یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م94 1/‏7 ص.‏ 4-‏7
  • مقابلہ‌باز معاشرے میں ذہنی سکون

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • مقابلہ‌باز معاشرے میں ذہنی سکون
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • مقابلہ‌باز روح کا مصدر
  • مقابلہ‌بازی کے بغیر کامیابی
  • جسطرح ذہنی سکون کو برقرار رکھا جائے
  • کیا مقابلہ‌بازی کامیابی کی کُنجی ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
  • اعمال کی بجائے فضل سے نجات پانا
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2005ء
  • کیا آپ ”‏رُوح کے موافق“‏ چلیں گے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • ایک دوسرے سے مقابلہ‌بازی نہ کریں—‏صلح کو فروغ دیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2021ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1994ء
م94 1/‏7 ص.‏ 4-‏7

مقابلہ‌باز معاشرے میں ذہنی سکون

‏”‏اگر کوئی اول ہونا چاہے،“‏ یسوع مسیح نے اپنے رسولوں کو نصیحت کی، ”‏وہ سب میں پچھلا اور سب کا خادم بنے۔“‏ رسول یہ بحث کر رہے تھے کہ ان میں سے بڑا کون ہے۔ وہ جانتے تھے کہ یسوع کو اس قسم کی سوچ سے نفرت تھی۔ اس نے کبھی بھی روحانی ترقی کو بڑھانے کے طریقے کے طور پر اپنے شاگردوں کو ایکدوسرے کے مدمقابل کھڑا نہ کیا۔—‏مرقس ۹:‏۳۳-‏۳۷‏۔‏

زمین پر آنے سے قبل، یسوع مسیح نے پہلے انسانی جوڑے کی تخلیق میں حصہ لیا تھا اور جانتا تھا کہ وہ کسطرح بنائے گئے تھے۔ (‏کلسیوں ۱:‏۱۵، ۱۶‏)‏ پہلے انسانوں کو دوسروں کیساتھ سختی سے مقابلہ کئے بغیر ترقی کرنے کی صلاحیت کیساتھ خلق کیا گیا تھا۔ انسانوں کو اس بات کو طے کرنے کیلئے آپس میں جھگڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ انکا سردار کون تھا، نہ ہی انہوں نے بقا کیلئے جدوجہد میں جانوروں کیساتھ مقابلہ کیا۔—‏پیدایش ۱:‏۲۶،‏ ۲:‏۲۰-‏۲۴،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۱:‏۳‏۔‏

مقابلہ‌باز روح کا مصدر

پھر، کیسے سخت مقابلہ‌بازی کی روح انسانی معاشرے پر ایک ایسی حاوی قوت بن گئی؟ انسانی تاریخ میں قتل کی پہلی واردات اشارہ دیتی ہے۔ پہلے انسانی جوڑے کے پہلوٹھے بیٹے، قائن کی طرف سے مقابلہ‌بازی کی روح اس المیے کا باعث بنی۔ قائن نے اپنے بھائی ہابل کو قتل کر دیا کیونکہ ہابل کی قربانی نے خدا کو خوش کیا، جبکہ قائن کی قربانی نے ایسا نہ کیا۔ اور بائبل کہتی ہے کہ قائن ”‏جو اس شریر سے تھا اور جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔“‏—‏۱-‏یوحنا ۳:‏۱۲،‏ پیدایش ۴:‏۴-‏۸‏۔‏

جی‌ہاں، شریر، شیطان ابلیس ہی مقابلہ‌بازی کی روح کی ابتدا کرنے والا اور اسے فروغ دینے والا ہے۔ اگرچہ وہ اعلی استحقاقات رکھنے والا خدا کا ایک ملکوتی بیٹا تھا پھر بھی اس نے زیادہ کی خواہش کی۔ (‏مقابلہ کریں حزقی‌ایل ۲۸:‏۱۴، ۱۵۔)‏ جب اس نے حوا کو ورغلایا تو اس نے اپنی ذاتی خواہش کو بھی عیاں کر دیا۔ اس نے کہا کہ ممنوع پھل کھا لینے سے، وہ ”‏خدا کی مانند بن“‏ جائیگی۔ (‏پیدایش ۳:‏۴، ۵‏)‏ واقعی، یہ شیطان ہی تھا جو یہوواہ کے ساتھ برابری کا دعوی کرتے ہوئے، خدا کی مانند بننا چاہتا تھا۔ خدا کے خلاف مقابلہ کرنے کی روح نے اسے بغاوت کرنے کی تحریک دی۔—‏یعقوب ۱:‏۱۴، ۱۵‏۔‏

یہ روح [‏سوچ]‏ دوسروں تک پھیل جانے والی ہے۔ شیطان کے زیراثر، ابتدائی خاندانی انتظام کا خداداد امن تباہ ہو گیا تھا۔ (‏پیدایش ۳:‏۶،‏ ۱۶‏)‏ خدا کیخلاف اپنی بغاوت کے وقت سے، مقابلہ‌بازی کی روح کو پروان چڑھا کر، بلکہ مردوں اور عورتوں کو اس بات پر یقین رکھنے کا فریب دیکر کہ سخت مقابلہ‌بازی کامیابی کی کنجی ہے، شیطان ابلیس نے نوع‌انسانی پر راج کیا ہے۔ تاہم، بائبل وضاحت کرتی ہے:‏ ”‏جہاں حسد اور تفرقہ ہوتا ہے وہاں فساد اور ہر طرح کا برا کام بھی ہوتا ہے۔“‏ ‏(‏یعقوب ۳:‏۱۴-‏۱۶‏)‏ یوں شیطان نے انسان سے اسکی خوشی اور ذہنی سکون چھین لیا ہے۔‏

مقابلہ‌بازی کے بغیر کامیابی

شیطان کی ترغیب کے برعکس، بائبل مقابلہ‌بازی کے بغیر کامیابی کی مثالیں پیش کرتی ہے۔ اولین یسوع مسیح کی ہے۔ اگرچہ خدا کی صورت پر تھا، اس نے خدا کے برابر ہونے کی بابت کبھی نہ سوچا بلکہ ایک خادم کی صورت اختیار کی اور زمین پر آ گیا۔ اس سے بھی بڑھکر، اس نے خود کو پست کر لیا اور دکھ کی سولی پر موت کی حد تک فرمانبردار رہا۔ رقابت کی روح سے خالی، یہ فرمانبردار رجحان، اسکے الہی پسندیدگی حاصل کرنے کا باعث ہوا۔ ”‏اسی واسطے خدا نے بھی اسے بہت سربلند کیا اور اسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلی ہے۔“‏ (‏فلپیوں ۲:‏۵-‏۹‏)‏ اس سے بڑھکر کوئی بھی مخلوق کونسی کامیابی حاصل کر سکتی ہے؟ اس نے اپنے باپ کو اس حد تک شاد کیا کہ کوئی اور مخلوق اتنا نہیں کر سکتی، اور یہ اس نے رقابت یا مقابلہ‌بازی کی کسی بھی روح کے بغیر کیا۔—‏امثال ۲۷:‏۱۱‏۔‏

آسمان میں بے‌شمار وفادار فرشتے بالکل ویسا ہی رجحان دکھاتے ہیں۔ اگرچہ یسوع، جو فرشتوں کا سردار تھا، جب وہ زمین پر آیا تو ان سے کچھ ہی کم کیا گیا تو بھی انہوں نے بخوشی اسکی ضروریات کو پورا کیا۔ واضح طور پر، وہ اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور بطور مقرب فرشتے کے اسکی جگہ لے لینے کی کوشش کرنے کا خیال تک بھی ذہن میں نہ لائے۔—‏متی ۴:‏۱۱،‏ ۱-‏تھسلنیکیوں ۴:‏۱۶،‏ عبرانیوں ۲:‏۷‏۔‏

مقابلہ‌بازی کے رجحانات سے انکی نفرت اس وقت اور بھی عیاں ہو جاتی ہے جب ہم اس طریقے پر غور کرتے ہیں جس سے انہوں نے بعض ناکامل انسانوں کے ایسی غیرفانی زندگی کیلئے یعنی جس حالت میں کہ وہ ”‏فرشتوں کا انصاف“‏ کرینگے سرفراز کئے جانے کے خدائی مقصد کیلئے جوابی عمل دکھایا ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۶:‏۳‏)‏ فرشتوں کے پاس یہوواہ کی خدمت کرنے کا بہت زیادہ تجربہ ہے اور ناکامل انسانوں کی بہ‌نسبت اچھائی کو سرانجام دینے کی کہیں زیادہ استعداد رکھتے ہیں۔ پھر بھی، فرشتے خوشی کیساتھ زمین پر ممسوح لوگوں کی خدمت کرتے ہیں، جو کچھ انہیں حاصل ہوگا اس سے کبھی حسد نہیں کرتے۔ (‏عبرانیوں ۱:‏۱۴‏)‏ انکا خوشگوار، مقابلہ‌بازی کے بغیر رجحان انہیں حاکم‌اعلی خداوند یہوواہ کے تخت کے آگے خدمت کرتے رہنے کے قابل بناتا ہے۔‏

پھر ذرا خدا کے قدیم وفادار خادموں کی بابت سوچیں جو زمین پر قیامت پائینگے۔ ابرہام ایمان کی ایک نمایاں مثال تھا اور ”‏ان سب کا باپ“‏ کہلایا ”‏جو ایمان لاتے ہیں۔“‏ (‏رومیوں ۴:‏۹،‏ ۱۱‏)‏ ایوب نے صبر کی ایک نہایت ہی شاندار مثال قائم کی۔ (‏یعقوب ۵:‏۱۱‏)‏ موسی نے، جو ”‏روی زمین کے سب آدمیوں سے زیادہ حلیم تھا،“‏ آزادی حاصل کرنے کیلئے اسرائیلی قوم کی قیادت کی۔ (‏گنتی ۱۲:‏۳)‏ ان آدمیوں کی نسبت ناکامل انسانوں میں سے اور کس نے ایمان، صبر، اور حلیمی کی اتنی اچھی مثال قائم کی ہے؟ تاہم، وہ خدا کی بادشاہت کے زمینی قلمرو کے وارث ہونے والوں کی صف میں ہیں۔ (‏متی ۲۵:‏۳۴،‏ عبرانیوں ۱۱:‏۱۳-‏۱۶‏)‏ یوحنا اصطباغی کی طرح، انہیں بھی اس شخص سے ”‏جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے“‏ کم درجہ دیا جائے گا۔ (‏متی ۱۱:‏۱۱‏)‏ کیا وہ کبھی اس بات پر اصرار کرتے ہوئے شکوہ کرنے کی بابت سوچیں گے کہ انکا ایمان، صبر، یا حلیمی انکے برابر یا بعض معاملات میں ان سے برتر تھی جنہیں آسمان میں زندگی بخشی گئی ہے؟ یقیناً نہیں!‏ وہ خدا کی بادشاہت کی خوش‌باش زمینی رعایا ہونگے۔‏

آج بھی اپنے اردگرد مقابلہ‌بازی کے رجحان سے خالی لوگوں کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ یاسواو، جسکا ذکر پہلے مضمون میں کیا گیا، سونے کی سٹہ‌بازی کی وجہ سے بہت زیادہ قرض میں دب گیا اور اپنی تمام جائیداد گنوا بیٹھا۔ اسکے ”‏دوستوں“‏ نے اسکا ساتھ چھوڑ دیا۔ چونکہ اسکی بیوی یہوواہ کے گواہوں کیساتھ بائبل کا مطالعہ شروع کر چکی تھی، اسلئے وہ اس مصیبت کیلئے جو وہ اپنے خاندان پر لایا تھا احساس‌ندامت کے باعث انکے اجلاسوں پر گیا۔ آخرکار، اس نے خود کو مقابلہ‌بازی سے آزاد کر لیا اور یہوواہ کے گواہوں میں سے ایک بن گیا۔ اب وہ مسیحی دوستوں کے درمیان خوش ہے ایسے دوست جو مصیبت کے اوقات میں اسکی مدد کرنے کو تیار ہیں۔‏

جسطرح ذہنی سکون کو برقرار رکھا جائے

ایک بے‌رحم، مقابلہ‌باز معاشرے کے اندر ذہنی سکون کو برقرار رکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ اس بات پر غور کرکے ہم اچھا کرتے ہیں کہ بائبل ”‏عداوتیں۔ جھگڑا۔ حسد۔ غصہ۔ تفرقے۔ جدائیاں۔ بدعتیں۔ بغض“‏ کی ”‏جسم کے [‏کاموں]‏“‏ کے طور پر مذمت کرتی ہے جو لوگوں کو خدا کی بادشاہت کے وارث بننے سے روکتے ہیں۔ ان تمام کاموں کا مقابلہ‌باز روح کیساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کچھ عجب نہیں کہ پولس رسول نے گلتیوں کی حوصلہ‌افزائی کی:‏ ”‏ہم بیجا فخر کرکے نہ ایک دوسرے کو چڑائیں نہ ایک دوسرے سے جلیں۔“‏—‏گلتیوں ۵:‏۱۹-‏۲۱،‏ ۲۶‏۔‏

اس سیاق‌وسباق میں، پولس کے خط نے خودپسند مقابلہ‌بازی کے ساتھ نپٹنے کی کنجی کو نمایاں کیا۔ اس نے کہا:‏ ”‏مگر روح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔“‏ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ روح کے پھل ہمیں ہمارے ذہنوں کو رقابت سے پاک کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کیطور پر، محبت کی خوبی پر غور کریں۔ ”‏محبت حسد نہیں کرتی،“‏ پولس نے وضاحت کی۔ ”‏محبت شیخی نہیں مارتی اور پھولتی نہیں۔ نازیبا کام نہیں کرتی۔ اپنی بہتری نہیں چاہتی۔ جھنجھلاتی نہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۳:‏۴-‏۷‏)‏ محبت کو فروغ دینے سے، ہم مقابلہ‌بازی کی روح کو تحریک دینے والی قوت یعنی حسد کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں۔ روح کے دوسرے پھل بھی ایک سخت، مقابلہ‌بازی کی روح کے باقیماندہ نقوش کو اپنے دلوں اور ذہنوں سے دھو ڈالنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ ہر قیمت پر جیتنے کیلئے دوسروں کیخلاف مقابلہ کرنے کی کسی بھی ابھرتی ہوئی خواہش کو ضبطنفس کیساتھ جلد کچلا جا سکتا ہے!‏—‏امثال ۱۷:‏۲۷‏۔‏

تاہم، ان خوبیوں کو فروغ دینے کے سلسلے میں، ہمیں چاہئے کہ خدا کی روح کو اپنے اندر کام کرنے دیں۔ ہم دعا میں مشغول رہنے اور اپنی مدد کیلئے خدا کی روح کے واسطے التجا کرنے سے روح‌القدس کے اس صحت‌افزا دفاعی عمل کو تحریک دے سکتے ہیں۔ (‏لوقا ۱۱:‏۱۳‏)‏ ہماری دعا کے جواب میں، خدا ہمیں کیا چیز عطا کریگا؟ بائبل جواب دیتی ہے:‏ ”‏کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگذاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھیگا۔“‏—‏فلپیوں ۴:‏۶، ۷‏۔‏

یہ بات یسوع کے رسولوں کے معاملے میں عیاں تھی۔ یسوع کے اپنی آخری رات رسولوں کیساتھ خداوند کا عشائیہ شروع کرنے کے بعد بھی، وہ ابھی تک اس بات پر فضول جھگڑ رہے تھے کہ ان میں سے کون بڑا سمجھا جاتا ہے۔ (‏لوقا ۲۲:‏۲۴-‏۲۷‏)‏ یسوع مختلف مواقع پر انہیں اپنی سوچ کو درست کرنے کیلئے مدد دینے کی کوشش کر چکا تھا، لیکن مقابلہ‌بازی کا یہ رجحان انکے اندر گہری جڑ پکڑ چکا تھا۔ (‏مرقس ۹:‏۳۴-‏۳۷،‏ ۱۰:‏۳۵-‏۴۵،‏ یوحنا ۱۳:‏۱۲-‏۱۷‏)‏ تاہم، اس تکرار کے کوئی ۵۰ دن بعد جب انہوں نے روح‌القدس حاصل کر لی تو انکا رویہ بدل گیا۔ اس معاملے پر کوئی بحث نہ ہوئی کہ پنتکست کے اس دن پر جمع‌شدہ متجسس ہجوم سے خطاب کرنے میں کون انکی نمائندگی کریگا۔—‏اعمال ۲:‏۱۴-‏۲۱‏۔‏

مسیحی کلیسا پر کسی انسانی تسلط کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ جب انہیں ختنے کے متعلق ایک مسئلے کو حل کرنا تھا تو یعقوب نے، جو یسوع کی موت کے وقت پر ابھی شاگرد بھی نہیں تھا، اس اہم اجلاس کی صدارت کی۔ اس سلسلے میں کسی جھگڑے کا نام‌ونشان تک نہیں ملتا کہ مسیحی کلیسیا کی مجلس‌عاملہ کے اس اجلاس کی پیشوائی کون کریگا۔ اس وقت سے لیکر کیا ہی بڑی تبدیلی جب رسول مقابلہ‌بازی کی روح سے آلودہ ہوتے تھے!‏ روح‌القدس کی مدد سے، انہوں نے یسوع کی تعلیمات کو یاد کیا اور اسکے اسباق کے مفہوم کو سمجھنا شروع کر دیا۔—‏یوحنا ۱۴:‏۲۶‏۔‏

ہماری بابت بھی یہی کچھ سچ ہو سکتا ہے۔ روح‌القدس کی مدد کیساتھ، ہم دوسروں کو نقصان پہنچا کر ترقی کرنے کیلئے ان کیساتھ مقابلہ کرنے کی کسی بھی باقیماندہ خواہش پر غالب آ سکتے ہیں۔ اس سے بھی بہتر تو یہ ہے کہ ہم ذہنی سکون حاصل کر سکتے ہیں جو سمجھ سے بالکل باہر ہے۔ بائبل ہمیں یقین دلاتی ہے کہ سخت مقابلہ‌بازی کا مبدا، شیطان ابلیس، بہت جلد اتھاہ گڑے میں ڈال دیا جائیگا یعنی بے‌حرکت کر دیا جائیگا۔ (‏مکاشفہ ۲۰:‏۱-‏۳‏)‏ پڑوسیوں کے درمیان پھر کبھی رقابت نہ رہے گی۔ کیا نتیجہ ترقی کے بغیر ایک معاشرہ ہوگا؟ ہرگز نہیں!‏ انسان کاملیت کو پہنچ جائینگے، اپنے درمیان کسی مقابلے کے ذریعے نہیں، بلکہ انکے لئے یسوع کے فدیے کی قربانی کا اطلاق کرنے کے ذریعے۔—‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱، ۲‏۔‏

کانوسکے، جسکا پہلے ذکر کیا گیا، جو کاروں کی انتہائی تعداد فروخت کرنے سے دنیاوی کامرانی کی ناموری کا تجربہ کر چکا تھا، اس نے خود کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے تھکا لیا تھا، لیکن بالآخر اس نے اپنی ملازمت چھوڑ دی۔ ”‏اب، میری زندگی حقیقی شادمانی سے معمور ہے،“‏ وہ کہتا ہے۔ اس نے جان لیا تھا کہ کس وجہ سے حقیقی کامیابی نے یسوع کی زندگی کو مختلف بنا دیا تھا۔ اب وہ خدا کی عالمگیر کلیسیا کے اندر جو کچھ بھی کر سکتا ہے اس سے تازگی حاصل کرتا ہے۔ یوں وہ نئی دنیا کیلئے تیار ہو رہا ہے، جو مقابلہ‌بازی سے پاک ہوگی۔ آپ بھی اپنے علاقے کے اندر کنگڈم ہالوں میں سے کسی ایک میں جانے سے اور یہوواہ کے گواہوں کیساتھ رفاقت رکھنے سے اس نئے عالمی معاشرے کا پیشگی نظارہ کر سکتے ہیں۔ (‏۴ ۳/۱ w۹۴)‏

‏[‏تصویر]‏

خدا کی نئی دنیا میں انسانی معاشرہ امن اور تعاون سے لطف‌اندوز ہوگا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں