یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م92 1/‏12 ص.‏ 9-‏14
  • کیا شادی ہی خوشی کی واحد کنجی ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • کیا شادی ہی خوشی کی واحد کنجی ہے؟‏
  • مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • خوش ہونے کی وجوہات
  • ‏”‏صرف خداوند میں“‏
  • ‏”‏خداوند میں“‏ شادی کرنے سے قاصر
  • حقیقی خوشی کی کنجی
  • ‏”‏بیٹوں اور بیٹیوں کی نسبت کوئی بہتر چیز“‏
  • شادی ہی خوشی کی واحد کنجی نہیں
  • یہوواہ کی خدمت کرنے میں حقیقی خوشی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
  • ازدواجی زندگی کی پائیدار بنیاد ڈالیں
    خدا کی محبت میں قائم رہیں
  • کنوارے اور شادی‌شُدہ مسیحیوں کے لئے رہنمائی
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—2011ء
  • بائبل میں غیرشادی‌شُدہ رہنے اور شادی کرنے کے بارے میں کیا بتایا گیا ہے؟‏
    اب اور ہمیشہ تک خوشیوں بھری زندگی!‏—‏ایک فائدہ‌مند بائبل کورس
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—1992ء
م92 1/‏12 ص.‏ 9-‏14

کیا شادی ہی خوشی کی واحد کنجی ہے؟‏

‏”‏وہ .‏ .‏ .‏ جس سے چاہے بیاہ کر سکتی ہے مگر صرف خداوند میں۔ لیکن جیسی ہے اگر ویسی ہی رہے تو.‏ .‏ .‏زیادہ خوش‌نصیب ہے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۹، ۴۰‏۔‏

۱.‏ صحائف یہوواہ کا ذکر کس طرح کرتے ہیں، اور اس نے اپنی مخلوقات کے لئے کیا کیا ہے؟‏

یہوواہ ”‏خدائے مبارک“‏ ہے۔ (‏۱-‏تیمتھیس ۱:‏۱۱‏)‏ ”‏ہر اچھی بخشش اور ہر کامل انعام“‏ فیاضی سے دینے والے کے طور پر، وہ اپنی تمام ذی‌شعور—‏انسانی اور روحانی—‏مخلوق کے لئے عین وہ چیز مہیا کرتا ہے جو انہیں اس کی خدمت میں خوش رہنے کے لئے درکار ہے۔ (‏یعقوب ۱:‏۱۷‏)‏ اسی لئے ایک چہچہاتا پرندہ، ایک دھماچوکڑی کرتا پلا، یا ایک زندہ‌دل ڈالفن سب کی سب اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ یہوواہ نے جانوروں کو اس طرح سے خلق کیا کہ وہ اپنی اپنی سکونت گاہوں پر زندگی سے لطف‌اندوز ہوں۔ زبورنویس تو شاعرانہ انداز میں یہ کہنے کے لئے اس حد تک چلا جاتا ہے کہ ”‏خداوند کے درخت شاداب رہتے ہیں یعنی لبنان کے دیودار جو اس نے لگائے۔“‏—‏زبور ۱۰۴:‏۱۶‏۔‏

۲.‏ (‏ا)‏ کیا چیز یہ ظاہر کرتی ہے کہ یسوع کو اپنے باپ کی مرضی کو پورا کرنے میں خوشی ملتی ہے؟ (‏ب)‏ یسوع کے شاگردوں کے پاس خوش ہونے کی کیا وجوہات تھیں؟‏

۲ یسوع مسیح ”‏خدا کی ذات کا نقش“‏ ہے۔ (‏عبرانیوں ۱:‏۳‏)‏ اسلئے اگر یسوع کو بھی ”‏مبارک اور واحد حاکم“‏ کہا جاۓ تو یہ کوئی حیران‌کن بات نہیں۔ (‏۱-‏تیمتھیسں ۶:‏۱۵)‏ وہ ہمیں ایک شاندار نمونہ فراہم کرتا ہے کہ کیسے یہوواہ کی مرضی کو پورا کرنا محض خوشی بخشنے والی خوراک سے کہیں زیادہ تسکین‌بخش ہے۔ یسوع ہم پر یہ بھی آشکارا کرتا ہے کہ جب ہم گہرے احترام اور یہوواہ کو ناراض نہ کرنے کے خوشگوار ڈر کیساتھ خدا کے خوف میں چلتے ہیں تو ہمیں کتنی خوشی حاصل ہو سکتی ہے۔ (‏زبور ۴۰:‏۸،‏ یسعیاہ ۱۱:‏۳،‏ یوحنا ۴:‏۳۴‏)‏ جب ۷۰ شاگرد بادشاہتی منادی کے ایک دورے کے بعد ”‏خوش ہو کر“‏ واپس لوٹے تو یسوع خود ”‏روح‌القدس سے خوشی میں بھر گیا۔“‏ دعا میں اپنے باپ کے سامنے اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے بعد، وہ اپنے شاگردوں کی طرف متوجہ ہوا اور کہا:‏ ”‏مبارک ہیں وہ آنکھیں جو یہ باتیں دیکھتی ہیں جنہیں تم دیکھتے ہو۔ کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ بہت سے نبیوں اور بادشاہوں نے چاہا کہ جو باتیں تم دیکھتے ہو دیکھیں اور جو باتیں تم سنتے ہو سنیں مگر نہ سنیں۔“‏—‏لوقا ۱۰:‏۱۷-‏۲۴‏۔‏

خوش ہونے کی وجوہات

۳.‏ خوشی کی بعض وجوہات کیا ہیں؟‏

۳ اس اخیر زمانے میں یہوواہ کے کلام اور اس کے مقاصد کی تکمیل میں چیزوں کو واقع ہوتا دیکھ کر کیا ہماری آنکھوں کو خوش نہیں ہونا چاہیے؟ کیا ہمیں ایسی پیشینگوئیوں کی سمجھ حاصل کرکے جنہیں یسعیاہ، دانی‌ایل، اور داؤد جیسے ایماندار نبی اور بادشاہ پوری طرح نہ سمجھ سکے تھے خوشی سے معمور نہیں ہونا چاہیے؟ کیا ہم مبارک حاکم، اپنے بادشاہ یسوع مسیح کی پیشوائی کے تحت، خدائے مبارک، یہوواہ کی خدمت کرنے سے خوش نہیں ہیں؟ بیشک ہم ہیں!‏

۴، ۵.‏ (‏ا)‏ یہوواہ کی خدمت میں خوش رہنے کیلئے، ہمیں کس چیز سے گریز کرنا چاہیے؟ (‏ب)‏ بعض کونسی چیزیں ہیں جو خوشی کا باعث ہوتی ہیں، اور اس سے کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟‏

۴ تاہم، اگر ہم خدا کی خدمت میں خوش رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں یقیناً خوشی کیلئے اپنی اولیتوں کی بنیاد دنیاوی خیالات پر نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ بڑی آسانی سے ہماری سوچ کو الجھا سکتے ہیں کیونکہ ان میں مادی دولت، نمائشی طرززندگی، اور اسی طرح کی دیگر چیزیں شامل ہیں۔ ایسی چیزوں پر قائم کسی بھی طرح کی ”‏خوشی“‏ چند روزہ ہوگی، کیونکہ یہ دنیا مٹتی جاتی ہے۔—‏۱-‏یوحنا ۲:‏۱۵-‏۱۷‏۔‏

۵ یہوواہ کے زیادہ‌تر مخصوص‌شدہ خادم یہ سمجھتے ہیں کہ دنیاوی منازل کا حصول حقیقی خوشی کا باعث نہیں ہوگا۔ صرف ہمارا آسمانی باپ ہی وہ مادی اور روحانی چیزیں فراہم کر سکتا ہے جو اس کے خادموں کیلئے سچی خوشی کا باعث ہو سکتی ہیں۔ ہم اس روحانی خوراک کیلئے کسقدر شکرگزار ہیں جو وہ ”‏عقلمند اور دیانتدار خادم“‏ کے ذریعے ہمیں دیتا ہے!‏ (‏متی ۲۴:‏۴۵-‏۴۷‏)‏ خدا کے پرمحبت ہاتھ سے حاصل ہونے والی جسمانی خوراک اور دوسری مادی چیزوں کیلئے بھی ہم بیحد شکرگزار ہیں۔ اس کے علاوہ، شادی اور اس کے ساتھ وابستہ خاندانی زندگی کی شاندار بخشش بھی ہے۔ یہ کوئی حیران‌کن بات نہیں کہ نعومی نے اپنی بیوہ بہوؤں کے لئے اپنی دلی خواہش کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا:‏ [‏”‏دعا ہے کہ یہوواہ تم کو بخشش عطا کرے، اور، NW]‏ تم کو اپنے اپنے شوہر کے گھر میں آرام ملے۔“‏ (‏روت ۱:‏۹‏)‏ پس شادی ایک ایسی کنجی ہے جو بیش‌بہا خوشی کے دروازے کھول سکتی ہے۔ لیکن کیا ایک خوشحال زندگی کی راہ کھولنے کیلئے شادی ہی واحد کنجی ہے؟ بالخصوص نوجوانوں کو اس کی بابت سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ ایسے ہی ہے۔‏

۶.‏ پیدایش کے مطابق، شادی کے بندوبست کا اولین مقصد کیا تھا؟‏

۶ شادی کے آغاز کو بیان کرتے ہوئے، بائبل کہتی ہے:‏ ”‏اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اس کو پیدا کیا۔ نروناری ان کو پیدا کیا۔ اور خدا نے ان کو برکت دی اور کہا کہ پھلو اور بڑھو اور زمین کو معمورومحکوم کرو اور سمندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرندوں اور کل جانوروں پر جو زمین پر چلتے ہیں اختیار رکھو۔“‏ (‏پیدایش ۱:‏۲۷، ۲۸‏)‏ یہوواہ کی طرف سے شادی کے قائم کئے جانے سے، آدم کو مزید انسانی مخلوق کو وجود میں لانے کیلئے استعمال کیا گیا تھا تاکہ نسل‌انسانی کو بڑھایا جا سکے۔ لیکن شادی میں اس سے کہیں زیادہ کچھ شامل ہے۔‏

‏”‏صرف خداوند میں“‏

۷.‏ شادی کے کس تقاضے کو پورا کرنے کیلئے ایک وفادار آبائی بزرگ نے بڑی جدوجہد کی تھی؟‏

۷ چونکہ یہوواہ خدا شادی کا شروع کرنے والا ہے اسلئے ہم اسی سے توقع کرینگے کہ وہ شادی کے بندھن کے لئے ایسے معیار قائم کرے جو کہ اس کے خادموں کی خوشی کا باعث ہونگے۔ آبائی بزرگوں کے ایام میں، ان لوگوں کے ساتھ شادی کرنے کی سخت حوصلہ‌شکنی کی گئی تھی جو یہوواہ کے پرستار نہیں تھے۔ ابرہام نے اپنے نوکر الیعزر کو یہوواہ کی قسم دی تھی کہ وہ آبائی بزرگ کے بیٹے اضحاق کے لئے کنعانیوں میں سے بیوی نہیں لائیگا۔ الیعزر نے ایک طویل سفر کیا اور ابرہام کی نصیحتوں پر بڑی احتیاط سے عمل کیا تاکہ ”‏اس عورت کو جسے خداوند نے اس کے آقا کے بیٹے کیلئے ٹھہرایا تھا“‏ تلاش کر سکے۔ (‏پیدایش ۲۴:‏۳،‏ ۴۴‏)‏ یوں اضحاق نے ربقہ سے بیاہ کیا۔ جب ان کے بیٹے عیسو نے بت‌پرست حتیوں میں سے بیویوں کا انتخاب کیا تو یہ عورتیں ”‏اضحاق اور ربقہ کیلئے وبال‌جان ہوئیں۔“‏—‏پیدایش ۲۶:‏۳۴، ۳۵،‏ ۲۷:‏۴۶،‏ ۲۸:‏۱،‏ ۸‏۔‏

۸.‏ شریعت کے عہد نے شادی پر کیا پابندی عائد کی تھی، اور کیوں؟‏

۸ شریعت کے تحت، خاص طور پر بیان‌کردہ کنعانی قوم کے آدمیوں اور عورتوں سے شادی کرنا منع تھا۔ یہوواہ نے اپنے لوگوں کو ہدایت کی:‏ ”‏تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔ نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کیلئے ان کی بیٹیاں لینا۔ کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دینگے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ یوں خداوند کا غضب تم پر بھڑکیگا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کر دیگا۔“‏—‏استثنا ۷:‏۳، ۴۔‏

۹.‏ بائبل مسیحیوں کو شادی کی بابت کیا صلاح دیتی ہے؟‏

۹ یہ کوئی حیران‌کن بات نہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ شادی کی بابت جو یہوواہ کی پرستش نہیں کرتے اسی طرح کی پابندیوں کا اطلاق مسیحی کلیسیا کے اندر بھی ہونا چاہیے۔ رسول پولس نے اپنے ساتھی ایماندارں کو فہمائش کی:‏ ”‏بے‌ایمانوں کے ساتھ ناہموار جوئے میں نہ جتو کیونکہ راستبازی اور بے‌دینی میں کیا میل‌جول؟ یا روشنی اور تاریکی میں کیا شراکت؟ مسیح کو بلیعال کے ساتھ کیا موافقت؟ یا ایماندار کا بے‌ایمان سے کیا واسطہ؟“‏ (‏۲-‏کرنتھیوں ۶:‏۱۴، ۱۵‏)‏ یہ مشورت مختلف طریقوں سے لاگو ہوتی ہے اور یقیناً شادی پر بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ یہوواہ کے تمام مخصوص‌شدہ خادموں کے لئے پولس کی واضح ہدایت یہی ہے کہ انہیں صرف اسی سے شادی کرنے کی بابت سوچنا چاہیے جو ”‏خداوند میں ہے۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۹‏۔‏

‏”‏خداوند میں“‏ شادی کرنے سے قاصر

۱۰.‏ بہتیرے غیرشادی‌شدہ مسیحی کیا کر رہے ہیں، اور کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟‏

۱۰ بہتیرے کنوارے مسیحیوں نے کنوارے رہنے کی بخشش کو ترقی دیتے ہوئے یسوع مسیح کے نمونے کی پیروی کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ اور پھر، تاحال کوئی خداپرست ساتھی نہ ملنے کی وجہ سے اور یوں ”‏خداوند میں“‏ شادی کرنے سے قاصر رہتے ہوئے بہتیرے وفادار مسیحیوں نے اپنا بھروسہ یہوواہ پر ڈال دیا ہے اور ایک بے‌ایمان سے شادی کرنے کی بجائے کنوارے رہے ہیں۔ خدا کی روح ان کے اندر خوشی، اطمینان، [‏ایمان، اور ضبط نفس، NW]‏ جیسے پھل پیدا کرتی ہے جو کہ انہیں پاکیزہ کنوارپن کو برقرار رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ (‏گلتیوں ۵:‏۲۲، ۲۳‏)‏ خدا کے لئے عقیدت کی اس آزمائش کا کامیابی سے مقابلہ کرنے والوں میں ہماری مسیحی بہنوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے، جن کی ہم بہت زیادہ عزت کرتے ہیں۔ مختلف ممالک میں ان کی تعداد بھائیوں سے کہیں زیادہ ہے اور اس لئے منادی کے کام میں ان کا بڑا حصہ ہے۔ بلا‌شبہ، ”‏خداوند حکم دیتا ہے۔ خوشخبری سنانے والیاں فوج کی فوج ہیں۔“‏ (‏زبور ۶۸:‏۱۱‏)‏ درحقیقت، دونوں صنفوں کے خدا کے بہتیرے غیرشادی‌شدہ خادم اپنی سالمیت کو برقرار رکھتے ہیں کیونکہ وہ ”‏اپنے سارے دل سے یہوواہ پر توکل کرتے ہیں اور وہ ان کی راہنمائی کرتا ہے۔“‏ (‏امثال ۳:‏۵، ۶‏)‏ لیکن کیا وہ جو اس وقت ”‏خداوند میں“‏ شادی نہیں کر سکتے وہ یقینی طور پر ناخوش ہیں؟‏

۱۱.‏ وہ مسیحی جو بائبل اصولوں کے لئے احترام کے پیش‌نظر کنوارے رہتے ہیں وہ کس بات کا یقین رکھ سکتے ہیں؟‏

۱۱ آئیے ہم یاد رکھیں کہ ہم خدائے مبارک، یہوواہ، کے گواہ ہیں جو کہ مبارک حاکم، یسوع مسیح کے تحت اس کی خدمت کر رہے ہیں۔ پس اگر بائبل میں واضح طور پر درج پابندیوں کے لئے ہمارا احترام ہمیں تحریک دیتا ہے کہ شادی کے لئے ”‏خداوند میں“‏ ایک ساتھی پانے سے قاصر رہنے کی وجہ سے ہم کنوارے رہیں تو کیا یہ سوچنا منطقی بات ہوگی کہ خدا اور مسیح ہم کو ناخوش ہونے دینگے؟ یقیناً نہیں۔ لہذا ہمیں اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہیے کہ بطور مسیحیوں کے غیرشادی‌شدہ حالت میں رہتے ہوئے بھی خوش رہنا ممکن ہے۔ خواہ ہم شادی‌شدہ ہیں یا کنوارے، یہوواہ ہی درحقیقت ہمیں سچ‌مچ خوشی بخش سکتا ہے۔‏

حقیقی خوشی کی کنجی

۱۲.‏ شادی کے سلسلے میں نافرمان فرشتوں کے معاملے سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟‏

۱۲ خدا کے تمام خادموں کیلئے شادی ہی خوشی کی واحد کنجی نہیں۔ مثال کے طور پر، فرشتوں کو لے لیں۔ طوفان سے پہلے، بعض فرشتوں نے روحانی مخلوقات کے لئے غیرطبعی خواہشات کو اپنے اندر پیدا کر لیا، اس بات سے مطمئن نہ ہوئے کہ وہ شادی نہیں کر سکتے، اور مادی جسم اختیار کر لئے تاکہ عورتوں کو بطور بیویوں کے حاصل کر سکیں۔ کیونکہ اس طرح سے ان فرشتوں نے ”‏اپنے خاص مقام کو چھوڑ دیا،“‏ خدا نے ”‏ان کو دائمی قید میں تاریکی کے اندر روزعظیم کی عدالت تک رکھا ہے۔“‏ (‏یہوداہ ۶،‏ پیدایش ۶:‏۱، ۲‏)‏ واضح ہے کہ خدا نے کبھی بھی فرشتوں کے لئے شادی کرنے کا بندوبست نہیں کیا۔ پس صرف شادی ہی خوشی کی واحد کنجی نہیں ہو سکتی تھی۔‏

۱۳.‏ پاک فرشتے کیوں خوش ہیں، اور یہ خدا کے تمام خادموں کیلئے کس بات کی نشاندہی کرتا ہے؟‏

۱۳ اس کے باوجود، وفادار فرشتے خوش ہیں۔ خدا نے زمین کی بنیاد ڈالی جو ”‏صبح کے ستاروں کے ملکر گانے اور خدا کے سب [‏ملکوتی]‏ بیٹوں کے خوشی سے للکارنے“‏ کا باعث ہوئی۔ (‏ایوب ۳۸:‏۷‏، دی نیو جیروسلم بائبل)‏ پاک فرشتے خوش کیوں ہیں؟ کیونکہ وہ ہمیشہ یہوواہ خدا کی خدمت میں ”‏اس کے کلام کی آواز سنتے ہیں“‏ تاکہ اس کی تعمیل کریں۔ ”‏اس کی مرضی بجا لانے سے“‏ وہ خوش ہوتے ہیں۔ (‏زبور ۱۰۳:‏۲۰، ۲۱‏)‏ جی‌ہاں، پاک فرشتوں کو وفاداری سے یہوواہ کی خدمت بجا لانے سے خوشی حاصل ہوتی ہے۔ انسانوں کیلئے بھی حقیقی خوشی کی کنجی یہی ہے۔ اسی لئے، اب خوشی سے یہوواہ کی خدمت کرنے والے شادی‌شدہ ممسوح مسیحی جب آسمانی زندگی کیلئے قیامت پاتے ہیں تو وہ شادی نہیں کرینگے بلکہ روحانی مخلوق کے طور پر الہی مرضی کو پورا کرنے میں خوش ہونگے۔ پس خواہ شادی‌شدہ ہوں یا کنوارے یہوواہ کے تمام وفادار خادم خوش ہو سکتے ہیں کیونکہ خوشی کی حقیقی بنیاد خالق کی وفادارانہ خدمت ہے۔‏

‏”‏بیٹوں اور بیٹیوں کی نسبت کوئی بہتر چیز“‏

۱۴.‏ قدیم اسرائیل میں خداپرست خوجوں سے کیا وعدہ کیا گیا تھا، اور یہ کیوں عجیب دکھائی دیتا ہے؟‏

۱۴ اگرچہ کوئی وفادار مسیحی کبھی بھی شادی نہیں کرتا تو بھی خدا اس کی خوشی کی ضمانت دیتا ہے۔ قدیم اسرائیل میں خوجوں سے مخاطب کئے گئے ان نبوتی الفاظ سے حوصلہ‌افزائی حاصل کی جا سکتی ہے:‏ ”‏کیونکہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ خوجے جو میرے سبتوں کو مانتے ہیں اور ان کاموں کو جو مجھے پسند ہیں اختیار کرتے ہیں اور میرے عہد پر قائم رہتے ہیں میں ان کو اپنے گھر اور اپنی چاردیواری کے اندر ایسا نام‌ونشان بخشونگا جو بیٹوں اور بیٹیوں [‏کی نسبت کوئی بہتر چیز ہوگی، NW]‏ میں ہر ایک کو ابدی نام دونگا جو مٹایا نہ جائیگا۔“‏ (‏یسعیاہ ۵۶:‏۴، ۵‏)‏ کوئی شاید یہ توقع کرے کہ ان اشخاص سے بیوی اور بچوں کا وعدہ کیا گیا ہوگا جو ان کے نام کو قائم رکھینگے۔ لیکن ان سے ”‏بیٹوں اور بیٹیوں کی نسبت کسی بہتر چیز“‏—‏یہوواہ کے گھر میں ایک ابدی نام—‏کا وعدہ کیا گیا تھا۔‏

۱۵.‏ یسعیاہ ۵۶:‏۴، ۵ کی تکمیل کی بابت کیا کہا جا سکتا ہے؟‏

۱۵ اگر ان خوجوں کو ”‏خدا کے اسرائیل“‏ کو شامل کرتے ہوئے ایک نبوتی تصویر سمجھا جائے تو وہ ان ممسوحوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو یہوواہ کے روحانی گھر یا ہیکل میں ابدی مقام حاصل کرتے ہیں۔ (‏گلتیوں ۶:‏۱۶‏)‏ بلا‌شبہ، اس پیشینگوئی کا حقیقی اطلاق قدیم اسرائیل کے ان خداپرست خوجوں پر بھی ہوگا جو قیامت پاتے ہیں۔ اگر یہ مسیح کے کفارہ کی قربانی کو قبول کر لیتے ہیں اور اسی کا انتخاب کرتے رہتے ہیں جو کچھ یہوواہ پسند کرتا ہے تو یہ خدا کی نئی دنیا میں ”‏ایک ابدی نام“‏ حاصل کرینگے۔ اس کا اطلاق اس آخری زمانے میں ”‏دوسری بھیڑوں“‏ کے ان لوگوں پر بھی ہو سکتا ہے جو خود کو پورے طور سے یہوواہ کی خدمت کے لئے مخصوص کرنے کی خاطر شادی کرنے اور والدین بننے کو ترک کر دیتے ہیں۔ (‏یوحنا ۱۰:‏۱۶‏)‏ ان میں سے بعض شاید بے‌بیاہے اور بے‌اولاد ہی مر جائیں۔ لیکن اگر وہ وفادار ہیں تو قیامت میں وہ ”‏بیٹوں اور بیٹیوں کی نسبت کوئی بہتر چیز“‏—‏ایک نام جو نئے دستورالعمل میں بھی ”‏مٹایا نہ جائے گا—‏حاصل کرینگے۔“‏

شادی ہی خوشی کی واحد کنجی نہیں

۱۶.‏ یہ کیوں کہا جا سکتا ہے کہ شادی ہمیشہ خوشی کا باعث نہیں ہوتی؟‏

۱۶ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ خوشی غیرمنفک طور پر شادی کیساتھ وابستہ ہے۔ تاہم، یہ ماننا پڑیگا کہ آجکل یہوواہ کے خادموں کے درمیان بھی، شادی ہمیشہ خوشی کا باعث نہیں ہے۔ یہ بعض مسائل کو تو حل کرتی ہے لیکن اکثر دوسرے مسائل کو جنم دیتی ہے جن سے نپٹنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے بہ‌نسبت ان مسائل کے جن کا تجربہ کنوارے لوگ کرتے ہیں۔ پولس نے کہا کہ شادی ”‏جسمانی تکلیف“‏ کا باعث بنتی ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں۷:‏۲۸)‏ اکثر ایسے اوقات ہوتے ہیں جب ایک شادی‌شدہ شخص ”‏پریشان“‏ اور ”‏منقسم“‏ ہوتا ہے۔ مرد یا عورت اکثر اسے مشکل پاتے ہیں کہ ”‏بے‌وسوسہ خداوند کی خدمت میں مشغول رہیں۔“‏—‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۳-‏۳۵‏۔‏

۱۷، ۱۸.‏ (‏ا)‏ بعض سفری نگہبانوں نے کیا رپورٹ دی ہے؟ (‏ب)‏ پولس نے کیا مشورت دی، اور اس کا اطلاق کیوں فائدہ‌مند ہے؟‏

۱۷ شادی اور کنوارپن دونوں خدا کی طرف سے ایک نعمتیں ہیں۔ (‏روت ۱:‏۹،‏ متی ۱۹:‏۱۰-‏۱۲‏)‏ تاہم، کسی بھی حالت میں کامیاب ہونے کے لئے، دعائیہ غوروفکر لازم ہے۔ سفری نگہبان رپورٹ دیتے ہیں کہ بہتیرے گواہ بہت چھوٹی عمر میں شادیاں کر رہے ہیں، اور اکثر اس کے نتیجہ میں والدین بننے کی ذمہ‌داریوں کو اٹھانے کے قابل ہونے سے پہلے ہی والدین بن رہے ہیں۔ ان شادیوں میں سے بعض ٹوٹ جاتی ہیں۔ دیگر جوڑے اپنے مسائل کیساتھ نباہ کر لیتے ہیں، لیکن ان کی شادی ان کے لئے خوشی کا باعث نہیں ہوئی۔ جیسے کہ انگریزی ڈرامہ‌نویس ولیم کانگریو نے لکھا، وہ جو جلدی سے شادی کرتے ہیں ”‏بڑی دیر تک پچھتاتے ہیں۔“‏

۱۸ سرکٹ اوورسئیر یہ بھی رپورٹ دیتے ہیں کہ بعض نوجوان بھائی کچھ عرصہ تک کنوارے رہنے کے تقاضے کی وجہ سے بیت‌ایل خدمت یا منسٹیریل ٹرینینگ اسکول کے لئے رضاکارانہ خدمات پیش کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ لیکن پولس مشورہ دیتا ہے کہ ”‏جوانی کے جوبن کے گزر جانے تک“‏ شادی نہ کریں، یعنی اس وقت تک انتظار کریں جب تک جنسی خواہشات کا ابتدائی طوفان کم ہو جاتا ہے۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۷:‏۳۶-‏۳۸‏)‏ ایک کنوارے بالغ کے طور پر گذارے ہوئے سال ایک شخص کو بیش‌قیمت تجربہ اور بصیرت فراہم کرتے ہیں اور اس مرد یا عورت کو بہتر حالت میں ڈال دیتے ہیں کہ بیاہتا ساتھی کا انتخاب کرے یا کنوارے رہنے کے لئے محتاط غوروفکر والا فیصلہ کرے۔‏

۱۹.‏ اگر ہمیں واقعی شادی کی ضرورت نہیں تو ہم معاملات کو کس نظر سے دیکھ سکتے ہیں؟‏

۱۹ ہم میں سے بعض جوانی کے جوبن سے بمع اس کی جنسی رفاقت کی شدید خواہش کے، آگے گذر آئے ہیں۔ بعض اوقات شاید ہم شادی کی برکات پر نظر دوڑائیں لیکن حقیقت میں کنوارپن کی نعمت رکھتے ہوں۔ ہوسکتا ہے یہوواہ یہ دیکھ لے کہ ہم کنوارے رہ کر اس کی مؤثر طور پر خدمت کر سکتے ہیں اور ہمیں شادی کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں جو کہ شاید اس کا تقاضا کرے کہ ہم اس کی خدمت کے بعض استحقاقات کو ترک کر دیں۔ اگر شادی ہماری انفرادی ضرورت نہیں اور ہم کو ایک ساتھی کی برکت نہیں ملی تو شاید خدا نے ہمارے لئے آئندہ کیلئے کچھ اور محفوظ رکھا ہو۔ پس آئیے ہم اس ایمان کا مظاہرہ کریں کہ وہ ہمیں وہ سب کچھ مہیا کریگا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ سب سے بڑی خوشی فروتنی سے اس سب کو قبول کرنے سے حاصل ہوتی ہے جو ہمارے لئے خدا کی رضا دکھائی دیتی ہے، جیسے کہ یہودی بھائی یہ جاننے کے بعد ”‏چپ رہے اور خدا کی تمجید کی“‏ کہ خدا نے غیرقوموں کو بھی توبہ کی توفیق دی ہے تاکہ وہ زندگی پا سکیں۔—‏اعمال ۱۱:‏۱-‏۱۸‏۔‏

۲۰.‏ (‏ا)‏ یہاں نوجوان مسیحیوں کو کنوارپن کی بابت کیا مشورہ دیا گیا ہے؟ (‏ب)‏ خوشی کی بابت کونسا بنیادی نکتہ سچ ثابت ہوتا ہے؟‏

۲۰ لہذا، شادی خوشی کی کنجی ہو سکتی ہے لیکن یہ مسائل کے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔ ایک بات یقینی ہے:‏ شادی خوشی تلاش کرنے کا واحد ذریعہ نہیں۔ سب باتوں پر غور کیا جا چکا ہے، پس بالخصوص مسیحی نوجوانوں کیلئے یہ دانشمندی ہوگی کہ کئی سالوں تک کنوارے رہنے کی گنجائش پیدا کریں۔ ان سالوں کو یہوواہ کی خدمت کرنے اور روحانیت میں ترقی کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، عمر یا روحانی ترقی سے قطع‌نظر، ان سب کیلئے جو غیرمشروط طور پر خدا کے لئے مخصوص ہیں یہ بنیادی نکتہ سچ ثابت ہوتا ہے کہ:‏ حقیقی خوشی یہوواہ کی وفادارانہ خدمت میں پائی جاتی ہے۔ (‏۱۰ ۵/۱۵ w۹۲)‏

آپ کیا جواب دینگے؟‏

▫ یہوواہ کے خادم کیوں خوش ہیں؟‏

▫ کیوں شادی عظیم خوشی کی کنجی نہیں؟‏

▫ شادی کے ساتھی کے انتخاب میں، یہوواہ کے لوگوں سے کیا تقاضا کیا جاتا ہے؟‏

▫ کیوں یہ یقین کرنا منطقی بات ہے کہ کنوارے رہنے والے مسیحی بھی خوش رہ سکتے ہیں؟‏

▫ شادی اور خوشی کی بابت کیا تسلیم کرنا ہوگا؟‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں