یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م93 1/‏4 ص.‏ 7-‏12
  • یہوواہ کی برکت دولت بخشتی ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ کی برکت دولت بخشتی ہے
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • نہایت اہم خوشحالی
  • آجکل روحانی دولت
  • دہ‌یکیاں اور ہدیے
  • ‏”‏اپنی روشوں پر غور کرو“‏
  • یہوواہ کو ٹھگنا
  • ‏”‏سچے خداوند“‏ نے عدالت کی
  • ‏”‏پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لاؤ“‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
  • ملاکی کی کتاب سے اہم نکات
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2007ء
  • یہوواہ کے دن سے کون بچیگا؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
  • یہوواہ بیوفائی سے نفرت کرتا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2002ء
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1993ء
م93 1/‏4 ص.‏ 7-‏12

یہوواہ کی برکت دولت بخشتی ہے

‏”‏خداوند ہی کی برکت دولت بخشتی ہے اور وہ اسکے ساتھ دکھ نہیں ملاتا۔“‏—‏امثال ۱۰:‏۲۲‏۔‏

۱-‏۳.‏ حالانکہ بہتیرے مادی چیزوں کی بابت فکر رکھتے ہیں، سب کو مادی دولت کی بابت کس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے؟‏

بعض لوگ پیسے—‏یا اسکی کمی کی بابت بات کرتے کبھی نہیں تھکتے۔ انکے لئے افسوس کی بات ہے کہ حالیہ سالوں میں انکے پاس بات‌چیت کرنے کیلئے بہت کچھ تھا۔ ۱۹۹۲ میں دولتمند مغربی دنیا نے بھی کسادبازاری کا تجربہ کیا ہے، اور اعلی افسروں کے علاوہ کم درجے کے کارکنوں نے خود کو بیروزگار پایا ہے۔ بہت سے سوچتے ہیں کہ آیا وہ پھر کبھی مستحکم خوشحالی کے وقت کو دیکھیں گے۔‏

۲ کیا اپنی مادی خوشحالی میں دلچسپی لینا غلط ہے؟ نہیں، کسی حد تک تو یہ محض فطری بات ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ، دولت کے متعلق ایک بنیادی سچائی کو ہم ضرور تسلیم کرنا چاہیے۔ انجام‌کار تمام مادی چیزیں خالق کی طرف سے ہی آتی ہیں۔ اس [‏سچے خدا، یہوواہ، NW]‏ .‏.‏.‏ نے آسمان کو پیدا کیا اور تان دیا۔ جس نے زمین کو اور انکو جو اس میں سے نکلتے ہیں پھیلایا۔ جو اسکے باشندوں کو سانس اور اس پر چلنے والوں کو روح عنایت کرتا ہے۔“‏—‏یسعیاہ ۴۲:‏۵‏۔‏

۳ اگرچہ یہوواہ پہلے سے فیصلہ نہیں کرتا کہ کسے دولتمند ہونا ہے اور کسے غریب ہونا ہے، لیکن ہم سب جس طریقے سے ”‏زمین اور [‏اسکی پیداوار، NW]‏“‏ میں سے اپنے حصے کو استعمال کرتے ہیں اس کے لئے جوابدہ ہیں۔ اگر ہم اپنی دولت کو دوسروں پر رعب جمانے کیلئے استعمال کرتے ہیں تو یہوواہ ہم سے حساب لیگا۔ اور جو یہوواہ کی بجائے دولت کی خدمت کرتا ہے وہ جان لیگا کہ ”‏جو مال پر بھروسہ کرتا ہے گر پڑیگا۔“‏ (‏امثال ۱۱:‏۲۸،‏ متی ۶:‏۲۴،‏ ۱-‏تیمتھیس ۶:‏۹‏)‏ یہوواہ کے لئے اطاعت‌شعار دل کے بغیر انجام‌کار مادی ترقی کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی۔—‏واعظ ۲:‏۳-‏۱۱،‏ ۱۸، ۱۹،‏ لوقا ۱۶:‏۹‏۔‏

نہایت اہم خوشحالی

۴.‏ مادی افراط کی بہ‌نسبت روحانی خوشحالی کیوں بہتر ہے؟‏

۴ مادی خوشحالی کے علاوہ، بائبل روحانی خوشحالی کا بھی ذکر کرتی ہے۔ واضح طور پر یہ بہتر قسم ہے۔ (‏متی ۶:‏۱۹-‏۲۱‏)‏ روحانی خوشحالی یہوواہ کیساتھ ایک اطمینان بخش رشتے پر منتج ہوتی ہے جو ابد تک قائم رہ سکتا ہے۔ (‏واعظ ۷:‏۱۲‏)‏ علاوہ‌ازیں، روحانی طور پر دولتمند خدا کے خادم فائدہ‌مند مادی برکات کے سلسلے میں خسارے میں نہیں رہتے۔ نئی دنیا میں، روحانی دولت مادی ترقی کیساتھ وابستہ ہوگی۔ وفادار لوگ مادی تحفظ سے محظوظ ہونگے جو تلخ مقابلہ‌بازی یا صحت اور خوشی کی قربانی سے حاصل نہیں ہوتا، جیسے کہ آجکل اکثروبیشتر ہوتا ہے۔ (‏زبور ۷۲:‏۱۶،‏ امثال ۱۰:‏۲۸،‏ یسعیاہ ۲۵:‏۶-‏۸‏)‏ وہ جان لینگے کہ ہر طریقے سے ”‏خداوند ہی کی برکت دولت بخشتی ہے اور وہ اسکے ساتھ دکھ نہیں ملاتا۔“‏—‏امثال ۱۰:‏۲۲‏۔‏

۵.‏ مادی چیزوں کے سلسلے میں یسوع نے کیا وعدہ فرمایا؟‏

۵ آجکل جو لوگ روحانی چیزوں کو قیمتی خیال کرتے ہیں وہ جہاں تک مادی چیزوں کا تعلق ہے ان سے بھی کسی حد تک کچھ سکون محسوس کرتے ہیں۔ سچ ہے کہ وہ اپنے بل ادا کرنے اور اپنے خاندانوں کو خوراک فراہم کرنے کیلئے کام کرتے ہیں۔ یا بعض تو کسادبازاری کے زمانے میں اپنی ملازمتیں بھی کھو سکتے ہیں۔ لیکن وہ ایسی پریشانیوں سے مغلوب نہیں ہیں۔ اسکی بجائے، وہ یسوع کے وعدے پر یقین رکھتے ہیں جب اس نے کہا:‏ ”‏اسلئے فکرمند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائینگے یا کیا پیئینگے یا کیا پہنینگے؟ .‏.‏.‏ تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ بلکہ تم پہلے اسکی بادشاہی اور اسکی راستبازی کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں بھی تمکو مل جائینگی۔“‏—‏متی ۶:‏۳۱-‏۳۳‏۔‏

آجکل روحانی دولت

۶، ۷.‏ (‏ا)‏خدا کے لوگوں کی روحانی خوشحالی کے بعض پہلوؤں کو بیان کریں؟ (‏ب)‏ آجکل کونسی پیشینگوئی پوری ہو رہی ہے، اور یہ بات کونسے سوالات اٹھاتی ہے؟‏

۶ لہذا، یہوواہ کے لوگوں نے اپنی زندگیوں میں بادشاہت کو مقدم رکھنے کا انتخاب کیا ہے، اور وہ کتنے مبارک ہیں!‏ وہ شاگرد بنانے کے اپنے کام میں بھرپور کامیابی سے محظوظ ہوتے ہیں۔ (‏یسعیاہ ۶۰:‏۲۲‏)‏ وہ ”‏دیانتدار اور عقلمند نوکر“‏ کے ذریعے فراہم کی جانے والی عمدہ روحانی چیزوں کی مسلسل فراہمی سے لطف‌اندوز ہوتے ہوئے، یہوواہ سے تعلیم پاتے ہیں۔ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷،‏ یسعیاہ ۵۴:‏۱۳‏)‏ اسکے علاوہ، یہوواہ کی روح ان پر ہے، جو انہیں ایک مسرت‌بخش عالمگیر برادری میں ڈھال رہی ہے۔—‏زبور ۱۳۳:‏۱،‏ مرقس ۱۰:‏۲۹، ۳۰‏۔‏

۷ یہ واقعی روحانی خوشحالی یعنی، ایک ایسی چیز ہے جسے پیسہ خرید نہیں سکتا۔ یہ یہوواہ کے وعدے کی نمایاں تکمیل ہے:‏ ”‏پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لاؤ تاکہ میرے گھر میں خوراک ہو اور اسی سے میرا امتحان کرو رب‌الافواج فرماتا ہے کہ میں تم پر آسمان کے دریچوں کو کھولکر برکت برساتا ہوں کہ نہیں یہانتک کہ تمہارے پاس اسکے لئے جگہ نہ رہے۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۱۰)‏ آجکل ہم نے اس وعدے کو پورا ہوتے دیکھ لیا ہے۔ تو پھر یہوواہ، جو تمام دولت کا مآخذ ہے، کیوں کہتا ہے کہ اسکے خادم دسواں حصہ، یا دہ‌یکی لائیں؟ دہ‌یکی سے کون استفادہ کرتا ہے؟ ان سوالوں کے جواب دینے کیلئے، غور کریں کہ پانچویں صدی ق۔س۔ع۔ میں یہوواہ نے ملاکی نبی کے ذریعے یہ الفاظ کیوں کہے۔‏

دہ‌یکیاں اور ہدیے

۸.‏ شریعتی عہد کے مطابق، اسرائیل کی مادی خوشحالی کا انحصار کس چیز پر ہوگا؟‏

۸ ملاکی کے زمانہ میں خدا کے لوگ خوشحالی حاصل نہیں کر رہے تھے۔ کیوں نہیں؟ کسی حد تک اسکا تعلق ہدیوں اور دہ‌یکیوں سے تھا۔ اس وقت، اسرائیل موسوی شریعت کے عہد کے تحت تھا۔ جب یہوواہ نے وہ عہد باندھا تو اس نے وعدہ کیا کہ اگر اسرائیلی اپنا کردار ادا کریں گے تو وہ انہیں روحانی اور مادی طور پر برکت دیگا۔ عملاً، اسرائیل کی خوشحالی کا انحصار انکی وفاداری پر تھا۔—‏استثنا ۲۸:‏۱-‏۱۹۔‏

۹.‏ قدیم اسرائیل کے دنوں میں، یہوواہ نے اسرائیل سے دہ‌یکیاں ادا کرنے اور ہدئے لانے کا تقاضا کیوں کیا؟‏

۹ شریعت کے تحت اسرائیل کی ذمہ‌داری کا ایک حصہ ہیکل میں ہدیے لانا اور دہ‌یکیاں ادا کرنا تھا۔ بعض ہدیوں کو یہوواہ کی قربانگاہ پر پورے طور پر جلا دیا جاتا تھا، جبکہ دیگر کو، خاص حصے یہوواہ کو پیش کرتے ہوئے، کاہنوں اور ہدیے پیش کرنے والوں کے درمیان بانٹ دیا جاتا تھا۔ (‏احبار ۱:‏۳-‏۹، ۷:‏۱-‏۱۵)‏ دہ‌یکی کے سلسلے میں، موسی نے اسرائیلیوں کو بتایا:‏ ”‏زمین کی پیداوار کی ساری دہ‌یکی خواہ وہ زمین کے بیج کی یا درخت کے پھل کی ہو خداوند کی ہے اور خداوند کے لئے پاک ہے۔“‏ (‏احبار ۲۷:‏۳۰)‏ دہ‌یکی خیمہ‌اجتماع اور بعد میں ہیکل میں کام کرنے والے لاویوں کو دی جاتی تھی۔ اور پھر غیرکہانتی لاوی جو کچھ حاصل کرتے اس میں سے دسواں حصہ ہارونی کاہنوں کو دیتے۔ (‏گنتی ۱۸:‏۲۱-‏۲۹)‏ یہوواہ نے اسرائیل سے دہ‌یکیاں ادا کرنے کا تقاضا کیوں کیا؟ اولاً، تاکہ وہ ایک واضح طریقے سے یہوواہ کی نیکی کیلئے اپنی قدردانی دکھا سکیں۔ اور دوئم، تاکہ وہ لاویوں کی کفالت کرنے کیلئے اعانت کر سکیں، جو پھر اپنی ذمہ‌داریوں، بشمول شریعت کی تعلیم دینے پر توجہ دے سکیں۔ (‏۲-‏تواریخ ۱۷:‏۷-‏۹‏)‏ اس طریقے سے پاک پرستش کی بھی حمایت ہوئی اور ہر ایک نے فائدہ اٹھایا۔‏

۱۰.‏ جب اسرائیل دہ‌یکیاں اور نذرانے لانے میں ناکام ہو گیا تو کیا واقع ہوا؟‏

۱۰ اگرچہ دہ‌یکیاں اور ہدیے بعد میں لاوی استعمال کرتے تھے، لیکن حقیقت میں وہ یہوواہ کیلئے نذرانے تھے اور اس لئے انہیں اچھی قسم کے، اسکے شایان‌شان ہونا تھا۔ (‏احبار ۲۲:‏۲۱-‏۲۵)‏ جب اسرائیلی اپنی دہ‌یکیاں لانے میں ناکام ہو گئے یا جب وہ گھٹیا ہدیے لائے تو کیا ہوا؟ اسکے لئے شریعت میں کوئی سزا تو تجویز نہیں کی گئی تھی، لیکن اسکے نتائج برآمد ہوئے تھے۔ یہوواہ نے اپنی برکت روک لی، اور مادی کفالت سے محروم لاویوں نے، اپنی کفالت کرنے کی غرض سے ہیکل کی اپنی ذمہ‌داریوں کو چھوڑ دیا۔ یوں، تمام اسرائیل نے نقصان اٹھایا۔‏

‏”‏اپنی روشوں پر غور کرو“‏

۱۱، ۱۲.‏ (‏ا)‏جب اسرائیل نے شریعت کی پابندی کرنے میں غفلت کی تو کیا نتیجہ نکلا؟ (‏ب)‏ یہوواہ نے اسرائیل کو کیا تفویض دی جب وہ انہیں بابل سے واپس لایا؟‏

۱۱ اسرائیل کی تاریخ کے دوران، بعض شریعت پر قائم رہنے کی کوشش کرنے، بشمول دہ‌یکیاں ادا کرنے میں قابل‌نمونہ تھے۔ (‏۲-‏تواریخ ۳۱:‏۲-‏۱۶‏)‏ اگرچہ، بالعموم قوم غفلت‌شعار تھی۔ انہوں نے بار بار یہوواہ کیساتھ عہد کو توڑا، جبتک بالآخر اس نے ۶۰۷ ق۔س۔ع۔ میں انہیں مغلوب، بابل میں جلاوطن ہونے دیا۔—‏۲-‏تواریخ ۳۶:‏۱۵-‏۲۱‏۔‏

۱۲ وہ سخت تادیب تھی، مگر ۷۰ سال کے بعد یہوواہ اپنے لوگوں کو انکے وطن میں واپس لایا۔ یسعیاہ میں فردوس کی بابت بہت سی پیشینگوئیوں کی ابتدائی تکمیل اس واپسی کے بعد ہی ہونی تھی۔ (‏یسعیاہ ۳۵:‏۱، ۲،‏ ۵۲:‏۱-‏۹،‏ ۶۵:‏۱۷-‏۱۹‏)‏ تاہم، یہوواہ کے اپنے لوگوں کو واپس لانے کی بڑی وجہ زمینی فردوس کی تعمیر نہ تھی، بلکہ ہیکل کی دوبارہ تعمیر اور سچی پرستش کی بحالی تھی۔ (‏عزرا ۱:‏۲، ۳‏)‏ اگر اسرائیل یہوواہ کی فرمانبرداری کرینگے تو مادی فائدے حاصل ہونگے، اور یہوواہ کی برکت انہیں روحانی اور مادی طور پر دولتمند بنائیگی۔ بدیں‌وجہ، جونہی یہودی ۵۳۷ ق۔س۔ع۔ میں اپنے وطن پہنچے تو انہوں نے یروشلیم میں ایک قربانگاہ بنائی اور ہیکل کی تعمیر کیلئے کام کرنا شروع کیا۔ تاہم، انہیں سخت مخالفت کا سامنا ہوا اور کام بند کر دیا۔ (‏عزرا ۴:‏۱-‏۴،‏ ۲۳‏)‏ نتیجتاً، اسرائیل نے یہوواہ کی برکت سے استفادہ نہ کیا۔‏

۱۳، ۱۴.‏ (‏ا)‏جب اسرائیل ہیکل کو دوبارہ تعمیر کرنے میں ناکام ہوگیا تو اسکے بعد کیا ہوا؟ (‏ب)‏ آخرکار ہیکل کیسے دوبارہ تعمیر ہوئی تھی لیکن اسرائیل کی طرف سے کن مزید کوتاہیوں کی رپورٹ دی گئی ہے؟‏

۱۳ ۵۲۰ ق۔س۔ع۔ کے سال میں یہوواہ نے ہیکل کی تعمیر کے کام پر واپس آنے کو اسرائیل کے ذہن‌نشین کرانے کیلئے حجی اور زکریاہ نبی کو برپا کیا۔ حجی نے ظاہر کیا کہ امت مادی مشکلات کا سامنا کر رہی تھی اور اس بات کو یہوواہ کے گھر کیلئے انکے جوش کی کمی کیساتھ منسلک کیا۔ اس نے کہا:‏ ”‏اور اب رب‌الافواج یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی روش پر غور کرو۔ تم نے بہت سا بویا پر تھوڑا کاٹا۔ تم کھاتے ہو پر آسودہ نہیں ہوتے۔ تم پیتے ہو پر پیاس نہیں بجھتی۔ تم کپڑے پہنتے ہو پر گرم نہیں ہوتے اور مزدور اپنی مزدوری سوراخدار تھیلی میں جمع کرتا ہے۔ رب‌الافواج فرماتا ہے کہ اپنی روش پر غور کرو۔ پہاڑوں سے لکڑی لا کر یہ گھر تعمیر کرو اور میں اس سے خوش ہونگا اور میری تمجید ہوگی۔“‏—‏حجی ۱:‏۵-‏۸۔‏

۱۴ حجی اور زکریاہ کے ذریعے حوصلہ پانے سے، اسرائیلیوں نے اپنی روش پر غور کیا اور ہیکل تعمیر کر دی گئی۔ تاہم، کوئی ۶۰ سال بعد، نحمیاہ یروشلیم کو گیا اور دیکھا کہ اسرائیل پھر سے یہوواہ کی شریعت سے غافل ہو چکا تھا۔ اس نے اس معاملے کو درست کیا۔ لیکن دوسرے دورے پر اس نے دیکھا کہ حالات پھر خراب ہو چکے تھے۔ وہ بیان کرتا ہے:‏ ”‏پھر مجھے معلوم ہوا کہ لاویوں کے حصے ان کو نہیں دئے گئے اسلئے خدمتگزار لاوی اور گانے والے اپنے اپنے کھیت کو بھاگ گئے ہیں۔“‏ (‏نحمیاہ ۱۳:‏۱۰‏)‏ اس مسئلے کو درست کیا گیا اور ”‏سب اہل‌یہوداہ نے اناج اور مے اور تیل کا دسواں حصہ خزانوں میں داخل کیا۔“‏—‏نحمیاہ ۱۳:‏۱۲‏۔‏

یہوواہ کو ٹھگنا

۱۵، ۱۶.‏ کن ناکامیوں کی وجہ سے یہوواہ نے اسرائیل کو ملاکی نبی کے ذریعے ملامت کی؟‏

۱۵ غالباً، ملاکی کی معرفت نبوت اسی عمومی وقت کے دوران تھی، اور نبی ہمیں مزید اسرائیل کی بے‌وفائی کی بابت بتاتا ہے وہ اسرائیل کیلئے خدا کے کلام کو قلمبند کرتا ہے:‏ ”‏رب‌الافواج تمکو فرماتا ہے اے میرے نام کی تحقیر کرنے والے کاہنو!‏ .‏.‏.‏ اگر میں باپ ہوں تو میری عزت کہاں ہے؟ اور اگر آقا ہوں تو میرا خوف کہاں ہے؟“‏ کیا خرابی تھی؟ یہوواہ وضاحت کرتا ہے:‏ ”‏جب تم اندھے کی قربانی کرتے ہو تو [‏تم کہتے ہو]‏ کچھ برائی نہیں!‏ اور جب لنگڑے اور بیمار کو گذرانتے ہو تو [‏تم کہتے ہو]‏ کچھ نقصان نہیں!‏“‏—‏ملاکی ۱:‏۶-‏۸۔‏

۱۶ اس وضاحتی طریقے سے ملاکی آشکارا کرتا ہے کہ اگرچہ اسرائیلی ہدیے لا رہے تھے تو بھی انکی ناقص قسم نے سخت بے‌حرمتی کو ظاہر کیا۔ ملاکی نے مزید لکھا:‏ ”‏تم اپنے باپ دادا کے ایام سے میرے آئین سے منحرف رہے اور انکو نہیں مانا۔ تم میری طرف رجوع ہو تو میں تمہاری طرف رجوع ہونگا رب‌الافواج فرماتا ہے۔“‏ اسرائیلی سوچتے تھے کہ انہیں خاص طور پر کیا کرنا تھا، اسلئے انہوں نے پوچھا:‏ ”‏ہم کس بات میں رجوع ہوں؟“‏ یہوواہ نے جواب دیا:‏ ”‏کیا کوئی آدمی خدا کو ٹھگے گا؟ پر تم مجھ کو ٹھگتے ہو۔“‏ اسرائیل ساری دولت کے مآخذ، یہوواہ کو کیسے ٹھگ سکتا تھا؟ یہوواہ نے جواب دیا:‏ ”‏دہ‌یکی اور ہدیہ میں۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۷، ۸)‏ جی‌ہاں، اپنے ہدیے اور دہ‌یکیاں لانے میں ناکامی سے اسرائیل یہوواہ کو ٹھگ رہا تھا!‏

۱۷.‏ دہ‌یکیوں اور ہدیوں نے اسرائیل میں کیا مقصد پورا کیا اور دہ‌یکیوں کے سلسلے میں یہوواہ کیا وعدہ کرتا ہے؟‏

۱۷ یہ تاریخی پس‌منظر اسرائیل میں ہدیوں اور دہ‌یکیوں کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ دینے والے کی طرف سے قدردانی کا اظہار تھے۔ اور انہوں نے سچی پرستش کی حمایت کرنے میں مادی طریقے سے مدد کی۔ پس یہوواہ نے اسرائیل کی حوصلہ‌افزائی کی تھی:‏ ”‏پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لاؤ۔“‏ یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ اگر وہ واقعی ایسا کرتے ہیں تو کیا ہوگا، یہوواہ نے وعدہ کیا:‏ ”‏میں تم پر .‏.‏.‏ برکت برساتا ہوں .‏.‏.‏ یہاں تک کہ تمہارے پاس اسکے لئے جگہ نہ رہے۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۱۰)‏ یہوواہ کی برکت انہیں دولت بخشے گی۔‏

‏”‏سچے خداوند“‏ نے عدالت کی

۱۸.‏ (‏ا)‏یہوواہ کس کی آمد کی آگاہی دیتا ہے؟ (‏ب)‏ ہیکل میں آمد کب ہوئی تھی، کون اسمیں شامل تھا، اور اسرائیل کیلئے کیا نتیجہ نکلا تھا؟‏

۱۸ یہوواہ نے ملاکی کے ذریعے یہ آگاہی بھی دی کہ وہ اپنے لوگوں کی عدالت کرنے کیلئے آئیگا۔ ”‏دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجونگا اور وہ میرے آگے راہ درست کریگا اور [‏سچا، NW]‏ خداوند جسکے تم طالب ہو ناگہان اپنی ہیکل میں آ موجود ہوگا۔ ہاں عہد کا رسول جسکے تم آرزومند ہو آئیگا۔ [‏دیکھو!‏ وہ ضرور آئیگا، NW]‏۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۱)‏ ہیکل میں موعودہ آمد کب واقع ہوئی؟ متی ۱۱:‏۱۰ میں یسوع نے ملاکی کی پیغمبر والی پیشینگوئی کا حوالہ دیا جو راہ تیار کریگا اور اسکا اطلاق یوحنا اصطباغی پر کیا۔ (‏ملاکی ۴:‏۵،‏ متی ۱۱:‏۱۴‏)‏ پس ۲۹ س۔ع۔ میں، عدالت کا وقت آ چکا تھا!‏ دوسرا رسول، یعنی عہد کا رسول کون تھا، جو ”‏[‏سچے خداوند، NW]‏“‏، یہوواہ کے ہمراہ ہیکل میں آیا؟ خود یسوع، اور دو مواقع پر وہ یروشلیم میں ہیکل کے اندر آیا اور ڈرامائی طریقے سے بددیانت صرافوں کو باہر نکال کر، اسے صاف کیا۔ (‏مرقس ۱۱:‏۱۵-‏۱۷،‏ یوحنا ۲:‏۱۴-‏۱۷‏)‏ پہلی صدی کے عدالت کے اس وقت کی بابت، یہوواہ نبوتی طور پر پوچھتا ہے:‏ ”‏اسکے آنے کے دن کی کس میں تاب ہے؟ اور جب اسکا ظہور ہوگا تو کون کھڑا رہ سکے گا؟“‏ (‏ملاکی ۳:‏۲)‏ حقیقت میں اسرائیل کھڑا نہ رہا۔ انہیں جانچا گیا، تو میزان‌عمل میں ہلکے پائے گئے تھے، اور ۳۳ س۔ع۔ میں انہیں یہوواہ کی برگزیدہ قوم کے طور پر ترک کر دیا گیا تھا۔—‏متی ۲۳:‏۳۷-‏۳۹‏۔‏

۱۹.‏ پہلی صدی میں کس طریقے سے ایک بقیہ یہوواہ کے پاس لوٹا اور انہیں کیا برکت ملی؟‏

۱۹ تاہم، ملاکی نے یہ بھی لکھا:‏ ”‏[‏یہوواہ، NW]‏ چاندی کو تانے اور پاک‌صاف کرنے والے کی مانند بیٹھیگا اور بنی لاوی کو سونے اور چاندی کی مانند پاک‌صاف کریگا تاکہ وہ راستبازی سے خداوند کے حضور ہدیے گذرانیں۔ (‏ملاکی ۳:‏۳)‏ اسکی مطابقت میں، جبکہ پہلی صدی میں یہوواہ کی خدمت کرنے کا دعوی کرنے والے بہت سے لوگوں کو ترک کر دیا گیا تو بعض پاک‌صاف ہو گئے اور قابل‌قبول قربانیاں پیش کرتے ہوئے، یہوواہ کے پاس آ گئے تھے۔ کون؟ وہ جو عہد کے رسول، یسوع، سے اثرپذیر ہوئے تھے۔ ۳۳ س۔ع۔ میں پنتِکُست کے موقع پر، ان اثرپذیر ہونے والوں میں سے ۱۲۰ یروشلیم میں بالاخانے کے اندر اکٹھے جمع ہوئے تھے۔ روح القدس سے قوت پا کر، انہوں نے راستبازی سے یہوواہ کے حضور ہدیے لانے شروع کئے اور جلد ہی انکی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ اسکے تھوڑا بعد وہ تمام رومی سلطنت میں پھیل گئے۔ (‏اعمال ۲:‏۴۱،‏ ۴:‏۴،‏ ۵:‏۱۴‏)‏ یوں، ایک بقیہ یہوواہ کے پاس لوٹ آیا۔—‏ملاکی ۳:‏۷۔‏

۲۰.‏ جب یروشلیم اور ہیکل برباد ہوئے تو خدا کے نئے اسرائیل کے ساتھ کیا واقع ہوا؟‏

۲۰ اسرائیل کا یہ بقیہ، گویا اسرائیل کی جڑ کے اندر جس میں پیوندشدہ غیرقوم شامل ہو گئے، نیا ”‏خدا کا اسرائیل“‏ تھا، یعنی روح سے مسح‌شدہ مسیحیوں پر مشتمل قوم۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱۶،‏ رومیوں ۱۱:‏۱۷‏)‏ ۷۰ س۔ع۔ میں، جسمانی اسرائیل پر ایک ”‏دن .‏.‏.‏ بھٹی کی مانند سوزان“‏ آیا جب یروشلیم اور اسکی ہیکل رومی فوجوں کے ہاتھوں برباد ہوئے تھے۔ (‏ملاکی ۴:‏۱،‏ لوقا ۱۹:‏۴۱-‏۴۴‏)‏ خدا کے روحانی اسرائیل کے ساتھ کیا واقع ہوا؟ یہوواہ ”‏ان پر ایسا رحیم [‏ہوا، NW]‏ جیسا باپ اپنے خدمتگزار بیٹے پر ہوتا ہے۔“‏ (‏ملاکی ۳:‏۱۷)‏ مسح‌شدہ مسیحی کلیسیا نے یسوع کی نبوتی آگاہی کو سنا۔ (‏متی ۲۴:‏۱۵، ۱۶‏)‏ وہ بچ گئے اور یہوواہ کی برکت انہیں روحانی طور پر دولتمند کرتی رہی۔‏

۲۱.‏ ملاکی ۳:‏۱ اور ۱۰ کی بابت کونسے سوالات باقی ہیں؟‏

۲۱ یہوواہ کی کیا ہی برأت!‏ تاہم، ملاکی ۳:‏۱ کی تکمیل آجکل کیسے ہو رہی ہے؟ اور ملاکی ۳:‏۱۰ میں پوری دہ‌یکی ذخیرہ‌خانہ میں لانے کی بابت حوصلہ‌افزائی کا ایک مسیحی کو کیسے جواب دینا چاہیے؟ اس پر اگلے مضمون میں بحث کی جائے گی۔ (‏۷ ۱۲/۱ W۹۲)‏

کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں؟‏

▫ انجام‌کار تمام دولت کا مآخذ کون ہے؟‏

▫ روحانی خوشحالی مادی دولت سے کیوں بہتر ہے؟‏

▫ دہ‌یکیوں اور ہدیوں نے اسرائیل میں کس مقصد کو پورا کیا؟‏

▫ ”‏سچا خداوند“‏ یہوواہ اسرائیل کی عدالت کرنے کیلئے ہیکل میں کب آیا اور کس نتیجے کیساتھ؟‏

▫ پہلی صدی س۔ع۔ میں ہیکل میں یہوواہ کے آنے کے بعد کون اسکے پاس واپس آیا؟‏

‏[‏تصویر]‏

عہد کا رسول، یسوع، یہوواہ کی نمائندنگی کرتے ہوئے، پہلی صدی س۔ع۔ میں عدالت کیلئے ہیکل میں آیا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں