سبق نمبر 76
یسوع نے ہیکل کو پاک کِیا
سن 30 عیسوی کے موسمِبہار میں یسوع یروشلم گئے۔ یروشلم میں بہت سے لوگ عیدِفسح منانے آئے ہوئے تھے۔ وہ ہیکل میں جانوروں کی قربانیاں چڑھا رہے تھے کیونکہ عید منانے میں یہ بھی شامل تھا۔ کچھ لوگ جانور اپنے ساتھ لائے تھے لیکن کچھ لوگ یروشلم سے ہی جانور خرید رہے تھے۔
جب یسوع ہیکل میں گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ وہاں جانور بیچ رہے ہیں۔ یہ یہوواہ کی عبادت کی جگہ تھی لیکن وہ لوگ وہاں پیسے کما رہے تھے۔ یہ دیکھ کر یسوع نے کیا کِیا؟ اُنہوں نے رسیوں کا ایک کوڑا بنایا اور بھیڑوں اور دوسرے مویشیوں کو ہیکل سے باہر نکالا۔ اُنہوں نے پیسوں کا کاروبار کرنے والوں کی میزیں اُلٹ دیں اور اُن کے سِکے زمین پر بکھیر دیے۔ اُنہوں نے کبوتر بیچنے والوں سے کہا: ”اِن چیزوں کو یہاں سے لے جاؤ۔ میرے باپ کے گھر کو منڈی نہ بناؤ۔“
یسوع کو یہ سب کرتا دیکھ کر لوگ بہت حیران ہوئے۔ اُن کے شاگردوں کو وہ پیشگوئی یاد آئی جو مسیح کے بارے میں کی گئی تھی۔ وہ پیشگوئی یہ تھی: ”میرے دل میں تیرے گھر کے لیے جوش بھڑک اُٹھے گا۔“
اِس کے بعد 33 عیسوی میں یسوع نے دوسری بار ہیکل کو پاک کِیا۔ اُنہوں نے کسی کو بھی اپنے باپ کے گھر کی توہین نہیں کرنے دی۔
”آپ خدا اور دولت دونوں کے غلام نہیں بن سکتے۔“—لُوقا 16:13