ابدی اذیت ایک پریشانکن عقیدہ کیوں؟
”میں سنتا ہوں کہ آپ نے اپنے پاسٹر کو نکال دیا۔ اس میں کیا برائی تھی؟“
”کیونکہ وہ ہمیں ہر وقت یہی بتاتا رہتا تھا کہ ہم سب دوزخ میں جائینگے۔“
”نیا پاسٹر کیا کہتا ہے؟“
”نیا پاسٹر بھی یہی کہتا ہے کہ ہم دوزخ میں جائینگے۔“
”تو پھر دونوں میں فرق کیا ہے؟“
”فرق یہ ہے کہ جب پہلے والا پاسٹر یہ کہتا تھا تو ایسا لگتا تھا کہ وہ اس کے لئے بڑا خوش ہے، لیکن نیا والا جب یہ بات کہتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اسے یہ کہتے ہوئے بڑا دکھ ہوتا ہے۔“
ایک تصاویری کتاب میں پیش کی گئی یہ کہانی اپنے طور سے اس چیز کو منعکس کرتی ہے کہ بہتیرے بائبل سکھانے والے، گرجا گھر جانے والے، دوزخ کے اس عقیدہ سے مطمئن نہیں ہیں۔ وسیع معنوں میں، یہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے جس کا مشاہدہ ایک کینیڈین عالمدین کلارک ایچ۔ پیناک نے کیا: ”ایسے تمام دینی موضوعات میں سے جنہوں نے صدیوں سے انسانی ضمیر کو پریشان کیا ہے، میں خیال کرتا ہوں کہ جسموجان میں ہمیشہ کیلئے شعوری سزا کے طور پر دوزخ کی قبولکردہ وضاحت کی نسبت شاید (موضوعات) ہی کوئی کسی بڑی پریشانی کا باعث ہو سکے ہوں۔“
اخلاقی الجھنیں
تو پھر کیوں، بہتیرے دوزخ کے ان مناظر کی بابت پریشان ہیں جو کہ مسیحیت میں پیش کئے جاتے ہیں؟ (بکس کو دیکھیں۔) پروفیسر پیناک واضح کرتا ہے: ”یہ خیال کہ ایک ذیشعور مخلوق کو غیرمختتم وقت کیلئے جسمانی اور ذہنی اذیت برداشت کرنا ہے یقیناً پریشانکن ہے اور اسکے علاوہ یہ سوچ کہ یہ سب ان کیساتھ الہٰی فرمان کے تحت ہو رہا ہے خدا کی محبت پر میرے یقین کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔“
جیہاں، ابدی اذیت کی تعلیم ایک اخلاقی مسئلے کو پیش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر، خلوصدل مسیحی کیتھولک عالمدین ہینزکونگ کے اٹھائے ہوئے ان سوالات کا تجزیہ کرتے ہیں: ”کیا محبت کا خدا ... ہمیشہ تک اپنی مخلوق کی اس غیرمختتم، ناامید، دردناک، محبت سے خالی جسمانی-نفسیاتی اذیت کو دیکھتا رہیگا؟“ کونگ بیان کو جاری رکھتا ہے: ”کیا وہ اسقدر سنگدل قرض خواہ ہے؟ ... ہم ایک ایسے انسان کی بابت کیا سوچیں گے جو انتقام کی اپنی آگ کو اسقدر سنگدلی اور بےقراری سے بجھاتا ہے؟“a بلاشبہ، کیسے وہ خدا جو بائبل میں ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمیں اپنے دشمنوں سے محبت رکھنی ہے خود اپنے دشمنوں کو ہمیشہ تک اذیت دینا پسند کریگا؟ (۱-یوحنا ۴:۸-۱۰) اس میں کوئی تعجب نہیں کہ بعض لوگ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دوزخ کی نوعیت خدا کی فطرت کیساتھ ہم آہنگ نہیں، اور یہ کہ یہ عقیدہ کوئی اخلاقی معنی نہیں رکھتا۔
بہتیرے دیگر معتقد اپنے ضمیر کو خاموش کرنے کیلئے ان سوالات سے کنی کتراتے ہیں۔ تاہم، ان سوالات کو نظرانداز کرنا، ان الجھنوں کو ختم نہیں کر دیتا۔ پس آئیے ہم اس مسئلے کا سامنا کریں۔ اس عقیدے کیساتھ کونسی اخلاقی الجھنیں وابستہ ہیں؟ کرسویل تھیولاجیکل ریویو میں پروفیسر پیناک لکھتے ہیں: ”اخلاقی نکتۂنگاہ سے ابدی اذیت ناقابلبرداشت ہے کیونکہ یہ خدا کو خون کے پیاسے ایک ایسے عفریت کے طور پر پیش کرتی ہے جو کہ نشانہ بننے والے ان لوگوں کیلئے جنہیں وہ مرنے بھی نہیں دیتا ایک ابدی آشوتز (نازی کیمپ جیسی کوئی جگہ) رکھتا ہے۔“ وہ پوچھتا ہے: ”کیسے کوئی اپنے اندر رحم کی خوبی رکھتے ہوئے ایسے خیال [دوزخ کا روایتی عقیدہ] کا ارادہ کرنے پر پرسکون رہ سکتا ہے؟ ... مسیحی ممکنہ طور پر ایک ایسے ظلم اور انتقام پروری والے معبود کا تصور کیسے کر سکتے ہیں؟“
یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ اس عقیدے نے انسان کے رویے پر برا اثر ڈالا ہے پیناک تبصرہ کرتا ہے: ”میں تو یہ سوچتا ہوں کہ انہوں نے خود کتنا ظلم کیا ہوگا جو ایک ایسے خدا پر ایمان رکھتے ہیں جو اپنے دشمنوں کو اذیت دیتا ہے؟“ وہ اختتام میں کہتا ہے: ”کیا یہ سب سے پریشانکن تصور نہیں جس پر دوبارہ سوچبچار کرنے کی ضرورت ہے؟“ جیہاں، اگر اس طرح کے ظلم کو خدا سے منسوب کر دیا جاتا ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ گرجا گھر جانے والے حساس لوگ ایک بار پھر سے دوزخ کی آگ کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اور وہ کیا دیکھتے ہیں؟ ابدی اذیت کے نظریہ کو درپیش ایک اور مسئلہ۔
دوزخ اور انصاف
بہتیرے جو دوزخ کے روایتی عقیدے پر سوچبچار کرتے ہیں انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح خدا کو ناانصافی کرنے والا ظاہر کیا جاتا ہے اور یوں یہ انکے انصاف کے فطرتی احساس کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ کس طرح سے؟
ایک جواب تو آپ کو ابدی اذیت کے عقیدہ کا موازنہ خدا کی طرف سے دیئے گئے انصاف کے ایک معیار کیساتھ کرنے سے مل جائیگا: ”آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت۔“ (خروج ۲۱:۲۴) استدلال کی خاطر، آتشی دوزخ کے عقیدہ پر، قدیم اسرائیل کو دیئے گئے اس الہٰی قانون کا اطلاق کریں جو کہ کیے کی سزا کا ایک واجب حکم تھا۔ آپ غالباً کس نتیجہ پر پہنچیں گے؟ یہ کہ صرف وہی گنہگار جنہوں نے ابدی اذیت دی ہے وہی بدلے میں اس طرح کی مساوی ابدی اذیت کے مستحق ہیں—ابدی اذیت کے بدلے ابدی اذیت۔ لیکن چونکہ انسان (قطعنظر اس سے کہ وہ کتنے بدکار ہیں) صرف محدود حد تک ہی اذیت دے سکتے ہیں، اسلئے انہیں ابدی اذیت دینا ان کے جرائم اور آتشی دوزخ کی غیرمحدود سزا کے درمیان عدمتناسب پیدا کر دیتی ہے۔
سادہ سی بات یہ ہے کہ سزا زیادہ سخت ہوگی۔ یہ ”آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت“ سے کہیں زیادہ ہوگی۔ انتقام کے نظریے کو مناسب حد تک رکھنے کی بابت یسوع کی تعلیمات پر غور کرتے ہوئے شاید آپ یہ تسلیم کریں کہ سچے مسیحی ابدی اذیت میں انصاف تلاش کرنے کے لئے بڑی مشکل میں ہونگے۔—متی ۵:۳۸، ۳۹، رومیوں ۱۲:۱۷۔
عقیدے کی توجیہ کرنا
تاہم، متعدد معتقد عقیدے کی توجیہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ کیسے؟ برطانوی مصنف کلائیو ایس۔ لوئیس اپنی کتاب دی پرابلم آف پین میں عقیدے کے زیادہتر حامیوں کے حق میں استدلال کرتا ہے: ”اگر یہ میرے اختیار میں ہو تو اسکی نسبت کوئی اور عقیدہ نہیں جسے میں مسیحیت میں سے زیادہ خوشی سے نکالوں گا۔ لیکن اسے صحائف کی مکمل حمایت حاصل ہے اور خاص طور پر، ہمارے خداوند کے اپنے الفاظ کی۔“ یوں، حمایتی اعتراف کرتے ہیں کہ ابدی عذاب خوفزدہ کرنے والا ہے، لیکن اسکے ساتھ ہی ساتھ وہ یقین رکھتے ہیں کہ عقیدہ لازمی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بائبل اسکی تعلیم دیتی ہے۔ عالمدین پیناک نوٹ کرتا ہے: ”اسکی ناخوشگواری کو تسلیم کرنے سے، وہ بائبل کیلئے اپنی ثابتقدم وفاداری اور اسطرح کی دہشتناک حقیقت پر اپنا یقین رکھنے سے کوئی بہادری ثابت کرنے کی امید رکھتے ہیں صرف اسلئے کہ صحائف اسکی تعلیم دیتے ہیں۔ وہ اسے اسطرح پیش کرتے ہیں جیسے کہ بائبل کی حقیقتپسندی خطرے میں ہو۔ لیکن کیا حقیقت میں ایسا ہے؟“
آپ بھی حیران ہوسکتے ہیں کہ آیا بائبل سے وفاداری آپکے پاس اس عقیدے کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑتی۔ حقیقت میں بائبل کیا کہتی ہے؟ (۴ ۴/۱۵ w۹۳)
[بکس]
تین ہمخیال تصور
دی ویسٹمنسٹر کنفیشن آف فیتھ جسے بہتیرے پروٹسٹنٹ قبول کرتے ہیں، یہ بیان کرتا ہے کہ وہ جو آسمانی بلاہٹ نہیں رکھتے ”وہ ابدی اذیت میں ڈالے جائینگے اور ابدی ہلاکت کی سزا اٹھائینگے۔“ ”رومن کیتھولک مسیحیت میں“ دی انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن، وضاحت کرتا ہے، ”دوزخ کو ایک کبھی نہ ختم ہونے والی سزا کی حالت خیال کیا جاتا ہے ... جس کا امتیازی وصف ... آگ اور دیگر اسی طرح کی اذیتوں میں مبتلا ہونا ہے۔“ یہ انسائیکلوپیڈیا مزید اضافہ کرتا ہے کہ ”مشرقی آرتھوڈکس مسیحیت“ اس تعلیم کو مانتی ہے کہ ”دوزخ ابدی آگ اور سزا والا مقام ہے جو کہ ملعونوں کا منتظر ہے۔“—جلد ۶، صفحات ۲۳۸-۲۳۹۔
[فٹنوٹ]
a ابدی زندگی؟—موت کے بعد زندگی بطور ایک طبی، فلسفیانہ، اور مذہبی مسئلے کے، صفحہ ۱۳۶۔