وہ کون ہیں؟
یہوواہ کے گواہ چاہتے ہیں کہ آپ اُن سے بہتر طور پر واقف ہو جائیں۔ آپ شاید اُن سے پڑوسیوں اور ساتھی ملازمین کے طور پر یا روزمرّہ زندگی کے دیگر اُمور میں ملے ہوں۔ شاید آپ نے اُنہیں گلیوں اور بازاروں میں راہگیروں کو رسالے پیش کرتے دیکھا ہو۔ یا شاید آپ نے اُن سے اپنے دروازے پر مختصراً باتچیت کی ہو۔
دراصل، یہوواہ کے گواہ آپ اور آپکی فلاح میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ آپکے دوست بننا چاہتے ہیں اور آپکو اپنی، اپنے اعتقادات اور اپنی تنظیم کی بابت بتانے کے علاوہ آپ پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ لوگوں اور اس دُنیا کے متعلق کیسا محسوس کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کیلئے، اُنہوں نے آپ کیلئے یہ بروشر تیار کِیا ہے۔
یہوواہ کے گواہ عام لوگ ہیں۔ اُنہیں بھی معاشی، جسمانی، جذباتی مسائل درپیش ہیں۔ وہ بھی غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ وہ کامل یا غلطی سے مبرا نہیں ہیں اور اُنہیں کوئی الہام بھی نہیں ہوتا۔ تاہم وہ اپنے تجربات سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ضروری تبدیلیاں پیدا کرنے کیلئے مستعدی کیساتھ بائبل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اُنہوں نے خدا کی مرضی بجا لانے کی خاطر خود کو مخصوص کِیا ہے اور وہ اس مخصوصیت پر پورا اُترنے کیلئے پوری کوشش کرتے ہیں۔ اپنی تمام کارگزاریوں میں وہ خدا کے کلام اور اُس کی رُوحالقدس کی راہنمائی کے طالب رہتے ہیں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اُنکے اعتقادات انسانی قیاسآرائیوں یا مذہبی عقائد کی بجائے بائبل پر مبنی ہوں۔ وہ پولس رسول جیسا رُجحان رکھتے ہیں جس نے زیرِالہام خود اظہار کِیا تھا: ”خدا سچا ٹھہرے اور ہر ایک آدمی جھوٹا۔“ (رومیوں ۳:۴)a بائبل سچائی کے سلسلے میں گواہ پُرزور طریقے سے بیریہ کے لوگوں کی روِش پر چلتے ہیں جنہوں نے پولس رسول کی منادی کو سنا تھا: ”اُنہوں نے بڑے شوق سے کلام کو قبول کِیا اور روزبروز کتابِمقدس میں تحقیق کرتے تھے کہ آیا یہ باتیں اِسی طرح ہیں۔“ (اعمال ۱۷:۱۱) مذہبی تعلیمات کے سلسلے میں یہوواہ کے گواہ یقین رکھتے ہیں کہ انہیں الہامی صحائف کیساتھ ہمآہنگ ہونا چاہئے، خواہ وہ اُنکی تعلیم ہو یا کسی دوسرے کی۔ وہ آپکو اپنے ساتھ اپنی باتچیت میں ایسا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
اس بات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہوواہ کے گواہ بائبل کو خدا کا کلام مانتے ہیں۔ وہ اسکی ۶۶ کتابوں کو الہامی اور تاریخی لحاظ سے درست خیال کرتے ہیں۔ وہ نئے عہدنامے کو مسیحی یونانی صحائف اور پُرانے عہدنامے کو عبرانی صحائف کہتے ہیں۔ وہ یونانی اور عبرانی دونوں صحائف پر ایمان رکھتے ہیں اور اُنہیں حقیقی خیال کرتے ہیں ماسوائے ان مقامات کے جہاں اظہارات یا پسمنظر صاف طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ رمزی یا علامتی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بائبل کی بہت سی پیشینگوئیاں پوری ہو چکی ہیں، کچھ تکمیلپذیر ہیں اور باقی پوری ہونے والی ہیں۔
اُن کا نام
یہوواہ کے گواہ؟ جیہاں، وہ خود کو اِسی طرح متعارف کراتے ہیں۔ یہ ایک توصیفی نام ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہوواہ، اس کی معبودیت اور اس کے مقاصد کے متعلق گواہی دیتے ہیں۔ ”خدا،“ ”خداوند“ اور ”خالق“—”صدر،“ ”بادشاہ“ اور ”جرنیل“ کی طرح—القاب ہیں اور بعض مختلف شخصیات کیلئے استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن ”یہوواہ“ ذاتی نام ہے اور قادرِمطلق خدا اور کائنات کے خالق کے لئے استعمال کِیا جاتا ہے۔ جیسے کہ زبور ۸۳:۱۸ میں ظاہر کِیا گیا ہے: ”تاکہ وہ جان لیں کہ تُو ہی جس کا نام یہوؔواہ ہے تمام زمین پر بلندوبالا ہے۔“
نام یہوواہ (یا یاوے جیسےکہ رومن کیتھولک جیروصلم بائبل اور بعض علما ترجیح دیتے ہیں) اصلی عبرانی صحائف میں تقریباً ۷،۰۰۰ مرتبہ ظاہر ہوتا ہے۔ بیشتر بائبل ترجمے اسے اسطرح ظاہر نہیں کرتے بلکہ اس کی جگہ ”خدا“ یا ”خداوند“ استعمال کرتے ہیں۔ تاہم، بائبل کے ان انگریزی ترجموں سے ایک شخص عام طور پر بتا سکتا ہے کہ اصلی عبرانی متن میں نام یہوواہ کہاں پر استعمال کِیا گیا ہے کیونکہ ان جگہوں پر متبادل الفاظ LORD ،GOD کو جلی حروف میں لکھا گیا ہے۔ کئی جدید ترجمے نام یہوواہ یا یاوے استعمال کرتے ہیں۔ پس اُردو ریوائزڈ ورشن میں یسعیاہ ۴۲:۸ میں اس طرح بیان کِیا جاتا ہے، ”یہوؔواہ مَیں ہوں۔ یہی میرا نام ہے۔“
یہوواہ کے گواہ اپنے نام کے سلسلے میں یسعیاہ کے ۴۳ویں باب سے صحیفائی اظہار استعمال کرتے ہیں۔ اِس میں عالمی منظر کو عدالتی کارروائی کے طور پر پیش کِیا گیا ہے: قوموں کے معبودوں کو دعوت دی گئی ہے کہ راستی کی خاطر دائرکردہ اپنے مقدمات کو ثابت کرنے کیلئے اپنے گواہوں کو پیش کریں یا یہوواہ کی طرف سے اُسکے گواہوں کی گواہی کو سنکر سچائی کو تسلیم کریں۔ یہاں یہوواہ اپنے لوگوں سے کہتا ہے: ”[یہوواہ] فرماتا ہے تم میرے گواہ ہو اور میرا خادم بھی جسے مَیں نے برگزیدہ کِیا تاکہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ اور سمجھو کہ مَیں وہی ہوں۔ مجھ سے پہلے کوئی خدا نہ ہوا اور میرے بعد بھی کوئی نہ ہوگا۔ مَیں ہی یہوؔواہ ہوں اور میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔“—یسعیاہ ۴۳:۱۰، ۱۱۔
یہوواہ خدا زمین پر یسوع کی پیدائش سے پہلے ہزارہا سالوں سے گواہ رکھتا تھا۔ عبرانیوں ۱۱ باب میں ان ایماندار آدمیوں میں سے کچھ کی بابت بتانے کے بعد، عبرانیوں ۱۲:۱ کہتی ہے: ”پس جب کہ گواہوں کا ایسا بڑا بادل ہمیں گھیرے ہوئے ہے تو آؤ ہم بھی ہر ایک بوجھ اور اُس گناہ کو جو ہمیں آسانی سے اُلجھا لیتا ہے دُور کرکے اُس دوڑ میں صبر سے دوڑیں جو ہمیں درپیش ہے۔“ یسوع نے پُنطیُس پیلاطُس سے کہا تھا: ”مَیں اِس لئے پیدا ہؤا اور اِس واسطے دُنیا میں آیا ہُوں کہ حق پر گواہی دوں۔“ اسے ”سچا اور برحق گواہ“ کہا گیا ہے۔ (یوحنا ۱۸:۳۷؛ مکاشفہ ۳:۱۴) یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا: ”جب رُوحالقدس تُم پر نازل ہوگا تو تُم قوت پاؤگے اور یرؔوشلیم اور تمام یہوؔدیہ اور ساؔمریہ میں بلکہ زمین کی انتہا تک میرے گواہ ہوگے۔“—اعمال ۱:۸۔
پس، آجکل کوئی ۶۰،۰۰،۰۰۰ لوگ، ۲۳۰ سے زیادہ ممالک میں یہوواہ کی مسیحائی بادشاہت کی خوشخبری سنا رہے ہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ صحیح طریقے سے خود کو یہوواہ کے گواہوں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
[فٹنوٹ]
a جبتک ظاہر نہ کِیا گیا ہو، اس بروشر میں بائبل کے اقتباسات اُردو ریوائزڈ ورشن سے لئے گئے ہیں۔
[صفحہ ۴ پر عبارت]
وہ خدا کی مرضی بجا لانے کی خاطر اُس کیلئے مخصوص ہیں
[صفحہ ۴ پر عبارت]
وہ بائبل کو خدا کا کلام خیال کرتے ہیں
[صفحہ ۵ پر عبارت]
نام سے متعلق عدالتی کارروائی
[صفحہ ۵ پر عبارت]
کوئی ۶۰،۰۰،۰۰۰ گواہ ۲۳۰ سے زیادہ ممالک میں خدمت انجام دے رہے ہیں
[صفحہ ۳ پر تصویر]
وہ آپ میں دلچسپی رکھتے ہیں
[صفحہ ۴ پر تصویر]
قدیم عبرانی میں خدا کا ذاتی نام