یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏11 ص.‏ 14-‏19
  • کسی کو اپنی اچھی عادتیں بگا‌ڑنے نہ دیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کسی کو اپنی اچھی عادتیں بگا‌ڑنے نہ دیں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ان کیلئے اور ہمارے لئے مشورت
  • گمراہ ہونے سے بچیں
  • نوجوانی کی عادات بھی
  • اپنی عادات کی حفاظت کرنے کیلئے مثبت اقدام
  • آخری زمانے میں سوچ سمجھ کر دوست بنائیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے—2015ء
  • مُردے جی اُٹھینگے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏1998ء
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏11 ص.‏ 14-‏19

کسی کو اپنی اچھی عادتیں بگا‌ڑنے نہ دیں

‏”‏فریب نہ کھاؤ۔ بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگا‌ڑ دیتی ہیں۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳‏۔‏

۱، ۲.‏ (‏ا)‏ پولس رسول نے کرنتھی مسیحیوں کیلئے کیسا محسوس کیا، اور کیوں؟ (‏ب)‏ کس خاص مشورت پر ہم غور کرینگے؟‏

والدین کی محبت کیا ہی پرزور جذبہ ہے!‏ یہ والدین کو اپنے بچوں کیلئے قربان کرنے، انہیں تعلیم دینے اور نصیحت کرنے کی تحریک دیتا ہے۔ پولس رسول شاید جسمانی باپ نہیں رہا تھا، لیکن اس نے کرنتھس میں مسیحیوں کو لکھا:‏ ”‏اگر مسیح میں تمہارے استاد دس ہزار بھی ہوتے تو بھی تمہارے باپ بہت سے نہیں۔ اسلئے کہ میں ہی انجیل کے وسیلہ سے مسیح یسوع میں تمہارا باپ بنا۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۴:‏۱۵‏۔‏

۲ اس سے پہلے، پولس کرنتھس کا سفر کر چکا تھا، جہاں پر اس نے یہودیوں اور یونانیوں کو منادی کی۔ اس نے کرنتھس میں کلیسیا بنانے میں مدد کی۔ ایک دوسرے خط میں پولس نے اپنی نگہداشت کو ایک پرورش کرنے والی ماں کے مشابہ ٹھہرایا، لیکن وہ کرنتھیوں کیلئے ایک باپ کی مانند تھا۔ (‏۱-‏تھسلنیکیوں ۲:‏۷‏)‏ جیسے ایک پرمحبت جسمانی باپ کرتا ہے، پولس نے اپنے روحانی بچوں کو فہمائش کی۔ کرنتھس میں مسیحیوں کو اسکی پدرانہ نصیحت سے آپ فائدہ اٹھا سکتے ہیں:‏ ”‏فریب نہ کھاؤ۔ بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگا‌ڑ دیتی ہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳‏)‏ پولس نے کرنتھیوں کو یہ کیوں لکھا؟ ہم نصیحت کو کیسے عائد کر سکتے ہیں؟‏

ان کیلئے اور ہمارے لئے مشورت

۳، ۴.‏ ہم پہلی صدی کے کرنتھس اور اسکی آبادی کی بابت کیا جانتے ہیں؟‏

۳ پہلی صدی میں، یونانی جغرافیہ‌دان سٹرابو نے لکھا:‏ ”‏کرنتھس اپنی تجارت کی وجہ سے ”‏دولتمند“‏ کہلاتا ہے، چونکہ یہ استھمس (‏خاکنائے)‏ پر واقع ہے اور دو بندرگاہوں کا مالک ہے، جن میں سے ایک سیدھی ایشیا کو لے جاتی ہے، اور دوسری اٹلی کو، اور یہ دونوں ممالک سے تجارتی مال کے مبادلے کو آسان بناتا ہے۔“‏ ہر دوسرے سال مشہور استھمین گیمز [‏خاکنائی کھیلیں]‏ کثیر ہجوموں کو کرنتھس میں کھینچ لاتیں۔‏

۴ اس شہر کے لوگ کیسے تھے جو حکومتی اختیار اور افرودائتی کی شہوانی پرستش دونوں کا مرکز تھا؟ پروفیسر ٹی۔ ایس۔ ایونز نے وضاحت کی:‏ ”‏آبادی غالباً ۴۰۰،۰۰۰ کے لگ‌بھگ [‏تھی]‏۔ معاشرہ اعلی تہذیب والا [‏تھا]‏، لیکن اخلاقیات میں گھٹیا، یہانتک کہ ناشائستہ۔ .‏.‏.‏ اخیہ کے یونانی باشندے عقلی اضطراب اور نئی اور نرالی چیزوں کی بیقرار آرزو کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ .‏.‏.‏ انکا فلسفۂ‌خودغرضی فرقہ‌وارانیت کی آگ بھڑکانے کیلئے ایک تیار ایندھن کے طور پر تھا۔“‏

۵.‏ کرنتھی بھائیوں کو کس خطرے کا سامنا تھا؟‏

۵ وقت آنے پر کلیسیا بھی بعض ایسے لوگوں کے ذریعے منقسم ہو گئی جو ابھی تک متکبر قیاس‌آرائیوں کی طرف مائل تھے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۱۰-‏۳۱،‏ ۳:‏۲-‏۹‏)‏ ایک بڑا مسئلہ یہ تھا کہ بعض کہہ رہے تھے:‏ ”‏کہ مردوں کی قیامت ہے ہی نہیں۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۱۲،‏ ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۶-‏۱۸‏)‏ انکا درست عقیدہ (‏یا غلط عقیدہ)‏ خواہ کوئی بھی تھا، پولس کو واضح ثبوت کے ساتھ انکی درستی کرنی تھی کہ ”‏مسیح مردوں میں جی اٹھا“‏ تھا۔ یوں مسیحی توکل رکھ سکتے تھے کہ خدا انہیں ”‏ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے .‏.‏.‏ فتح [‏بخشے]‏“‏ گا۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۲۰،‏ ۵۱-‏۵۷‏)‏ اگر آپ وہاں ہوتے، تو کیا آپ خطرے میں ہوتے؟‏

۶.‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ میں پولس کی مشورت خاص طور پر کن کیلئے موزوں تھی؟‏

۶ پختہ ثبوت فراہم کرنے کے دوران کہ مردے زندہ ہونگے، پولس نے انہیں بتایا:‏ ”‏فریب نہ کھاؤ۔ بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگا‌ڑ دیتی ہیں۔“‏ اس مشورت کا نقطہءنظر کلیسیا کے ساتھ رفاقت رکھنے والوں کی بابت تھا جو قیامت کے عقیدے پر متفق نہ تھے۔ کیا وہ محض ایک نقطہءنگاہ کی بابت بے‌یقین تھے جسے انہوں نے نہیں سمجھا تھا؟ (‏مقابلہ کریں لوقا ۲۴:‏۳۸‏۔)‏ نہیں۔ پولس نے لکھا کہ ”‏تم میں سے بعض .‏.‏.‏ کہتے ہیں کہ قیامت ہے ہی نہیں،“‏ اسلئے جو شامل تھے اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے، برگشتگی کی طرف مائل ہو رہے تھے۔ پولس اچھی طرح سے باخبر تھا کہ وہ دوسروں کی اچھی عادات اور سوچ کو بگا‌ڑ سکتے تھے۔—‏اعمال ۲۰:‏۳۰،‏ ۲-‏پطرس ۲:‏۱‏۔‏

۷.‏ ایک پس‌منظر کیا ہے جس میں ہم ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ کا اطلاق کر سکتے ہیں؟‏

۷ ہم صحبتوں کی بابت پولس کی آگاہی کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟ اسکا یہ مطلب نہیں تھا کہ ہمیں کلیسیا میں کسی کی مدد کرنے سے انکار کر دینا چاہیے جو بائبل کی کسی آیت یا تعلیم کو سمجھنا مشکل پا رہا تھا۔ یقیناً، یہوداہ ۲۲، ۲۳ ہمیں تلقین کرتی ہے کہ اسطرح کے شکوک رکھنے والے پرخلوص اشخاص کو رحمدلانہ مدد دیں (‏یعقوب ۵:‏۱۹، ۲۰‏)‏ تاہم، اگر کوئی اس بات کی بابت اعتراض کرتا رہتا ہے تو پولس کی پدرانہ مشورت کو عائد کیا جانا چاہیے جسے ہم بائبل سچائی سمجھتے ہیں یا جو شک پیدا کرنے والے یا منفی طرز کی باتیں کرتا رہتا ہے۔ ہمیں اس قسم کے شخص کے ساتھ صحبت رکھنے سے بچنا چاہیے۔ بلا‌شبہ، اگر کوئی شخص قطعی طور پر برگشتہ ہو گیا ہے تو روحانی چرواہوں کو گلے کو محفوظ رکھنے کیلئے کارروائی کرنی پڑیگی۔—‏۲-‏تیمتھیس ۲:‏۱۶-‏۱۸،‏ ططس ۳:‏۱۰، ۱۱‏۔‏

۸.‏ جب کوئی بائبل کی کسی تعلیم سے متفق نہیں ہوتا تو ہم سمجھداری سے کیسے کام لے سکتے ہیں؟‏

۸ ہم ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ میں پولس کے پدرانہ الفاظ کو اس وقت بھی عائد کر سکتے ہیں جب کلیسیا سے باہر والوں کی بات آتی ہے جو جھوٹی تعلیمات کو ترقی دیتے ہیں۔ ہم انکے ساتھ صحبت میں کیسے پڑ سکتے ہیں؟ یہ اس وقت ہو سکتا ہے اگر ہم نے ان میں جنکی سچائی سیکھنے میں مدد ہو سکتی ہے اور ان میں جو صرف تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں تاکہ جھوٹی تعلیم کو ترقی دے سکیں، فرق نہیں کیا۔ مثال کے طور پر، اپنے گواہی دینے کے کام میں، ہماری ایک شخص سے اچانک ملاقات ہو سکتی ہے جو کسی نکتے پر اختلاف رکھتا ہے لیکن وہ اس پر مزید بات‌چیت کرنے کیلئے تیار ہے۔ (‏اعمال ۱۷:‏۳۲-‏۳۴‏)‏ اسے بذات‌خود ایک مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم خوشی سے ہر کسی پر بائبل سچائی کی وضاحت کرتے ہیں، جو ایسی سچائیوں کو واقعی جاننا چاہتا ہے یہانتک کہ قائل کرنے والے ثبوت پیش کرنے کیلئے اس کے پاس واپس جا کر بھی۔ (‏۱-‏پطرس ۳:‏۱۵‏)‏ تاہم، بعض شاید حقیقت میں بائبل کی سچائی تلاش کرنے میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں۔‏

۹.‏ ہمیں اپنے عقائد کی بابت چیلنجوں کے لئے کیسا ردعمل دکھانا چاہیے؟‏

۹ لوگ گھنٹوں، ہفتہ‌باہفتہ بحث کرینگے، لیکن اسلئے نہیں کہ وہ سچائی کی تلاش کر رہے ہیں۔ وہ تو صرف کسی دوسرے کے ایمان کو کمزور کرنا چاہتے ہیں جبکہ عبرانی، یونانی، یا ارتقائی سائنس میں اپنی ذاتی مفروضہ تعلیم کی نمائش کرتے ہیں۔ ان سے سابقہ پڑنے پر بعض گواہوں نے چیلنج محسوس کیا ہے اور نتیجتاً حد سے زیادہ جھوٹے مذہبی عقیدے، فیلسوفی، یا سائنسی غلطی پر مرتکز طویل رفاقت رکھی ہے۔ یہ قابل‌غور بات ہے کہ یسوع نے اپنے ساتھ ایسے واقع نہ ہونے دیا، اگرچہ وہ مذہبی پیشواؤں کیساتھ مباحثوں کو جیت سکتا تھا جنہوں نے عبرانی یا یونانی میں تعلیم پائی تھی۔ جب اسے چیلنج کیا گیا، تو یسوع نے مختصراً جواب دیا اور پھر دوبارہ اپنی توجہ فروتن اشخاص، حقیقی بھیڑوں پر مرکوز کر دی۔—‏متی ۲۲:‏۴۱-‏۴۶،‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱:‏۲۳-‏۲:‏۲

۱۰.‏ ان مسیحیوں کیلئے احتیاط کیوں مناسب ہے جن کے پاس کمپیوٹر ہیں، یا الیکٹرانک بلیٹن بورڈز تک رسائی رکھتے ہیں؟‏

۱۰ جدید کمپیوٹروں نے بری صحبت کیلئے دوسرے راستے کھول دئے ہیں۔ بعض تجارتی کمپنیوں نے اپنے خریداروں کو کمپیوٹر یا ٹیلیفون کو استعمال کرتے ہوئے الیکٹرانک بلیٹن بورڈز کو پیغام بھیجنے کے لائق بنایا ہے، یوں ایک شخص بلیٹن بورڈ کو ایک پیغام بھیج سکتا ہے جو تمام خریداروں کیلئے عام ہے۔ یہ مذہبی معاملات پر نام‌نہاد الیکٹرانک مباحثوں میں پڑنے کا سبب بنا ہے۔ ایک مسیحی ایسے مباحثوں میں الجھ سکتا ہے اور ایک برگشتہ مفکر کیساتھ کئی گھنٹے صرف کر سکتا ہے جسے شاید مسیحی کلیسیا سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ۲-‏یوحنا ۹-‏۱۱ میں بری صحبتوں سے بچنے کی بابت راہنمائی پولس کی پدرانہ مشورت پر زور دیتی ہے۔‏a

گمراہ ہونے سے بچیں

۱۱.‏ کرنتھس میں تجارتی صورت‌حال نے کیا موقع پیش کیا؟‏

۱۱ جیسے کہ دیکھا گیا ہے، کرنتھس متعدد دکانوں اور کاروبار کا ایک تجارتی مرکز تھا_ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۰:‏۲۵‏)‏ بہت سے جو استھمین گیمز کیلئے آتے خیموں میں رہائش‌پذیر ہوتے، اور اس مسابقہ کے دوران تاجر خوانچوں یا چھتوں والے سٹالوں سے چیزیں بیچتے۔ (‏مقابلہ کریں اعمال ۱۸:‏۱-‏۳‏۔)‏ اس نے وہاں پر پولس کیلئے خیمہ‌دوزی کرنے کا کام حاصل کرنے کو ممکن بنا دیا۔ اور وہ کام کی جگہ کو خوشخبری پھیلانے کیلئے استعمال کر سکا۔ پروفیسر جے۔ مرفی۔او،کانر لکھتا ہے:‏ ”‏ایک مصروف مارکیٹ میں ایک دکان سے .‏.‏.‏ جسکا منہ بھیڑبھاڑ والی سڑک کی طرف تھا پولس کی رسائی نہ صرف ساتھی کارندوں اور گاہکوں تک ہی تھی بلکہ باہر ہجوم تک بھی تھی۔ جب کاروبار کم ہوتا تو وہ دروازے پر کھڑا ہو سکتا اور ان کو سننے کیلئے کھڑا کر لیتا جنکو وہ سمجھتا کہ وہ شاید سنیں .‏.‏.‏ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ اسکی پرزور شخصیت اورکامل یقین نے جلدی سے اسے گردونواح کی ایک ممتاز شخصیت نہ بنایا ہو، اور اس نے متجسس لوگوں کو راغب کیا ہوگا، نہ صرف بیکار لوگوں کو بلکہ ان کو بھی جو حقیقت میں متلاشی تھے۔ .‏.‏.‏ شادی‌شدہ عورتیں اپنی خادماؤں کے ساتھ، جو اسکی بابت سن چکی تھیں، خریداری کرنے کیلئے آنے کے بہانے ملاقات کر سکتی تھیں۔ دباؤ کے وقتوں میں، جب اذیت یا محض پریشانی کا خطرہ ہوتا تو ایماندار گاہکوں کے طور پر اس سے انکی مڈبھیڑ ہو سکتی تھی۔ ورکشاپ نے اس کا بلدیاتی حکام سے بھی رابطہ کروا دیا۔“‏

۱۲، ۱۳.‏ کام کی جگہ پر ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ موزوں طور پر کسطرح عائد ہو سکتی ہے؟‏

۱۲ تاہم، پولس نے کام کی جگہ پر ”‏بری صحبتوں“‏ کے امکان کو پہچان لیا ہوگا۔ ہمیں بھی ایسا کرنا چاہیے۔ معنی‌خیز طور پر، پولس نے اس رجحان کا ذکر کیا جو بعض میں پایا جاتا تھا:‏ ”‏آؤ کھائیں پئیں کیونکہ کل تو مر ہی جائینگے۔“‏ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۲‏)‏ اسکے فوراً بعد اس نے اپنی پدرانہ مشورت پیش کی:‏ ”‏فریب نہ کھاؤ۔ بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگا‌ڑ دیتی ہیں۔“‏ کس طرح سے ملازمت کی جگہ اور عشرت کے حصول کو ایک امکانی خطرہ پیدا کرنے سے جوڑا جا سکتا ہے؟‏

۱۳ مسیحی چاہتے ہیں کہ ساتھی کارندوں کے ساتھ بامروت ہوں۔ اور بہت سے تجربے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ گواہی دینے کیلئے راہ کھولنے میں کتنا مؤثر ہو سکتا ہے۔ تاہم، ایک ساتھی کارکن، اکٹھے ملکر کچھ وقت گزارنے کیلئے رفاقت کی دعوت دیتے وقت، دوستی کو غلط سمجھ سکتا ہے۔ وہ مرد یا عورت کھانے، کام کے بعد ذرا شراب پینے کیلئے تھوڑی دیر رکنے، یا آخرہفتہ پر تھوڑی تفریح‌طبع کی غیررسمی دعوت دے سکتے ہیں۔ وہ شخص شاید مہربان اور صاف‌گو دکھائی دے، اور دعوت بے‌ضرر دکھائی دے سکتی ہے۔ پھر بھی، پولس ہمیں نصیحت کرتا ہے:‏ ”‏فریب نہ کھاؤ۔“‏

۱۴.‏ بعض مسیحی صحبتوں کے ذریعے سے کیسے گمراہ ہو گئے ہیں؟‏

۱۴ بعض مسیحی گمراہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے آہستہ آہستہ ساتھی کارندوں کے ساتھ رفاقت کے سلسلے میں ایک بے‌تکلف رویے کو ترقی دی۔ ہو سکتا ہے یہ کسی مشغلے یا کھیل میں مشترکہ دلچسپی سے پیدا ہوا ہو۔ یا شاید کام کی جگہ پر ایک غیرمسیحی غیرمعمولی طور پر مہربان اور بامروت ہو، جو اسکے ساتھ کافی وقت گزارنے، حتی کہ اس طرح کی رفاقت کو کلیسیا کے بعض لوگوں کے ساتھ رفاقت پر ترجیح دینے کا سبب بنے۔ پھر رفاقت صرف ایک اجلاس چھوڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ ایک شام دیر تک باہر رہنے اور صبح کے وقت میدانی خدمتگزاری میں شرکت کرنے کے دستور کو توڑ دیا جائے۔ یہ کسی ایسی قسم کی فلم یا ویڈیو کو دیکھنے پر منتج ہو سکتا ہے جس سے مسیحی عام طور پر انکار کریں گے۔ ہم سوچ سکتے ہیں، ”‏اوہ، میرے ساتھ کبھی ایسے نہیں ہوگا۔“‏ لیکن ان میں سے زیادہ‌تر جو گمراہ ہو گئے ہیں شروع میں شاید انہوں نے ایسا ہی جوابی‌عمل دکھایا ہو۔ ہمیں خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے، ”‏پولس کی مشورت کا اطلاق کرنے کیلئے میں کتنا ثابت‌قدم ہوں؟“‏

۱۵.‏ ہمیں پڑوسیوں کیلئے کیا متوازن رجحان رکھنا چاہئے؟‏

۱۵ جس بات پر ہم نے ملازمت کی جگہ کے سلسلے میں ابھی غور کیا وہ پڑوسیوں کے ساتھ ہماری رفاقت پر بھی عائد ہوتا ہے۔ یقینی طور پر، قدیم کرنتھس میں مسیحیوں کے پڑوسی تھے۔ بعض علاقوں کی آبادی میں یہ عام ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ کافی دوستانہ اور حمایتی رویہ رکھیں۔ دیہی علاقوں میں پڑوسی الگ‌تھلگ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ بعض تہذیبوں میں خاندانی تعلقات خاص طور پر مضبوط ہیں، جو کھانوں پر بہت سی دعوتوں کو موقع دیتے ہیں۔ واضح ہے کہ، جیسے یسوع نے ظاہر کیا، ایک متوازن نظریہ ضروری ہے۔ (‏لوقا ۸:‏۲۰، ۲۱،‏ یوحنا ۲:‏۱۲‏)‏ کیا ہم پڑوسیوں اور رشتے‌داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اسی طرح سے جاری رکھنے کی طرف مائل ہیں جیسے ہم مسیحی بننے سے پہلے رکھتے تھے؟ اسکی بجائے، کیا اب ہمیں ایسے تعلقات پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے اور ہوشمندی کے ساتھ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ کونسی حدبندیاں مناسب ہیں؟‏

۱۶.‏ متی ۱۳:‏۳، ۴ میں یسوع کے الفاظ کو کس طرح سمجھا جانا چاہیے؟‏

۱۶ ایک مرتبہ یسوع نے بادشاہی کے کلام کو ان بیجوں کے مشابہ ٹھہرایا جو ”‏راہ کے کنارے گرے اور پرندوں نے آ کر انہیں چگ لیا۔“‏ (‏متی ۱۳:‏۳، ۴،‏ ۱۹‏)‏ اس وقت، راہ کے کنارے کی زمین سخت ہو جاتی تھی، جب بہت سے لوگ آتے جاتے وقت اس پر قدم رکھتے تھے۔ بہت سے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ انکی زندگیاں پڑوسیوں، رشتے‌داروں، اور دوسرے آنے جانے والوں سے بھری پڑی ہیں، جو انہیں مصروف رکھتے ہیں۔ گویا یہ انکے دلوں کی زمین کو روندتے ہیں، اور اسے سچائی کے بیجوں کو جڑ پکڑنے کیلئے سخت بناتے ہیں۔ اسی طرح کی غیراثرپذیری اس میں ترقی پا سکتی ہے جو پہلے ہی سے مسیحی ہے۔‏

۱۷.‏ پڑوسیوں اور دوسروں کے ساتھ صحبت ہمیں کیسے متاثر کر سکتی ہے؟‏

۱۷ بعض دنیاوی پڑوسی اور رشتے‌دار مددگار اور دوستانہ مزاج والے ہو سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے لگاتار نہ تو روحانی چیزوں میں دلچسپی لی ہے نہ راستبازی کیلئے محبت دکھائی ہے۔ (‏مرقس ۱۰:‏۲۱، ۲۲،‏ ۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۴‏)‏ ہمارا مسیحی بننے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم غیردوستانہ مزاج والے اور ہمسائیگی سے عاری بن جائیں۔ یسوع نے ہمیں مشورت دی کہ دوسروں میں حقیقی دلچسپی ظاہر کریں۔ (‏لوقا ۱۰:‏۲۹-‏۳۷‏)‏ لیکن اپنی صحبتوں کی بابت محتاط ہونے کیلئے پولس کی مشورت یکساں طور پر الہامی اور ضروری ہے۔ جب ہم پہلی مشورت کا اطلاق کرتے ہیں تو ہمیں بعد والی کو بھولنا نہیں چاہیے۔ اگر ہم دونوں اصولوں کو ذہن میں نہیں رکھتے، تو ہماری عادات متاثر ہو سکتی ہیں۔ جہانتک قیصر کے آئین کی فرمانبرداری کرنے یا دیانتداری کا تعلق ہے تو آپکی عادات آپکے پڑوسیوں یا رشتے‌داروں کے مقابلہ میں کیسی ہیں؟ مثال کے طور پر، وہ ٹیکس ادا کرتے وقت محسوس کر سکتے ہیں کہ آمدنی یا کاروبار کے منافوں کی بہت کم رپورٹ دینا جائز ہے، یہانتک کہ انکی بقا کیلئے ضروری بھی ہیں۔ وہ شاید ایک غیررسمی کافی کا کپ پیتے وقت یا ایک مختصر سی ملاقات کے دوران اپنے نظریات کی بابت قائل کرنے کیلئے بات‌چیت کریں۔ یہ آپکی سوچ اور دیانتدارانہ عادات کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟ (‏مرقس ۱۲:‏۱۷،‏ رومیوں ۱۲:‏۲‏)‏ ”‏فریب نہ کھاؤ۔ بری صحبتیں اچھی عادتوں کو بگا‌ڑ دیتی ہیں۔“‏

نوجوانی کی عادات بھی

۱۸.‏ ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ نوجوانوں پر بھی کیوں عائد ہوتی ہے؟‏

۱۸ نوجوان لوگ جو کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں اس سے خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ کیا آپ نے ان بچوں کو نہیں دیکھا جنکی حرکات یا انداز بہت زیادہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی طرح کے ہیں؟ پھر، ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے کہ بچے اپنے ساتھی کھلاڑیوں یا ہم‌مکتبوں سے بڑی حد تک متاثر ہو سکتے ہیں۔ (‏مقابلہ کریں متی ۱۱:‏۱۶، ۱۷‏۔)‏ اگر آپکا بیٹا یا بیٹی ان نوجوانوں کے اردگرد ہے جو اپنے والدین کے متعلق بے‌ادبی سے بات‌چیت کرتے ہیں، تو یہ اندازہ کیوں لگائیں کہ یہ آپکے بچوں پر اثرانداز نہیں ہوگا؟ اس وقت کیا ہو اگر وہ اکثر دوسرے نوجوانوں کو ناشائستہ زبان استعمال کرتا سنتے ہیں؟ اس وقت کیا ہو اگر سکول میں یا پڑوس میں انکے ساتھی جوتوں کے ایک نئے سٹائل یا زیورات کے فیشن سے جوش میں آ جاتے ہیں؟ کیا ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ نوجوان مسیحی ایسے اثر سے غیراثرپذیر ہونگے؟ کیا پولس نے یہ کہا کہ ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ صرف ان پر اثرانداز ہوتی ہے جو کسی خاص عمر کو پہنچ گئے ہیں؟‏

۱۹.‏ والدین کو اپنے بچوں میں کس نظریے کو ذہن‌نشین کرنا چاہیے؟‏

۱۹ اگر آپ ایک ماں یا باپ ہیں، تو کیا آپ اس مشورت سے آگاہ ہوتے ہیں جب آپ اپنے بچوں کے سلسلے میں استدلال کرتے اور فیصلے کرتے ہیں؟ اگر آپ اس بات کو تسلیم کریں تو غالباً اس سے مدد حاصل ہوگی کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ گردونواح یا سکول میں آپ کے بچے جن تمام دیگر نوجوانوں سے ملتے ہیں وہ اچھے نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض خوش‌طبع اور شائستہ ہیں، جیسے کہ آپکے پڑوسیوں، رشتے‌داروں، اور ساتھی کارکنوں میں سے بعض ہیں۔ اپنی اولاد کو یہ دیکھنے اور سمجھنے میں مدد دینے کی کوشش کریں کہ آپ کرنتھیوں کو پولس کی دانشمندانہ، پدرانہ مشورت کے اپنے اطلاق میں متوازن ہیں۔ جس طریقے سے آپ چیزوں کا توازن کرتے ہیں جب وہ اسے دیکھتے ہیں تو یہ انکی مدد کر سکتا ہے کہ آپکی نقل کریں۔—‏لوقا ۶:‏۴۰،‏ ۲-‏تیمتھیس ۲:‏۲۲‏۔‏

۲۰.‏ نوجوانو، آپکو کس چیلنج کا سامنا ہے؟‏

۲۰ آپ جو ابھی تک نوجوان ہیں، یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ پولس کی مشورت کا اطلاق کیسے کریں، یہ جانتے ہوئے کہ یہ جوان یا بوڑھے، ہر مسیحی کیلئے اہم ہے۔ یہ چیلنج‌خیز ہوگا، مگر کیوں نہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوں؟ یہ جاننا کہ چونکہ آپ ان دوسرے نوجوانوں میں سے بعض کو بچپن سے جانتے ہیں اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ آپکی عادات کو متاثر نہیں کر سکتے، اور ان عادات کو بگا‌ڑ نہیں سکتے جنکو آپ بطور ایک مسیحی نوجوان کے تشکیل دے رہے ہیں۔—‏امثال ۲:‏۱،‏ ۱۰-‏۱۵‏۔‏

اپنی عادات کی حفاظت کرنے کیلئے مثبت اقدام

۲۱.‏ (‏ا)‏ صحبت کے سلسلے میں ہماری کیا ضرورت ہے؟ (‏ب)‏ ہم کیوں یقین رکھ سکتے ہیں کہ بعض صحبتیں خطرناک ہو سکتی ہیں؟‏

۲۱ ہم سب کو رفاقت کی ضرورت ہے۔ تاہم، اس حقیقت سے ہمیں چوکس رہنا چاہیے کہ ہمارے رفیق ہمیں اچھائی یا برائی کیلئے متاثر کر سکتے ہیں۔ آدم کے ساتھ اور تب سے لیکر صدیوں کے دوران ہر ایک کے ساتھ یہ سچ ثابت ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، یہوداہ کے ایک نیک بادشاہ یہوسفط نے یہوواہ کی مقبولیت اور برکت سے لطف اٹھایا۔ لیکن جب اس نے اپنے بیٹے کو اسرائیل کے بادشاہ اخی‌اب کی بیٹی سے شادی کرنے کی اجازت دے دی تو اسکے بعد، یہوسفط نے اخی‌اب کے ساتھ صحبت رکھنا شروع کر دی۔ اس بری صحبت نے یہوسفط کی تقریباً جان لے لی۔ (‏۲-‏سلاطین ۸:‏۱۶-‏۱۸،‏ ۲-‏تواریخ ۱۸:‏۱-‏۳،‏ ۲۹-‏۳۱‏)‏ اگر ہم اپنی صحبتوں کے سلسلے میں غیردانشمندانہ انتخاب کرتے ہیں، تو یہ اتنا ہی خطرناک ہو سکتا ہے۔‏

۲۲.‏ ہمیں کس چیز سے اثرپذیر ہونا چاہیے، اور کیوں؟‏

۲۲ تو آئیے اس پرمحبت مشورت سے اثرپذیر ہوں جو پولس ہمیں ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ میں دیتا ہے۔ وہ محض الفاظ نہیں ہیں جو ہم نے شاید اکثروبیشتر سنے ہیں اور ہم انہیں حافظے سے دہرا سکتے ہیں۔ وہ پدرانہ شفقت کو ظاہر کرتے ہیں جو پولس اپنے کرنتھی بھائیوں اور بہنوں کیلئے رکھتا تھا، اور، بذریعہ توسیع، ہمارے لئے بھی۔ اور بلا‌شبہ ان میں مشورت پائی جاتی ہے جو ہمارا آسمانی باپ فراہم کرتا ہے کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ہماری کاوشیں کامیاب ہوں۔—‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۵۸‏۔ (‏۱۵ ۸/۱ w۹۳)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ان بلیٹن بورڈز میں ایک اور خطرہ حقیقی مالکان یا مصنفوں کی اجازت کے بغیر جملہ حقوق محفوظ رکھنے والی اشاعتوں یا پروگراموں کو اپنے کمپیوٹروں میں نقل کر لینے کا ہے جو بین‌الاقوامی جملہ حقوق کے قوانین کی خلاف‌ورزی ہوگا۔—‏رومیوں ۱۳:‏۱‏۔‏

کیا آپ یاد کرتے ہیں؟‏

پولس نے کس خاص وجہ سے ۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ کو تحریر کیا؟‏

ہم کام کی جگہ پر پولس کی مشورت کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟‏

پڑوسیوں کی بابت ہمیں کونسا متوازن نظریہ رکھنا چاہیے؟‏

۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۳۳ خاص طور پر نوجوانوں کیلئے کیوں موزوں مشورت ہے؟‏

‏[‏تصویر]‏

پولس نے کام کی جگہ کو خوشخبری پھیلانے کیلئے استعمال کیا

‏[‏تصویر]‏

دوسرے نوجوان آپکی مسیحی عادات کو بگا‌ڑ سکتے ہیں

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں