سبق نمبر 95
کوئی چیز اُنہیں نہیں روک سکی
ایک آدمی ہیکل کے دروازے پر ہر روز بیٹھ کر بھیک مانگتا تھا۔ وہ چل پھر نہیں سکتا تھا۔ ایک دوپہر اُس آدمی نے پطرس اور یوحنا کو ہیکل میں جاتے ہوئے دیکھا۔ اُس نے اُن سے کہا: ”مہربانی سے مجھے کچھ دے دیں۔“ پطرس نے کہا: ”میرے پاس آپ کو دینے کے لیے پیسوں سے بھی بڑی چیز ہے۔ یسوع کے نام سے اُٹھیں اور چلیں پھریں!“ پطرس نے اُٹھنے میں اُس آدمی کی مدد کی اور وہ چلنے پھرنے لگا! لوگ یہ معجزہ دیکھ کر بہت زیادہ خوش ہوئے اور اَور بھی زیادہ لوگ یسوع پر ایمان لے آئے۔
لیکن کاہنوں اور صدوقیوں کو بہت غصہ آیا۔ اُنہوں نے رسولوں کو پکڑا اور اُنہیں عدالت لے گئے۔ اُنہوں نے پوچھا: ”کس نے تمہیں یہ معجزہ کرنے کا اِختیار دیا ہے؟“ پطرس نے کہا: ”ہمیں یسوع مسیح سے طاقت ملی جنہیں تُم لوگوں نے مار ڈالا تھا۔“ مذہبی رہنما چلّا کر کہنے لگے: ”یسوع کے بارے میں بات نہیں کرو!“ لیکن رسولوں نے کہا: ”ہمارے لیے یسوع کے بارے میں بات کرنا بہت ضروری ہے۔ ہم ایسا کرنا نہیں چھوڑیں گے۔“
جیسے ہی پطرس اور یوحنا رِہا ہوئے، وہ باقی شاگردوں کے پاس گئے اور اُنہیں سب کچھ بتایا۔ اُنہوں نے مل کر دُعا کی اور یہوواہ سے کہا: ”مہربانی سے ہمیں دلیری دے تاکہ ہم تیرا کام کرتے رہیں۔“ یہوواہ نے اُنہیں اپنی پاک روح دی اور وہ مُنادی کرتے اور لوگوں کو ٹھیک کرتے رہے۔ بہت سے لوگ یسوع پر ایمان لانے لگے۔ صدوقی رسولوں سے بہت زیادہ جلنے لگے اور اُنہوں نے اُنہیں گِرفتار کر کے جیل میں ڈلوا دیا۔ لیکن رات کے وقت یہوواہ نے اپنا ایک فرشتہ بھیجا جس نے جیل کے دروازے کھول دیے اور رسولوں سے کہا: ”ہیکل واپس جائیں اور وہاں خدا کے کلام سے تعلیم دیں۔“
اگلی صبح عدالتِعظمیٰ یعنی مذہبی رہنماؤں کی عدالت کو یہ خبر ملی: ”جیل کے دروازے بند ہیں لیکن جن لوگوں کو آپ نے گِرفتار کِیا تھا، وہ جیل میں نہیں ہیں۔ وہ تو ہیکل میں لوگوں کو تعلیم دے رہے ہیں!“ رسولوں کو پھر سے گِرفتار کر لیا گیا اور عدالتِعظمیٰ لایا گیا۔ کاہنِاعظم نے کہا: ”ہم نے تمہیں حکم دیا تھا کہ یسوع کے بارے میں بات نہ کرنا۔“ لیکن پطرس نے کہا: ”ہمارے لیے خدا کا حکم ماننا اِنسانوں کا حکم ماننے سے زیادہ ضروری ہے۔“
مذہبی رہنما اِتنے غصے میں آ گئے کہ وہ رسولوں کو مار ڈالنا چاہتے تھے۔ لیکن گملیایل نام کا ایک فریسی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: ”خبردار رہیں! شاید خدا اِن آدمیوں کے ساتھ ہے۔ کیا آپ واقعی خدا سے لڑنا چاہتے ہیں؟“ مذہبی رہنماؤں نے اُس کا مشورہ مان لیا۔ اُنہوں نے رسولوں کو ڈنڈوں سے پٹوانے کے بعد اُنہیں دوبارہ حکم دیا کہ وہ مُنادی کرنا بند کر دیں اور پھر اُنہیں چھوڑ دیا۔ لیکن اِس سب کے بعد بھی رسول نہیں رُکے؛ وہ دلیری سے ہیکل میں اور گھر گھر جا کر مُنادی کرتے رہے۔
”ہمارے لیے خدا کا کہنا ماننا اِنسانوں کا کہنا ماننے سے زیادہ ضروری ہے۔“—اعمال 5:29