”عدالت کا وقت آ پہنچا ہے“
جیسے کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس وقت ہم ”اخیر زمانہ“ میں رہ رہے ہیں۔ (۲-تیمتھیس ۳:۱) بہت جلد یہوواہ خدا سب لوگوں کا حساب لینے والا ہے اور بُرے لوگوں کا نامونشان مٹانے والا ہے۔ اِس وقت کو بائبل ’عدالت کا وقت‘ کہتی ہے۔ بائبل یہ بھی کہتی ہے کہ ”خدا سے ڈرو اور اُسکی تمجید کرو کیونکہ اُسکی عدالت کا وقت آ پہنچا ہے۔“—مکاشفہ ۱۴:۶، ۷۔
یہوواہ کے لوگوں کیلئے یہ واقعی ایک خوشخبری ہے۔ یہ وہ وقت ہوگا جب اُنہیں اپنے سارے دُکھ اور تکلیفوں سے چھٹکارا ملیگا۔
اِس عدالت کے دن سے بچنے کیلئے ہمیں ’خدا سے ڈرنا چاہئے یعنی اُس پر بھروسا رکھنا‘ چاہئے۔ کیا آپ ایسا کر رہے ہیں؟ (متی ۷:۲۱-۲۳؛ یعقوب ۲:۱۹، ۲۰) اگر ہم ایمان میں قائم رہیں تو ہم دلوجان سے یہوواہ خدا کی خدمت کرینگے اور اِس دُنیا کے رنگ میں رنگ نہیں جائینگے۔ (امثال ۸:۱۳) یہوواہ جو چاہتا ہے ہم وہی کرینگے اور جس چیز سے وہ نفرت کرتا ہے اُس سے دُور رہینگے۔ (عاموس ۵:۱۴، ۱۵) ہمیں اُسکی راہ پر چلتے رہنا چاہئے۔ لیکن کیسے؟ ہر روز بائبل پڑھائی کرنے سے۔ بائبل پڑھنے کیلئے ہمیں وقت نکالنا ہوگا۔ ایسا کرنے سے خدا پر ہمارا بھروسا دنبدن مضبوط ہوتا جائیگا۔ (زبور ۶۲:۸؛ امثال ۳:۵، ۶) یہوواہ اِس جہان کا مالک اور ہمارا خالق ہے۔ اِسلئے ہمیں تنمن اور دھن سے اُسکی خدمت کرنی چاہئے۔
بائبل میں اِس عدالت کے وقت کو ”یہوواہ کا دن“ بھی کہا گیا ہے۔ تقریباً ۲،۶۱۰ سال پہلے ایسا ہی ایک ”دن“ قدیم زمانے کے شہر یروشلیم پر آیا تھا۔ لیکن اس شہر کے باشندوں نے نبیوں کی معرفت دی جانے والی یہوواہ کی آگاہیوں پر دھیان نہیں دیا تھا۔ یہوواہ نے اُنہیں آگاہ کِیا: ”ہاں وہ دن نزدیک آ گیا۔ وہ آ پہنچا!“ (صفنیاہ ۱:۱۴) ایسا ہی ایک واقعہ قدیم شہر بابل کیساتھ پیش آیا۔ یہوواہ کا قہر ۲،۵۴۳ سال پہلے اِس شہر پر ٹوٹ پڑا۔ (یسعیاہ ۱۳:۱، ۶) اِس بار بابل شہر برباد کر دیا گیا۔ اِس شہر کے باشندوں کو بھی بار بار آگاہ کِیا گیا تھا مگر اُنہوں نے نہ سنا۔ وہ اپنے دیوتاؤں پر بھروسا کرتے رہے۔ نتیجتاً، ایک ہی رات میں مادیوں اور فارسیوں کے ہاتھوں اِس شہر کو گرا دیا گیا۔
یہوواہ کا دن نزدیک ہے۔ اب ہمارے زمانہ میں یہوواہ کا دن آنے والا ہے جسکا سامنا ساری دُنیا کریگی۔ (۲-پطرس ۳:۱۱-۱۴) مکاشفہ ۱۴:۸ کے مطابق ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے: ”بڑا شہر بابلؔ گر پڑا۔“ یہ بڑا شہر بابلؔ کیا ہے؟ بائبل میں دُنیا کے سارے جھوٹے مذاہب کو بڑا شہر بابلؔ کہا گیا ہے۔ اِن جھوٹے مذاہب کی وجہ سے لوگ اندھیرے میں رہ رہے ہیں اور یہوواہ خدا سے بےخبر ہیں۔ مگر اب اِن جھوٹے مذاہب کا اثر ختم ہو رہا ہے۔ اُنکے بُرے کاموں کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔ اُنکی مکمل تباہی قریب ہے۔ بائبل ہر جگہ لوگوں کو تاکید کرتی ہے: ”[بڑے بابل] میں سے نکل آؤ تاکہ تم اُسکے گُناہوں میں شریک نہ ہو اور اُسکی آفتوں میں سے کوئی تم پر نہ آ جائے۔ کیونکہ اُسکے گُناہ آسمان تک پہنچ گئے ہیں اور اُسکی بدکاریاں خدا کو یاد آ گئی ہیں۔“—مکاشفہ ۱۸:۴، ۵۔
جھوٹے مذاہب کو بڑا بابل کیوں کہا گیا ہے؟ جو مذہب یہوواہ خدا کی عبادت نہیں کرتا وہ پُرانے زمانہ کے شہر بابل کی مانند ہے۔ وہ کیوں؟ (مکاشفہ، ۱۷ اور ۱۸ باب) آئیے دیکھیں۔
• قدیم بابل کے پیشواؤں کا سیاسی معاملوں میں بڑا ہاتھ تھا۔ آج بھی مذہبی راہنما سیاسی معاملات میں ملوث ہیں۔
• بابل کے پیشوا اپنی قوم کی جنگوں کی حمایت کرتے تھے۔ اِسی طرح موجودہ زمانہ میں بھی مذہبی راہنما اکثر فوجوں کو جنگ پر جانے کیلئے اُکساتے ہیں۔
• قدیم بابل کی تعلیمات اور رسمورواج کی وجہ سے سارا مُلک بدچلنی سے بھرا پڑا تھا۔ آجکل کے مذاہب بھی یہوواہ خدا کی تعلیمات کے مطابق نہیں چلتے۔ اِسلئے اِن مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بدچلن زندگی گزارتے ہیں۔ بائبل میں بڑے بابل کو ایک کسبی کہا گیا ہے۔ ایک کسبی کی طرح جھوٹا مذہب اپنے فائدے کیلئے حرامکاری کرنے کیلئے تیار ہے۔
• قدیم بابل میں مذہبی راہنما کاروبار بھی کرتے تھے۔ مذہب کے نام پر نفع کمایا جاتا تھا۔ اِسی لئے وہاں کے مندر بہت عالیشان تھے۔ آج بھی مذہب کے نام پر نفع کمایا جاتا ہے اور اس سے بڑے بڑے مندر، مسجد اور گرجاگھر بنائے جاتے ہیں۔ اِنکی زمین اور جائیداد کا کوئی حساب نہیں۔ عید اور دیگر مذہبی تہواروں کے نام پر بہت پیسہ کمایا جاتا ہے جسکی وجہ سے مذاہب کیساتھ ساتھ کاروباری دُنیا بھی مالامال ہو رہی ہے۔ اِسی لئے بائبل کہتی ہے کہ بڑا بابل یعنی جھوٹا مذہب ”عیشوعشرت“ کی زندگی گزارتا ہے۔
• قدیم بابل میں بُتپرستی اور جادوٹونہ عام تھے۔ آج بھی زیادہتر مذاہب میں ایسا ہی ہے۔ بابلی مذہب میں سکھایا جاتا تھا کہ اِنسان کے اندر روح ہے جو موت کے بعد زندہ رہتی ہے۔ آجکل بھی مذاہب ایسی ہی تعلیم دیتے ہیں۔ شہر بابل اپنے دیوتاؤں کے مندروں سے بھرا پڑا تھا اور وہاں کے لوگ یہوواہ کے پرستاروں کی مخالفت کرتے تھے۔ اِسی طرح آج بھی سب مذاہب یہوواہ کی عبادت کرنے والوں کے بےحد خلاف ہیں۔
قدیم وقتوں میں جو قومیں یا لوگ یہوواہ کے خلاف تھے اُنہیں سزا دینے کیلئے یہوواہ خدا دوسری قوموں کو استعمال کرتا تھا۔ مثلاً، ۷۴۰ ق.س.ع. میں، یہوواہ نے اسوریوں کے ہاتھوں سامریہ کو تباہ کِیا۔ یروشلیم کو اُس نے ۶۰۷ ق.س.ع. میں، بابلیوں کے ہاتھوں اور ۷۰ س.ع. میں رومیوں کے ہاتھوں تباہوبرباد کِیا۔ یہوواہ نے ۵۳۹ ق.س.ع. میں بابل کو مادیوں اور فارسیوں کے ہاتھوں گرا دیا۔ لیکن ہمارے زمانہ میں سب مذاہب کو یہوواہ کیسے ختم کریگا؟ بائبل بتاتی ہے کہ دُنیا کی تمام حکومتیں ایک جنگلی جانور کی طرح اِس کسبی پر حملہ کریں گی اور اُسکی اصل حقیقت کو بےنقاب کر دیں گی۔ پھر وہ اِسکا نامونشان مٹا دینگی۔—مکاشفہ ۱۷:۱۶۔
کیا دُنیا کی ساری حکومتیں واقعی ایسا کام کریں گی؟ جیہاں، کیونکہ بائبل بیان کرتی ہے کہ ”خدا اُنکے دلوں میں یہ ڈالیگا۔“ (مکاشفہ ۱۷:۱۷) جھوٹے مذاہب کا خاتمہ اچانک ہوگا، پلک جھپکتے ہی اِنکا نامونشان مٹا دیا جائیگا۔
آپکو کیا کرنے کی ضرورت ہے؟ ذرا غور کیجئے۔ ’کیا آپ ایسے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں جس میں یہوواہ خدا کی تعلیم کی بجائے جھوٹی تعلیم دی جاتی ہے؟‘ کیا آپ دُنیا کے رسمورواج کو مانتے ہیں؟ کیا آپ دوسرے مذہب کے لوگوں کی طرح بدچلن زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں۔ کیا آپ اُنکی طرح عیشوعشرت اور مالودولت کے پیچھے بھاگتے ہیں؟ یا پھر کیا آپ ہر حالت میں یہوواہ خدا کی بات مانتے ہیں؟
یہوواہ کی مقبولیت حاصل کرنے کیلئے ہمیں جلدازجلد جھوٹے مذہب کو چھوڑنا ہوگا۔ ہماری زندگیوں سے صاف ظاہر ہونا چاہئے کہ ہم جھوٹے مذہب سے کوئی سروکار نہیں رکھتے۔ یہ دیر کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ بائبل ہمیں بیان کرتی ہے کہ اچانک ”بابلؔ کا بڑا شہر . . . زور سے گرایا جائیگا اور پھر کبھی اُسکا پتہ نہ ملیگا۔“—مکاشفہ ۱۸:۲۱۔
جیہاں، عدالت کے وقت یہوواہ جھوٹے مذاہب کو نیست کر دیگا۔ اِسکے بعد سب حکومتوں، اُنکے حکمرانوں اور بدکار لوگوں سے حساب لیا جائیگا۔ مگر کیوں؟ اِسلئےکہ وہ یہوواہ اور یسوع مسیح کی بادشاہت کو ردّ کر رہے ہیں۔ (مکاشفہ ۱۳:۱، ۲؛ ۱۹:۱۹-۲۱) اِسکے بارے میں بائبل کی کتاب دانیایل میں بتایا گیا ہے۔ (دانیایل ۲:۲۰-۴۵) یہاں ایک بڑی مورت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ مورت سونے، چاندی، تانبے، لوہے اور مٹی سے بنی ہے۔ اِس کی تصویر اگلے صفحے پر دی گئی ہے۔ اِس مورت کی علامت سے کیا مُراد ہے؟ اِس سے مُراد وہ حکومتیں ہیں جو آج تک انسان پر حکمرانی کر رہی ہیں۔ بائبل آگے بتاتی ہے کہ ”آسمان کا خدا ایک سلطنت برپا کریگا جو تاابد نیست نہ ہوگی۔ . . . وہ اِن تمام مملکتوں کو ٹکڑےٹکڑے اور نیست کریگی اور وہی ابد تک قائم رہیگی۔“—دانیایل ۲:۴۴۔
جیہاں، ہمیں اِس عدالت کے دن سے بچنے کیلئے اِس دُنیا سے الگ رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اِس دُنیا کے طورطریقوں سے دُور رہنا چاہئے کیونکہ یہ ہمیں یہوواہ کی راہ سے ہٹا سکتے ہیں۔ (۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷) کیا آپکی زندگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ یہوواہ سے محبت رکھتے ہیں؟ کیا آپ یہوواہ کی خدمت کو اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں؟—متی ۶:۳۳؛ یوحنا ۱۷:۱۶، ۱۷۔
[صفحہ ۱۴ پر بکس]
اِس دُنیا کا خاتمہ کب ہوگا؟
”جس گھڑی تمکو گمان بھی نہ ہوگا ابنِآدم آ جائیگا۔“—متی ۲۴:۴۴۔
”پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو۔“—متی ۲۵:۱۳۔
”یہ . . . تاخیر نہ [کریگا]۔“—حبقوق ۲:۳۔
[صفحہ ۱۴ پر بکس]
تاریخ جاننے سے کیا کچھ فرق پڑتا؟
اگر آپ کو یہ خبر ہو جائے کہ دُنیا کا خاتمہ آنے میں کافی دیر ہے تو آپ کیا کرینگے؟ کیا آپ کہیں گے کہ رات دن یہوواہ کی خدمت کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ کیا آپ یہ سوچیں گے کہ ابھی خاتمہ آنے میں وقت ہے تو کیوں نہ کچھ پیسہ بنائیں یا پھر گھر اور گاڑی خریدیں؟—عبرانیوں ۱۰:۳۶-۳۸۔
ہم یہوواہ کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ آخری گھڑی میں صرف دکھاوے کیلئے یہوواہ کی خدمت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ کتنی اچھی بات ہے کہ ہم اِس دُنیا کے ختم ہونے کی تاریخ نہیں جانتے۔ تاریخ نہ جاننے سے ہمیں یہ ظاہر کرنے کا موقع ملتا ہے کہ ہم خدا کی خدمت صرف نیکنیتی سے کر رہے ہیں۔ آئیے ہم خودغرضی سے نہیں بلکہ پورے دل سے یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں۔—یرمیاہ ۱۷:۱۰؛ عبرانیوں ۴:۱۳۔
اپنی زندگی میں یہوواہ کی خدمت کو سب سے پہلا درجہ دیں۔ دولت کمانے کے خواب مت دیکھیں۔ صرف روٹی کپڑے اور مکان کیلئے ملازمت کریں۔ (افسیوں ۴:۲۸؛ ۱-تیمتھیس ۶:۷-۱۲) تفریح میں شامل ہوں مگر دُنیا کے لوگوں کی طرح اِسکے پیچھے نہ بھاگیں۔ (مرقس ۶:۳۱؛ رومیوں ۱۲:۲) یسوع مسیح کی طرح یہوواہ کی خدمت مرتے دم تک کرتے رہیں۔—زبور ۳۷:۴؛ ۴۰:۸۔
تو پھر دُنیا کا خاتمہ چاہے جب بھی آئے آپ یہوواہ کی خدمت کرتے رہیں اور اُسکا ہاتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ پھر آپ یہوواہ کی برکتیں حاصل کرینگے۔
[صفحہ ۱۵ پر بکس/تصویر]
یہوواہ کی حکومت پر جھوٹا الزام
اکثر لوگ پوچھتے ہیں کہ خدا ہمیں دُکھ تکلیفوں سے چھٹکارا کیوں نہیں دیتا؟ اِس سوال کے جواب کیلئے ہمیں شروع میں جوکچھ باغِعدن میں واقعہ ہوا اُس پر تفصیل سے غور کرنا ہوگا۔
یہوواہ خدا اِس زمین اور آسمان کا خالق ہے اور اُسی نے ہمیں بھی بنایا ہے۔ لہٰذا، وہی انسان پر حکمرانی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ مگر یہوواہ خدا کے دُشمن شیطان نے اُس کی حکومت پر سوال اُٹھایا ہے۔ اُس نے آدم اور حوا سے کہا کہ انسان کو یہوواہ کی حکومت کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنی مرضی کے مطابق رہ سکتے ہیں اور ایسا کرنے کا انجام بُرا نہیں ہوگا۔ بلکہ یہوواہ خدا سے آزاد ہوکر وہ خوش رہینگے۔ اِس طرح سے شیطان نے یہوواہ کی حکومت کو للکارا۔—پیدایش، ۲ اور ۳ باب۔
اگر یہوواہ خدا چاہتا تو اِن تینوں کو اُسی وقت ختم کر سکتا تھا۔ ایسا کرنے سے اُسکی طاقت کا ثبوت تو مل جاتا لیکن جو سوال شیطان نے کھڑا کِیا تھا اُسکا جواب نہ ملتا۔ اِسلئے اِن تینوں کو ختم کرنے کی بجائے یہوواہ نے اپنی مخلوق کو اِس بغاوت کا نتیجہ دیکھنے کیلئے وقت دیا۔ اِس وقت کے دوران انسان کو کافی دُکھ اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں کیونکہ انسانی حکومتیں انسان پر حکمرانی کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
اِس وقت کے دوران یہوواہ خدا نے یسوع مسیح کی قربانی کا بندوبست کِیا تاکہ ہم گُناہ اور موت سے بچ سکیں۔ ہم گُناہ اور موت سے اُس وقت بچ سکیں گے جب ہم یہوواہ کا حکم مانیں گے اور یسوع کی قربانی پر ایمان لائیں گے۔ اِس قربانی کی وجہ سے اب ہم نئی دُنیا کی اُمید رکھ سکتے ہیں اور اگر ہم مر بھی جائیں تو یہوواہ ہمیں موت کی گرفت سے آزاد کرکے زندہ کر سکتا ہے۔
آپ کس کی طرف ہیں؟ شیطان کی طرف یا یہوواہ خدا کی طرف؟ یہ فیصلے کا وقت ہے۔ اگر آپ یہوواہ کی طرف ہیں تو اِسے اپنی زندگی سے ظاہر کرنے کی ضرورت ہے۔ بہت جلد یہوواہ اِس مسئلے کو ختم کرنے والا ہے۔ اِسکے بعد ہی ساری دُنیا میں امن اور چین ہوگا۔a
[فٹنوٹ]
a اِن مسائل اور اِن سے پیدا ہونے والی حالتوں پر یہوواہ کے گواہوں کی شائعکردہ کتاب یہوواہ کے نزدیک جائیں میں تفصیلی باتچیت کی گئی ہے۔
[تصویر]
سب حکومتوں کو ختم کِیا جائیگا