یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏6 ص.‏ 16-‏21
  • قوموں کیساتھ یہوواہ کا جھگڑا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • قوموں کیساتھ یہوواہ کا جھگڑا
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مسیحی دنیا کے اباحتی قلمرو کیخلاف فیصلہ
  • بڑے بابل کیخلاف فیصلہ
  • ‏”‏سب قوموں“‏ کیخلاف فیصلہ
  • چرواہوں کا واویلا کرنا اور چلانا
  • یرمیاہ کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏6 ص.‏ 16-‏21

قوموں کیساتھ یہوواہ کا جھگڑا

‏”‏ایک غوغا زمین کی سرحدوں تک پہنچا ہے کیونکہ خداوند قوموں سے جھگڑیگا۔“‏—‏یرمیاہ ۲۵:‏۳۱‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ یوسیاہ بادشاہ کی وفات کے بعد یہوداہ میں کیا واقع ہوا؟ (‏ب)‏ یہوداہ کا آخری بادشاہ کون تھا، اور اس نے اپنی بے‌وفائی کے باعث کیسے مصیبت اٹھائی؟‏

یہوداہ کے ملک کو ایسے تشویشناک دنوں کا سامنا تھا جن سے نپٹنا نہایت مشکل تھا۔ ایک نیک بادشاہ، یوسیاہ عارضی طور پر یہوواہ کے قہرشدید میں تاخیر کرانے کا باعث ہوا۔ لیکن اسکے بعد کیا ہوا جب ۶۲۹ ق۔س۔ع۔ میں یوسیاہ مارا گیا؟ اسکے بعد آنے والے بادشاہوں نے یہوواہ کی بے‌حرمتی کی۔‏

۲ یہوداہ کے آخری بادشاہ، یوسیاہ کے چوتھے بیٹے، صدقیاہ نے، جیسا کہ ۲-‏سلاطین ۲۴:‏۱۹ بیان کرتی ہے، ”‏جو جو [‏اسکے بڑے بھائی]‏ یہویقیم نے کیا تھا اسی کے مطابق اس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی،“‏ کرنا جاری رکھا۔ نتیجہ؟ نبوکدنضر یروشلیم کے خلاف چڑھ آیا، صدقیاہ کو گرفتار کیا، اسکی آنکھوں کے سامنے اسکے بیٹوں کو قتل کیا، اسکو اندھا کر دیا اور اسے بابل کو لے گیا۔ مزیدبرآں، بابلیوں نے ہیکل اور شہر کو نذرآتش کرتے ہوئے، یہوواہ کی پرستش میں استعمال ہونے والے ظروف پر مال‌غنیمت کے طور پر قبضہ کر لیا۔ زندہ بچنے والے بابل میں جلاوطن ہو گئے۔‏

۳.‏ ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ میں یروشلیم کی تباہی کے ساتھ کس دور کا آغاز ہوا، اور اس دور کے اختتام پر کیا واقع ہونے والا تھا؟‏

۳ ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ کے اس سال نے نہ صرف یروشلیم کی حتمی بربادی کی بلکہ لوقا ۲۱:‏۲۴ میں حوالہ‌شدہ ”‏غیرقوموں کی میعاد“‏ کے شروع ہونے کی بھی نشاندہی کی۔ ۲،۵۲۰ سال کی اس مدت کا اختتام ہماری صدی میں، ۱۹۱۴ کے سال میں، ہوا۔ تب تک یہوواہ کیلئے، اپنے تخت‌نشین بیٹے، یسوع مسیح کے ذریعے، جو نبوکدنضر سے بھی بڑا ہے، بدعنوان دنیا پر عدالتی فیصلے کو صادر کرنے اور اسے عمل میں لانے کا وقت آ چکا تھا۔ یہ عدالتی کارروائی یہوداہ کے جدید زمانہ کے مماثل سے شروع ہوتی ہے، ایک ایسا مماثل جو زمین پر خدا اور مسیح کی نمائندگی کرنے کا دعوی کرتا ہے۔‏

۴.‏ یرمیاہ کی پیشینگوئی کے سلسلے میں اب کونسے سوالات اٹھائے گئے ہیں؟‏

۴ کیا ہم یہوداہ کے بادشاہوں کے تحت اسکے آخری سالوں کے دوران کی ہنگامہ‌آرائی کے درمیان—‏بمع ہمسایہ قوموں کو متاثر کرنے والے تباہ‌کن واقعات کے—‏اور آجکل کی مسیحی دنیا کی ہنگامہ‌آرائی میں کوئی مماثلت دیکھتے ہیں؟ یقیناً ہم دیکھتے ہیں!‏ تو پھر، یرمیاہ کی پیشینگوئی اس سلسلے میں کیا ظاہر کرتی ہے کہ یہوواہ آجکل معاملات کو کیسے سلجھائے گا؟ آئیے ہم دیکھیں۔‏

۵، ۶.‏ (‏ا)‏ ۱۹۱۴ سے لیکر، مسیحی‌دنیا کی حالت یہوداہ میں اسکی تباہی سے ذرا پہلے کی حالت سے کسطرح مشابہت رکھتی ہے؟ (‏ب)‏ جدید یرمیاہ مسیحی‌دنیا کے پاس کونسا پیغام لے کر گیا ہے؟‏

۵ ایک برطانوی ریاضی‌دان اور فلاسفر برٹرینڈ رسل نے کوئی ۴۰ سال قبل تبصرہ کیا:‏ ”‏۱۹۱۴ سے لیکر، دنیا کے رجحانات سے باخبر ہر شخص اس چیز سے پریشان رہا ہے جو پہلے سے کہیں بڑی تباہی کی جانب ایک مقدرشدہ اور طے‌شدہ پیشقدمی کی مانند دکھائی دی ہے۔“‏ اور جرمن کے مدبر کونراڈ اڈینار نے بیان کیا:‏ ”‏۱۹۱۴ سے لوگوں کی زندگیوں میں سے تحفظ اور سکون کافور ہو گیا ہے۔“‏

۶ یرمیاہ کے دنوں کی طرح، آجکل، اس نظام‌العمل کے خاتمے کی طرف بڑھنا غیرمعمولی طور پر اس صدی کی دو عالمی جنگوں میں بیگناہ خون کی ندیاں بہانے سے واضح ہے۔ زیادہ‌تر، تو یہ جنگیں مسیحی دنیا کی قوموں نے لڑیں، جو بائبل کے خدا کی پرستش کرنے کا دعوی کرتی ہیں۔ کیا ہی ریاکاری!‏ اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں کہ یرمیاہ ۲۵:‏۵، ۶ کے ان الفاظ کے ساتھ یہوواہ نے اپنے گواہ انکے پاس بھیجے ہیں:‏ ”‏تم سب اپنی اپنی بری راہ سے اور اپنے برے کاموں سے باز آؤ .‏.‏.‏ اور غیرمعبودوں کی پیروی نہ کرو کہ انکی عبادت‌وپرستش کرو اور اپنے ہاتھوں کے کاموں سے مجھے غضبناک نہ کرو اور میں تم کو کچھ ضرر نہ پہنچاؤنگا۔“‏

۷.‏ اس بات کی کیا شہادت موجود ہے کہ مسیحی دنیا نے یہوواہ کی آگاہیوں کو نظرانداز کر دیا ہے؟‏

۷ تاہم، مسیحی دنیا کی قومیں باز آنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ یہ بات کوریا اور ویت‌نام میں جنگ کے دیوتا کے سامنے انکے مزید قربانیاں چڑھانے سے واضح ہوگئی ہے۔ اور وہ موت کے سوداگروں یعنی اسلحہ سازوں کو سرمایہ فراہم کرنا جاری رکھتی ہیں۔ ۱۹۸۰ کے دہے کے دوران ہر سال اسلحے پر خرچ ہونے والے تقریباً ایک کھرب امریکی ڈالروں کا زیادہ حصہ مسیحی دنیا کے ممالک نے ہی مہیا کیا تھا۔ ۱۹۵۱ سے ۱۹۹۱ تک، صرف ریاستہائے متحدہ کا فوجی خرچ امریکہ کی تمام متحد کارپوریشنوں کے خالص منافعوں سے زیادہ ہو گیا تھا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے پرخروش اعلان کے وقت سے لیکر، فرسودہ نیوکلیئر ہتھیاروں میں تخفیفات تو کی گئی ہیں، لیکن دیگر مہلک ہتھیاروں کے ضخیم اسلحہ خانے قائم ہیں اور بڑھتے جا رہے ہیں۔ کسی دن یہ استعمال ہو سکتے ہیں۔‏

مسیحی دنیا کے اباحتی قلمرو کیخلاف فیصلہ

۸.‏ یرمیاہ ۲۵:‏۸، ۹ کے الفاظ مسیحی‌دنیا پر کیسے پورے ہونگے؟‏

۸ یرمیاہ ۲۵:‏۸، ۹ میں پائے جانے والے، یہوواہ کے مزید الفاظ، اب خاص طور پر مسیحی دنیا پر عائد ہوتے ہیں، جو راستبازی کے مسیحی معیاروں کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ناکام ہو چکی ہے:‏ ”‏اسلئے رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ چونکہ تم نے میری بات نہ سنی۔ دیکھو میں تمام شمالی قبائل کو اور اپنے خدمتگذار شاہ‌بابل نبوکدرضر کو بلا بھیجونگا خداوند فرماتا ہے اور میں انکو اس ملک اور اسکے باشندوں پر اور ان سب قوموں پر جو آس پاس ہیں چڑھا لاؤنگا اور انکو بالکل نیست‌ونابود کر دونگا اور انکو حیرانی اور سسکار کا باعث بناؤنگا اور ہمیشہ کے لئے ویران کرونگا۔“‏ یوں، خدا کے جھوٹے دعویدار لوگوں، مسیحی دنیا، سے شروع کرکے بڑی مصیبت کی ابتدا ہو جائیگی، انجام‌کار ساری زمین، ”‏آس پاس کی تمام قوموں،“‏ تک پھیل جائیگی۔‏

۹.‏ ہمارے زمانے میں مسیحی‌دنیا کی روحانی حالت کن طریقوں سے بدتر ہو گئی ہے؟‏

۹ مسیحی دنیا میں ایک وقت تھا جب بائبل کی عزت کی جاتی تھی، جب شادی اور خاندانی زندگی کو تقریباً عالمگیر پیمانے پر خوشی کے ذریعے کیطور پر خیال کیا جاتا تھا، جب لوگ سو کر جلدی اٹھتے اور اپنے روزمرہ کے کام میں احساس‌تکمیل حاصل کرتے تھے۔ بہتیرے شام کو لیمپ کی روشنی میں خدا کے کلام کو پڑھنے اور اسکا مطالعہ کرنے سے خود کو تازہ‌دم کرتے تھے۔ لیکن آج، آزادانہ جنسی تعلقات، طلاق، منشیات کے ناجائز استعمال اور نشہ‌بازی، تقصیر، لالچ، سست کام کرنے کی عادات، ٹی‌وی دیکھنے کی لت، اور دیگر برائیوں نے زندگی کو خطرناک حد تک بگا‌ڑ دیا ہے۔ یہ اس بربادی کی جانب پہلا قدم ہے جو یہوواہ خدا مسیحی دنیا کے اباحتی قلمرو پر لانے والا ہے۔‏

۱۰.‏ یہوواہ کے عدالتی فیصلوں کے صادر کئے جانے کے بعد مسیحی دنیا کی حالت کو بیان کریں۔‏

۱۰ جیسا کہ ہم یرمیاہ ۲۵ باب، ۱۰ اور ۱۱ آیات میں پڑھتے ہیں، یہوواہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏میں ان میں سے خوشی‌وشادمانی کی آواز دلہے اور دلہن کی آواز چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی موقوف کر دونگا۔ اور یہ ساری سرزمین ویرانہ اور حیرانی کا باعث ہو جائیگی۔“‏ یہ یقیناً حیرانی کی بات ہوگی جب مسیحی دنیا کی بڑی بڑی عبادت‌گاہیں اور آراستہ محلات بڑے دھماکے کیساتھ گرتے ہوئے اپنی بربادی کو پہنچیں گے۔ یہ تباہی کتنی وسیع ہوگی؟ یرمیاہ کے زمانے میں، یہوداہ اور ہمسایہ قوموں کی بربادی ۷۰ سالوں تک قائم رہی، جسے زبور ۹۰:‏۱۰ ایک مثالی عرصہ‌حیات کے طور پر بیان کرتی ہے۔ آجکل یہوواہ کی عدالتی کارروائی قطعی، ہمیشہ کیلئے ہوگی۔‏

بڑے بابل کیخلاف فیصلہ

۱۱.‏ مسیحی دنیا کو برباد کرنے میں آلۂ‌کار کون ہوگا؟ کیوں؟‏

۱۱ جیسا کہ مکاشفہ ۱۷:‏۱۲-‏۱۷ میں پیشینگوئی کی گئی، وہ وقت ضرور آئیگا جب یہوواہ ”‏دس [‏سینگوں]‏“‏—‏فوجی طاقتوں سے لیس اقوام‌متحدہ کے ارکان—‏کے دلوں میں یہ بات ڈالنے سے اپنے عجیب کام کا آغاز کرتا ہے کہ وہ جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کو تباہ کرنے کیلئے ”‏اس کی رای پر چلیں۔“‏ یہ کیسے وقوع میں آئے گا؟ بہت سے ایسے طریقے ہیں جن سے مکاشفہ ۱۷ باب کے ”‏دس سینگ،“‏ ۱۶ آیت کے الفاظ میں، ”‏کسبی سے عداوت“‏ رکھ سکتے ”‏اور .‏.‏.‏ اسکو آگ سے جلا“‏ سکتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ دنیا میں متعدد جگہوں پر جہاں جنگ سر پر کھڑی ہے نیوکلیئر ہتھیاروں میں اضافہ ہوا ہے اور ابھی تک انکی افزائش ہو رہی ہے۔ لیکن ہمیں ضرور انتظار کرنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ یہوواہ کس طرح اپنا انتقام لینے کیلئے اس بات کو سیاسی حکمرانوں کے دلوں میں ڈالیگا۔‏

۱۲.‏ (‏ا)‏ اس کے بعد بابل کے ساتھ کیا واقع ہوا جب اس نے یروشلیم کو تباہ کر دیا؟ (‏ب)‏ مسیحی دنیا کی تباہی کے بعد قوموں کیساتھ کیا ہوگا؟‏

۱۲ قدیم وقتوں میں یہوواہ کے قہرشدید کا تجربہ کرنے کی باری بابل کی تھی۔ لہذا، یرمیاہ ۲۵ باب، ۱۲ آیت سے شروع کرکے، پیشینگوئی بعد میں ایک فرق زاویے سے معاملات پر غور کرتی ہے۔ اب یہوواہ کی طرف سے سزا دینے والے کا کردار ادا کرنے والا نہ ہونے کی بدولت، نبوکدنضر اور بابل اب تمام دنیاوی قوموں میں شامل ہیں۔ یہ آجکل کی صورت‌حال کے مترادف ہے۔ مکاشفہ ۱۷ باب کے ”‏دس سینگ“‏ جھوٹے مذہب کو برباد کرینگے، لیکن جیسا کہ مکاشفہ ۱۹ باب میں بیان کیا گیا ہے، بعد میں وہ خود بمع دیگر تمام ”‏زمین کے بادشاہوں“‏ کے تباہی میں پڑینگے۔ یرمیاہ ۲۵:‏۱۳، ۱۴ بیان کرتی ہیں کہ کیسے بابل کی ان ”‏سب قوموں“‏ کے ساتھ عدالت ہوتی ہے جنہوں نے یہوواہ کے لوگوں سے ناجائز فائدہ اٹھایا تھا۔ یہوداہ کو سزا دینے میں یہوواہ نبوکدنضر کو سزا دینے والے کے طور پر استعمال کر چکا تھا۔ پھر بھی، وہ اور بعد کے بابلی بادشاہ خود یہوواہ کے مقابل اپنے آپ کو تکبر کیساتھ بڑا بنانے لگے، مثال کے طور پر، جیسا کہ اس کا مظاہرہ یہوواہ کی ہیکل کے ظروف کی بے‌حرمتی کرنے سے کیا گیا۔ (‏دانی‌ایل ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ اور جب بابلیوں نے یروشلیم کو تباہ کیا تو یہوداہ کی ہمسایہ اقوام—‏موآب، عمون، صور، ادوم، اور دیگر—‏نے خوشی منائی اور خدا کے لوگوں کا تمسخر اڑایا۔ انہیں بھی ضرور یہوواہ کی طرف سے بدلے میں واجب سزا ملنی چاہئے۔‏

‏”‏سب قوموں“‏ کیخلاف فیصلہ

۱۳.‏ ”‏غضب کی مے کا یہ پیالہ،“‏ اس سے کیا مراد ہے، اور جو اس پیالے میں سے پیتے ہیں انکے ساتھ کیا واقع ہوتا ہے؟‏

۱۳ پس، جیسا کہ ۲۵ باب کی ۱۵ اور ۱۶ آیات میں درج ہے، یرمیاہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏خداوند اسرائیل کے خدا نے مجھے فرمایا کہ غضب کی مے کا یہ پیالہ میرے ہاتھ سے لے اور ان سب قوموں کو جنکے پاس میں تجھے بھیجتا ہوں پلا۔ کہ وہ پئیں اور لڑکھڑائیں اور اس تلوار کے سبب سے جو میں انکے درمیان چلاؤنگا بے‌حواس ہوں۔“‏ یہ ”‏یہوواہ کے غضب کی مے کا پیالہ“‏ کس لئے ہے؟ متی ۲۶:‏۳۹،‏ ۴۲ اور یوحنا ۱۸:‏۱۱ میں یسوع نے اپنے لئے خدا کی مرضی کی علامت پیش کرنے والے ایک ”‏پیالے“‏ کا ذکر کیا۔ اسی طرح، یہوواہ کے الہی انتقام میں سے پینے کی خاطر قوموں کیلئے اس کی مرضی کی علامت پیش کرنے کی غرض سے ایک پیالے کو استعمال کیا گیا ہے۔ یرمیاہ ۲۵:‏۱۷-‏۲۶ ان قومی گروہوں کی فہرست فراہم کرتی ہیں جو آجکل کی قوموں کا عکس پیش کرتے ہیں۔‏

۱۴.‏ یرمیاہ کی پیشینگوئی کے مطابق، یہوواہ کے غضب کی مے کے پیالے میں سے کون پیتے ہیں اور یہ ہمارے زمانے کیلئے کس کی علامت پیش کرتا ہے؟‏

۱۴ یہوداہ کی مانند، مسیحی دنیا کے ”‏برباد [‏ہونے]‏ اور حیرانی اور سسکار اور لعنت کا باعث“‏ بننے کے بعد، تباہی باقی ماندہ جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کی منتظر ہے۔ اسکے بعد، پوری دنیا کو بھی، جسکی علامت مصر تھا، یہوواہ کے غضب کی مے کے پیالے سے پینا ضرور ہے!‏ جی‌ہاں، ”‏شمال کے سب بادشاہوں کو جو نزدیک اور جو دور ہیں ایک دوسرے کے ساتھ اور دنیا کی سب سلطنتوں کو جو روی‌زمین پر ہیں“‏ پینا ہوگا۔ آخرکار، ”‏انکے بعد شیشک کا بادشاہ پئیگا۔“‏ اور یہ ”‏شیشک کا بادشاہ“‏ کون ہے؟ شیشک بابل کیلئے ایک علامتی نام، ایک رمز، یا اشارہ ہے۔ جسطرح شیطان بابل پر نادیدنی حکمران تھا ویسے ہی وہ آج کے دن تک، جیسے کہ یسوع نے ظاہر کیا، ”‏دنیا کا سردار“‏ ہے۔ (‏یوحنا ۱۴:‏۳۰‏)‏ لہذا، یہوواہ کے غضب کے پیالے کے باری باری پیش کئے جانے کے سلسلے میں واقعات کی ترتیب کی وضاحت کرنے میں یرمیاہ ۲۵:‏۱۷-‏۲۶ مکاشفہ ۱۸ تا ۲۰ ابواب کے متوازی ہے۔ سب سے پہلے، جھوٹے مذہب کی عالمی مملکت کا تباہ ہونا ضرور ہے، اسکے بعد سیاسی قوتیں، اور پھر خود شیطان کو اتھاہ گڑے میں بند کیا جانا ہے۔—‏مکاشفہ ۱۸:‏۸،‏ ۱۹:‏۱۹-‏۲۱،‏ ۲۰:‏۱-‏۳‏۔‏

۱۵.‏ جب ”‏سلامتی اور امن“‏ کی پکار سنائی دیتی ہے تو کیا واقع ہوگا؟‏

۱۵ صرف ایک ہی سپرپاور کے باقی رہ جانے کے ساتھ، جب سے مبینہ طور پر سرد جنگ ختم ہوئی ہے اس وقت سے امن اور سلامتی کا بہت زیادہ چرچا رہا ہے۔ جیسا کہ مکاشفہ ۱۷:‏۱۰ میں بیان کیا گیا، اس سپرپاور، حیوان کے ساتویں سر، کا ”‏کچھ عرصہ تک .‏.‏.‏ رہنا“‏ ضرور ہے۔ لیکن یہ ”‏کچھ عرصہ“‏ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ جلد ہی، سیاسی ”‏سلامتی اور امن“‏ کے تمام نعرے اس ”‏ناگہاں ہلاکت“‏ کے آگے پسپا ہو جائینگے جو ”‏ان پر [‏یکایک]‏ آئیگی۔“‏ رسول پولس اسی طرح بیان کرتا ہے۔—‏۱-‏تھسلنیکیوں ۵:‏۲، ۳‏۔‏

۱۶، ۱۷.‏ (‏ا)‏ اگر کوئی یہوواہ کے فیصلے سے نظر بچانے کی کوشش کرے تو انجام کیا ہوگا؟ (‏ب)‏ کس تباہ‌کن طریقے سے یہوواہ کی مرضی بہت جلد زمین پر پوری ہوگی؟‏

۱۶ مسیحی دنیا سے شروع کرکے، شیطان کے تمام عالمی نظام کو یہوواہ کے انتقام کے پیالے میں سے پینا ہوگا۔ ۲۵ باب، ۲۷ سے ۲۹ آیات میں درج، یرمیاہ کیلئے اسکا اگلا حکم اس بات کی تصدیق کرتا ہے:‏ ”‏تو ان سے کہیگا کہ اسرائیل کا خدا رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم پیو اور مست ہو اور قے کرو اور گر پڑو اور پھر نہ اٹھو۔ اس تلوار کے سبب سے جو میں تمہارے درمیان بھیجونگا۔ اور یوں ہوگا کہ اگر وہ پینے کو تیرے ہاتھ سے پیالہ لینے کو انکار کریں تو ان سے کہنا کہ رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ یقیناً تم کو پینا ہوگا۔ کیونکہ دیکھ میں اس شہر پر جو میرے نام سے کہلاتا ہے آفت لانا شروع کرتا ہوں اور کیا تم صاف بے‌سزا چھوٹ جاؤ گے؟ تم بے‌سزا نہ چھوٹو گے کیونکہ میں زمین کے سب باشندوں پر تلوار کو طلب کرتا ہوں رب‌الافواج فرماتا ہے۔“‏

۱۷ وہ سخت الفاظ ہیں—‏یقیناً خوفناک الفاظ، کیونکہ وہ کائنات کے حاکم‌اعلی، یہوواہ خدا نے کہے ہیں۔ ہزاروں سالوں کے دوران، اس نے تحمل کیساتھ ان تکفیروں، رسوائیوں اور نفرت کو برداشت کیا ہے جن کا انبار اسکے پاک نام پر لگایا جاتا رہا ہے۔ تاہم، آخرکار اس کا وقت آ گیا ہے کہ اس دعا کا جواب دے جو اسکے پیارے بیٹے، یسوع مسیح نے زمین پر ہوتے ہوئے اپنے شاگردوں کو سکھائی تھی:‏ ”‏پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“‏ (‏متی ۶:‏۹، ۱۰‏)‏ یہ یہوواہ کی مرضی ہے کہ یسوع انتقام لینے میں اسکی تلوار کے طور پر کام کرے۔‏

۱۸، ۱۹.‏ (‏ا)‏ یہوواہ کے نام پر فتح کرنے کیلئے کون سواری کرتا ہے اور اپنی فتح کو مکمل کرنے سے پہلے وہ کس بات کا انتظار کرتا ہے؟ (‏ب)‏ جب فرشتے یہوواہ کے غضب کی طوفانی ہوا کو چھوڑینگے تو زمین پر کونسے خوفناک واقعات رونما ہونگے؟‏

۱۸ مکاشفہ ۶ باب میں، ہم پہلے سفید گھوڑے پر ”‏فتح کرنے اور اپنی فتح کو مکمل کرنے کیلئے“‏ یسوع کی سواری کی بابت پڑھتے ہیں۔ (‏۲ آیت)‏ یہ ۱۹۱۴ میں آسمانی بادشاہ کے طور پر اسکی تخت‌نشینی کیساتھ شروع ہوئی۔ دوسرے گھوڑے اور سوار مجموعی جنگ‌وجدل، قحط، اور مہلک وبا کی تصویرکشی کرتے ہوئے اسکے پیچھے آتے ہیں جنہوں نے اس وقت سے ہماری زمین کو دق کر رکھا ہے۔ لیکن یہ تمام ہنگامہ‌آرائی کب ختم ہوگی؟ مکاشفہ ۷ باب ہمیں آگاہ کرتا ہے کہ چار فرشتے اس وقت تک ”‏زمین کی چاروں ہواؤں“‏ کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں جبتک کہ روحانی اسرائیل اور تمام قوموں میں سے ایک بڑی بھیڑ کو نجات کیلئے اکٹھا نہیں کر لیا جاتا۔ (‏۱ آیت)‏ پھر کیا ہوگا؟‏

۱۹ ۳۰ اور ۳۱ آیات میں، یرمیاہ ۲۵ باب جاری رہتا ہے:‏ ”‏خداوند بلندی پر سے گرجیگا اور اپنے مقدس مکان سے للکاریگا۔ وہ بڑے زوروشور سے اپنی چراگاہ پر گرجیگا۔ انگور لتاڑنے والوں کی مانند وہ زمین کے سب باشندوں کو للکاریگا۔ ایک غوغا زمین کی سرحدوں تک پہنچا ہے کیونکہ خداوند قوموں سے جھگڑیگا۔ وہ تمام بشر کو عدالت میں لائیگا۔ وہ شریروں کو تلوار کے حوالہ کریگا خداوند فرماتا ہے۔“‏ یوں کوئی بھی قوم یہوواہ کے غضب کے پیالے میں سے پینے سے بچ نہیں پائیگی۔ اسلئے، یہ فوری تعمیل طلب بات ہے کہ تمام راستدل لوگ خود کو قوموں کی بدکاری سے علیحدہ کر لیں اس سے پہلے کہ چاروں فرشتے یہوواہ کے غضب کی ہنگامہ‌خیز طوفانی ہوا کو چھوڑ دیں۔ واقعی ہنگامہ‌خیز، کیونکہ یرمیاہ کی پیشینگوئی ۳۲ اور ۳۳ آیات میں جاری رہتی ہے:‏

۲۰.‏ کونسا منظر یہوواہ کی عدالت کی شدت پر زور دیتا ہے، لیکن یہ کارروائی کیوں ضروری ہے؟‏

۲۰ ”‏رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ دیکھ قوم سے قوم تک بلا نازل ہوگی اور زمین کی سرحدوں سے ایک سخت طوفان برپا ہوگا۔ اور خداوند کے مقتول اس روز زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پڑے ہونگے ان پر کوئی نوحہ نہ کریگا۔ نہ وہ جمع کئے جائینگے نہ دفن ہونگے وہ کھاد کی طرح روی زمین پر پڑے رہینگے۔“‏ واقعی ایک دہشتناک منظر، لیکن خدا کے موعودہ فردوس کو قائم کرنے سے پہلے زمین کو تمام بدکرداری سے پاک کرنے کیلئے یہ کارروائی ضروری ہے۔‏

چرواہوں کا واویلا کرنا اور چلانا

۲۱، ۲۲.‏ (‏ا)‏ یرمیاہ ۲۵:‏۳۴-‏۳۶ میں، اسرائیل کے ”‏چرواہے“‏ کون تھے، اور وہ واویلا کرنے پر کیوں مجبور تھے؟ (‏ب)‏ کونسے جدید چرواہے یہوواہ کے قہر کے مستحق ہیں، اور کیوں پوری طرح سے؟‏

۲۱ ۳۴ سے ۳۶ آیات یہ کہتے ہوئے یہوواہ کی عدالت کی بابت مزید بیان کرتی ہیں:‏ ”‏اے چرواہو واویلا کرو اور چلاؤ اور اے گلہ کے سردارو تم خود راکھ میں لیٹ جاؤ کیونکہ تمہارے قتل کے ایام آ پہنچے ہیں۔ میں تم کو چکنا چور کرونگا۔ تم نفیس برتن کی طرح گر جاؤ گے۔ اور نہ چرواہوں کو بھاگنے کی کوئی راہ ملیگی نہ گلہ کے سرداروں کو بچ نکلنے کی۔ چرواہوں کے نالہ کی آواز اور گلہ کے سرداروں کا نوحہ ہے کیونکہ خداوند نے انکی چراگاہ کو برباد کیا ہے۔“‏

۲۲ یہ چرواہے کون ہیں؟ یہ وہ مذہبی راہنما نہیں ہیں جو پہلے ہی یہوواہ کے غضب میں سے پی چکے ہیں۔ وہ عسکری تسلط رکھنے والے چرواہے ہیں جنکا یرمیاہ ۶:‏۳ میں بھی ذکر کیا گیا ہے جو یہوواہ کی مخالفت میں بڑے بڑے دستوں کی شکل میں اپنی فوجوں کو جمع کرتے ہیں۔ وہ سیاسی حکمران ہیں، جو رعایا کا نقصان کرکے دولتمند ہو گئے ہیں۔ ان میں سے بہتیرے ناجائز فائدہ اٹھانے والے، بدعنوانی کے ماہر ہیں۔ وہ ان خوراک کی قلتوں کو کم کرنے میں بہت سست‌رو ثابت ہوئے ہیں جنہوں نے ناموافق صورتحال والے ممالک میں لوگوں کے بڑے گروہوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ وہ ”‏گلہ کے سرداروں،“‏ جیسے کہ اسلحے کے بیوپاریوں اور ماحول کو تباہ کرنے والے لالچیوں کو مالامال کرتے ہیں جبکہ طبی امداد اور غذائیت والی خوراک بہم پہنچانے سے انکار کرتے ہیں جو بہت ہی کم قیمت پر کروڑہا مرتے ہوئے بچوں کو بچا سکتی ہے۔‏

۲۳.‏ یہوواہ کے تباہ‌کن کاموں کے بعد شیطان کے زیرتسلط زمین کی حالت کو بیان کریں۔‏

۲۳ پھر عجب کیا ہے کہ یرمیاہ ۲۵ باب، ۳۷ اور ۳۸ آیات میں، ان لوگوں کی بابت جنہوں نے خودغرضانہ طریقے سے محض اپنی ہی سلامتی چاہی یہ کہتے ہوئے اختتام‌پذیر ہوتا ہے:‏ ”‏سلامتی کے بھیڑخانے خداوند کے قہرشدید سے برباد ہوگئے۔ وہ جوان شیر کی طرح اپنی کمینگاہ سے نکلا ہے۔ یقیناً ستمگر کے ظلم سے اور اسکے قہر کی شدت سے انکا ملک ویران [‏”‏حیرانی کا نشانہ،“‏ این‌ڈبلیو]‏ ہو گیا۔“‏ واقعی حیرانی!‏ تاہم، یہوواہ کا قہرشدید یقینی طور پر اس شخص کے ذریعے ظاہر کیا جائیگا جسے مکاشفہ ۱۹:‏۱۵، ۱۶ میں ”‏بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خداوند“‏ کے طور پر بیان کیا گیا اور جو لوہے کے عصا سے قوموں پر حکومت کرتا ہے۔ اور اسکے بعد کیا ہوتا ہے؟‏

۲۴.‏ جھوٹے مذہب اور شیطان کی باقیماندہ دنیا کی تباہی راستباز نوع‌انسانی کیلئے کونسی برکات لائیگی؟‏

۲۴ کیا آپ کو کبھی کسی طوفان بادوباراں کا تجربہ ہوا ہے؟ یہ ایک خوف طاری کرنے والا تجربہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگلی صبح، اگرچہ آپ ہر طرف تباہ‌شدہ چیزوں کو دیکھیں، تو بھی ہوا عموماً اتنی صاف ہوتی ہے اور سکوت کا عالم اسقدر تازگی‌بخش ہوتا ہے کہ آپ غیرمعمولی طور پر ایک دلکش دن کیلئے یہوواہ کا شکر ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، جونہی بڑی مصیبت کی طوفانی ہوائیں تھم جاتی ہیں، آپ شکرگزاری کے کیساتھ زمین پر نگاہ کر سکتے ہیں کہ آپ زندہ ہیں اور ایک صاف ستھری زمین کو ایک پرشکوہ فردوس میں بدلنے کی خاطر یہوواہ کے مزید کام میں شریک ہونے کیلئے تیار ہیں۔ قوموں کیساتھ یہوواہ کا جھگڑا اسکے نام کی تقدیس کرتے ہوئے اور مسیحائی بادشاہت کی ہزار سالہ حکومت کے تحت زمین پر اسکی مرضی کے پورا ہونے کیلئے راہ ہموار کرتے ہوئے اپنے عظیم‌الشان اختتام کو پہنچ چکا ہوگا۔ دعا ہے کہ وہ بادشاہت جلد آئے!‏ (‏۱۷ ۳/۱ w۹۴)‏

اس مضمون کے ۵-‏۲۴ پیراگراف کا اعادہ

▫ مسیحی دنیا کی کونسی ریاکارانہ روشوں کا اب فیصلہ ہونا ہے؟‏

▫ یرمیاہ ۲۵:‏۱۲-‏۳۸ میں عدالت کا کونسا وسیع نقطہ‌نظر اپنایا گیا ہے؟‏

▫ انتقام کا کونسا پیالہ تمام قوموں کو پیش کیا گیا ہے؟‏

▫ وہ چرواہے کون ہیں جو واویلا کرتے اور چلاتے ہیں، اور وہ پریشان کیوں ہیں؟‏

‏[‏تصویر]‏

یہوواہ نے مسیحی دنیا کی بربادی کا آلۂ‌کار چن لیا ہے

‏[‏تصویر]‏

بڑی مصیبت کی طوفانی ہواؤں کے بعد ایک پاک‌صاف زمین نمودار ہوگی

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں