یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • bfl سبق 58 ص.‏ 140-‏ص.‏ 131 پ.‏ 3
  • یروشلم کی تباہی

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یروشلم کی تباہی
  • پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • ملتا جلتا مواد
  • یہوواہ ہر شخص کو اُس کے کاموں کے مطابق بدلہ دے گا
    مسیحی زندگی اور خدمت—‏اِجلاس کا قاعدہ (‏2017ء)‏
  • یرمیاہ کے ابواب کا خاکہ
    کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
bfl سبق 58 ص.‏ 140-‏ص.‏ 131 پ.‏ 3
ہیکل سمیت پورے یروشلم کو آگ لگی ہوئی ہے۔‏

سبق نمبر 58

یروشلم کی تباہی

یہوداہ کے لوگوں نے بار بار جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت کی اور یہوواہ کو چھوڑ دیا۔ کئی سالوں تک یہوواہ نے اُن کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ اُس نے اُنہیں خبردار کرنے کے لیے بہت سے نبی بھیجے۔ لیکن اُنہوں نے اُن نبیوں کی بات سننے کی بجائے اُن کا مذاق اُڑایا۔ یہوواہ نے اُس بُت‌پرستی کو کیسے ختم کِیا جو وہ کر رہے تھے؟‏

بابل کا بادشاہ نبوکدنضر ایک کے بعد ایک ملک پر قبضہ کر رہا تھا۔ جب اُس نے پہلی بار یروشلم پر قبضہ کِیا تو اُس نے بادشاہ یہویاکین، حاکموں، فوجیوں اور کاریگروں کو غلام بنا لیا اور وہ اُنہیں اپنے ساتھ بابل لے گیا۔ وہ یہوواہ کی ہیکل سے سارا خزانہ بھی لے گیا۔ پھر نبوکدنضر نے صدقیاہ کو یہوداہ کا بادشاہ بنایا۔‏

شروع میں صدقیاہ نے وہی کِیا جو نبوکدنضر نے اُس سے کہا۔ لیکن پھر آس‌پاس کی قوموں اور جھوٹے نبیوں نے صدقیاہ کو بابل سے بغاوت کرنے کے لیے کہا۔ یرمیاہ نے صدقیاہ کو خبردار کِیا اور کہا:‏ ”‏اگر آپ نبوکدنضر کے خلاف جائیں گے تو یہوداہ میں بہت سے لوگوں کی جانیں جائیں گی، یہاں کھانے پینے کی چیزوں کی کمی ہو جائے گی اور بہت سی بیماریاں پھیل جائیں گی۔“‏

آٹھ سال تک حکومت کرنے کے بعد صدقیاہ نے بابل کے خلاف بغاوت کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اُس نے مصری فوج سے مدد مانگی۔ جب نبوکدنضر کو پتہ چلا تو اُس نے اپنی فوج بھیج کر یروشلم پر حملہ کر دیا۔ اُس کی فوج نے شہر کی چاروں طرف خیمے لگا لیے۔ یرمیاہ نے صدقیاہ سے کہا:‏ ”‏اگر آپ بابل کے سامنے ہار مان لیں گے تو آپ اور یہ شہر دونوں بچ جائیں گے۔ لیکن اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو بابل کے لوگ آپ کو غلام بنا کر لے جائیں گے اور یروشلم کو جلا دیں گے۔“‏ صدقیاہ نے کہا:‏ ”‏مَیں ہار نہیں مانوں گا۔“‏

ڈیڑھ سال بعد بابل کی فوج یروشلم کی دیواریں توڑ کر اندر گُھس گئی اور پورے شہر کو آگ لگا دی۔ اُنہوں نے ہیکل کو جلا دیا، بہت سے لوگوں کو مار ڈالا اور ہزاروں لوگوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔‏

صدقیاہ یروشلم سے بھاگ گیا۔ لیکن بابل کی فوج نے اُس کا پیچھا کِیا اور شہر یریحو کے پاس پہنچ کر اُسے پکڑ لیا۔ وہ اُسے نبوکدنضر کے پاس لے گئے۔ بادشاہ نبوکدنضر نے صدقیاہ کے بیٹوں کو اُس کی آنکھوں کے سامنے مروا ڈالا۔ پھر نبوکدنضر نے صدقیاہ کو اندھا کر دیا اور اُسے جیل میں ڈال دیا۔ صدقیاہ وہیں مر گیا۔ لیکن یہوواہ نے یہوداہ کے لوگوں سے یہ وعدہ کِیا:‏ ”‏70 سال کے بعد مَیں تمہیں یروشلم واپس لے آؤں گا۔“‏

لیکن اُن نوجوانوں کے ساتھ کیا ہوا جنہیں غلام بنا کر بابل لے جایا گیا تھا؟ کیا وہ یہوواہ کے وفادار رہے؟‏

‏”‏یہوواہ خدا، لامحدود قدرت کے مالک، تیرے فیصلے کتنے سچے اور راست ہیں!‏“‏—‏مُکاشفہ 16:‏7

سوال:‏ نبوکدنضر کون تھا؟ اُس نے یروشلم کے ساتھ کیا کِیا؟ صدقیاہ کون تھا؟‏

2-‏سلاطین 24:‏1، 2،‏ 8-‏20؛‏ 25:‏1-‏24؛‏ 2-‏تواریخ 36:‏6-‏21؛‏ یرمیاہ 27:‏12-‏14؛‏ 29:‏10، 11؛‏ 38:‏14-‏23؛‏ 39:‏1-‏9؛‏ حِزقی‌ایل 21:‏27

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں