کیا مقابلہبازی کامیابی کی کُنجی ہے؟
”جیت سے بڑھکر کچھ بھی نہیں ہے۔“ آجکل بہتیرے لوگ انہی الفاظ کے مطابق زندگی گذارتے ہیں جنہیں اکثر ایک امریکن فٹبال کوچ، ونز لیمبارڈے سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اب، سابقہ کمیونسٹ ممالک بھی مقابلہبازی کے اصول کو سراہنے میں شامل ہو گئے ہیں۔ اپنی منڈیوں کے اندر مقابلہبازی کو متعارف کرانا دولتمندی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ مشرقی ممالک میں بہت سے والدین اپنے بچوں کو دوسروں کے مقابلے میں لا کھڑا کرتے اور انہیں کم وقت میں جامع تعلیم دینے والے ایسے پرائیوٹ سکولوں میں بھیجتے ہیں جو انہیں داخلے کے امتحانات میں کامیاب ہونے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ اس معاملے کی بابت ضرورت سے زیادہ فکرمند والدین یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک بلند معیار والے سکول میں داخلہ مستقبل میں خوشحالی کی کنجی ہے۔
بہت سے لوگ یہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ مقابلہبازی کامیابی کی کنجی ہے۔ انکے اس یقین کے مطابق انسانوں نے ایکدوسرے کیساتھ مقابلہ کرنے سے ترقی کی ہے۔ جاپان کی معاشی تنظیموں کی فیڈریشن کے ذریعے سروے کی گئی بڑی بڑی کارپوریشنوں کے افسراناعلی کے ۹.۶۵ فیصد نے کہا ”ترقی کیلئے مقابلہبازی جاپانی کارپوریشنوں کے قائم رہنے کی قوت کا منبع ہے۔“ اور یوں دکھائی دیتا ہے کہ جاپانی کمپنیاں کچھ عرصے سے کامیابی حاصل کر رہی ہیں۔ تاہم، کیا واقعی مقابلہبازی کامیابی کی کنجی ہے؟
واقعی بااجر؟
جو لوگ دوسروں کیخلاف مقابلہ کرتے ہیں وہ پہلے میں کے خودغرضانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب دوسرے بری طرح نقصان اٹھاتے ہیں تو وہ یہ تصور کرکے خوش ہوتے ہیں کہ یہ بدلے میں انکی کارکردگی کو زیادہ نمایاں کریگا۔ اپنے خودغرضانہ نفع کی خاطر، وہ شاید دوسروں کو نقصان پہنچانے والی تدابیر کو استعمال کریں۔ مقابلہبازی کے ذریعے کامیابی کی ایسی جستجو کا انجام کیا ہوگا؟ یاسواو، جس نے اپنی کمپنی میں ایک اہم شخص بننے کی دوڑ میں خود کو غرق کر لیا، اپنی گذشتہ روش کو یاد کرتا اور کہتا ہے: ”مقابلہبازی کی روح اور ترقی کرنے پر مرتکز سوچ سے معمور، میں نے اپنا مقابلہ دوسروں کیساتھ کیا اور برتر محسوس کیا۔ جب ان لوگوں کو مجھ سے اعلی عہدے پر فائز کر دیا گیا تو میں ہر روز کمپنی کی انتظامیہ پر جھلاتا اور شکایت کرتا۔ صحیح معنوں میں میرے کوئی دوست نہیں تھے۔“
ایک مقابلہباز روح بےوقت موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ کیسے؟ کاروشی یا کام کی زیادتی کے باعث موت کو، جاپان کا مائی نیچی ڈیلی نیوز، ٹائپ-اے طرزعمل کیساتھ مربوط کرتا ہے۔ ٹائپ اے طرزعمل کے ایسے نمونے کی وضاحت کرتا ہے جو وقت کی نزاکت، مقابلہبازی، اور مخالفت کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ کیساتھ نپٹتا ہے۔ امریکہ کے ماہرین امراضقلب فرائیڈمین اور روزنمین ٹائپ-اے طرزعمل کو دل کی بیماری (دل کیطرف خون کے بہاؤ کی کمی) کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔ جیہاں، مقابلہبازی کی روح جان لیوا ہو سکتی ہے۔
جائے ملازمت پر مقابلہبازی دیگر جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔ اسکی ایک مثال کانوسکے ہے، جو جاپان کے بہت بڑے کار ڈیلروں کا صفاول کا سیلزمین تھا۔ اس نے کل ۱،۲۵۰ کاریں بیچنے کا ایک ریکارڈ قائم کیا۔ اسکی تصویر کو فریم کیا گیا اور کمپنی کے ہیڈکوارٹرز میں بورڈ آف ڈائریکٹر کے استعمال میں آنے والے کمرے کے اندر لٹکایا گیا۔ اگرچہ اسے ترقیاں حاصل کرنے کیلئے اپنے رفیقکاروں کو بطور وسیلہ استعمال کرنے سے نفرت تھی تو بھی کمپنی نے اسے مقابلہبازی کرنے کیلئے مجبور کیا۔ نتیجتاً، ایک ہی سال کے اندر وہ معدے اور بڑی آنت دونوں کے السر کی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔ اسی سال، اسکی کمپنی کے ۱۵ افسراناعلی ہسپتال میں داخل ہوئے، اور ایک نے خودکشی کر لی۔
گھر میں ہمسایوں پر رشک آنے والا رجحان لوگوں کو کبھی نہ ختم ہونے والی رقابت میں اپنے وسائلزندگی کی نمودونمائش کرنے کیلئے اکساتا ہے۔ (۱-یوحنا ۲:۱۶) زمین کے سوداگروں کے ہاتھوں میں پیسہ دینا، صرف تجارتی اداروں کو ہی فائدہ پہنچاتا ہے۔—مقابلہ کریں مکاشفہ ۱۸:۱۱۔
اگرچہ رقابت اور مقابلہبازی کی روح کام میں مہارت پیدا کر سکتی ہے تو بھی یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ شاہ سلیمان نے مشاہدہ کیا: ”میں نے ساری محنت کے کام اور ہر ایک اچھی دستکاری کو دیکھا کہ اسکے سبب سے آدمی اپنے ہمسایہ سے حسد کرتا ہے۔ یہ بھی بطلان اور ہوا کی چران ہے۔“ (واعظ ۴:۴) پس ایک مقابلہباز معاشرے میں رہتے ہوئے بھی ہم کیسے ذہنی سکون برقرار رکھ سکتے ہیں؟ یہ معلوم کرنے کیلئے، آئیں پہلے یہ دیکھیں کہ مقابلہبازی کے خیال کا آغاز کہاں سے ہوا۔ (۳ ۳/۱ w۹۴)