پھل—اچھے اور خراب
”خداوند نے مجھ پر نمایاں کیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ ... انجیر کی دو ٹوکریاں دھری تھیں۔ ایک ٹوکری میں اچھے سے اچھے انجیر تھے۔ انکی مانند جو پہلے پکتے ہیں اور دوسری ٹوکری میں نہایت خراب انجیر تھے۔ ایسے خراب کہ کھانے کے قابل نہ تھے۔“—یرمیاہ ۲۴:۱، ۲۔
۱. یہوواہ نے اپنی امت اسرائیل کیلئے کیسے رحم دکھایا، لیکن انہوں نے کیسا جوابیعمل ظاہر کیا؟
۶۱۷ ق۔س۔ع۔ کا سال تھا۔ یہ یروشلیم اور اسکے لوگوں کے خلاف یہوواہ کے برحق فیصلہ کے نفاذ سے ٹھیک دس برس پہلے کی بات ہے۔ یرمیاہ پہلے ہی تیس سال سے، بڑی جانفشانی کیساتھ منادی کرتا آ رہا تھا۔ صورتحال کی بابت عزرا کے واضح بیان پر غور کریں، جیسا کہ ۲-تواریخ ۳۶:۱۵ میں درج ہے: ”خداوند انکے باپ دادا کے خدا نے اپنے پیغمبروں کو انکے پاس بروقت بھیج بھیج کر پیغام بھیجا کیونکہ اسے اپنے لوگوں اور اپنے مسکن پر ترس آتا تھا۔“ اور اس تمام کوشش کا نتیجہ؟ افسوس کی بات ہے کہ عزرا ۱۶ آیت میں مزید بیان کرتا ہے: ”لیکن انہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھوں میں اڑایا اور اسکی باتوں کو ناچیز جانا اور اسکے نبیوں کی ہنسی اڑائی یہاں تک کہ خداوند کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا۔“
۲، ۳. اس امتیازی رویا کو بیان کریں جو یہوواہ نے یرمیاہ کو دکھائی۔
۲ پس کیا اس کا یہ مطلب ہوا کہ یہوداہ کی قوم مکمل طور پر مٹا دی جائیگی؟ جواب دریافت کرنے کیلئے آئیں ہم ایک نہایت اہم رویا پر غور کریں جو کہ اس وقت یرمیاہ کو دی گئی اور اسکے نام سے منسوب کتاب کے ۲۴ باب میں درج ہے۔ اس رویا میں اپنے عہد کے تحت لوگوں میں رونما ہونے والے واقعات کی علامت میں خدا نے انجیروں کی دو ٹوکریاں استعمال کیں۔ انکی نمائندگی دو امتیازی قسم کے پھلوں، اچھے اور خراب کے ذریعہ کی جانی تھی۔
۳ یرمیاہ ۲۴ باب کی ایک اور دو آیت بیان کرتی ہیں کہ خدا کے نبی نے کیا دیکھا: ”جب شاہبابل نبوکدرضر شاہ یہوداہ یکونیاہبنیہویقیم کو اور یہوداہ کے امرا کو کاریگروں اور لہاروں سمیت یروشلیم سے اسیر کرکے بابل کو لے گیا تو خداوند نے مجھ پر نمایاں کیا اور کیا دیکھتا ہوں کہ خداوند کی ہیکل کے سامنے انجیر کی دو ٹوکریاں دھری تھیں۔ ایک ٹوکری میں اچھے سے اچھے انجیر تھے۔ انکی مانند جو پہلے پکتے ہیں اور دوسری ٹوکری میں نہایت خراب انجیر تھے۔ ایسے خراب کہ کھانے کے قابل نہ تھے۔“
رویتی اچھے انجیر
۴. وفادار اسرائیلیوں کیلئے انجیروں کی رویا کیا تسلیبخش پیغام لئے ہوئے تھی؟
۴ جو کچھ یرمیاہ نے دیکھا اسکی بابت اس سے پوچھنے کے بعد، یہوواہ نے ۵ تا ۷ آیات میں مزید کہا: ”ان اچھے انجیروں کی مانند میں یہوداہ کے ان اسیروں پر جنکو میں نے اس مقام سے کسدیوں کے ملک میں بھیجا ہے کرم کی نظر رکھونگا۔ کیونکہ ان پر میری نظرعنایت ہوگی اور میں انکو اس ملک میں واپس لاؤنگا اور میں انکو برباد نہیں بلکہ آباد کرونگا۔ میں انکو لگاؤنگا اور اکھاڑونگا نہیں۔ اور میں انکو ایسا دل دونگا کہ مجھے پہچانیں کہ میں خداوند ہوں اور وہ میرے لوگ ہونگے اور میں انکا خدا ہونگا اسلئے کہ وہ پورے دل سے میری طرف پھرینگے۔“
۵، ۶. (ا) بعض اسرائیلیوں کو کیسے کسدستان ”اچھے طریقے سے بھیجا“ گیا تھا؟ (ب) کیسے یہوواہ نے اسیری میں بھی وفادار اسرائیلیوں پر ”اپنی نظرعنایت“ رکھی؟
۵ لہذا یہوواہ نے جو کچھ یہاں فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آگے اچھا وقت آنے والا تھا، یہ کہ یہوداہ کی قوم مکمل طور پر مٹا نہیں دی جائے گی۔ لیکن اچھے انجیروں کی اس ٹوکری سے کیا مراد ہے؟
۶ یکونیاہ یا یہویاکین نے اپنی مرضی سے یروشلیم کو شاہنبوکدنضر کے حوالہ کر دینے سے پہلے تین مہینے اور دس دن یہوداہ پر سلطنت کی۔ اس کے ساتھ جنہیں قیدی بنا کر اسیری میں لے جایا گیا ان میں دانیایل اور اسکے تین عبرانی ساتھی حننیاہ، میساایل اور عزریاہ اور اسکے علاوہ حزقیایل بھی تھا۔ بابل کے بادشاہ نے انکی جانیں سلامت رکھی تھیں، اسلئے یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہوواہ نے ان تمام اسیروں پر کرم کی نظر رکھی کہ ان کو کسدیوں کے ملک میں اچھے طریقے سے بھیجا گیا ہے۔ کیا آپ نے غور کیا کہ یہوواہ نے ”ان پر اپنی نظرعنایت“ رکھنے کا بھی وعدہ کیا۔ اسکی تکمیل کیسے ہوئی؟ ۸۰ سال بعد، ۵۳۷ ق۔س۔ع۔ میں، یہوواہ نے شاہخورس کے ذریعہ ایک حکمنامہ جاری کرایا جس نے انکی اولاد کے ایک بقیہ کو یہوداہ کے ملک میں واپس جانے کی اجازت دے دی۔ ان وفادار یہودیوں نے یروشلیم کے شہر کو دوبارہ تعمیر کیا، انہوں نے ہی اپنے خدا، یہوواہ کی پرستش کیلئے نئی ہیکل تعمیر کی، اور وہ پورے دل سے اسکی طرف پھرے۔ پس اس سارے معاملے میں، یہ قیدی اور انکی اولاد یہوواہ کیلئے بہت اچھے پہلے پکنے والے انجیروں کی مانند تھے۔
۷. کب اور کیسے یہوواہ کی ”نظرعنایت“ جدید یرمیاہ جماعت پر ہوئی؟
۷ شاید آپ کو یاد ہو کہ یرمیاہ کے نبوتی الفاظ کی بابت اپنے پچھلے مضمون میں، ہم نے سیکھا تھا کہ وہ ہماری ۲۰ویں صدی کیلئے بھی معنی رکھتے ہیں۔ اور باب ۲۴ اس سے مستثنی نہیں۔ پہلی عالمی جنگ کے تاریک برسوں کے دوران، یہوواہ کے مخصوصشدہ خادموں میں سے بہتیرے کسی نہ کسی طرح بڑے بابل کے زیراثر آ گئے۔ لیکن یہوواہ کی چوکس ”نظرعنایت ان پر تھی۔“ پس اسی لئے ایسا ہوا کہ بڑے خورس، مسیح یسوع کے ذریعے یہوواہ نے ان پر سے بڑے بابل کے تسلط کو ختم کیا اور بتدریج انکو ایک روحانی فردوس میں لے آیا۔ ان روحانی اسرائیلیوں نے جوابیعمل دکھایا اور اپنے پورے دل سے یہوواہ کی طرف پھرے۔ اسکے بعد، ۱۹۳۱ میں، وہ نام ”یہوواہ کے گواہ“ قبول کرکے بڑے خوش ہوئے۔ واقعی، اب یہ کہا جا سکتا تھا کہ وہ یہوواہ کی نظر میں بہت اچھے انجیروں کی ٹوکری کی مانند ہو گئے تھے۔
۸. کس طرح سے یہوواہ کے گواہوں نے بادشاہتی پیغام کی انجیر جیسی مٹھاس کا وسیع پیمانے پر اعلان کیا ہے؟
۸ اور یہوواہ کے گواہوں نے بڑے بابل سے انہیں آزاد کرانے میں خدا کے غیرمستحق فضل کے مقصد کو رائیگاں نہیں جانے دیا۔ انہوں نے خوشخبری کے بادشاہتی پیغام کی انجیر جیسی مٹھاس کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھا، بلکہ انہوں نے متی ۲۴:۱۴ میں درج یسوع کے الفاظ ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کیلئے گواہی ہو“ کی مطابقت میں وسیع پیمانے پر اس کا اعلان کیا ہے۔ اور اسکا نتیجہ؟ ۴۷،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ بھیڑخصلت لوگ جو کہ روحانی اسرائیل میں سے نہیں بڑے بابل سے آزاد ہو گئے ہیں!
رویتی خراب انجیر
۹. کون یرمیاہ کی رویا کے خراب انجیروں کی نمائندگی کرتے ہیں، اور انکے ساتھ کیا ہونے والا تھا؟
۹ لیکن یرمیاہ کی رویا میں خراب انجیروں کی اس ٹوکری کی بابت کیا ہے؟ یرمیاہ اب اپنی توجہ یرمیاہ ۲۴ باب کی ۸ تا ۱۰ آیات میں درج یہوواہ کے الفاظ پر مبذول کراتا ہے: ”پر ان خراب انجیروں کی بابت جو ایسے خراب ہیں کہ کھانے کے قابل نہیں خداوند یقیناً یوں فرماتا ہے کہ اسی طرح میں شاہیہوداہ صدقیاہ کو اور اسکے امرا کو اور یروشلیم کے باقی لوگوں کو جو اس ملک میں بچ رہے ہیں اور ملک مصر میں بستے ہیں ترک کر دونگا۔ ہاں میں انکو ترک کر دونگا کہ دنیا کی سب مملکتوں میں دھکے کھاتے پھریں تاکہ وہ ہر ایک جگہ میں جہاں جہاں میں انکو ہانک دونگا ملامت اور مثل اور طعن اور لعنت کا باعث ہوں۔ اور میں ان میں تلوار اور کال اور وبا بھیجونگا یہاں تک کہ وہ اس ملک سے جو میں نے انکو اور انکے باپ دادا کو دیا نیست ہو جائینگے۔“
۱۰. یہوواہ نے صدقیاہ کو کیوں ”خراب انجیر“ کے طور پر شمار کیا؟
۱۰ پس صدقیاہ سچمچ یہوواہ کی نظر میں ایک ”خراب انجیر“ ثابت ہوا۔ اس نے نہ صرف وفاداری کی اس قسم کو توڑ کر جو نبوکدنضر بادشاہ سے یہوواہ کے نام سے کھائی تھی بادشاہ کے خلاف بغاوت کی بلکہ اس نے یہوواہ کے رحم کو جو خدا نے یرمیاہ کی معرفت اس پر کیا تھا رد کر دیا۔ درحقیقت وہ اس حد تک بڑھ گیا کہ اس نے یرمیاہ کو قید کروا دیا! کوئی تعجب نہیں کہ عزرا ۲-تواریخ ۳۶:۱۲ میں بادشاہ کے رویے کا خلاصہ یہ کہتے ہوئے بیان کرتا ہے: ”اس نے وہی کیا جو خداوند اس کے خدا کی نظر میں برا تھا۔ اور اس نے یرمیاہ نبی کے حضور جس نے خداوند کے منہ کی باتیں اس سے کہیں عاجزی نہ کی۔“ یہوواہ کی نظر میں صدقیاہ اور وہ جو یروشلیم میں بچ رہے تھے خراب، سڑے ہوئے انجیروں کی ایک ٹوکری کی مانند تھے!
ہمارے زمانے میں سڑے ہوئے علامتی انجیر
۱۱، ۱۲. آجکل کن کی شناخت خراب انجیروں کے طور پر کی گئی ہے، اور انکے ساتھ کیا ہوگا؟
۱۱ اب ذرا آج کی دنیا کے گرد نگاہ دوڑائیں۔ آپ کے خیال میں کیا ہمیں خراب انجیروں کی ایک علامتی ٹوکری مل سکتی ہے؟ آئیے ہم اپنے زمانے کا مقابلہ یرمیاہ کے زمانے سے کرتے ہوئے حقائق پر غور کریں۔ اس ۲۰ویں صدی میں، یہوواہ نے یرمیاہ جماعت یعنی ممسوحبقیہ کو قوموں کو بڑی مصیبت کے وقت آنے والے اسکے قہرشدید کی بابت متواتر آگاہی دینے کیلئے استعمال کیا ہے۔ اس نے قومی گروہوں کو تاکید کی ہے کہ اس کے نام کے شایانشان جلال اسے دیں، روح اور سچائی سے اسکی پرستش کریں، اور اسکے حکمراں بیٹے، مسیح یسوع کو زمین کا جائز فرمانروا تسلیم کریں۔ اسکا کیا ردعمل ہوا ہے؟ بالکل ویسا ہی جیسا کہ یرمیاہ کے زمانے میں۔ قومیں وہی کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں جو یہوواہ کی نظر میں برا ہے۔
۱۲ کون ہیں جو اس باغیانہ رویے کو ہوا دے رہے ہیں؟ کون خدا کے ان یرمیاہنما پیغمبروں کے خدا کے خادموں کے طور پر کام کرنے کے ان کے اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ان کا مضحکہ اڑاتے رہتے ہیں؟ کون خدا کے کلام کی تحقیر کرتے رہتے ہیں؟ آجکل یہوواہ کے گواہوں کی زیادہتر ایذارسانی کے پسپشت کون ہیں؟ جواب سب کیلئے بالکل صاف ہے—یہ مسیحی دنیا ہے، بالخصوص اسکا پادری طبقہ! اور ذرا مسیحی دنیا کے اس تمام سڑے، خراب پھل پر نظر ڈالیں جس پر ہم نے پچھلے مضمون میں بحث کی تھی۔ جیہاں، یقیناً آج زمین پر خراب انجیروں کی ایک علامتی ٹوکری ہے۔ درحقیقت، یہوواہ کہتا ہے کہ وہ ”ایسے خراب ہیں کہ کھانے کے قابل نہیں۔“ یرمیاہ کی معرفت یہوواہ کے الفاظ آج ہمارے زمانے تک گونجتے ہیں: ”وہ نیست ہو جائینگے“! مسیحی دنیا کے خلاف یہوواہ کے قہر کا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
ہمارے لئے عبرتانگیز سبق
۱۳. ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱ میں درج پولس کے الفاظ کے پیشنظر، ہمیں انجیروں کی دو ٹوکریوں والی رویا کو کیسے سمجھنا چاہئے؟
۱۳ جب ہم یرمیاہ کے ملہم عبرتانگیز پیغام کے معنی پر غور کرتے ہیں تو ۱-کرنتھیوں ۱۰:۱۱ میں درج پولس رسول کے الفاظ ہمارے کانوں میں گونجتے ہیں: ”یہ باتیں ان پر عبرت کیلئے واقع ہوئیں اور ہم آخری زمانہ والوں کی نصیحت کیلئے لکھی گئیں۔“ کیا ہم نے ذاتی طور پر انجیروں کی دو ٹوکریوں کی اس رویا کے ذریعے ہم تک پہنچائی گئی آگاہی پر سنجیدگی سے غور کیا ہے؟ جس چیز پر ہم بحث کرتے رہے ہیں وہ ان باتوں کا ایک لازمی حصہ ہے جو ہمارے لئے بطور عبرت کے اسرائیل پر واقع ہوئیں۔
۱۴. اسرائیل نے یہوواہ کی پرشفقت نگہبانی کیلئے کیسا ردعمل دکھایا؟
۱۴ آخر میں، آئیں ہم اسرائیل کی بابت داؤد بادشاہ سے کہے گئے یہوواہ کے ان الفاظ کو یاد کریں، جو کہ ۲-سموئیل ۷:۱۰ میں ملتے ہیں: ”میں اپنی قوم اسرائیل کیلئے ایک جگہ مقرر کرونگا اور وہاں انکو جماؤنگا۔“ یہوواہ نے ہر طرح سے اپنی قوم اسرائیل کی شفقت سے نگہبانی کی۔ اسرائیلیوں کے پاس اپنی زندگیوں میں اچھے پھل پیدا کرنے کی ہر وجہ تھی۔ انہیں صرف یہوواہ کی الہی تعلیم پر توجہ دینی اور اسکے احکام کی فرمانبرداری کرنی تھی۔ تاہم، ان میں سے صرف چند ہی نے ایسا کیا۔ اکثریت اتنی ضدی اور سرکش تھی کہ اس نے خراب، سڑے پھل ہی پیدا کئے۔
۱۵. آجکل روحانی اسرائیل اور انکے بھیڑخصلت ساتھیوں نے یہوواہ کے رحم کیلئے کیسا ردعمل ظاہر کیا ہے؟
۱۵ تو پھر، ہمارے زمانے کی بابت کیا ہے؟ یہوواہ نے اپنے روحانی اسرائیل کے بقیہ اور انکے بھیڑخصلت ساتھیوں کیلئے بہت رحم دکھایا ہے۔ ۱۹۱۹ میں انکی روحانی مخلصی کے بعد سے اسکی نظر برابر ان پر لگی ہوئی ہے۔ جیسا کہ اس نے یسعیاہ کے ذریعے پیشینگوئی کرائی، وہ روزانہ کائنات کے عظیمترین معلم، یہوواہ خدا سے الہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ (یسعیاہ ۵۴:۱۳) اسکے پیارے بیٹے یسوع مسیح کے ذریعے دی گئی یہ الہی تعلیم ان کے درمیان بکثرت امن کا باعث بنی ہے اور انہیں بتدریج یہوواہ کیساتھ ایک قریبتر رشتہ میں لے آئی ہے۔ یہ ہم سب کیلئے کیا ہی شاندار روحانی ماحول فراہم کرتی ہے تاکہ یہوواہ کو جانیں، اسکی سنیں اور پھر اپنی زندگیوں میں اچھے پھل پیدا کرتے رہیں—ایسے پھل جو یہوواہ کیلئے حمدوستائش کا باعث بنتے ہیں! ہماری اپنی زندگیوں کا انحصار اسی پر ہے!
۱۶. ہم میں سے ہر ایک انجیر کی دو ٹوکریوں والی رویا کا ذاتی اطلاق کیسے کر سکتا ہے؟
۱۶ لیکن خدا کے تمام غیرمستحق فضل کے باوجود، ابھی تک بعض ایسے ہیں جو سرکش اور سنگدل بنتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے قدیم یہوداہ میں بہتیروں نے کیا اور اپنی زندگیوں میں خراب، سڑا ہوا پھل پیدا کرتے ہیں۔ یہ کسقدر المناک بات ہے! دعا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی عبرتانگیز سبق سے توجہ نہ ہٹا لے جو ان دو ٹوکریوں بمع انکے پھل—اچھے اور خراب—کے ذریعے ہماری توجہ میں لایا گیا ہے۔ جوں جوں برگشتہ مسیحی دنیا کے خلاف یہوواہ کا برحق فیصلہ تیزی سے قریب آتا ہے، دعا ہے کہ ہم پولس رسول کی اس نصیحت پر دھیان دیں: ”تمہارا چالچلن خداوند کے لائق ہو اور اسکو ہر طرح سے پسند آئے اور تم میں ہر طرح کے نیک کام کا پھل لگے اور خدا کی پہچان میں بڑھتے جاؤ۔“—کلسیوں ۱:۱۰۔ (۱۳ ۳/۱ w۹۴)
اعادہ کرنا ”پھل—اچھے اور خراب“ اور ”قوموں کیساتھ یہوواہ کا جھگڑا“ کے ۱-۴ پیراگرف
▫ اچھے انجیروں والی ٹوکری کس چیز کی علامت ہے؟
▫ خراب انجیروں کی رویتی ٹوکری کیسے ظاہر ہوئی؟
▫ یرمیاہ کا پیغام ہمارے لئے کونسا عبرتانگیز سبق مہیا کرتا ہے؟
▫ ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ اور ۱۹۱۴ س۔ع۔ کے سال کی بابت اہم بات کیا تھی؟
[تصویر]
اچھے انجیروں کی طرح خدا کے لوگوں نے شیریں بادشاہتی پھل پیدا کئے ہیں
[تصویر]
مسیحی دنیا خراب انجیروں کی ٹوکری ثابت ہوئی ہے