گیس“ کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں جس میں روزانہ پوری دنیا کے لوگ سانس لیتے ہیں۔ بائبل اسے ”دنیا کی روح“ کہتی ہے۔ یہ وہی مہلک فضا ہے جس کا موازنہ پولس رسول نے خدا کے روح کیساتھ کیا جب اس نے کہا: ”مگر ہم نے نہ دنیا کی روح بلکہ وہ روح پایا جو خدا کی طرف سے ہے تاکہ ان باتوں کو جانیں جو خدا نے ہمیں عنایت کی ہیں۔“—۱-کرنتھیوں ۲:۱۲۔
۳. ”دنیا کی روح“ کیا ہے؟
۳ درحقیقت ”دنیا کی روح“ کیا ہے؟ دی نیو تھائیرز گریک انگلش لیکسیکن آف دی نیو ٹسٹامنٹ کے مطابق، لفظ ”روح“ (یونانی، نیوما) کا عام مطلب ہے ”ایسا رجحان یا اثر جو کسی شخص کی پوری زندگی کو معمور کرتا اور اس پر اثرانداز ہوتا ہے۔“ ایک شخص اچھی یا بری روح، یا بااثر رجحان رکھ سکتا ہے۔ (زبور ۵۱:۱۰، ۲-تیمتھیس ۴:۲۲) لوگوں کا ایک گروہ بھی ایک روح، یا بااثر رجحان رکھ سکتا ہے۔ پولس رسول نے اپنے دوست فلیمون کو لکھا: ”ہمارے خداوند یسوع مسیح کا فضل تمہاری روح پر ہوتا رہے۔“ (فلیمون ۲۵) اسی طرح—لیکن بڑے وسیع پیمانے پر—دنیا میں عام طور پر برتری کا رجحان پایا جاتا ہے، اور یہی ہے ”دنیا کی روح“ جس کا حوالہ پولس نے دیا۔ ونسنٹ کے ورڈ اسٹڈیز ان دی نیو ٹسٹامنٹ، کے مطابق، ”اس جزوجملہ کا مطلب ہے بدی کی بنیادی حقیقت جو سرکش دنیا کو تحریک دیتی ہے۔“ یہ گنہگارانہ رغبت ہے جو اس دنیا کی سوچ میں سرایت کرتی اور جس طریقے سے لوگ کام کرتے ہیں اس پر بھی پرزور طریقے سے اثرانداز ہوتی ہے۔
۴. دنیا کی روح کا ماخذ کون ہے، اور یہ روح انسانوں پر کیا اثر رکھتی ہے؟
۴ یہ روح زہریلی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ یہ ”اس دنیا کے سردار،“ شیطان کی طرف سے آتی ہے۔ درحقیقت، اسے ”ہوا کی عملداری [کا] حاکم یعنی [وہ] روح ... جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے“ کہا جاتا ہے۔ (یوحنا ۱۲:۳۱، افسیوں ۲:۲) اس ”ہوا“ یا ”روح [سے] ... جو اب نافرمانی کے فرزندوں میں تاثیر کرتی ہے“ بچنا مشکل ہے۔ یہ انسانی معاشرے میں ہر جگہ موجود ہے۔ اگر ہم اسے سانس کے ذریعے اندر لیتے ہیں تو ہم اسکے رجحانات، اسکے مقاصد کو اختیار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دنیا کی روح ”جسم کے مطابق زندگی گزارنے“ کی حوصلہافزائی کرتی ہے، یعنی، اپنی گنہگارانہ ناکاملیت کے مطابق۔ یہ مہلک ہے، ”کیونکہ اگر تم جسم کے مطابق زندگی گزاروگے تو ضرور مروگے۔“—رومیوں ۸:۱۳۔
اس دنیا کی روح سے بچنا
۵. بھوپال میں حادثے کے دوران ایک گواہ نے کیسے دانشمندی سے کام کیا؟
۵ بھوپال میں تباہی کے دوران، یہوواہ کا ایک گواہ سائرنوں کی آواز اور زہریلی گیس کی تیز بو سے جاگ گیا۔ بلاتاخیر اس نے اپنے خاندان کو جگایا اور انہیں لے کر باہر سڑک پر نکل آیا۔ ایک لمحے کیلئے رک کر ہوا کی سمت کا اندازہ کرنے کے بعد، اس نے پریشانحال ہجوم کے بیچ میں سے بڑی کوشش کیساتھ اپنا راستہ بنایا اور اپنے خاندان کو شہر سے باہر ایک پہاڑی کی چوٹی پر لے گیا۔ وہاں وہ اپنے پھیپھڑوں کو تازہ، صاف ہوا سے بھرنے کے قابل ہوئے جو کہ قریبی جھیل سے ہو کر آ رہی تھی۔
۶. دنیا کی روح سے بچنے کیلئے ہم کہاں جا سکتے ہیں؟
۶ کیا کوئی ایسا بلند مقام ہے جہاں ہم اس دنیا کی زہریلی ”ہوا“ سے پناہ حاصل کرنے کیلئے جا سکتے ہیں؟ بائبل کہتی ہے کہ ایسا مقام ہے۔ آگے ہمارے زمانے کی طرف دیکھتے ہوئے یسعیاہ نبی نے لکھا: ”آخری دنوں میں یوں ہوگا کہ خداوند کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائیگا اور ٹیلوں سے بلند ہوگا اور سب قومیں وہاں پہنچینگی۔ بلکہ بہت سی امتیں آئینگی اور کہینگی آؤ خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائیگا اور ہم اسکے راستوں پر چلینگے کیونکہ شریعت صیون سے اور خداوند کا کلام یروشلیم سے صادر ہوگا۔“ (یسعیاہ ۲:۲، ۳) پاک پرستش کی اونچی جگہ، ”یہوواہ کے گھر کا“ بلند ”پہاڑ“ اس سیارے کا وہ واحد مقام ہے جو کہ اس دنیا کی دم گھونٹنے والی، زہریلی روح سے پاک ہے۔ یہ ہے وہ جگہ جہاں وفادار مسیحیوں کے درمیان یہوواہ کی روح آزادی سے گردش کرتی ہے۔
۷. کیسے بہتیروں کو دنیا کی روح سے بچایا گیا ہے؟
۷ بہتیرے جنہوں نے ماضی میں دنیا کی روح کے زیراثر سانس لیا ہے اب اسی طرح کی تسکین سے لطف اٹھا رہے ہیں جسکا تجربہ بھوپال میں اس گواہ کو ہوا تھا۔ ”نافرمانی کے فرزندوں“ کا ذکر کرنے کے بعد جو اس دنیا کی ہوا، یا روح میں سانس لیتے ہیں، پولس رسول کہتا ہے: ”ان میں ہم بھی سب کے سب پہلے اپنے جسم کی خواہشوں میں زندگی گزارتے اور جسم اور عقل کے ارادے پورے کرتے تھے اور دوسروں کی مانند طبعی طور پر غضب کے فرزند تھے۔ مگر خدا نے اپنے رحم کی دولت سے اس بڑی محبت کے سبب سے جو اس نے ہم سے کی جب قصوروں کے سبب سے مردہ ہی تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا۔“ (افسیوں ۲:۳-۵) وہ جو صرف اس نظام کی زہریلی ہوا میں سانس لیتے ہیں وہ روحانی طور پر مردہ ہیں۔ تاہم، یہوواہ کا شکر ہے کہ آجکل لاکھوں روحانی بلند مقام کی طرف بھاگ رہے ہیں اور اس مہلک حالت سے بچ کر نکل رہے ہیں۔
”دنیا کی روح“ کے مظاہر
۸، ۹. (ا) کیا چیز ظاہر کرتی ہے کہ ہمیں دنیا کی روح کے خلاف ہمیشہ محتاط رہنا چاہئے؟ (ب) شیطان کی روح ہمیں کیسے بگاڑ سکتی ہے؟
۸ شیطان کی مہلک ہوا ابھی تک ہمارے اردگرد چکر کاٹتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور کبھی بھی بہہ کر روحانی طور پر دم گھٹنے سے، واپس دنیا میں نہیں چلے جانا چاہئے۔ یہ متواتر چوکنا رہنے کا تقاضا کرتا ہے۔ (لوقا ۲۱:۳۶، ۱-کرنتھیوں ۱۶:۱۳) مثال کے طور پر، اس حقیقت پر غور کریں۔ تمام مسیحی اخلاقیات سے متعلق یہوواہ کے معیاروں سے واقف ہیں اور اس سے کبھی بھی متفق نہیں ہونگے کہ زناکاری، حرامکاری، اور لونڈےبازی جیسے ناپاک کام قابلقبول ہیں۔ تاہم، ہر سال تقریباً ۴۰،۰۰۰ افراد یہوواہ کی تنظیم میں سے خارج کئے جاتے ہیں۔ کیوں؟ زیادہتر معاملات میں انہی جیسے ناپاک کاموں کی وجہ سے۔ یہ کیسے واقع ہو سکتا ہے؟
۹ کیونکہ ہم سب ناکامل ہیں۔ جسم کمزور ہے اور ہمیں مسلسل ان غلط رغبتوں کے خلاف لڑنا پڑتا ہے جو ہمارے دل میں ابھرتی رہتی ہیں۔ (واعظ ۷:۲۰، یرمیاہ ۱۷:۹) تاہم، یہ غلط رغبتیں دنیا کی روح سے تقویت پاتی ہیں۔ اس دنیا میں بہتیرے بداخلاقی میں کوئی برائی نہیں پاتے، اور یہ نظریہ کہ سب چلتا ہے شیطان کے اس نظام کی ذہنی رغبت کا ایک حصہ ہے۔ اگر ہم خود کو ایسی سوچ کے خطرے میں پڑنے دیتے ہیں تو اس بات کا پرزور امکان ہے کہ ہم بھی دنیا کی طرح سوچنے لگیں گے۔ بہت جلد، ایسے ناپاک خیالات غلط خواہشات پیدا کر سکتے ہیں جو کہ سنگین گناہ پر منتج ہونگی۔ (یعقوب ۱:۱۴، ۱۵) ہم یہوواہ کی پاک پرستش کے پہاڑ سے بھٹک کر شیطان کی دنیا کے آلودہ نشیبی علاقے میں پہنچ گئے ہونگے۔ کوئی بھی جو جانبوجھ کر یہاں رہ جاتا ہے ہمیشہ کی زندگی کا وارث نہ ہوگا۔—افسیوں ۵:۳-۵، ۷۔
۱۰. شیطان کی ہوا کا ایک مظہر کیا ہے، اور مسیحیوں کو کیوں اس سے بچنا چاہئے؟
۱۰ دنیا کی روح ہمارے چاروں طرف دکھائی دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایسا غیرسنجیدہ، طنزآمیز رویہ پایا جاتا ہے جس کے ساتھ بہتیرے زندگی گزارتے ہیں۔ بدچلن یا احمق سیاستدانوں اور بداخلاق، لالچی مذہبی راہنماؤں کے فریب میں آ کر وہ اہمیت کی حامل چیزوں کی بابت بھی گستاخانہ کلام کرتے ہیں۔ مسیحی اس رجحان کی مزاحمت کرتے ہیں۔ اگرچہ ہم خوشگوار مزاحفہمی ہی رکھتے ہوں، ہم بےادبی کی طنزآمیز روح کو کلیسیا میں لانے سے گریز کرینگے۔ ایک مسیحی کی باتچیت یہوواہ کے خوف اور دل کی پاکیزگی کو منعکس کرتی ہے۔ (یعقوب ۳:۱۰، ۱۱، مقابلہ کریں امثال ۶:۱۴۔) خواہ ہم جوان ہیں یا بوڑھے، ہمارا کلام ”ہمیشہ ایسا پرفضل اور نمکین“ ہونا چاہئے ”کہ [ہمیں] ہر شخص کو مناسب جواب دینا آ جائے۔“—کلسیوں ۴:۶۔
۱۱. (ا) دنیا کی روح کا دوسرا پہلو کیا ہے؟ (ب) کیوں مسیحی ان سے مختلف ہیں جو اس پہلو کو منعکس کرتے ہیں؟
۱۱ اس دنیا کی روح کو منعکس کرنے والی ایک دوسری عام رغبت نفرت ہے۔ دنیا نسلی، طبقاتی، قومی، اور شخصی اختلافات پر مبنی نفرتوں اور خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے منقسم ہے۔ جہاں خدا کی روح سرگرمعمل ہے وہاں حالتیں کسقدر بہتر ہیں! پولس رسول نے لکھا: ”بدی کے عوض کسی سے بدی نہ کرو۔ جو باتیں سب لوگوں کے نزدیک اچھی ہیں انکی تدبیر کرو۔ جہاں تک ہو سکے تم اپنی طرف سے سب آدمیوں کیساتھ میلملاپ رکھو۔ اے عزیزو! اپنا انتقام نہ لو بلکہ غضب کو موقع دو کیونکہ یہ لکھا ہے کہ خداوند فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ میں ہی دونگا۔ بلکہ اگر تیرا دشمن بھوکا ہو تو اسکو کھانا کھلا۔ اگر پیاسا ہو تو اسے پانی پلا کیونکہ ایسا کرنے سے تو اسکے سر پر آگ کے انگاروں کا ڈھیر لگائیگا۔ بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی پر غالب آؤ۔“—رومیوں ۱۲:۱۷-۲۱۔
۱۲. مادہپرستی سے مسیحی کیوں گریز کرتے ہیں؟
۱۲ اس دنیا کی روح مادہپرستی کو بھی تحریک دیتی ہے۔ تجارتی دنیا سے متاثر ہو کر، بہتیرے جدیدترین آلات، جدیدترین فیشن، کار کے نتنئے ماڈل سے مغلوب ہوتے ہیں۔ وہ ”آنکھوں کی خواہش“ کے غلام بن جاتے ہیں۔ (۱-یوحنا ۲:۱۶) بہتیرے زندگی میں اپنی کامیابی کا اندازہ اپنے گھر کے سائز یا اپنے بینک اکاؤنٹ سے لگاتے ہیں۔ یہوواہ کی سچی پرستش کے بلند پہاڑ کے اوپر صافستھری روحانی ہوا میں سانس لینے والے مسیحی اس میلان کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مادی چیزوں کو حاصل کرنے کا عزم تباہکن ہو سکتا ہے۔ (۱-تیمتھیس ۶:۹، ۱۰) یسوع نے اپنے شاگردوں کو یاد دلایا تھا: ”کسی کی زندگی اسکے مال کی کثرت پر موقوف نہیں۔“—لوقا ۱۲:۱۵۔
۱۳. اس دنیا کی روح کے بعض مزید مظاہر کونسے ہیں؟
۱۳ اس دنیا کی غیرصحتبخش ”ہوا“ کے اور بھی مظاہر ہیں۔ ایک تو بغاوت کی روح ہے۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۳) کیا آپ نے غور کیا ہے کہ بہتیرے لوگ حکام کیساتھ اب کبھی تعاون نہیں کرتے؟ کیا آپ نے اپنی دنیاوی ملازمت میں اسوقت تک کام نہ کرنے کے عام رجحان کا مشاہدہ کیا ہے جب تک کہ کوئی واقعی نگرانی نہ کر رہا ہو؟ آپ کتنے ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے قانون کو توڑا ہے—شاید اپنے ٹیکسوں میں دھوکا کیا ہے یا کام کی جگہ پر چوری کی ہے؟ اگر آپ ابھی تک اسکول جاتے ہیں تو کیا آپ کبھی مقدور بھر کوشش کرنے سے بےحوصلہ ہوئے ہیں اسلئے کہ آپکے ہم جماعت انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں جو تعلیمی لحاظ سے کامیاب ہوتے ہیں؟ یہ تمام دنیا کی روح کے مظاہر ہیں جنکی مسیحیوں کو لازماً مزاحمت کرنی چاہئے۔
جسطرح دنیا کی اس روح کی مزاحمت کی جائے
۱۴. مسیحی کن طریقوں سے غیرمسیحیوں سے فرق ہیں؟
۱۴ تاہم، کیسے، ہم دنیا کی روح کی مزاحمت کر سکتے ہیں جبکہ ہم درحقیقت اس دنیا کے اندر رہتے ہیں؟ ہمیں یاد رکھنا ہے کہ جسمانی طور پر ہم چاہے کہیں بھی ہوں، روحانی طور پر ہم دنیا کا حصہ نہیں ہیں۔ (یوحنا ۱۷:۱۵، ۱۶) ہماری منازل اس دنیا کی منازل نہیں ہیں۔ معاملات کی بابت ہمارا نقطۂنظر بھی مختلف ہے۔ ہم روحانی لوگ ہیں، ہم ان باتوں کو ”ان الفاظ میں نہیں بیان کرتے جو انسانی حکمت نے ہم کو سکھائے ہوں بلکہ ان الفاظ میں جو روح نے سکھائے ہیں اور روحانی باتوں کا روحانی باتوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔“—۱-کرنتھیوں ۲:۱۳۔
۱۵. ہم دنیا کی روح کی مزاحمت کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۵ اگر ایک شخص خود کو ایک ایسے علاقے میں پاتا ہے جو زہریلی گیس سے آلودہ ہے تو وہ کیا کر سکتا ہے؟ یا تو وہ ہوا کی صاف سپلائی کیساتھ جڑا ہوا گیس ماسک پہن سکتا ہے، یا پھر وہ جسمانی طور پر خود کو اس جگہ سے ہٹا سکتا ہے۔ شیطان کی ہوا سے گریز کرنے کا طریقہ ان طریقۂکاروں کو یکجا کرتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہے، ہم جسمانی طور پر خود کو ہر ایسی چیز سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جو دنیا کی روح کو ہماری سوچ پر اثرانداز ہونے کے قابل بنائیگی۔ پس، ہم بری صحبت سے کنارہ کرتے ہیں، اور نہ ہی ہم خود کو کسی ایسی قسم کی تفریح کے خطرے میں پڑنے دیتے ہیں جو تشدد، بداخلاقی، ارواحپرستی، بغاوت، یا جسم کے کسی اور کام کو فروغ دیتی ہے۔ (گلتیوں ۵:۱۹-۲۱) تاہم، چونکہ ہم دنیا میں رہتے ہیں، ہم پورے طور پر ان چیزوں کے خطرے سے بچ نہیں سکتے۔ لہذا ہم عقلمندی سے کام کر رہے ہونگے اگر ہم تازہ روحانی ہوا کی سپلائی کیساتھ وابستہ رہتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اجلاسوں پر باقاعدہ حاضری، ذاتی مطالعہ، مسیحی کارگزاری اور رفاقت، اور دعا کے ذریعے ہم اپنے روحانی پھیپھڑوں کو بھرتے ہیں۔ یوں اگر شیطان کی ہوا کسی طرح سے چھید کرکے ہمارے روحانی پھیپھڑوں میں داخل ہو بھی جائے، تو خدا کی روح اسے مسترد کرنے کیلئے ہمیں تقویت دیتی ہے۔—زبور ۱۷:۱-۳، امثال ۹:۹، ۱۳:۲۰، ۱۹:۲۰، ۲۲:۱۷۔
۱۶. ہم خدا کی روح رکھنے کا ثبوت کیسے دیتے ہیں؟
۱۶ خدا کی روح ایک مسیحی کو ایسے شخص میں تبدیل کر دیتی ہے جو کہ ان سے نمایاں طور پر فرق دکھائی دیتا ہے جو اس دنیا کا حصہ ہیں۔ (رومیوں ۱۲:۱، ۲) پولس نے کہا: ”روح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔“ (گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) نیز خدا کی روح ایک مسیحی کو معاملات کی گہری سمجھ بھی عطا کرتی ہے۔ پولس نے کہا: ”خدا کے روح کے سوا کوئی خدا کی باتیں نہیں جانتا۔“ (۱-کرنتھیوں ۲:۱۱) عام طور پر، ”خدا کی باتوں“ میں ایسی سچائیاں شامل ہیں جیسے کہ فدیے کی قربانی، یسوع مسیح کے تحت خدا کی بادشاہت، ہمیشہ کی زندگی کی امید، اور سر پر کھڑا اس شریر دنیا کا خاتمہ۔ خدا کی روح کی مدد سے، مسیحی ان باتوں کو سچائی کے طور پر جانتے اور قبول کرتے ہیں، اور یہ زندگی کی بابت ان کے نقطۂنظر کو دنیا کے لوگوں سے مختلف بنا دیتا ہے۔ وہ اس امکان کیساتھ اب یہوواہ کی خدمت کرنے میں خوشی حاصل کرکے مطمئن ہیں کہ وہ آنے والے وقت میں ہمیشہ تک اسکی خدمت کرتے رہینگے۔
۱۷. دنیا کی روح کی مزاحمت کرنے میں کس نے بہترین مثال قائم کی، اور کیسے؟
۱۷ یسوع ان کیلئے اعلی کردار کی ایک مثال تھا جو اس دنیا کی روح کی مزاحمت کرتے ہیں۔ یسوع کے بپتسمہ کے فوراً بعد، شیطان نے تین آزمائشیں لاتے ہوئے اسے یہوواہ کی خدمت کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ (متی ۴:۱-۱۱) سب سے آخر والی میں یہ امکان تھا کہ شیطان کو صرف ایک بار سجدہ کرنے کے عوض، یسوع ساری دنیا کی حکمرانی حاصل کر سکتا تھا۔ یسوع دلیل دے سکتا تھا: ”کوئی بات نہیں میں ایک دفعہ سجدہ کر لونگا، اور پھر دنیا کی حکمرانی حاصل کر لینے کے بعد میں توبہ کر لونگا اور واپس یہوواہ کی پرستش کرنے کی طرف لوٹ جاؤنگا۔ دنیا کے حکمران کے طور پر، میں نوعانسانی کو فائدہ پہنچانے کیلئے بہتر حالت میں ہونگا بہنسبت اس وقت کے جب کہ میں ناصرت کا ایک بڑھئی ہوں۔“ یسوع نے اسطرح سے استدلال نہ کیا۔ وہ اس وقت تک انتظار کرنے کیلئے رضامند تھا جب تک کہ یہوواہ اسے دنیا کی حکمرانی عطا نہیں کر دیتا۔ (زبور ۲:۸) اس موقع پر، اور اپنی زندگی میں دیگر تمام موقعوں پر، اس نے شیطان کی ہوا کے زہریلے اثر کی مزاحمت کی۔ یوں وہ، روحانی طور پر آلودہ اس دنیا پر غالب آیا۔—یوحنا ۱۶:۳۳۔
۱۸. ہمارا دنیا کی روح کی مزاحمت کرنا یہوواہ کیلئے کیسے تمجید لاتا ہے؟
۱۸ پطرس رسول نے کہا کہ ہمیں بڑے احتیاط سے یسوع کے نقشقدم پر چلنا چاہئے۔ (۱-پطرس ۲:۲۱) اس سے بہتر اور کونسی مثال ہمیں مل سکتی ہے؟ ان آخری دنوں میں، دنیا کی روح سے متاثر ہو کر، انسان زیادہ سے زیادہ اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ کتنی شاندار بات ہے کہ ایسی دنیا کے اندر بھی یہوواہ کی پرستش کی بلند جگہ پاک اور صاف طور پر نمایاں ہے! (میکاہ ۴:۱، ۲) یقیناً اس میں خدا کی قوت کو دیکھا گیا ہے کہ لاکھوں لوگ ہر جگہ پھیلی ہوئی دنیا کی روح کی مزاحمت کرتے اور یہوواہ کی عزتوتمجید کرتے ہوئے خدا کی پرستش کے مقام کی جانب بڑھے چلے آ رہے ہیں! (۱-پطرس ۲:۱۱، ۱۲) دعا ہے کہ ہم سب اس وقت تک اس بلند مقام میں رہنے کا عزممصمم کئے رکھیں جبتک یہوواہ کا ممسوح بادشاہ اس بدکار دنیا کو ختم نہیں کر دیتا اور شیطان اور اسکے شیاطین کو اتھاہگڑھے میں بند نہیں کر دیتا۔ (مکاشفہ ۱۹:۱۹-۲۰:۳) تب، اس دنیا کی روح باقی نہ رہیگی۔ وہ کسقدر مبارک وقت ہوگا! (۱۴ ۴/۱ w۹۴)
کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟
▫ دنیا کی روح کیا ہے؟
▫ اس دنیا کی روح لوگوں پر کیا اثر رکھتی ہے؟
▫ دنیا کی روح کے بعض مظاہر کیا ہیں، اور ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟
▫ ہم یہ کیسے ظاہر کرتے ہیں کہ ہم خدا کی روح رکھتے ہیں؟
▫ جو دنیا کی روح کی مزاحمت کرتے ہیں انہیں کونسی برکات حاصل ہوتی ہیں؟
[تصویر]
دنیا کی روح شیطان کی طرف سے ہے
دنیا کی روح سے بچنے کیلئے یہوواہ کی پرستش کے بلند مقام کی طرف بھاگ جائیں