یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • bfl سبق 59 ص.‏ 142-‏ص.‏ 143 پ.‏ 5
  • یہوواہ کی بات ماننے والے چار لڑکے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • یہوواہ کی بات ماننے والے چار لڑکے
  • پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
  • ملتا جلتا مواد
  • چار لڑکوں کا امتحان
    پاک کلام کی سچی کہانیاں
  • اُنہوں نے کوئی سمجھوتا نہیں کِیا
    دلیری سے خدا کے ساتھ ساتھ چلیں
  • آزمائش میں بھی یہوواہ کے وفادار!‏
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
  • دانی‌ایل کی کتاب اور آپ
    دانی‌ایل کی نبوّت پر دھیان دیں!‏
مزید
پاک کلام سے آپ کے لیے خاص سبق
bfl سبق 59 ص.‏ 142-‏ص.‏ 143 پ.‏ 5
دانی‌ایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ شاہی کھانا کھانے سے منع کر رہے ہیں۔‏

سبق نمبر 59

یہوواہ کی بات ماننے والے چار لڑکے

جب نبوکدنضر یہوداہ کے شاہی گھرانوں کے لڑکوں کو بابل لے گیا تو اُس نے محل کے اعلیٰ افسر اشپناز کو اُن کی نگرانی کے لیے رکھا۔ نبوکدنضر نے اشپناز سے کہا کہ وہ اِن لڑکوں میں سے سب سے صحت‌مند اور قابل لڑکوں کو چُنے۔ اِن لڑکوں کو تین سال تک ٹریننگ دی جانی تھی جس کے بعد اُنہیں بابل میں کچھ خاص عہدوں پر مقرر کِیا جا سکتا تھا۔ اُنہیں بابل کی خاص زبان پڑھنی،لکھنی اور بولنی سیکھنی تھی۔ اُنہیں وہی کھانا کھانا تھا جو بادشاہ اور محل کے باقی سب لوگ کھاتے تھے۔ جن لڑکوں کو ٹریننگ مل رہی تھی، اُن میں سے چار کے نام یہ تھے:‏ دانی‌ایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ۔ اشپناز نے اُن چاروں کو یہ بابلی نام دیے:‏ بیلطشضر، سدرک، میسک اور عبدنجو۔ کیا اِن لڑکوں کو بابل میں جو تعلیم اور تربیت دی جا رہی تھی، اُس کی وجہ سے اُنہوں نے یہوواہ کی خدمت کرنی چھوڑ دی؟‏

اُن چار لڑکوں نے ٹھان لیا تھا کہ وہ یہوواہ کی بات مانیں گے۔ وہ جانتے تھے کہ اُنہیں وہ کھانا نہیں کھانا چاہیے جو بادشاہ کے لیے تھا کیونکہ اُس کھانے میں کچھ چیزیں ایسی تھیں جو یہوواہ کی نظر میں ناپاک تھیں۔ اُنہوں نے اشپناز سے کہا:‏ ”‏مہربانی سے ہمیں وہ کھانا نہ دیں جو بادشاہ کے لیے ہے۔“‏ اشپناز نے اُن سے کہا:‏ ”‏اگر تُم یہ کھانا نہیں کھاؤ گے اور بادشاہ نے دیکھا کہ تُم کمزور اور بیمار لگ رہے ہو تو وہ مجھے مار ڈالے گا۔“‏

دانی‌ایل نے اُس نگران سے کہا:‏ ”‏ہمیں دس دن تک سبزیاں اور پانی دیں پھر آپ دیکھنا کہ کن کی صحت زیادہ اچھی ہے، ہماری یا شاہی کھانا کھانے والوں کی۔“‏ وہ نگران مان گیا۔‏

دس دن بعد دانی‌ایل اور اُن کے تین دوست باقی سب لڑکوں سے زیادہ صحت‌مند لگ رہے تھے۔ یہوواہ اِس بات سے بہت خوش تھا کہ اُن لڑکوں نے اُس کی بات مانی۔ یہوواہ نے دانی‌ایل کو ایسی دانش‌مندی بھی دی کہ وہ رُویات اور خوابوں کا مطلب سمجھ سکتے تھے۔‏

جب اُن لڑکوں کی ٹریننگ ختم ہو گئی تو اشپناز اُن کو بادشاہ نبوکدنضر کے پاس لے گیا۔ بادشاہ نے اُن سے بات کی اور دیکھا کہ دانی‌ایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ باقی سب لڑکوں سے زیادہ سمجھ‌دار ہیں۔ بادشاہ نے اُن چاروں لڑکوں کو اپنے محل میں کام کرنے کے لیے چُنا۔ بادشاہ اکثر ضروری معاملوں کے حوالے سے اُن سے صلاح مشورہ کرتا تھا۔ یہوواہ نے اُنہیں اِتنی دانش‌مندی دی جتنی بادشاہ کے دانش‌وروں اور جادوگروں کے پاس بھی نہیں تھی۔‏

دانی‌ایل، حننیاہ، میساایل اور عزریاہ غیرملک میں ہونے کے باوجود بھی یہ نہیں بھولے کہ وہ یہوواہ کے بندے ہیں۔ کیا آپ اُس وقت بھی یہوواہ کی بات مانتے ہیں جب آپ کے امی ابو آپ کے ساتھ نہیں ہوتے؟‏

‏”‏اِس بات کا دھیان رکھیں کہ کوئی آپ کو آپ کی کم‌عمری کی وجہ سے حقیر نہ جانے۔ اِس کی بجائے اپنی باتوں، چال‌چلن، محبت، ایمان اور پاکیزگی سے اُن لوگوں کے لیے مثال قائم کریں جو خدا کے وفادار ہیں۔“‏—‏1-‏تیمُتھیُس 4:‏12

سوال:‏ دانی‌ایل اور اُن کے تین دوستوں نے یہوواہ کی بات کیوں مانی؟ یہوواہ نے اُن کی مدد کیسے کی؟‏

دانی‌ایل 1:‏1-‏21

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں