دوزخ کی آگ بھڑک رہی ہے یا مدھم ہو رہی ہے؟
پروٹسٹنٹ مناد جوناتن ایڈورڈز دوزخ کی بابت اپنی بنائی ہوئی تصاویر کیساتھ ۱۸ ویں صدی کے نوآبادیاتی امریکیوں کے دلوں میں خوف پیدا کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے ایک ایسا منظر بیان کیا جس میں خدا گنہگاروں کو قابلنفرت مکڑوں کی طرح شعلوں پر لٹکائے ہوئے ہے۔ ایڈورڈز نے اپنی کلیسیا کو ڈانٹتے ہوئے کہا: ”اے گنہگار، تو الہٰی غضب کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے بیچ ایک باریک دھاگے کی طرح لٹک رہا ہے اور وہ ہر لمحے اسے جلا کر خاکستر کرنے اور ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔“
تاہم، ایڈورڈز کے اس رسواکن واعظ کے پیش کرنے کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد، دوزخ کے شعلے گویا ٹمٹمانا اور بجھنا شروع ہو گئے۔a ڈی۔ پی۔ واکر کی کتاب دی ڈکلائن آف ہیل، بیان کرتی ہے کہ ”۱۸ ویں صدی کے چوتھے دہے تک ملعون لوگوں کو ابدی اذیت میں رکھنے کے عقیدے کو کھلےعام چیلنج کیا جا رہا تھا۔“ ۱۹ ویں صدی کے دوران، دوزخ کے شعلے متواتر مدھم پڑتے رہے اور ۲۰ ویں صدی کے وسط تک، دوزخ کی بابت ایڈورڈز کا نظریہ روزمرہ کی گفتگو کا موضوع نہ رہا جس کے مطابق دوزخ ”آگ کی بھٹی ہے جہاں اس میں ڈالے جانے والوں کو ابدی طور پر شدید ذہنی اور جسمانی اذیت دی جاتی ہے“۔ ”جدید فہموفراست کے حملے تلے اور ہیروشیما کے شعلوں اور ہولوکاسٹ کے سامنے مدھم پڑتے ہوئے“ جرنلسٹ جیفری شیلر بیان کرتے ہیں، ”دوزخ کی خوفناک لفظی تصویر بڑی حد تک اپنی دہشت کھو بیٹھی۔“
بہتیرے مناد آگ اور دوزخ کے ایندھن کیلئے اپنی دلچسپی کھو بیٹھے ہیں۔ مسیحیت کے بڑے بڑے روایتی گرجوں کے جذباتی پلپٹوں سے دوزخ کی آگ کے خوف پر جوشیلے واعظ غائب ہو گئے۔ مذہبی عالموں کی اکثریت کے نزدیک متین علموفضل کیلئے دوزخ کا موضوع بہت فرسودہ ہو گیا ہے۔ چند سال قبل ایک مذہبی تاریخ نویس دوزخ کے موضوع پر ایک یونیورسٹی لیکچر کیلئے تحقیق کر رہا تھا اور اس سلسلے میں اس نے عالموں کے مختلف جرنلوں کے ضمیموں کی جانچ پڑتال کی۔ اسے دوزخ کے موضوع پر ایک بھی شہسرخی نہ ملی۔ نیوزویک میگزین کے مطابق، تاریخنویس نے یہ نتیجہ اخذ کیا: ”دوزخ غائب ہو گیا۔ اور کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ہوئی۔“
دوزخ کی واپسی
غائب ہو گیا؟ درحقیقت نہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ حالیہ سالوں میں دوزخ کا عقیدہ پھر سے بعض جگہوں پر زور پکڑ گیا ہے۔ امریکہ میں کی گئی رائے شماری ظاہر کرتی ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ دوزخ پر یقین رکھتے ہیں انکی تعداد ۱۹۸۱ میں ۵۳ فیصد سے بڑھ کر ۱۹۹۰ میں ۶۰ فیصد ہو گئی ہے۔ اس میں مبشروں کی دوزخ کی منادی کرنے والی تحریکوں کے عالمی اضافے کو بھی شامل کر لیں تو یہ بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ مسیحی دنیا کی سوچ میں دوزخ کی تشویشناک واپسی بلاشبہ ایک عالمگیر غیرمعمولی واقعہ ہے۔
لیکن کیا یہ واپسی محض گرجا گھروں کے عام لوگوں پر ہی اثرانداز ہوتی ہے یا کیا یہ پادری طبقہ تک بھی پہنچ چکی ہے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ دوزخ کی آگ جیسے کہ ۲۵۰ سال پہلے جوناتن ایڈورڈز نے اس کی منادی کی وہ مسیحی دنیا کے بعض قدامتپسند پلپٹوں سے کبھی غائب نہیں ہوئی۔ ۱۹۹۱ میں، یو۔ایس۔ نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ نے مشاہدہ کیا: ”بعض غیرقدامتپسند روایتی فرقوں میں بھی، ایسے آثار ہیں کہ مذہبی عالموں نے گزرے ہوئے دہوں کی نسبت اب زیادہ سنجیدگی سے دوزخ کے نظریے پر سوچنا شروع کر دیا ہے۔“ واضح ہے کہ سالوں تک نظرانداز کیے جانے کے بعد، ایک بار پھر سے دوزخ کی آگ پوری دنیا کے مذہبی نقشے پر واپس آ گئی ہے۔ تاہم، کیا اسکے شعلہفشاں پہلو ابھی تک ذہنوں میں ہیں؟
سوالات اٹھائے گئے
عالمدین ڈبلیو۔ ایف۔ والبریخت کو کوئی شبہات نہیں تھے: ”دوزخ دوزخ ہے، اور کسی بھی انسان کی خواہش یا خیال اس ابدی عذاب کو کم نہیں کر سکتا۔“ بہتیرے گرجا جانے والے اس کی بابت اتنے زیادہ پریقین نہیں۔ اگرچہ وہ دوزخ کے وجود پر تو شک نہیں کرتے، لیکن وہ دوزخ کی نوعیت کی بابت سوال کرتے ہیں۔ ایک اور مذہبی عالم تسلیم کرتا ہے: ”میرے لئے بھی دوزخ ایک مسلمہ حقیقت ہے جو کہ بائبل کی شہادتوں میں بڑی وضاحت سے درج ہے لیکن اس کی بالکل صحیح نوعیت ایک مسئلہ ہے۔“ جیہاں، عالمدین اور عام لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جس سوال کا سامنا ہے وہ یہ نہیں کہ ”کیا دوزخ ہے؟“ بلکہ یہ کہ ”دوزخ کیا ہے؟“
آپ کیسے جواب دینگے؟ آپ کو دوزخ کی نوعیت کی بابت کیا بتایا گیا ہے؟ اور کیوں مخلص مسیحی اس عقیدے کی وجہ سے پریشان ہیں؟ (۳ ۴/۱۵ w۹۳)
[فٹنوٹ]
a جولائی ۸، ۱۷۴۱ کو ایڈورڈز نے خطبہ دیا ”گنہگار ایک غصہور خدا کے ہاتھوں میں۔“
[صفحہ 2 پر تصویروں کے حوالہجات]
Cover: Doré’s illustration of Tumult and Escape for Dante’s
Divine Comedy
[صفحہ 3 پر تصویروں کے حوالہجات]
Doré’s illustration of Devils and Virgil for Dante’s
Divine Comedy