دنیا کے سلسلے میں دانشمندی سے چلنا
”باہر والوں کے ساتھ ہوشیاری [”دانشمندی،“ NW] سے برتاؤ کرو۔“—کلسیوں ۴:۵۔
۱. پہلی صدی کے مسیحیوں کو کس چیز کا سامنا تھا، اور پولس نے کُلسّے میں کلیسیا کو کیا مشورت دی؟
رومی دنیا کے شہروں میں رہنے والے ابتدائی مسیحیوں کو لگاتار بتپرستی، بداخلاق حصولعشرت، اور بتپرستانہ رسوم اور رواج کا سامنا تھا۔ مغربی وسطی ایشیائےکوچک کے شہر، کُلسّے میں رہنے والوں کو بلاشبہ فروگیہ کے باشندوں کی ماتا-دیوی کی پرستش اور ارواحپرستی، یونانی آبادکاروں کی بتپرستانہ فیلسوفی، اور یہودی نوآبادی کی یہودیت کا سامنا تھا۔ پولس رسول نے مسیحی کلیسیا کو نصیحت کی کہ ایسے ”باہر والوں کیساتھ ہوشیاری [”دانشمندی،“ NW] سے برتاؤ کرو۔“—کلسیوں ۴:۵۔
۲. آجکل یہوواہ کے گواہوں کو باہر والوں کے ساتھ دانشمندی سے چلنے کی ضرورت کیوں ہے؟
۲ آجکل یہوواہ کے گواہوں کو اسی طرح کے بلکہ اس سے بھی زیادہ غلط کاموں کا سامنا ہے۔ اسلئے انہیں بھی، انکے ساتھ اپنے تعلق میں دانشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے جو سچی مسیحی کلیسیا کے باہر ہیں۔ مذہبی اور سیاسی اداروں اور ذرائعابلاغ سے متعلق بہتیرے لوگ انکے مخالف ہیں۔ ان میں سے بعض، یا تو براہراست حملے سے یا، اکثر و بیشتر، طعنہآمیز اشاروں سے یہوواہ کے گواہوں کی نیکنامی پر داغ لگانے اور انکے خلاف تعصب پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے ابتدائی مسیحیوں کو غیرمنصفانہ طور پر مذہبی جنونی اور یہانتک کہ خطرناک ”بدعت“ خیال کیا گیا تھا، اسی طرح سے یہوواہ کے گواہ آجکل تعصب اور غلط خیالات کا نشانہ ہیں۔—اعمال ۲۴:۱۴، ۱-پطرس ۴:۴۔
تعصب پر قابو پانا
۳، ۴. (ا) دنیا کی طرف سے سچے مسیحیوں کیساتھ کبھی محبت کیوں نہیں کی جائیگی، لیکن ہمیں کیا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ (ب) ایک مصنفہ نے نازی اجتماعی کیمپ میں نظربند یہوواہ کے گواہوں کی بابت کیا لکھا؟
۳ سچے مسیحی دنیا کی طرف سے محبت کئے جانے کی توقع نہیں کرتے جو کہ یوحنا رسول کے مطابق ”شریر کے قبضہ میں پڑی ہوئی ہے۔“ (۱-یوحنا ۵:۱۹) تاہم، بائبل مسیحیوں کی حوصلہافزائی کرتی ہے کہ فرداً فرداً لوگوں کو یہوواہ اور اسکی سچی پرستش کیلئے ہمنوا بنانے کیلئے جدوجہد کریں۔ ہم براہراست گواہی دینے اور اپنے اچھے طرزعمل کے ذریعے بھی ایسا کرتے ہیں۔ پطرس رسول نے لکھا: ”غیرقوموں میں اپنا چالچلن نیک رکھو تاکہ جن باتوں میں وہ تمہیں بدکار جان کر تمہاری بدگوئی کرتے ہیں تمہارے نیک کاموں کو دیکھ کر انہی کے سبب سے ملاحظہ کے دن خدا کی تمجید کریں۔“—۱-پطرس ۲:۱۲۔
۴ اپنی کتاب فارگیو—بٹ ڈو ناٹ فارگٹ، (معاف کرو—مگر بھولو مت) میں مصنفہ سلویا سلویسن نے گواہ عورتوں کی بابت کہا جو نازی اجتماعی کیمپوں میں اسکے ساتھی مقیم تھیں۔ ”ان دو، کیتھی اور مارگریٹ اور بہت سے دوسروں نے میری بڑی مدد کی، نہ صرف اپنے ایمان کے ذریعے بلکہ عملی معاملات میں بھی۔ ہمارے زخموں کیلئے پہلے صاف کپڑے جو ہمیں ملے تھے وہ ان ہی نے ہمارے لئے حاصل کئے تھے۔ المختصر، ہم نے خود کو ایسے لوگوں میں پایا جنہوں نے ہماری خیرخواہی کی، اور جنہوں نے اپنے کاموں کے ذریعے دوستانہ احساسات ظاہر کئے۔“ ”باہر والوں“ کی طرف سے کیا ہی عمدہ شہادت!
۵، ۶. (ا) موجودہ وقت میں مسیح کیا کام انجام دے رہا ہے، اور ہمیں کیا نہیں بھولنا چاہیے؟ (ب) دنیا کے لوگوں کے متعلق ہمارا رجحان کیا ہونا چاہیے، اور کیوں؟
۵ ہم اس دانشمندانہ روش کے ذریعے تعصب کو بےاثر کر سکتے ہیں جس کے تحت ہم باہر والوں کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔ سچ ہے کہ ہم اس وقت میں رہ رہے ہیں جب ہمارا حکمران بادشاہ، یسوع مسیح، قوموں کے لوگوں کو جدا کر رہا ہے ”جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جدا کرتا ہے۔“ (متی ۲۵:۳۲) لیکن کبھی نہ بھولیں کہ منصف مسیح ہے، وہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ”بھیڑیں“ کون ہیں اور ”بکریاں“ کون ہیں۔—یوحنا ۵:۲۲۔
۶ اس چیز کو انکے لئے ہمارے رویے پر اثرانداز ہونا چاہیے جو یہوواہ کی تنظیم کا حصہ نہیں ہیں۔ ہم انہیں دنیادار لوگ خیال کر سکتے ہیں، لیکن وہ بنیآدم کی دنیا کا حصہ ہیں جس سے ”خدا نے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔“ (یوحنا ۳:۱۶) دیدہدلیری سے یہ فیصلہ کرنے کی بجائے کہ وہ بکریاں ہیں یہ کہیں بہتر ہے کہ لوگوں کو متوقع بھیڑیں خیال کیا جائے۔ بعض جو ماضی میں سچائی کی پرتشدد مخالفت کرتے تھے اب مخصوصشدہ گواہ ہیں۔ اور ان میں سے بہتیروں کو پہلے مہربانہ کاموں کے ذریعے ہمنوا بنایا گیا تھا، اس سے پیشتر کہ وہ کسی براہراست گواہی سے اثرپذیر ہوتے۔ مثال کے طور پر صفحہ ۱۵ والی تصویر کو دیکھیں۔
سرگرم، نہ کہ جارحیتپسند
۷. پوپ نے کس تنقید کا اظہار کیا، لیکن ہم کیا سوال پوچھ سکتے ہیں؟
۷ پوپ جان پال دوئم نے فرقوں پر بالعموم، اور یہوواہ کے گواہوں پر بالخصوص نکتہچینی کی، جب اس نے کہا: ”تقریباً جارحانہ گرمجوشی، جس کیساتھ بعض نئے پیروکاروں کی تلاش کیلئے گھرباگھر جاتے ہیں، یا راہگیر کو گلی کوچوں کے کناروں پر روکنا، رسولی اور مشنری گرمجوشی کی فرقہوارانہ جھوٹی نقل ہے۔“ یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر ہمارا کام ”رسولی اور مشنری گرمجوشی کی جھوٹی نقل“ ہے تو حقیقی بشارتی جذبے کو کہاں دیکھا جا سکتا ہے؟ یقینی طور پر کیتھولکوں کے اندر تو نہیں، اور نہ ہی پروٹسٹنوں یا آرتھوڈکس چرچوں کے ممبروں کے درمیان۔
۸. ہمیں گھرباگھر کی اپنی گواہی کے کام کو کس طرح کرتے رہنا چاہیے، پرامید طور پر کس نتیجے کے ساتھ؟
۸ تاہم، اپنی گواہی دینے میں کسی بھی جارحیت کے الزام کو غلط ثابت کرنے کیلئے، جب ہم لوگوں کے پاس جاتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ مہربان، باادب، اور شائستہ ہونا چاہیے۔ شاگرد یعقوب نے لکھا: ”تم میں دانا اور فہیم کون ہے؟ جو ایسا ہو وہ اپنے کاموں کو نیک چالچلن کے وسیلہ سے اس حلم کے ساتھ ظاہر کرے جو حکمت سے پیدا ہوتا ہے۔“ (یعقوب ۳:۱۳) پولس رسول ہمیں تلقین کرتا ہے کہ ”تکراری نہ ہوں۔“ (ططس ۳:۲) مثال کے طور پر، جس شخص کو ہم گواہی دے رہے ہیں یکسر طور پر اسکے اعتقادات کو رد کرنے کی بجائے، کیوں نہ اس مرد یا عورت کی آراء کیلئے مخلصانہ دلچسپی دکھائیں۔ پھر اس شخص کو خوشخبری سنائیں جیسے کہ بائبل میں موجود ہے۔ مثبت رسائی اختیار کرنے اور دوسرے اعتقادات رکھنے والے لوگوں کیلئے واجب احترام دکھانے سے، ہم انہیں سننے کیلئے ایک بہتر ذہنی رجحان رکھنے میں مدد دینگے، اور شاید وہ بائبل کے پیغام کی قدروقیمت کو سمجھ لیں۔ نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ بعض ”خدا کی تمجید“ کرنے لگیں گے۔—۱-پطرس ۲:۱۲۔
۹. ہم پولس کی دی گئی نصیحت کا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں (ا) کلسیوں ۴:۵ میں؟ (ب) کلسیوں ۴:۶ میں؟
۹ پولس رسول نے نصیحت کی: ”وقت کو غنیمت جانکر باہر والوں کے ساتھ ہوشیاری [”دانشمندی،“ NW] سے برتاؤ کرو۔“ (کلسیوں ۴:۵) اس اولالذکر اظہار کی تشریح کرتے ہوئے جے۔ بی۔ لائٹفٹ نے لکھا: ”کہنے اور کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں جو خدا کے مقصد کو ترقی دے سکتا ہے۔“ (نسخ عبارت ہماری۔) جیہاں، ہمیں مناسب وقت پر اقوال اور افعال کے ساتھ تیار رہنا چاہیے۔ ایسی دانشمندی میں دن میں ملاقاتیں کرنے کیلئے کسی موزوں وقت کا انتخاب کرنا شامل ہے۔ اگر ہمارے پیغام کو مسترد کر دیا جاتا ہے، تو کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ لوگ اسکی قدر نہیں کرتے، یا یہ اس وجہ سے ہے کہ ہم کسی ایسے وقت پر گئے جو غالباً نامناسب تھا؟ پولس نے یہ بھی لکھا: ”تمہارا کلام ہمیشہ ایسا پرفضل اور نمکین ہو کہ تمہیں ہر شخص کو مناسب جواب دینا آ جائے۔“ (کلسیوں ۴:۶) اسکے لئے پہلے سے سوچبچار اور پڑوسی کیلئے سچی محبت درکار ہے۔ آئیے ہم بادشاہتی پیغام کو ہمیشہ پرفضل طریقے سے پیش کریں۔
باادب اور ”ہر نیک کام کیلئے مستعد“
۱۰. (ا) کریتے میں رہنے والے مسیحیوں کو پولس رسول نے کیا نصیحت دی؟ (ب) پولس کی نصیحت کی پیروی کرنے میں یہوواہ کے گواہ کیسے قابلنمونہ رہے ہیں؟
۱۰ ہم بائبل اصولوں پر مصالحت نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب، ہمیں بلاوجہ ایسے سوالات کی بابت بحثوتکرار نہیں کرنی چاہیے جو مسیحی راستی پر اثرانداز نہیں ہوتے۔ پولس رسول نے لکھا: ”ان [کریتے کے مسیحیوں] کو یاد دلا کہ حاکموں اور اختیار والوں کے تابع رہیں اور انکا حکم مانیں اور ہر نیک کام کیلئے مستعد رہیں۔ کسی کی بدگوئی نہ کریں۔ تکراری نہ ہوں بلکہ نرممزاج ہوں اور سب آدمیوں کے ساتھ کمال حلیمی سے پیش آئیں۔“ (ططس ۳:۱، ۲) بائبل عالم ای۔ ایف۔ سکاٹ نے اس اقتباس کی بابت لکھا: ”مسیحیوں کو نہ صرف اختیار والوں کی فرمانبرداری کرنی تھی بلکہ کسی بھی نیک کام کیلئے تیار رہنا تھا۔ اسکا ... مطلب یہ ہے کہ جب موقع پڑے تو مسیحیوں کو عوامی فلاح کے کام کرنے والوں میں پیش پیش ہونا چاہیے۔ آتشزدگی، وبا، مختلف اقسام کی آفتیں ہمیشہ رونما ہوتی رہیں گی، جب تمام اچھے شہری اپنے پڑوسیوں کی مدد کرنا چاہینگے۔“ پوری دنیا میں تباہی کے بہت سے واقعات اسکا ثبوت رہے ہیں اور یہوواہ کے گواہ پہلے امدادی کام کرنے والوں میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف اپنے بھائیوں کی بلکہ باہر والوں کی بھی مدد کی ہے۔
۱۱، ۱۲. (ا) مسیحیوں کو اختیار والوں کے سلسلے میں کسطرح کام کرنا چاہیے؟ (ب) جب کنگڈم ہالوں کی تعمیر کی بات آتی ہے تو اختیار والوں کی تابعداری میں کیا شامل ہے؟
۱۱ ططس کے نام پولس کے خط کا یہی اقتباس اختیار والوں کیلئے باادب رجحان اختیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیتا ہے۔ نوجوان مسیحی جو اپنے غیرجانبدارانہ موقف کی وجہ سے ججوں کے سامنے حاضر ہوتے ہیں انہیں خاص طور پر باہر والوں کے ساتھ دانشمندی سے چلنے کا خیال رکھنا چاہیے۔ اپنی وضعقطع، اپنے طورطریقے، اور جس طریقے سے وہ ان اختیار والوں سے باتچیت کرتے ہیں، وہ یہوواہ کے لوگوں کی نیکنامی کو فائدہ یا نقصان پہنچانے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ انہیں ”جسکی عزت کرنا چاہیے اسکی عزت [کرکے]،“ اور گہرے احترام کے ساتھ اپنا دفاع کرنا چاہیے۔—رومیوں ۱۳:۱-۷، ۱-پطرس ۲:۱۷، ۳:۱۵۔
۱۲ ”حکومتوں“ میں مقامی سرکاری اہلکار شامل ہیں۔ اب جبکہ زیادہ سے زیادہ کنگڈمہال تعمیر ہو رہے ہیں تو مقامی اختیار والوں سے تعلقات ناگزیر ہیں۔ بزرگوں کو اکثر تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ جہاں پر کلیسیا کے نمائندے حکام کے ساتھ اچھا تعلق قائم کرتے ہیں اور ٹاؤن پلاننگ کمیشن کیساتھ تعاون کرتے ہیں تو اس تعصب کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ اکثر ان لوگوں کو ایک اچھی گواہی دی گئی ہے جو پہلے یہوواہ کے گواہوں اور انکے پیغام کی بابت بہت کم یا بالکل نہیں جانتے تھے۔
”جہاں تک ہو سکے ... سب آدمیوں کیساتھ میلملاپ رکھو“
۱۳، ۱۴. پولس نے روم میں مسیحیوں کو کیا مشورت دی، اور ہم باہر والوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں اسکا اطلاق کیسے کر سکتے ہیں؟
۱۳ بتپرست روم میں رہنے والے مسیحیوں کو پولس نے درجذیل مشورت دی: ”بدی کے عوض کسی سے بدی نہ کرو۔ جو باتیں سب لوگوں کے نزدیک اچھی ہیں انکی تدبیر کرو۔ جہاں تک ہو سکے تم اپنی طرف سے سب آدمیوں کیساتھ میلملاپ رکھو۔ اے عزیزو! اپنا انتقام نہ لو بلکہ غضب کو موقع دو کیونکہ یہ لکھا ہے کہ خداوند فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ میں ہی دونگا۔ بلکہ اگر تیرا دشمن بھوکا ہو تو اسکو کھانا کھلا۔ اگر پیاسا ہو تو اسے پانی پلا کیونکہ ایسا کرنے سے تو اسکے سر پر آگ کے انگاروں کا ڈھیر لگائیگا۔ بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بدی پر غالب آؤ۔“—رومیوں ۱۲:۱۷-۲۱۔
۱۴ باہر والوں کے ساتھ اپنے تعلقات میں، بطور سچے مسیحیوں کے ہم ناگزیر طور پر مخالفوں کا سامنا کرتے ہیں۔ مندرجہبالا اقتباس میں، پولس ظاہر کرتا ہے کہ دانشمندی کی روش یہ ہے کہ مہربانہ کاموں کے ذریعے مخالفت پر قابو پانے کی کوشش کریں۔ دہکتے ہوئے کوئلوں کی طرح، مہربانی کے یہ مہربانہ کام شاید دشمنی کو پگھلا دیں اور ممکن ہے کہ خوشخبری میں اسکی دلچسپی کو بھی ابھارتے ہوئے، یہوواہ کے لوگوں کی جانب زیادہ مہربانہ رویہ رکھنے کیلئے مخالف کا دل جیت لیں۔ جب یہ واقع ہوتا ہے تو بدی نیکی سے مغلوب ہو جاتی ہے۔
۱۵. مسیحیوں کو باہر والوں کے ساتھ دانشمندی سے چلنے کیلئے خاص طور پر کب محتاط ہونا چاہیے؟
۱۵ باہر والوں کے ساتھ دانشمندی سے چلنا ایسے گھروں میں خاص طور پر اہم ہے جہاں پر بیاہتا ساتھیوں میں سے ایک نے ابھی تک سچائی کو قبول نہیں کیا ہے۔ بائبل اصولوں کی پابندی بہتر خاوند، بہتر بیویاں، بہتر والد، بہتر مائیں، اور بچے پیدا کرتی ہے جو زیادہ فرمانبردار ہیں اور سکول میں زیادہ محنت سے پڑھتے ہیں۔ ایک بےایمان کو ان صحتافزا اثرات کو دیکھنے کے قابل ہونا چاہیے جو بائبل اصولوں نے ایک ایماندار پر کئے ہیں۔ یوں، بعض ”[شاید] بغیر کلام کے،“ مخصوصشدہ خاندانی افراد کے ”چالچلن سے ... کھنچ جائیں۔“—۱-پطرس ۳:۱، ۲۔
”سب کیساتھ نیکی کرنا“
۱۶، ۱۷. (ا) خدا کس قربانی سے بڑا خوش ہوتا ہے؟ (ب) ہمیں اپنے بھائیوں اور باہر والوں کیساتھ بھی کس طرح ”نیکی“ کرنی چاہئے؟
۱۶ سب سے بڑی نیکی جو ہم اپنے پڑوسی کیساتھ کر سکتے ہیں، وہ اسکے پاس زندگی کا پیغام لانا اور یسوع مسیح کے ذریعے یہوواہ کیساتھ میلملاپ کے متعلق سکھانا ہے۔ (رومیوں ۵:۸-۱۱) اسلئے پولس رسول ہمیں بتاتا ہے: ”پس ہم اس [مسیح] کے وسیلہ سے حمد کی قربانی یعنی ان ہونٹوں کا پھل جو اسکے نام کا اقرار کرتے ہیں خدا کے لئے ہر وقت چڑھایا کریں۔“ (عبرانیوں ۱۳:۱۵) پولس اضافہ کرتا ہے: ”اور بھلائی اور سخاوت کرنا نہ بھولو اسلئے کہ خدا ایسی قربانیوں سے خوش ہوتا ہے۔“ (عبرانیوں ۱۳:۱۶) اپنی اعلانیہ گواہی کے علاوہ، ہمیں ”بھلائی کرنا“ بھولنا نہیں چاہیے۔ یہ قربانیوں کے ایک جزولازم کو تشکیل دیتا ہے جس سے خدا خوب خوش ہوتا ہے۔
۱۷ قدرتی طور پر، ہم اپنے روحانی بھائیوں سے نیکی کرتے ہیں، جو جذباتی طور پر، روحانی طور پر، جسمانی طور پر، یا مالی طور پر ضرورتمند ہو سکتے ہیں۔ پولس نے اسکا اشارہ دیا جب اس نے لکھا: ”جہاں تک موقع ملے سب کے ساتھ نیکی کریں خاصکر اہلایمان کیساتھ۔“ (گلتیوں ۶:۱۰، یعقوب ۲:۱۵، ۱۶) تاہم، ہمیں ان الفاظ کو بھولنا نہیں چاہیے، کہ ”سب کیساتھ نیکی کریں۔“ ایک رشتےدار، پڑوسی، یا ساتھی کارندے کیساتھ ایک مہربانہ کام ہمارے خلاف تعصب کو توڑنے اور سچائی کیلئے اس شخص کے دل کو کھولنے کیلئے بہت کچھ کر سکتا ہے۔
۱۸. (ا) ہمیں کن خطرات سے بچنا چاہیے؟ (ب) ہم اپنی مسیحی نیکی کو اعلانیہ گواہی دینے کے اپنے کام کی حمایت کیلئے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
۱۸ ایسا کرنے کیلئے، ہمیں باہر والوں کو گہرا دوست بنانے کی ضرورت نہیں۔ ایسی صحبتیں امکانی طور پر خطرناک ہیں۔ (۱-کرنتھیوں ۱۵:۳۳) اور دنیا کیساتھ دوستی رکھنے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ (یعقوب ۴:۴) لیکن ہماری مسیحی نیکی ہماری منادی کی حمایت کر سکتی ہے۔ بعض ممالک میں لوگوں سے انکے گھروں پر باتچیت کرنا زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بعض عمارتیں ایسے آلات اور طریقوں سے محفوظ کی گئی ہیں جو ہمیں وہاں رہنے والوں سے رابطہ قائم کرنے سے روکتے ہیں۔ ترقییافتہ ممالک میں ٹیلیفون ہمیں منادی کرنے کیلئے ایک طریقہ فراہم کرتا ہے۔ بیشتر ممالک میں سڑکوں پر گواہی دی جا سکتی ہے۔ تاہم، تمام ممالک میں، خوشطبع، شائستہ، مہربان، اور مددگار ہونا تعصب کو ختم کرنے اور ایک عمدہ گواہی دینے کیلئے مواقع کھولتا ہے۔
مخالفوں کو خاموش کرانا
۱۹. (ا) چونکہ ہمارا مقصد آدمیوں کو خوش کرنا نہیں ہے اسلئے ہم کس چیز کی توقع کر سکتے ہیں؟ (ب) ہمیں دانیایل کے نمونے کی پیروی کرنے اور پطرس کی مشورت کا اطلاق کرنے کیلئے کس طرح کوشش کرنی چاہیے؟
۱۹ یہوواہ کے گواہ نہ تو آدمیوں کو خوش کرنے والے اور نہ ہی آدمیوں سے ڈرنے والے ہیں۔ (امثال ۲۹:۲۵، افسیوں ۶:۶) وہ پوری طرح سمجھتے ہیں کہ قابلنمونہ ٹیکس ادا کرنے والے اور اچھے شہری ہونے کیلئے اپنی تمام کوششوں کے باوجود، مخالف انکی بابت کینہپرور جھوٹ پھیلائیں گے اور حقارتآمیز باتیں کرینگے۔ (۱-پطرس ۳:۱۶) یہ جانتے ہوئے، وہ دانیایل کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جسکی بابت اسکے دشمنوں نے کہا: ”ہم اس دانیایل کو اسکے خدا کی شریعت کے سوا کسی اور بات میں قصوروار نہ پائینگے۔“ (دانیایل ۶:۵) ہم انسانوں کو خوش کرنے کیلئے بائبل اصولوں پر کبھی مصالحت نہیں کرینگے۔ اسکی بجائے، ہم شہید ہونے کے طالب نہیں ہونگے۔ ہم پرامن طریقے سے رہنے اور رسولی نصیحت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں: ”کیونکہ خدا کی یہ مرضی ہے کہ تم نیکی کرکے نادان آدمیوں کی جہالت کی باتوں کو بند کر دو۔“—۱-پطرس ۲:۱۵۔
۲۰. (ا) ہمیں کس چیز کا یقین ہے، اور یسوع نے ہمیں کیا حوصلہافزائی دی؟ (ب) ہم باہر والوں کیساتھ دانشمندی سے کیسے چل سکتے ہیں؟
۲۰ ہمیں یقین ہے کہ دنیا سے علیحدگی کی بابت ہمارا موقف بائبل کے عین مطابق ہے۔ اسکی پہلی صدی کے مسیحیوں کی تاریخ سے تائید ہوتی ہے۔ ہم یسوع کے الفاظ کے ذریعے حوصلہ پاتے ہیں: ”دنیا میں مصیبت اٹھاتے ہو لیکن خاطر جمع رکھو میں دنیا پر غالب آیا ہوں۔“ (یوحنا ۱۶:۳۳) ہم خوف نہیں کھاتے۔ ”اگر تم نیکی کرنے میں سرگرم ہو تو تم سے بدی کرنے والا کون ہے؟ اور اگر راستبازی کی خاطر دکھ سہو بھی تو تم مبارک ہو۔ نہ انکے ڈرانے سے ڈرو اور نہ گھبراؤ۔ بلکہ مسیح کو خداوند جان کر اپنے دلوں میں مقدس سمجھو اور جو کوئی تم سے تمہاری امید کی وجہ دریافت کرے اسکو جواب دینے کیلئے ہر وقت مستعد رہو مگر حلم اور خوف کیساتھ۔“ (۱-پطرس ۳:۱۳-۱۵) اس طریقے سے عمل کرتے ہوئے، ہم باہر والوں کے ساتھ دانشمندی سے چلینگے۔ (۱۸ ۷/۱ w۹۳)
نظرثانی کی غرض سے
▫ یہوواہ کے گواہوں کو باہر والوں کیساتھ دانشمندی سے چلنے کی ضرورت کیوں ہے؟
▫ سچے مسیحی کیوں دنیا کی طرف سے محبت کئے جانے کی امید کبھی نہیں کر سکتے، لیکن انہیں کیا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے؟
▫ دنیا کے لوگوں کیلئے ہمارا رجحان کیا ہونا چاہیے، اور کیوں؟
▫ ہمیں نہ صرف اپنے بھائیوں کے ساتھ ہی بلکہ باہر والوں کیساتھ بھی ”نیکی“ کیوں کرنی چاہیے؟
▫ باہر والوں کیساتھ ہمارا دانشمندی سے چلنا ہمارے اعلانیہ گواہی کے کام میں ہماری مدد کس طرح کر سکتا ہے؟
[تصویر]
بائیں جانب: فرانس میں سچے مسیحی سیلاب کے بعد اپنے پڑوسیوں کی مدد کر رہے ہیں
[تصویر]
مہربانی کے مسیحی کام تعصب کو ختم کرنے کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں
[تصویر]
مسیحیوں کو ”ہر نیک کام کیلئے تیار رہنا“ چاہیے