دوزخ ابدی اذیت یا عام قبر؟
کیا آپکو یہ بتایا گیا ہے کہ ابتدائی چرچ فادروں، قرونوسطی کے دینی عالموں، اور مصلحین نے استدلال کیا ہے کہ دوزخ کے اندر ابدی تجربے میں آنے والی اذیتیں دائمی ہیں؟ اگر ایسے ہے تو آپکو یہ جانکر حیرانی ہو سکتی ہے کہ بعض معتبر بائبل عالم اب اس نظریے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ برطانیہ میں، ان میں سے ایک، جون آر۔ ڈبلیو۔ سٹاٹ لکھتا ہے کہ ”صحائف نیستونابودی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور یہ کہ ہوشوحواس میں ابدی اذیت ایک روایت ہے جسے صحائف کے اعلیوبالا سند کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔“ ایسینشلز—اے لبرل-ایوینجلیکل ڈائلاگ۔
وہ کس وجہ سے اس نتیجے پر پہنچا کہ ابدی اذیت [کا عقیدہ] بائبل پر مبنی نہیں ہے؟
زبان کا سبق
اسکے پہلے استدلال میں زبان شامل ہے۔ وہ وضاحت کرتا ہے کہ جب بائبل ابدی عذاب (”گیہینّا“، دیکھیں بکس، صفحہ ۸)، کی آخری حالت کا حوالہ دیتی ہے تو یہ اکثر ”تباہی“، یونانی ”فعل آپولیام (تباہ کرنا) اور اسم آپولیا (تباہی) کی اصطلاحوں کا استعمال کرتی ہے۔“ کیا یہ الفاظ عذاب کا حوالہ دیتے ہیں؟ سٹاٹ نشاندہی کرتا ہے کہ جب فعل معروف اور متعدی ہے تو آپولیام کا مطلب ”ہلاک کرنا“ ہے۔“ (متی ۲:۱۳، ۱۲:۱۴، ۲۱:۴۱) پس، متی ۱۰:۲۸ جہاں کنگ جیمز ورشن خدا کی طرف سے ”روح اور بدن دونوں کو جہنم میں ہلاک“ کرنے کا ذکر کرتی ہے تو فطری خیال ابدی اذیت کی حالت میں تکلیف اٹھانے کی بجائے موت کی حالت میں نابود کرنا ہے۔ متی ۷:۱۳، ۱۴ میں یسوع ”سکڑے“ راستے کا ”جو زندگی کو پہنچاتا ہے“ موازنہ ”کشادہ“ راستے سے کرتا ہے ”جو ہلاکت کو پہنچاتا ہے۔“ سٹاٹ تبصرہ کرتا ہے: ”اسلئے جن لوگوں سے ہلاکت کی سزا پانے کیلئے کہا گیا ہے اگر حقیقت میں ہلاک نہیں کئے جاتے تو یہ عجیب دکھائی دیگا۔“ جائز طور پر وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے: ”اگر ہلاک کرنے کا مطلب بدن کو زندگی سے محروم کرنا ہے تو دوزخ روحانی اور جسمانی زندگی دونوں سے محروم کرتی دکھائی دیگی، یعنی، ہستی کا ناپید ہونا۔“—ایسینشلز صفحات ۳۱۵-۳۱۶۔
دوزخ کی آگ کے بیانات کی وضاحت کرنا
پھر بھی، متعدد مذہبی لوگ جنوبی بپٹسٹ تنطیم کے صدر مورس ایچ۔ چیپمین سے متفق ہونگے جس نے کہا: ”میں حقیقی دوزخ کی منادی کرتا ہوں۔“ اس نے مزید کہا: ”بائبل اسے ”آگ کی جھیل“ کہتی ہے، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بہتر کوئی تشریح کی جا سکتی ہے۔“
مانا کہ بائبل میں آگ کے استعمال کی لفظی تصویریں اذیت کی ذہنی تصویر کو ابھار سکتی ہیں۔ تاہم، کتاب ایسینشلز بیان کرتی ہے: ”اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ جل جانے سے شدید درد کا تجربہ ہم سب کر چکے ہیں۔، اس آگ کو ہمارے ذہن ”ہوشوحواس میں اذیت“ گردانتے ہیں۔ لیکن آگ کا بنیادی کام درد کا سبب بننا نہیں ہے بلکہ ہلاکت کو یقینی بنانا ہے، جیسے کہ دنیا کی تمام غلاظتسوز بھٹیاں گواہی دیتی ہیں۔“ (صفحہ ۳۱۶) اس اہم فرق کو ذہن میں رکھنا صحائف سے کسی ایسی چیز کے معنی تلاش کرنے سے گریز کرنے میں ہماری مدد کریگا جو کہ حقیقت میں وہاں موجود ہی نہیں ہے۔ بعض مثالیں:
جہنم میں ڈالے جانے والوں کی بابت یسوع نے کہا کہ ”انکا کیڑا نہیں مرتا اور آگ نہیں بجھتی۔“ (مرقس ۹:۴۷، ۴۸) یہودیت کی مشتبہ کتاب کے الفاظ سے متاثر ہو کر کہ (”وہ ان کے جسم میں آگ اور کیڑے بھیجیگا اور وہ ہمیشہ درد سے روتے رہینگے۔—یہودیت ۱۶:۱۷، دی جیروسلیم بائبل)، بعض بائبل تفسیریں اس بات پر اکتفا کرتی ہیں کہ یسوع کے الفاظ ابدی اذیت کا مفہوم دیتے ہیں۔ تاہم، یہودیت کی مشتبہ کتاب، خدا کے الہام سے نہ ہونے کی وجہ سے مرقس کی تحریروں کے معنی کا تعیّن کرنے کیلئے کوئی معیار نہیں ہے۔ یسعیاہ ۶۶:۲۴ کا صحیفہ جسے یسوع نے بظاہر اشارتاً استعمال کیا، کہتا ہے کہ آگ اور کیڑا خدا کے دشمنوں کے مردہ جسموں کو (”لاشوں کو،“ یسعیاہ کہتا ہے) نیست کر رہے ہیں۔ ہوشوحواس میں اذیت کا کوئی اشارہ نہ تو یسعیاہ کے الفاظ میں ملتا ہے اور نہ ہی یسوع کے۔ آگ کی ذہنی تصویریں مکمل ہلاکت کی علامت ہیں۔
مکاشفہ ۱۴:۹-۱۱ بعض ایسے لوگوں کا ذکر کرتی ہیں جو ”آگ اور گندھک کے عذاب میں مبتلا [ہونگے] ... اور انکے عذاب کا دھواں ابدالآباد اٹھتا رہیگا۔“a کیا یہ دوزخ کی آگ میں ہوشوحواس میں ابدی اذیت کو ثابت کرتا ہے؟ درحقیقت، یہ اقتباس جو کچھ کہتا ہے وہ یہ ہے کہ شریر عذاب اٹھاتے ہیں، نہ کہ وہ ابد تک اذیت اٹھاتے ہیں۔ آیت بیان کرتی ہے کہ یہ دھواں ہے—اس بات کی شہادت کہ آگ نے تباہی کا اپنا کام کر دکھایا ہے—جو جاری رہتی ہے، نہ کہ آتشی اذیت۔
مکاشفہ ۲۰:۱۰-۱۵ کہتی ہے کہ ”آگ اور گندھک کی اس جھیل میں ... وہ رات دن ابدالآباد عذاب میں رہینگے۔“ شروع میں پڑھنے سے شاید یہ آگ کے ذریعے ہوشوحواس میں ابدی اذیت کے ایک ثبوت کی طرح لگے، لیکن ایسا قطعی طور پر نہیں ہے۔ کیوں؟ دوسری وجوہ میں، ”حیوان اور جھوٹا نبی“ اور ”موت اور عالمارواح [ہیڈیز]“ اس میں اپنے آخری انجام کو پہنچتے ہیں جسے یہاں پر ”آگ کی جھیل“ کہا گیا ہے۔ جیسے کہ آپ بآسانی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ حیوان، جھوٹا نبی، موت، اور عالمارواح [ہیڈیز] حقیقی اشخاص نہیں ہیں، اسلئے وہ ہوشوحواس میں اذیت کا تجربہ نہیں کر سکتے۔ اسکی بجائے، جی۔ بی۔ کارڈ اے کومنٹری آن دی ریویلیشن آف سینٹ جان دی ڈیوائن میں لکھتا ہے، ”آگ کی جھیل“ کا مطلب ”نابود اور مکمل طور پر نگاہتغافل کا شکار“ ہونا ہے۔ اس تکمیل پر بآسانی پہنچنا چاہیے، کیونکہ بائبل خود اس آگ کی جھیل کی بابت بیان کرتی ہے: ”یہ آگ کی جھیل دوسری موت ہے۔“—مکاشفہ ۲۰:۱۴۔
دینی جڑواں تعلیمات کو الگ کرنا
ان دلائل کے باوجود، متعدد معتقد اصرار کرتے ہیں کہ ”تباہی“ کا یہ مطلب نہیں جو کلام کہتا ہے بلکہ اسکا مطلب ابدی اذیت ہے۔ کیوں؟ انکی سوچ دوزخ کی آگ کی مذہبی جڑواں تعلیم—انسانی جان کے غیرفانی ہونے کے عقیدے سے متاثر ہے۔ اور چونکہ انکے چرچ نے صدیوں سے ان جڑواں تعلیمات کو پالاپوسا ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ صحائف جو تباہی کا ذکر کرتے ہیں، دراصل انکا مطلب ابدی عذاب ہے۔ بہرحال، غیرفانی انسانی جان نیست نہیں ہو سکتی—یا بہتیرے اسطرح یہ دلیل دیتے ہیں۔
لیکن اس نکتے پر غور کریں جو اینگلیکن پادری فلپ ای۔ ہیوز نے پیش کیا: ”یہ بحث کرنا کہ صرف انسانی جان ہی فطری طور پر غیرفانی ہے، ایک ایسا موقف قائم کرنا ہے جسے صحائف کی تعلیم میں کہیں بھی حمایت حاصل نہیں، کیونکہ بائبلی تصویرکشی میں انسانی فطرت کو ہمیشہ پورے طور پر روحانی اور جسمانی دونوں کے مرکب کے طور پر دیکھا گیا ہے ... ممنوعہ درخت کی بابت، شروع میں خدا کی آگاہی، ”جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا،“ آدمی کو مادی اور روحانی مخلوق کے طور پر دی گئی تھی—کیا اسکو اس میں سے لیکر کھانا چاہیے، یہ ایسے تھا جیسے کہ وہ مادی اور روحانی مخلوق کے طور پر مر جائیگا۔ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ اسکا کوئی حصہ جاودانی تھا اور اسطرح اسکی موت جزوی ہوگی۔“—دی ٹرو امیج—دی اوریجن اینڈ ڈیسٹینی آف مین ان کرائسٹ۔
اسی طرح سے عالمدین کلارک پیناک بیان کرتا ہے: ”اس تصور [کہ انسان کی جان غیرفانی ہے] نے مذہبی علم کو بہت لمبے عرصے سے متاثر کیا ہے لیکن یہ بائبلی نہیں ہے۔ بائبل جان کے طبعی طور پر غیرفانی ہونے کی تعلیم نہیں دیتی۔“ حزاقیایل ۱۸:۴، ۲۰ اور متی ۱۰:۲۸ اسکی تصدیق کرتی ہیں۔ اسکے علاوہ، یسوع نے خود اپنے مرے ہوئے دوست لعزر کا ذکر ”سو جانے“ یا نیند میں ہونے کے طور پر کیا۔ یسوع نے کہا کہ اس نے ”اسکو نیند سے جگانا“ تھا۔ (یوحنا ۱۱:۱۱-۱۴) پس انسانی ہستی، یا انسانی جان، لعزر مر چکا تھا، لیکن کچھ وقت گزر جانے کے بعد بھی، اسے قیامت بخشی جا سکتی تھی اور دوبارہ زندہ کیا جا سکتا تھا۔ حقائق اسے ثابت کرتے ہیں۔ یسوع نے لعزر کو مردوں سے زندہ کیا۔—یوحنا ۱۱:۱۷-۴۴۔
یہ نکات ابدی عذاب کے عقیدے پر کیسے اثرانداز ہوتے ہیں؟ پیچھے ۱۷ ویں صدی میں مضموننویس ولیم ٹیمپل نے بیان کیا: ”ایسے [صحائف] موجود ہیں جو دائمی آگ میں ڈالے جانے کا ذکر کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم انکو اس مفروضے کے ساتھ پیش نہیں کرتے کہ یوں جو کچھ اس میں ڈالا گیا ہے غیرفانی ہے، تو ہم یہ تاثر نہیں لینگے کہ جو کچھ اس میں ڈالا گیا ہے ہمیشہ تک جلتا رہیگا، بلکہ یہ کہ اسے برباد کر دیا جائیگا۔“ یہ درست تجزیہ ابھی تک سچ ثابت ہوتا ہے کیونکہ حقیقت میں بائبل یہی کچھ سکھاتی ہے۔
ناقابلانکار طور پر، آپکے پاس دوزخ میں ہوشوحواس میں ابدی عذاب کے خیال پر اعتراض کرنے کیلئے زبردست وجوہ ہیں۔ یا شاید آپ محض اعتراض کرنے سے آگے جانا چاہتے ہیں اور دینی پروفیسر پیناک کی نصیحت پر چلتے ہیں، جس نے کہا: ”دوزخ کے گردوپیش کے تمام عقائد، بشمول غیرمختتم عذاب، ... کو درست عقیدے کے نام پر ختم کر دینا چاہیے۔“ جیہاں، اخلاقیات، انصاف، اور—سب سے اہم—خدا کا کلام بائبل، آپکو یہی کرنے کو کہتی ہے۔
اگر آپ ایسا کرتے ہیں، تو آپ دیکھیں گے کہ دوزخ کی صحیح نوعیت واقعی قابلیقین ہے۔ آپ اس موضوع پر یو کین لو فارایور ان پیراڈائز آن ارتھ بک میں مفید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔b مہربانی سے جب آپ یہوواہ کے گواہوں سے ملتے ہیں تو یہ کتاب طلب کریں۔ ”موت پر کیا واقع ہوتا ہے؟“ ”دوزخ کس قسم کی جگہ ہے؟“ اور ”قیامت—کن کیلئے، اور کہاں؟“ والے ابواب کو پڑھیں۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ دوزخ کی صحیح نوعیت نہ صرف قابلیقین ہے بلکہ امیدافزا بھی ہے۔ (۶ ۴/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a بائبل کے اس اقتباس میں ”آگ سے عذاب پہنچائے گئے“ بنیادی طور پر ایک روحانی، تاہم محدود، عذاب کا حوالہ دیتا ہے۔ مزید تفصیلات کیلئے، واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ ریویلیشن—اٹس گرینڈ کلائمکس ایٹ ہینڈ! کو دیکھیں۔
b واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی شائعکردہ۔
[بکس]
اصطلاحوں کی تشریح کرنا
اس مضمون میں ”دوزخ“ اور ”دوزخ کی آگ“ کی اصطلاحوں کو جس طرح مسیحی دنیا کے دینی عالم کرتے ہیں یونانی لفظ گیاینا کا حوالہ دیتی ہیں، جو ”نیو ٹسٹامنٹ“ میں ۱۲ مرتبہ ظاہر ہوتا ہے۔ (متی ۵:۲۲، ۲۹، ۳۰، ۱۰:۲۸، ۱۸:۹، ۲۳:۱۵، ۳۳، مرقس ۹:۴۳، ۴۵، ۴۷، لوقا ۱۲:۵، یعقوب ۳:۶) اگرچہ مختلف بائبل ترجمے اس یونانی لفظ کا ترجمہ ”دوزخ“ کرتے ہیں، دیگر ترجمے اسے دوسرے رسمالخط میں ”گیہینّا“ لکھتے ہیں۔ یہ ”دوسری موت، آگ کی جھیل“ کے برابر ہے، یعنی بائبل کی آخری کتاب میں پائی جانے والی ابدی تباہی کی ایک علامت۔—مکاشفہ ۲۰:۱۴۔
دوسرے دو الفاظ کی بابت جنکا ترجمہ بعض اوقات ”دوزخ“ کیا جاتا ہے، اے ڈکشنری آف دی بائبل (۱۹۱۴)، جسکی ادارت ولیم سمتھ نے کی، بیان کرتی ہے: ”دوزخ ... وہ لفظ ہے جسے ہمارے مترجمین نے عام طور پر اور بدقسمتی سے عبرانی لفظ شیعل کا ترجمہ کرنے کیلئے استعمال کیا ہے۔ یہ بہتر ہوتا کہ عبرانی لفظ شیعل ہی کو رہنے دیا ہوتا، یا بصورتدیگر اسکا ترجمہ ہمیشہ ”قبر“ یا ”پاتال“ کیا جاتا ... نئے عہدنامے میں لفظ ہیڈیز کا مطلب شیعل کی طرح بعضاوقات محض ”قبر“ ہے ... یہ اسی مفہوم میں ہے کہ عقائد کہتے ہیں کہ ہمارا خداوند ”عالم ارواح [ہیڈیز] میں اترا،“ جسکا مطلب عام مردوں کی حالت ہے۔“
گیہینّا کے برعکس، جو آخری تباہی کی علامت ہے، پھر سے زندہ کئے جانے کے امکان کیساتھ، شیعل اور ہیڈیز بنیآدم کی عام قبر میں موت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔—مکاشفہ ۲۰:۱۳۔
[تصویر]
یسوع نے لعزر کو موت کی نیند سے جگایا