یہوواہ—برحق اور زندہ خدا
مصر کے فرعون نے گستاخی اور حقارت سے بات کی جب اس نے یہ پوچھا: ”یہوواہ کون ہے؟“ (خروج ۵:۲، NW) جیسا کہ پچھلے مضمون میں بتایا گیا ہے، بشمول فرعون اور اسکے فوجی لشکروں کیلئے آبی قبر کے، وہ رویہ مصریوں پر آفات اور موت لے آیا۔
قدیم مصر میں، یہوواہ خدا نے جھوٹے معبودوں پر اپنی برتری کو ثابت کیا۔ لیکن اسکی بابت سیکھنے کیلئے اور بھی بہت کچھ ہے۔ اسکی شخصیت کے چند پہلو کونسے ہیں؟ اور وہ ہم سے کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟
اسکا نام اور شہرت
جب اس نے مصر کے فرعون سے مطالبات کیے تو موسی نے یہ نہیں کہا: ”خداوند ایسے ایسے کہتا ہے۔“ فرعون اور دوسرے مصری اپنے بہتیرے جھوٹے معبودوں کو بطور خداوند خیال کرتے تھے۔ نہیں، بلکہ موسی نے الہٰی نام یہوواہ استعمال کیا۔ اس نے خود اسے اوپر سے بولے جاتے سنا تھا جب وہ مدیان کے ملک میں جلتی ہوئی جھاڑی کے قریب تھا۔ الہامی ریکارڈ بیان کرتا ہے:
”خدا نے موسی سے کہا: ”میں یہوواہ ہوں۔ ... میں نے خود بنیاسرائیل کے کراہنے کو بھی سن کر جنکو مصریوں نے غلامی میں رکھ چھوڑا ہے اپنے اس عہد کو یاد کیا ہے۔ سو بنیاسرائیل سے کہہ، ”میں یہوواہ ہوں، اور میں تمکو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نکال لونگا۔ اور میں تم کو انکی غلامی سے نجات دلاؤنگا اور میں اپنا ہاتھ بڑھا کر اور انکو بڑی بڑی سزائیں دے کر تمکو رہائی دونگا۔ اور میں تم کو لے لونگا کہ میری قوم بن جاؤ اور میں تمہارا خدا ہونگا، اور تم جان لو گے کہ میں یہوواہ تمہارا خدا ہوں جو تمکو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نکالتا ہوں۔ اور جس ملک [کنعان] کو تمہارے [باپ دادا] ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کو دینے کی قسم میں نے کھائی تھی اس میں تم کو پہنچا کر اسے تمہاری میراث کر دونگا۔ یہوواہ میں ہوں۔“““—خروج ۶:۱-۸، NW۔
یہوواہ نے بالکل ایسا ہی کیا۔ اس نے اسرائیلیوں کو مصری غلامی سے آزاد کروایا اور انہیں کنعان کے ملک پر قبضہ کرنے کے قابل بنایا۔ جیسے کہ وعدہ کیا گیا تھا، خدا نے سب کچھ ویسے ہی ہونے کا سبب پیدا کیا۔ کسقدر مناسب! اس کے نام یہوواہ کا مطلب ہے، ”مسببالاسباب۔“ بائبل یہوواہ کا حوالہ اس طرح کے القابات سے دیتی ہے جیسے کہ ”خدا،“ ”خداوند خدا،“ ”خالق،“ ”باپ،“ ”قادرمطلق،“ اور ”حقتعالیٰ۔“ تو بھی اس کا نام یہوواہ اسکی شناخت بطور سچے خدا کے کراتا ہے جو اپنے شاندار مقاصد کو بتدریج پایۂتکمیل تک پہنچاتا ہے۔—یسعیاہ ۴۲:۸۔
اگر ہم بائبل کو اس کی اصلی زبانوں میں پڑھیں تو خدا کا نام ہزاروں مرتبہ پائیں گے۔ عبرانی میں یہ چار حروفصحیح یود ھے واؤ ھے (יהוה) سے پیش کیا جاتا ہے جو چوحرفہ کہلاتے ہیں اور دائیں سے بائیں کو پڑھے جاتے ہیں۔ وہ جو عبرانی بولتے تھے وہ خود حروفعلت کی آوازیں لگا لیتے تھے لیکن آجکل لوگ یقینی طور پر یہ نہیں جانتے کہ وہ کونسی آوازیں تھیں۔ جبکہ بعض یاوے کے ہجے کی حمایت کرتے ہیں، تلفظ یہوواہ عام ہے اور موزوں طور پر ہمارے خالق کی شناخت کراتا ہے۔
نام یہوواہ کا استعمال خدا کو زبور ۱۱۰:۱، میں ”میرے خداوند“ کہلانے والے سے بھی فرق کر دیتا ہے، جہاں ایک ترجمہ یوں ہے: ”خداوند [عبرانی، יהוה] نے میرے خداوند سے کہا، تو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ، جب تک میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ کر دوں۔“ (کنگ جیمز ورشن) عبرانی متن میں یہاں پر خدا کے نام کے موجود ہونے کو تسلیم کرتے ہوئے، اردو ریوائزڈ ورشن میں یوں پڑھا جاتا ہے: ”یہوواہ نے میرے خداوند سے کہا تو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ جب تک کہ میں تیرے دشمنوں کو تیرے پاؤں کی چوکی نہ کر دوں۔“ یہوواہ خدا کے یہ الفاظ نبوتی طور پر یسوع مسیح کا حوالہ دیتے ہیں، جسے لکھنے والا ”میرے خداوند“ کہتا ہے۔
فرعون کے زمانے میں یہوواہ نے اپنے نام کو سربلند کیا۔ خدا نے موسی کے ذریعے اس سختدل حکمران کو بتایا: ”کیونکہ میں اب کی بار اپنی سب بلائیں تیرے دل اور تیرے نوکروں اور تیری رعیت پر نازل کرونگا تاکہ تو جان لے کہ تمام دنیا میں میری مانند کوئی نہیں ہے۔ اور میں نے تو ابھی ہاتھ بڑھا کر تجھے اور تیری رعیت کو وبا سے مارا ہوتا اور تو زمین پر سے ہلاک ہو جاتا۔ پر میں نے تجھے فیالحقیقت اسلئے قائم رکھا ہے کہ اپنی قوت تجھے دکھاؤں تاکہ میرا نام ساری دنیا میں مشہور ہو جائے۔“—خروج ۹:۱۴-۱۶۔
مصر سے اسرائیل کے خروج اور بعض کنعانی بادشاہوں کا خاتمہ کرنے کی بابت، جب یریحو کی ایک عورت راحب نے دو عبرانی جاسوسوں کو بتایا: ”مجھے یقین ہے کہ خداوند [”یہوواہ،“ NW] نے یہ ملک تم (اسرائیلیوں) کو دیا ہے اور تمہارا رعب ہم لوگوں پر چھا گیا ہے اور اس ملک کے سب باشندے تمہارے آگے گھلے جا رہے ہیں۔ کیونکہ ہم نے سن لیا ہے کہ جب تم مصر سے نکلے تو خداوند [”یہوواہ، NW] نے تمہارے آگے بحرقلزم کے پانی کو سکھا دیا اور تم نے اموریوں کے دونوں بادشاہوں سیحون اور عوج سے جو یردن کے اس پار تھے اور جنکو تم نے بالکل ہلاک کر ڈالا کیا کیا کیا۔ یہ سب کچھ سنتے ہی ہمارے دل پگھل گئے اور تمہارے باعث پھر کسی شخص میں جان باقی نہ رہی کیونکہ خداوند [”یہوواہ، NW] تمہارا خدا ہی اوپر آسمان کا اور نیچے زمین کا خدا ہے۔“ (یشوع ۲:۹-۱۱) جیہاں، یہوواہ کی شہرت پھیل چکی تھی۔
یہوواہ اور اسکی خوبیاں
زبورنویس نے اس دلی خواہش کا اظہار کیا: ”تاکہ وہ جان لیں کہ تو ہی جسکا نام یہوواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“ (زبور ۸۳:۱۸) چونکہ یہوواہ کی فرمانروائی عالمگیر ہے، یسوع کے اذیتیافتہ پیروکار یہ دعا کر سکتے تھے: ”اے مالک! تو وہ ہے جس نے آسمان اور زمین اور سمندر اور جو کچھ ان میں ہے پیدا کیا۔“ (اعمال ۴:۲۴) اور یہ جاننا کسقدر اطمینانبخش ہے کہ یہوواہ ”دعا [کا] سننے [والا]“ ہے!—زبور ۶۵:۲۔
یہوواہ کی خاص خوبی محبت ہے۔ بلاشبہ ”خدا محبت ہے“—اس خوبی کا مجسّمہ۔ (۱-یوحنا ۴:۸) علاوہازیں، ”اس میں سمجھ اور قوت ہے۔“ یہوواہ عاقلمطلق اور قادرمطلق ہے، لیکن وہ اپنی قوت کو کبھی غلط استعمال نہیں کرتا۔ (ایوب ۱۲:۱۳، ۳۷:۲۳) ہم اسکا بھی یقین رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ہمیشہ ہمارے ساتھ بھی انصاف کریگا، کیونکہ ”صداقت اور عدل اسکے تخت کی بنیاد ہیں۔“ (زبور ۹۷:۲) اگر ہم غلطی کرتے ہیں لیکن تائب ہیں تو ہم یہ جان کر اطمینان رکھ سکتے ہیں کہ یہوواہ ”خدائےرحیم اور مہربان قہر کرنے میں دھیما اور شفقت اور وفا میں غنی“ ہے۔ (خروج ۳۴:۶) اس میں کوئی شک نہیں کہ یہوواہ کی خدمت کرنے سے ہم خوشی حاصل کر سکتے ہیں!—زبور ۱۰۰:۱-۵۔
بینظیر آسمانی بادشاہ
یہوواہ کے بیٹے، یسوع مسیح، نے کہا: ”خدا روح ہے۔“ (یوحنا ۴:۲۴) لہذا، یہوواہ انسانی آنکھ سے اوجھل ہے۔ درحقیقت، یہوواہ نے موسی کو بتایا: ”تو میرا چہرہ نہیں دیکھ سکتا کیونکہ انسان مجھے دیکھ کر زندہ نہیں رہیگا۔“ (خروج ۳۳:۲۰) یہ آسمانی بادشاہ اتنا جلالی ہے کہ انسان اسے دیکھنے کے تجربے کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہونگے۔
اگرچہ یہوواہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے تو بھی قادرمطلق خدا کے طور پر اسکے وجود کی شہادت باافراط ہے۔ بیشک، ”اسکی اندیکھی صفتیں یعنی اسکی ازلی قدرت اور الوہیت دنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہوئی چیزوں کے ذریعہ سے معلوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔“ (رومیوں ۱:۲۰) زمین—اپنے گھاس، درختوں، پھلوں، سبزیوں، اور پھولوں کے ساتھ—یہوواہ کی الوہیت کی شہادت دیتی ہے۔ بےوقعت مورتی-معبودوں کے برعکس، یہوواہ بارش اور پھلدار موسم فراہم کرتا ہے (اعمال ۱۴:۱۶، ۱۷) رات کے وقت آسمان کے ستاروں پر نظر کریں۔ یہوواہ کی الوہیت اور تنظیمی صلاحیت کی کیا ہی شاندار شہادت!
یہوواہ نے آسمان میں اپنی پاک، ذیشعور روحانی مخلوقات کو بھی منظم کیا ہے۔ ہمآہنگ تنظیم کے طور پر، وہ خدا کی مرضی بجا لاتے ہیں، جیسے کہ زبورنویس کہتا ہے: ”اے خداوند کے فرشتو! اسکو مبارک کہو۔ تم جو زور میں بڑھکر ہو اور اسکے کلام کی آواز سنکر اس پر عمل کرتے ہو۔ اے خداوند کے لشکرو! سب اسکو مبارک کہو۔ تم جو اسکے خادم ہو اور اسکی مرضی بجا لاتے ہو۔“ (زبور ۱۰۳:۲۰، ۲۱) یہوواہ نے زمین پر بھی اپنے لوگوں کو منظم کیا ہے۔ اسرائیل کی قوم خوب منظم تھی، اور خدا کے بیٹے کے پہلے پیروکار بھی ایسے ہی تھے۔ اسی طرح آجکل، یہوواہ کے پاس سرگرم گواہوں کی عالمگیر تنظیم ہے، جو خوشخبری کا اعلان کر رہی ہے کہ اسکی بادشاہی نزدیک ہے—متی ۲۴:۱۴۔
یہوواہ سچا اور زندہ خدا ہے
یہوواہ کی الوہیت کتنے زیادہ طریقوں سے ظاہر ہوئی ہے! اس نے مصر کے جھوٹے معبودوں کو نیچا دکھایا اور اسرائیلیوں کو ملکموعود میں بحفاظت لے آیا۔ تخلیق یہوواہ کی الوہیت کی باافراط شہادت دیتی ہے۔ اور اس میں اور بیکار مورتی-معبودوں کے درمیان کوئی بھی مماثلت نہیں۔
یرمیاہ نبی نے زندہ خدا، یہوواہ اور بےجان انسانساختہ بتوں کے درمیان بڑے فرق کو ظاہر کیا۔ اس فرق کو یرمیاہ ۱۰ باب میں خوب ظاہر کیا گیا ہے۔ بشمول دوسری باتوں کے، یرمیاہ نے لکھا: ”خداوند [”یہوواہ“] سچا خدا ہے۔ وہ زندہ خدا اور ابدی بادشاہ ہے۔“ (یرمیاہ ۱۰:۱۰) زندہ اور سچے خدا یہوواہ نے، تمام چیزوں کو خلق کیا۔ اس نے اسرائیلیوں کو رہائی دلائی جو مصری غلامی میں گھل رہے تھے۔ اسکے لئے کوئی چیز ناممکن نہیں۔
”ازلی بادشاہ،“ یہوواہ، اس دعا کا جواب دے گا: ”اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“ (۱-تیمتھیس ۱:۱۷، متی ۶:۹، ۱۰) آسمانی مسیحائی بادشاہت، پہلے ہی یسوع مسیح کے ہاتھوں میں ہے وہ جلد ہی شریروں کے خلاف کارروائی کریگی اور یہوواہ کے سب دشمنوں کو ختم کریگی۔ (دانیایل ۷:۱۳، ۱۴) وہ بادشاہت ایک نئی دنیا میں فرمانبردار نوعانسانی کیلئے غیرمختتم برکات لائے گی۔—۲-پطرس ۳:۱۳۔
یہوواہ اور اسکے مقاصد کی بابت سیکھنے کیلئے بہت کچھ ہے۔ ایسا علم حاصل کرنے اور اسکی مطابقت میں عمل کرنے کو اپنا عزممُصمم کیوں نہ بنائیں؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں، تو آپ کو بادشاہتی حکمرانی کے تحت زمینی فردوس میں ابدی زندگی سے لطفاندوز ہونے کا شرف حاصل ہوگا۔ آپ اس وقت زندہ رہینگے جب دکھ، درد، اور موت بھی ختم ہو چکی ہوگی اور یہوواہ کے علم نے زمین کو معمور کر دیا ہوگا۔ (یسعیاہ ۱۱:۹، مکاشفہ ۲۱:۱-۴) اگر آپ اس سوال ”یہوواہ کون ہے؟“ کیلئے بائبل پر مبنی جوابات کے مطابق، تلاش کریں، ڈھونڈیں اور عمل کریں تو آپ کا مستقبل ایسا ہو سکتا ہے۔ (۵ ۷/۱۵ w۹۳)
[صفحہ 7 پر تصویر کا حوالہ]
.Pictorial Archive )Near Eastern History( Est