سبق نمبر 75
شیطان نے یسوع کو آزمایا
یسوع کے بپتسمہ لینے کے بعد پاک روح اُنہیں ویرانے میں لے گئی۔ اُنہوں نے 40 دن تک کچھ نہیں کھایا۔ لیکن اب اُنہیں بہت زیادہ بھوک لگی ہوئی تھی۔ اُسی وقت شیطان یسوع کو آزمانے آیا۔ اُس نے اُن سے کہا: ”اگر تُم واقعی خدا کے بیٹے ہو تو اِن پتھروں سے کہو کہ یہ روٹی بن جائیں۔“ لیکن یسوع نے شیطان کو پاک کلام کے ذریعے یہ جواب دیا: ”لکھا ہے کہ آدمی کو صرف روٹی ہی پر نہیں جینا چاہیے بلکہ ہر اُس بات پر جو یہوواہ کے مُنہ سے نکلتی ہے۔“
پھر شیطان دوبارہ یسوع کو آزمانے آیا۔ اُس نے کہا: ”اگر تُم واقعی خدا کے بیٹے ہو تو ہیکل کی سب سے اُونچی جگہ سے چھلانگ لگاؤ کیونکہ لکھا ہے کہ خدا اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وہ تمہیں اپنے ہاتھوں پر اُٹھا لیں گے۔“ لیکن یسوع نے دوبارہ پاک کلام کے ذریعے یہ جواب دیا: ”لکھا ہے کہ یہوواہ اپنے خدا کا اِمتحان نہ لو۔“
پھر شیطان نے یسوع کو دُنیا کی حکومتیں اور شانوشوکت دِکھائی اور کہا: ”اگر تُم صرف ایک بار مجھے سجدہ کرو تو مَیں یہ سب کچھ تمہیں دے دوں گا۔“ لیکن یسوع نے جواب دیا: ”چلے جاؤ شیطان! کیونکہ پاک صحیفوں میں لکھا ہے کہ صرف یہوواہ کی عبادت کرو۔“
پھر شیطان وہاں سے چلا گیا اور فرشتوں نے آ کر یسوع کو کھانا دیا۔ اِس کے بعد یسوع بادشاہت کی مُنادی کرنے لگے۔ یہوواہ نے اُنہیں یہ کام کرنے کے لیے زمین پر بھیجا تھا۔ لوگ یسوع کی باتوں کو سُن کر بہت خوش ہوتے تھے اور یسوع جہاں جہاں جاتے تھے، لوگ اُن کے پیچھے پیچھے جاتے تھے۔
”جب [شیطان]جھوٹ بولتا ہے تو اپنی فطرت کے مطابق بولتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔“—یوحنا 8:44