معرفت میں بڑھتے جائیں
”اپنے ایمان ... پر معرفت [”علم“، اینڈبلیو]... بڑھاؤ۔“—۲-پطرس ۱:۵-۷۔
۱، ۲. (ا) آسمانوں کو دیکھنے سے آپ کیا سیکھ سکتے ہیں؟ (رومیوں ۱:۲۰) (ب) انسان کے علم میں اضافے کی حقیقی وسعت کیا ہے؟
آپ ایک صاف، سیاہ رات کو باہر جا کر اور روشن چاند اور بیشمار ستاروں کو دیکھنے سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟ آپ اس کی بابت کچھ سیکھ سکتے ہیں جس نے ان سب کو خلق کیا۔—زبور ۱۹:۱-۶، ۶۹:۳۴۔
۲ اگر آپ اس علم میں اضافہ کرنا چاہتے تو کیا آپ اپنے گھر کی چھت پر چڑھتے اور وہاں سے دیکھتے؟ غالباً نہیں۔ البرٹ آئنسٹائن نے نکتے کو سمجھانے کیلئے ایک دفعہ ایسی تمثیل استعمال کی کہ حقیقت میں سائنسدانوں نے کائنات کے علم میں بہت زیادہ اضافہ نہیں کیا اور یقیناً جس نے اسے خلق کیا اسکی بابت بہت ہی کم۔a ڈاکٹر لوئس تھامس نے لکھا: ”سائنسی طور پر اس نہایت ہی ترقییافتہ صدی میں سائنس کی عظیمترین کامیابی یہ دریافت ہے کہ ہم بہت زیادہ جاہل ہیں، ہم فطرت کی بابت بہت کم جانتے ہیں اور ہم سمجھتے تو اور بھی کم ہیں۔“
۳. کس مفہوم میں علم میں اضافہ دکھ کو زیادہ کرتا ہے؟
۳ اگر آپ ایک عام زندگی کی مدت کے باقی سالوں کو ایسے علم کی تلاش میں صرف بھی کر دیں، تو آپ صرف اس بات سے زیادہ باخبر ہوتے ہیں کہ زندگی کتنی مختصر ہے اور زیادہ واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ آدمی کے علم کا استعمال ناکاملیت سے اور اس دنیا کی ”عیاری“ سے محدود ہے۔ سلیمان نے لکھتے وقت یہ نکتہ پیش کیا: ”بہت حکمت میں بہت غم ہے اور علم میں ترقی دکھ کی فراوانی ہے۔“ (واعظ ۱:۱۵، ۱۸) جیہاں، خدا کے مقاصد سے کسی بھی تعلق کے بغیر علم اور حکمت حاصل کرنے میں عام طور پر دکھ اور غم شامل ہوتا ہے۔—واعظ ۱:۱۳، ۱۴، ۱۲:۱۲، ۱-تیمتھیس ۶:۲۰۔
۴. ہمیں کونسا علم حاصل کرنے کی خواہش کرنی چاہیے؟
۴ کیا بائبل یہ مشورہ دے رہی ہے کہ ہم اپنے علم میں اضافہ کرنے میں دلچسپی نہ لیں؟ پطرس رسول نے لکھا: ”بلکہ ہمارے خداوند اور منجی یسوع مسیح کے فضل اور عرفان میں بڑھتے جاؤ۔ اسی کی تمجید اب بھی ہو اور ابد تک ہوتی رہے۔“ (۲-پطرس ۳:۱۸) ہم علم میں ترقی کرنے کی تلقین کرنے والی اس نصیحت کو خود پر عائد ہوتے ہوئے تسلیم کرسکتے ہیں اور ہمیں کرنا بھی چاہئے۔ لیکن کس قسم کا علم؟ ہم اس میں کیسے اضافہ کر سکتے ہیں؟ اور کیا ہم واقعی ایسا کر رہے ہیں؟
۵، ۶. پطرس نے کیسے زور دیا کہ ہمیں علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے؟
۵ کائنات کے خالق اور یسوع کی بابت صحیح علم میں اضافہ کرنا پطرس کے دوسرے خط کا مرکزی خیال تھا۔ اس کے شروع میں اس نے لکھا: ”خدا اور ہمارے خداوند یسوع کی پہچان [”صحیح علم،“ اینڈبلیو] کے سبب سے فضل اور اطمینان تمہیں زیادہ [”حاصل،“ اینڈبلیو] ہوتا رہے۔ کیونکہ اسکی الہی قدرت نے وہ سب چیزیں جو زندگی اور دینداری سے متعلق ہیں ہمیں اسکی پہچان [”صحیح علم،“ اینڈبلیو] کے وسیلہ سے عنایت کیں جس نے ہمکو اپنے خاص جلال اور نیکی کے ذریعے بلایا۔“ (۲-پطرس ۱:۲، ۳) پس وہ خدا اور اسکے بیٹے کی بابت علم حاصل کرنے کو غیرمستحق فضل اور اطمینان حاصل ہونے کے ساتھ منسلک کرتا ہے۔ یہ معقول ہے، چونکہ خالق، یہوواہ، حقیقی علم کا نقطۂماسکہ ہے۔ جو خدا سے ڈرتا ہے وہ معاملات کو صحیح پسمنظر میں دیکھنے اور معقول فیصلوں پر پہنچنے کے قابل ہے۔—امثال ۱:۷۔
۶ اسکے بعد پطرس نے تلقین کی: ”اپنے ایمان پر نیکی اور نیکی پر معرفت۔ اور معرفت [”علم“، اینڈبلیو] پر پرہیزگاری اور پرہیزگاری پر صبر اور صبر پر دینداری اور دینداری پر برادرانہ الفت اور برادرانہ الفت پر محبت کو بڑھاؤ۔ کیونکہ اگر یہ باتیں تم میں موجود ہوں اور زیادہ بھی ہوتی جائیں تو تم کو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے پہچاننے میں بیکار اور بےپھل نہ ہونے دینگی۔“ (۲-پطرس ۱:۵-۸)b اگلے باب میں، ہم پڑھتے ہیں کہ علم حاصل کرنا دنیا کی آلودگیوں سے بچنے کیلئے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ (۲-پطرس ۲:۲۰) پس پطرس نے اس چیز کو واضح کیا کہ وہ جو مسیحی بنتے ہیں انہیں علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ وہ کرتے ہیں جو پہلے ہی سے یہوواہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ کیا آپ ان گروپوں میں سے ایک میں ہیں؟
سیکھیں، دہرائیں، استعمال کریں
۷. کس طریقے سے بہتیروں نے بائبل کی بنیادی سچائیوں کا علم حاصل کیا ہے؟
۷ ہو سکتا ہے آپ یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل مطالعہ کر رہے ہوں کیونکہ آپ انکے پیغام میں سچائی کی جھلک کو پہچانتے ہیں۔ ہر ہفتے، تقریباً ایک گھنٹے کیلئے آپ ایک امدادی کتاب جیسے یو کین لو فارایور ان پیراڈائز آن ارتھ کو استعمال کرتے ہوئے ایک بائبل موضوع پر باتچیت کرتے ہیں۔ بہت خوب! بہتیرے جو یہوواہ کے گواہوں کے ساتھ ایسا مطالعہ کر چکے ہیں انہوں نے وہ صحیح علم حاصل کر لیا ہے۔ تاہم، آپ اس مقدار میں اضافہ کرنے کیلئے کیا کر سکتے ہیں جو آپ ذاتی طور پر سیکھ رہے ہیں؟ یہ ہیں کچھ تجاویز۔c
۸. ایک مطالعہ تیار کرتے وقت، زیادہ سیکھنے کیلئے ایک طالبعلم کیا کر سکتا ہے؟
۸ جب آپ اپنا مطالعہ تیار کرتے ہیں تو پہلے ہی سے، احاطہ کئے جانے والے مواد کا جائزہ لیں۔ اسکا مطلب باب کے عنوان، ذیلی سرخیاں، اور مواد کو سمجھانے کیلئے استعمال کی گئی تمام تصویرں کو دیکھنا ہے۔ اسکے بعد، جب آپ ایک پیراگراف یا اشاعت کا حصہ پڑھتے ہیں تو کلیدی خیالات اور تائید کرنے والے صحائف کو تلاش کریں، ان کو خطکشیدہ یا نمایاں کریں۔ یہ دیکھنے کیلئے کہ آیا احاطہکردہ سچائیوں کو آپ نے سیکھ لیا ہے، مختلف پیراگرافوں میں سوالات کا جواب دینے کی کوشش کریں۔ ایسا کرتے ہوئے، جوابات کو اپنے لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ آخر میں، اہم نکات اور تائید کرنے والے دلائل کو یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے سبق پر نظرثانی کریں۔
۹. مطالعے کی بابت تجاویز کا اطلاق کرنا تعلیم پانے کیلئے کسی کی مدد کیسے کریگا؟
۹ اگر آپ ان تجاویز کو لاگو کرتے ہیں تو آپ علم میں اضافہ کرنے کی توقع کر سکتے ہیں۔ ایسا کیوں؟ ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ مواد تک سیکھنے کی ایک شدید خواہش کے ساتھ رسائی کر رہے ہونگے، گویا کہ زمین تیار کر رہے ہیں۔ ایک سرسری جائزہ لینے اور پھر اہم نکات اور استدلال کے سلسلوں کی تلاش کرنے سے، آپ دیکھینگے کہ کسطرح سے تفصیلات موضوع یا اختتام سے واسطہ رکھتی ہیں۔ جو کچھ آپ نے مطالعہ کیا ہے اس پر آخری نظرثانی اسے یاد رکھنے میں آپکی مدد کریگی۔ بعد میں آپکے بائبل مطالعہ کے دوران کیا چیز آپکی مدد کریگی؟
۱۰. (ا) حقائق یا نئی معلومات کو محض دہرانے کی قدروقیمت محدود کیوں ہے؟ (ب) ”گریجویٹڈ انٹرول ریکال“ [نئی چیزوں کو بتدریجی طور پر لمبے وقفوں کے بعد یاد کرنے] میں کیا شامل ہے؟ (پ) اسرائیلی بیٹے دہرانے کے عمل سے کیسے فائدہ اٹھا سکتے تھے؟
۱۰ تعلیم کے میدان میں ماہرین بامقصد اور بروقت دہرائی کی قدروقیمت کو جانتے ہیں۔ یہ محض الفاظ کا رٹا لگا لینا نہیں ہے، جسے شاید آپ نے کسی نام، حقیقت، یا خیال کو سیکھتے وقت حفظ کرنے کے ذریعے سکول میں آزمایا ہو۔ تاہم، کیا آپ نے دیکھا کہ آپ اسے بہت جلد بھول گئے جسے آپ نے بار بار بولا تھا، یعنی وہ جلد ہی یادداشت سے نکل چکا ہے؟ کیوں؟ ایک نئے لفظ یا حقیقت کا رٹا لگانا اکتا دینے والا کام ہو سکتا ہے، اور نتائج تھوڑی دیر کے ہوتے ہیں۔ اسے کیا چیز بدل سکتی ہے؟ سیکھنے کیلئے آپکی حقیقی چاہت مدد کریگی۔ ایک اور کنجی بامقصد دہرائی ہے۔ جب آپ کوئی نکتہ سیکھ لیتے ہیں تو اسکے کچھ منٹ بعد، اس سے پہلے کہ یہ یادداشت سے نکل جائے، آپ نے جو کچھ سیکھا ہے اسے اپنے اندر سے باہر لانے کی کوشش کریں۔ اسے ”گریجویٹڈ انٹرول ریکال“ [نئی چیزوں کو بتدریجی طور پر لمبے وقفوں کے بعد یاد کرنے] کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے پیشتر کہ یہ ذہن سے نکل جائے، اپنی یاد کو تازہ کرنے سے آپ اسے یاد رکھنے کی مدت کو بڑھاتے ہیں۔ اسرائیل میں، والدوں نے خدا کے احکام کو اپنے بیٹوں کے ذہننشین کرنا تھا۔ (استثنا ۶:۶، ۷) ”ذہننشین کرنے“ کا مطلب دہرائی کے ذریعے سکھانا ہے۔ غالباً، ان والدوں میں سے بہتیروں نے قوانین کو پہلے اپنے بیٹوں کے سامنے پیش کیا، اسکے بعد انہوں نے معلومات کو دہرایا، اور پھر جو کچھ سیکھا گیا تھا انہوں نے اپنے بیٹوں سے اسکے متعلق سوال پوچھے۔
۱۱. بائبل مطالعے کے دوران سیکھنے میں اضافہ کرنے کیلئے کیا کیا جا سکتا ہے؟
۱۱ اگر ایک گواہ آپکے ساتھ بائبل مطالعہ کر رہا ہے تو وہ مرد یا عورت مطالعہ کرانے کے دوران وقفے وقفے پر ترقیپسندانہ خلاصے پیش کرنے سے سیکھنے کیلئے آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ یہ طفلانہ کام نہیں ہے۔ یہ ایک طریقکار ہے جو سیکھنے کے عمل کو بہتر بناتا ہے، پس وقتاً فوقتاً کی نظرثانیوں میں خوشی سے حصہ لیں۔ اسکے بعد، مطالعے کے آخر پر، آخری نظرثانی میں حصہ لیں جس میں آپ یادداشت سے جواب دیتے ہیں۔ آپ اپنے الفاظ میں نکات کی وضاحت کر سکتے ہیں جیسے آپ ایکدوسرے شخص کو سکھاتے وقت کرینگے۔ (۱-پطرس ۳:۱۵) جو کچھ آپ نے سیکھا ہے اسے دیر تک اپنی یادداشت کا حصہ بنانے میں یہ آپکی مدد کریگا۔—مقابلہ کریں زبور ۱۱۹:۱، ۲، ۱۲۵، ۲-پطرس ۳:۱۔
۱۲. اپنے حافظے کو بہتر بنانے کیلئے کوئی طالبعلم کیا کر سکتا ہے؟
۱۲ آپ کیلئے ایک اور مفید قدم یہ ہوگا کہ ایک یا دو دن کے اندر اندر جو کچھ آپ نے سیکھا کسی دوسرے، شاید ہممکتب، ایک ساتھی کارکن، یا کسی پڑوسی کو بتائیں۔ آپ موضوع کا ذکر کر سکتے ہیں اور پھر کہیں کہ آپ صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا آپ استدلال کے کلیدی خطوط کو یا بائبل میں سے تائید کرنے والے صحائف کو یاد کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنا دوسرے شخص کی دلچسپی کو ابھار سکتا ہے۔ اگر یہ ایسا نہ بھی کرے، تو بھی ایک یا دو دن کے وقفے کے بعد نئی معلومات کو دہرانے کا طریقہ ہی اسے آپکی یادداشت میں استوار کر دیگا۔ پھر آپ نے جو کچھ ۲-پطرس ۳:۱۸ تلقین کرتی ہے اس پر عمل کرتے ہوئے اسے واقعی سیکھ لیا ہوگا۔
مستعدی سے سیکھنا
۱۳، ۱۴. ہمیں محض معلومات حاصل کرنے اور یاد رکھنے سے آگے جانے کی خواہش کیوں کرنی چاہیے؟
۱۳ سیکھنا محض حقائق کو جان لینے یا معلومات کو یاد کرنے کے قابل ہونے سے کہیں زیادہ ہے۔ یسوع کے دنوں کے مذہبی لوگوں نے بار بار دہرائی جانے والی اپنی دعاؤں کیساتھ ایسا کیا۔ (متی ۶:۵-۷) لیکن وہ معلومات سے کیسے اثرپذیر ہوئے تھے؟ کیا وہ راست پھل پیدا کر رہے تھے؟ بمشکل۔ (متی ۷:۱۵-۱۷، لوقا ۳:۷، ۸) مسئلے کا ایک جزو یہ تھا کہ علم نے مفید نتائج کے ساتھ انکے دلوں میں سرایت نہ کی۔
۱۴ پطرس کے مطابق، اسے اس وقت کے اور اب کے مسیحیوں کے ساتھ فرق ہونا چاہیے۔ وہ ہمیں اپنے ایمان پر علم کو بڑھانے کی تلقین کرتا ہے جو سست یا بےپھل ہونے سے بچنے کیلئے ہماری مدد کریگا۔ (۲-پطرس ۱:۵، ۸) ہمارے معاملے میں اسے سچ ثابت ہونے کیلئے، ہمیں اس علم میں بڑھنے کی خواہش، اور اسے ہم پر گہرا اثر کرنے، ہماری ذات کے باطن کو چھونے کی خواہش کرنی چاہیے۔ یہ شاید ہمیشہ واقع نہ ہو۔
۱۵. بعض عبرانی مسیحیوں کے ساتھ کیا مسئلہ پیدا ہو گیا تھا؟
۱۵ پولس کے دنوں میں عبرانی مسیحیوں کو اس سلسلے میں مسئلہ درپیش تھا۔ یہودی ہونے کی وجہ سے، انہیں صحائف کا کچھ علم تھا۔ وہ یہوواہ اور اسکے بعض تقاضوں کی بابت جانتے تھے۔ بعدازاں انہوں نے مسیحا کی بابت علم میں اضافہ کیا، ایمان لائے، اور مسیحیوں کے طور پر بپتسمہ پایا تھا۔ (اعمال ۲:۲۲، ۳۷-۴۱، ۸:۲۶-۳۶) مہینوں اور سالوں کے دوران، وہ مسیحی اجلاسوں پر حاضر ہوئے ہونگے، جہاں پر وہ صحائف کو پڑھنے اور تبصرہ کرنے میں حصہ لے سکے تھے۔ پھر بھی، بعض نے علم میں ترقی نہ کی۔ پولس نے لکھا: ”وقت کے خیال سے تو تمہیں استاد ہونا چاہیے تھا مگر اب اس بات کی حاجت ہے کہ کوئی شخص خدا کے کلام کے ابتدائی اصول تمہیں پھر سکھائے اور سخت غذا کی جگہ تمہیں دودھ پینے کی حاجت پڑ گئی۔“ (عبرانیوں ۵:۱۲) یہ کیسے ہوا؟ کیا یہ ہمارے ساتھ بھی واقع ہو سکتا ہے؟
۱۶. پرمافراسٹ کیا ہے، اور یہ پودوں پر کیسے اثرانداز ہوتا ہے؟
۱۶ مثال کے طور پر، پرمافراسٹ [مستقل منجمد پرت] پر غور کریں، قطب شمالی اور دوسرے خطوں میں مستقل طور پر منجمد زمین جہاں پر اوسط درجہحرارت نقطہانجماد سے نیچے ہے۔ مٹی، چٹانیں، اور زمین کے اندر کا پانی ٹھوس کمیت میں جم جاتا ہے، بعض اوقات ۹۰۰ میٹر گہرائی تک۔ موسم گرما میں، شاید اوپری مٹی میں (جو فعال پرت کہلاتی ہے) پگھلاہٹ واقع ہوسکتی ہے۔ تاہم، پگھلی ہوئی مٹی کی یہ باریک پرت عام طور پر کیچڑ والی ہوتی ہے کیونکہ نمی کا نکاس نیچے پرمافراسٹ میں نہیں ہو سکتا۔ پودے جو اوپر کی باریک پرت میں اگتے ہیں اکثر چھوٹے ہوتے ہیں یا انکی نشوونما رک جاتی ہے، انکی جڑیں پرمافراسٹ کے آرپار نہیں ہو سکتیں۔ آپ حیران ہو سکتے ہیں کہ ”پرمافراسٹ کا اس سے کیا تعلق ہے کہ آیا میں بائبل سچائی کے علم میں بڑھ رہا ہوں؟“
۱۷، ۱۸. بعض عبرانی مسیحیوں کے ساتھ جو کچھ واقع ہو چکا تھا اسے سمجھانے کیلئے پرمافراسٹ اور اسکی فعال پرت کو کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟
۱۷ پرمافراسٹ اسکی حالت کو خوب سمجھاتا ہے جسکی ذہنی قوتیں صحیح علم حاصل کرنے، یاد رکھنے، اور استعمال کرنے میں سرگرمی کے ساتھ مصروفعمل نہیں ہیں۔ (مقابلہ کریں متی ۱۳:۵، ۲۰، ۲۱۔) اغلب ہے کہ وہ شخص مختلف مضامین، بشمول بائبل سچائی کے سیکھنے کی ذہنی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نے ”خدا کے کلام کے ابتدائی [اصولوں]“ کا مطالعہ کیا اور ہو سکتا ہے بپتسمہ پانے کے لائق ٹھہرا ہو، جیسے ان عبرانی مسیحیوں نے کیا ہو۔ تاہم، شاید اس نے ”مسیح کی تعلیم کی ابتدائی [باتوں]“ سے آگے کی باتوں یعنی ”کمال کی طرف قدم“ نہیں ”[بڑھایا]“—عبرانیوں ۵:۱۲، ۶:۱۔
۱۸ اس وقت اجلاسوں پر ان بعض مسیحیوں کا تصور کریں۔ وہ حاضر اور بیدار تھے، لیکن کیا ان کے ذہن سیکھنے میں مصروف تھے؟ کیا وہ مستعدی اور خلوص سے علم میں بڑھ رہے تھے؟ شاید نہیں۔ ناپختہ اشخاص کیلئے، اجلاسوں میں کوئی بھی شرکت ایک باریک فعال پرت پر واقع ہوئی، گویا جبکہ نیچے ایک منجمد گہرائی تھی۔ زیادہ ٹھوس یا پیچیدہ سچائیوں کی جڑیں ذہنی پرمافراسٹ کے اس خطے میں سرایت نہ کر سکیں۔—مقابلہ کریں یسعیاہ ۴۰:۲۴۔
۱۹. کس طریقے سے آجکل ایک تجربہکار مسیحی شاید عبرانی مسیحیوں کی مانند بن جائے؟
۱۹ آجکل ایک مسیحی کیساتھ ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ جبکہ وہ اجلاسوں پر ہے شاید ان مواقع کو علم میں ترقی کرنے کیلئے استعمال نہ کرے۔ مستعدی کے ساتھ ان میں حصہ لینے کی بابت کیا ہے؟ ایک نئے یا نوجوان شخص کیلئے صحیفائی اقتباس پڑھنے یا پیراگراف کے الفاظ میں ایک تبصرہ دینے کیلئے خود کو پیش کرنے کیلئے کافی کوشش درکار ہے، جو اسکی صلاحیت کی عمدہ اور قابلتعریف مشق کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن پولس نے دوسروں کیلئے اس وقت کے پیشنظر ظاہر کیا جب سے وہ مسیحی رہے ہیں کہ اگر وہ علم میں ترقی کرتے رہنا چاہتے ہیں تو انہیں شرکت کے ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھنا چاہیے۔—عبرانیوں ۵:۱۴۔
۲۰. ہم سب کو کونسا ذاتی تجزیہ کرنا چاہیے؟
۲۰ اگر ایک تجربہکار مسیحی نے محض ایک بائبل کی آیت پڑھنے یا براہراست پیراگراف سے ایک بنیادی تبصرہ کرنے سے آگے کبھی ترقی نہیں کی، تو غالباً اسکی شرکت اسکے ذہن کی ”فعال پرت“ کے اوپر کے حصے سے آئی۔ اپنی پرمافراسٹ کی تمثیل کو جاری رکھنے کیلئے، اسکی ذہنی قوت کی گہرائیوں کے منجمد حالت میں رہنے کے ساتھ کئی اجلاس گزر سکتے ہیں۔ ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: ”کیا میرے ساتھ یہی معاملہ ہے؟ کیا میں نے ایک قسم کے ذہنی پرمافراسٹ کو قائم ہونے کی اجازت دی ہے؟ میں سیکھنے میں ذہنی طور پر کتنا چوکس اور کتنی دلچسپی رکھتا ہوں؟ اگر ہم اپنے دیانتدارانہ جوابات کے ساتھ غیرمطمئن بھی ہیں تو بھی ہم اب علم میں بڑھنے کیلئے اقدام اٹھانا شروع کر سکتے ہیں۔
۲۱. پہلے سے احاطہکردہ کونسے اقدام کا آپ اجلاسوں کیلئے تیاری کرتے یا حاضر ہوتے وقت اطلاق کر سکتے ہیں؟
۲۱ انفرادی طور پر ہم پیراگراف ۸ میں تجاویز کا اطلاق کر سکتے ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کب سے کلیسیا کے ساتھ رفاقت رکھتے رہے ہیں، ہم زیادہ علم اور پختگی کی طرف قدم بڑھانے کا عزم کر سکتے ہیں۔ بعض کے معاملے میں اسکا مطلب اجلاسوں کیلئے زیادہ مستعدی کیساتھ تیاری کرنا ہے، شاید ان عادات کو ازسرنو نیا بنانا ہے جن کی گذشتہ سالوں میں پیروی کی گئی تھی لیکن وہ آہستہ آہستہ باقی نہ رہیں۔ جب آپ تیاری کرتے ہیں، تو جو کچھ کلیدی نکات ہیں ان کا تعین کرنے اور غیرمعروف صحائف کو سمجھنے کی کوشش کریں جو استدلال کے سلسلوں کو فروغ دینے کیلئے استعمال کئے گئے ہیں۔ مطالعے کے مواد میں کسی نئے زاویے یا پہلو کی تلاش کریں۔ اسی طرح سے، اجلاس کے دوران، پیراگراف ۱۰ اور ۱۱ میں متذکرہ تجاویز کا اپنے اوپر اطلاق کرنے کی کوشش کریں۔ ذہنی طور پر چوکس رہنے کی کوشش کریں، گویا اپنے ذہن کے درجہحرارت کو تیز رکھیں۔ وہ ”پرمافراسٹ“ کو قائم کرنے کیلئے کسی بھی رغبت کی مدافعت کریگی، یہ ہوشمندانہ کوشش کسی بھی ”منجمد“ حالت کو پگھلائے گی جو شاید پہلے پیدا ہو چکی ہے۔—امثال ۸:۱۲، ۳۲-۳۴۔
علم، باروری کیلئے ایک مدد
۲۲. اگر ہم اپنے علم میں اضافہ کرنے کیلئے کام کرتے ہیں تو ہم کیسے فائدہ اٹھائیں گے؟
۲۲ اگر ہم اپنے خداوند اور منجی یسوع مسیح کے غیرمستحق فضل اور معرفت کے اس معاملے میں بڑھنے کیلئے کام کرتے ہیں تو ہم انفرادی طور پر کیسے فائدہ اٹھائینگے؟ اپنی ذہنی قوتوں کو چوکس رکھنے، علم حاصل کرنے کیلئے تیار رہنے کیلئے اپنی ہوشمند کوشش کرنے سے، نئی اور زیادہ پیچیدہ بائبل سچائیوں کے بیج جڑیں گہری کرینگے، اور ہماری سمجھ بڑھے گی اور مستقل بن جائے گی۔ دلوں کی بابت ایک مختلف تمثیل میں جو کچھ یسوع نے کہا یہ اسکے ساتھ قابلموازنہ ہوگا۔ (لوقا ۸:۵-۱۲) اچھی زمین پر پڑنے والے بیج پودوں کو سہارا دینے کیلئے مضبوط جڑوں کی نشوونما کر سکتے ہیں جو پیداوار دیتے اور پھل لاتے ہیں۔—متی ۱۳:۸، ۲۳۔
۲۳. جب ہم ۲-پطرس ۳:۱۸ سے اثرپذیر ہوتے ہیں تو کونسے نتائج حاصل ہو سکتے ہیں؟ (کلسیوں ۱:۹-۱۲)
۲۳ یسوع کی تمثیل کسی لحاظ سے فرق ہے، تاہم اچھے نتائج ایک جیسے تھے جسکا پطرس نے وعدہ کیا: ”پس اسی باعث تم اپنی طرف سے کمال کوشش کرکے اپنے ایمان پر نیکی اور نیکی پر معرفت ... بڑھاؤ۔ کیونکہ اگر یہ باتیں تم میں موجود ہوں اور زیادہ بھی ہوتی جائیں تو تم کو ہمارے خداوند یسوع مسیح کے پہچاننے میں بیکار اور بےپھل نہ ہونے دینگی۔“ (۲-پطرس ۱:۵-۸) جیہاں، ہمارا علم میں بڑھنا پھلدار ہونے میں ہماری مدد کریگا۔ ہم دیکھینگے کہ اور زیادہ علم حاصل کرنا مزید خوشکن ہوگا۔ (امثال ۲:۲-۵) جو کچھ آپ سیکھتے ہیں زیادہ آسانی سے آپ کو یاد رہیگا اور جب آپ دوسروں کو شاگرد بننے کیلئے سکھائیں گے تو مفید ہوگا۔ پس اس طرح سے بھی، آپ زیادہ پھلدار ہونگے اور خدا اور اسکے بیٹے کیلئے جلال کا باعث ہونگے۔ پطرس اپنے دوسرے خط کو بند کرتا ہے: ”بلکہ ہمارے خداوند اور منجی یسوع مسیح کے فضل اور عرفان [”علم،“ اینڈبلیو] میں بڑھتے جاؤ۔ اسی کی تمجید اب بھی اور ابد تک ہوتی رہے۔“—۲-پطرس ۳:۱۸۔ (۱۲ ۸/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a ”[یہ] اس شخص سے قابلموازانہ ہے جو چاند کی بابت زیادہ سیکھنے میں دلچسپی لینے لگتا ہے جب وہ اس نیر کو زیادہ قریب سے دیکھنے کیلئے اپنے گھر کی چھت پر چڑھتا ہے۔“
b اس اقتباس کی پہلی دو خوبیوں، ایمان اور نیکی، پر اکتوبر ۱، ۱۹۹۳ کے ہمارے شمارے میں بحث کی گئی تھی۔
c یہ تجاویز پرانے مسیحیوں کی مدد بھی کر سکتی ہیں تاکہ اپنے ذاتی مطالعے اور اجلاسوں کیلئے تیاری سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔
کیا آپ یاد کر سکتے ہیں
▫ آپ کو اپنے علم میں اضافہ کرنے میں دلچسپی کیوں رکھنی چاہیے؟
▫ ایک نیا بائبل طالبعلم اپنے مطالعہ سے زیادہ فائدہ کیسے حاصل کر سکتا ہے؟
▫ جیسے پرمافراسٹ سے سمجھایا گیا ہے، آپ کس خطرے سے بچنا چاہتے ہیں؟
▫ آپکو علم میں اضافہ کرنے کی اپنی لیاقت کو بہتر بنانے کیلئے پختہ ارادہ کیوں رکھنا چاہیے؟
[تصویر]
کیا مجھے ذہنی پرمافراسٹ کا مسٔلہ درپیش ہے؟