اُن کی جدید اِرتقا اور ترقی
یہوواہ کے گواہوں کی جدید تاریخ کے آغاز کو کوئی سو سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ ایک غیرمعروف گروپ نے ۱۸۷۰ کے عشرے کے اوائل میں، ایلیگنی، پینسلوانیہ، یو.ایس.اے. میں بائبل مطالعے کا کام شروع کِیا جوکہ اب پٹسبرگ کا حصہ ہے۔ اس گروپ میں چارلس ٹیز رسل پیشپیش تھا۔ جولائی ۱۸۷۹ میں، زائنز واچ ٹاور اینڈ ہیرلڈ آف کرائسٹس پریزنس رسالے کا پہلا شمارہ منظرِعام پر آیا۔ بائبل کا مطالعہ کرنے والے اس چھوٹے سے گروہ کی بدولت ۱۸۸۰ تک متعدد کلیسیائیں قریبی ریاستوں میں پھیل چکی تھیں۔ زائنز واچ ٹاور ٹریکٹ سوسائٹی کو ۱۸۸۱ میں تشکیل دیا گیا تھا اور ۱۸۸۴ میں اُسے ایک انکارپوریٹڈ کمپنی بنا کر رسل کو اِسکا صدر بنا دیا گیا تھا۔ بعدازاں، سوسائٹی کا نام تبدیل کرکے واچ ٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی رکھ دیا گیا تھا۔ بہتیرے لوگ بائبل لٹریچر پیش کرتے ہوئے گھرباگھر کی گواہی دے رہے تھے۔ سن ۱۸۸۸ میں پچاس لوگ اِس کام کو ہمہوقت کر رہے تھے—اب پوری دنیا میں کُلوقتی کارندوں کی اوسط تعداد کوئی ۷،۰۰،۰۰۰ ہے۔
یہ کام ۱۹۰۹ تک بینالاقوامی شکل اختیار کر چکا تھا اور سوسائٹی کے ہیڈکوارٹرز کو اسکی موجودہ جگہ بروکلن، نیو یارک میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ اُس وقت چھپے ہوئے وعظ اخبارات میں شائع کئے گئے تھے اور ۱۹۱۳ تک یہ ریاستہائےمتحدہ، کینیڈا، اور یورپ میں ہزاروں اخبارات میں چار زبانوں میں شائع ہو رہے تھے۔ لاکھوں کی تعداد میں کتابیں، کتابچے اور اشتہار تقسیم کئے جا چکے تھے۔
”فوٹو ڈرامہ آف کریئیشن“ پر ۱۹۱۲ میں کام شروع کِیا گیا۔ آواز کے ساتھ سلائیڈز اور موشن پکچرز کے ذریعے اس نے زمینی تخلیق سے لیکر مسیح کی ہزارسالہ حکمرانی کے خاتمے تک کا احاطہ کِیا۔ نمائش ۱۹۱۴ میں شروع ہوئی اور روزانہ تقریباً ۳۵،۰۰۰ لوگ اِسے دیکھتے تھے۔ آواز کیساتھ موشن پکچرز کے میدان میں یہ ایک نقطۂانقلاب تھا۔
۱۹۱۴ کا سال
ایک تشویشناک دَور شروع ہونے والا تھا۔ بائبل طالبعلم چارلس ٹیز رسل نے ۱۸۷۶ میں بائبل ایگزیمینر کے لئے مضمون لکھا ”غیرقوموں کی میعاد: کب ختم ہوتی ہے؟“ جسے بروکلن، نیو یارک میں شائع کِیا گیا، جس نے اپنے اکتوبر کے شمارے کے صفحہ ۲۷ پر کہا، ”سات دَور ۱۹۱۴ سن عیسوی میں ختم ہونگے۔“ غیرقوموں کی میعاد وہ عرصہ ہے جسکا ذکر یسوع نے لوقا کی انجیل میں کیا۔ (لوقا ۲۱:۲۴) وہ سب باتیں جنکے وقوع کی ۱۹۱۴ میں توقع کی گئی تھی اُس وقت تو واقع نہ ہوئیں لیکن اس نے غیرقوموں کی میعاد کے خاتمے کی نشاندہی ضرور کر دی جس سے یہ خاص اہمیت کا سال ثابت ہوا۔ بہت سے مؤرخین اور مبصرین اِس بات سے متفق ہیں کہ ۱۹۱۴ کا سال انسانی تاریخ میں ایک نقطۂانقلاب تھا۔ درجذیل اقتباسات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں:
”تاریخ کا آخری ’نارمل‘ سال ۱۹۱۳ کا تھا جو پہلی عالمی جنگ شروع ہونے سے پہلے کا سال تھا۔“—ٹائمز ہیرلڈ، واشنگٹن، ڈی.سی. مارچ ۱۳، ۱۹۴۹ کا اداریہ۔
”مؤرخین سن ۱۹۱۴ سے لیکر ۱۹۸۹ تک کے ۷۵ سال کی مدت کو ایک نئے اور منفرد دَور کا آغاز خیال کرتے ہیں، جس میں دو عالمی جنگیں اور ایک سرد جنگ ہوئی، ایک مختلف وقت جس میں دُنیا کے بیشتر لوگ جنگ لڑنے، جنگی نقصان کی تلافی یا جنگ کی تیاری کرنے میں مصروف تھے۔“—دی نیو یارک ٹائمز، مئی ۷، ۱۹۹۵۔
”پہلی عالمی جنگ کے قریب تمام دُنیا واقعی بھک سے اُڑ گئی اور ہمیں ابھی تک اِسکی وجہ معلوم نہیں ہے۔ اس سے پہلے، آدمیوں نے سوچا تھا کہ مثالی دُنیا قریب تھی۔ امن اور خوشحالی کا دَور تھا۔ اس کے بعد ہر چیز یکسر بدل گئی۔ اُس وقت سے ہم پر سکتہ طاری ہے۔ . . . پوری تاریخ کی نسبت اس صدی میں زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔“—ڈاکٹر واکر پرسی، امریکن میڈیکل نیوز، نومبر ۲۱، ۱۹۷۷۔
جرمن مُدبّر کونراڈ ایڈینار نے ۱۹۱۴ سے کوئی ۵۰ سال بعد لکھا: ”۱۹۱۴ سے لیکر امنوامان اور آرامواطمینان انسانوں کی زندگیوں سے کافور ہو گیا ہے۔“—دی ویسٹ پارکر، کلیولینڈ، اوہائیو، جنوری ۲۰، ۱۹۶۶۔
سوسائٹی کے پہلے صدر، سی. ٹی. رسل نے ۱۹۱۶ میں وفات پائی اور دوسرے سال جوزف ایف. روتھرفورڈ نے انکی جگہ لے لی۔ بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ دی واچٹاور (مینارِنگہبانی) کے ایک ساتھی رسالے دی گولڈن ایج (سنہری دَور) کو متعارف کرایا گیا تھا۔ (جو اَب اویک! (جاگو!) کہلاتا ہے اور اِسکی ۸۰ سے زیادہ زبانوں میں اوسط اشاعت ۲،۰۰،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ ہے۔) گھرباگھر کی گواہی پر زیادہ زور دیا گیا۔ ان مسیحیوں نے خود کو مسیحی دنیا کے فرقوں سے الگ کرنے کیلئے ۱۹۳۱ میں اپنے لئے نام یہوواہ کے گواہ اختیار کِیا۔ یہ نام یسعیاہ ۴۳:۱۰-۱۲ پر مبنی ہے۔
۱۹۲۰ اور ۱۹۳۰ کے عشروں میں ریڈیو کو بھی وسیع پیمانے پر استعمال کِیا گیا تھا۔ سوسائٹی بائبل تقاریر نشر کرنے کے لئے ۱۹۳۳ تک ۴۰۳ ریڈیو سٹیشن استعمال کر رہی تھی۔ بعدازاں، ریڈیو کی بجائے گواہوں نے گھرباگھر کی ملاقاتوں کے دوران پورٹیبل فونوگرافز اور ریکارڈشُدہ تقاریر کے ذریعے خوشخبری پھیلانا شروع کر دی۔ بائبل سچائی میں دلچسپی لینے والے ہر شخص کے ساتھ گھریلو بائبل مطالعے شروع کئے گئے تھے۔
عدالتی فتوحات
منادی کے کام کی وجہ سے ۱۹۳۰ اور ۱۹۴۰ کے عشروں کے دوران، بہت سے گواہوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں اور نشرواشاعت اور مذہبی آزادی کے لئے مقدمات لڑے گئے۔ ریاستہائےمتحدہ میں، چھوٹی عدالتوں سے اپیلیں، ریاستہائےمتحدہ کی سپریم کورٹ کے سامنے گواہوں کے ۴۳ مقدمات جیتنے پر منتج ہوئیں۔ اسی طرح سے، دیگر ممالک میں بھی اعلیٰ عدالتوں نے موافق فیصلے سنائے۔ ان عدالتی فتوحات کی بابت، پروفیسر سی. ایس. بریڈن نے اپنی کتاب دیز آلسو بیلیو (یہ بھی یقین رکھتے ہیں) میں گواہوں کی بابت کہا: ”اُنہوں نے شہری حقوق حاصل کرنے کیلئے اپنی جدوجہد کے ذریعے جمہوریت کیلئے نمایاں خدمت انجام دی ہے کیونکہ اپنی جدوجہد میں انہوں نے امریکہ میں ہر اقلیتی گروہ کیلئے اُن حقوق کو حاصل کرنے کیلئے بہت کچھ کِیا ہے۔“
خاص تربیتی پروگرام
جے. ایف. روتھرفورڈ نے ۱۹۴۲ میں وفات پائی اور این. ایچ. نار نے اُن کی جگہ صدارت سنبھالی۔ ایک متحدہ تربیتی پروگرام شروع ہوا۔ مشنریوں کے لئے ۱۹۴۳ میں ایک سپیشل ٹریننگ سکول قائم کِیا گیا جو واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ کہلاتا ہے۔ ۱۹۴۳ سے لیکر، اس سکول سے فارغالتحصیل ہونے والے لوگوں کو دُنیا کے مختلف ممالک میں بھیجا گیا ہے۔ ایسے ممالک میں نئی کلیسیائیں تشکیل دی گئی ہیں جہاں پر پہلے کوئی کلیسیا نہیں تھی اور بینالاقوامی سطح پر برانچ دفاتر قائم کئے گئے ہیں جنکی تعداد اب ۱۰۰ سے زیادہ ہے۔ وقتاًفوقتاً، کلیسیائی بزرگوں، برانچ دفاتر میں کام کرنے والے رضاکاروں اور (پائنیروں کے طور پر) گواہی دینے کے کام میں پورا وقت حصہ لینے والوں کیلئے خاص تربیتی کورس ترتیب دئے گئے ہیں۔ خادموں کو خاص قسم کی تعلیم فراہم کرنے کیلئے پیٹرسن، نیو یارک میں ایک تعلیمی ادارہ قائم کِیا گیا ہے۔
این. ایچ. نار نے ۱۹۷۷ میں وفات پائی۔ اپنی وفات سے پہلے تنظیمی تبدیلیوں میں سے آخری گورننگ باڈی میں توسیع تھی، جس میں انہوں نے حصہ لیا، جو عالمی ہیڈکوارٹرز، بروکلن میں موجود ہے۔ انتظامی ذمہداریوں کو ۱۹۷۶ میں مزید تقسیم کر کے گورننگ باڈی کے ارکان پر مشتمل مختلف کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا جو خادموں کے طور پر کئی عشروں کا تجربہ رکھتے ہیں۔
چھپائی کی سہولیات میں توسیع
جدید زمانے میں یہوواہ کے گواہوں کی تاریخ ڈرامائی واقعات سے پُر رہی ہے۔ پینسلوانیہ میں، ۱۸۷۰ میں، بائبل مطالعے کے ایک چھوٹے سے گروہ سے گواہوں کی تعداد ۲۰۰۰ سال تک تمام دنیا میں تقریباً ۹۰،۰۰۰ کلیسیاؤں تک بڑھ گئی ہے۔ شروع شروع میں، تمام لٹریچر کی چھپائی تجارتی کمپنیوں سے کرائی جاتی تھی؛ اس کے بعد، ۱۹۲۰ میں، گواہوں نے کرائے کی فیکٹری بلڈنگز میں کچھ لٹریچر تیار کِیا۔ لیکن ۱۹۲۷ سے لیکر، بروکلن، نیو یارک میں آٹھ منزلہ فیکٹری بلڈنگ میں بہت سا لٹریچر تیار ہونے لگا جو واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی آف نیو یارک، انکارپوریٹڈ کی ملکیت ہے۔ اب اِسکی توسیع دوسری فیکٹری بلڈنگز اور ایک آفس کمپلیکس میں کر دی گئی ہے۔ بروکلن میں چھپائی کی سہولیات کو چلانے کیلئے رضاکاروں کی رہائش کا انتظام کرنے کیلئے قریب ہی اَور بھی عمارتیں ہیں۔ اسکے علاوہ، نیو یارک سٹیٹ کے شمال میں والکل کے نزدیک ایک فارم اور چھاپہخانہ ہے۔ یہ مینارِنگہبانی اور جاگو! رسالوں کی اشاعت کا کام انجام دیتا ہے اور مختلف جگہوں پر خدمت کرنے والے خادموں کیلئے کچھ خوراک پیدا کرتا ہے۔ ہر رضاکار ضمنی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے ہر ماہ تھوڑا سا وظیفہ حاصل کرتا ہے۔
انٹرنیشنل کنونشنیں
پہلا بڑا کنونشن ۱۸۹۳ میں شکاگو، ایلینوائس، یو.ایس.اے. میں منعقد کِیا گیا تھا۔ اس پر ۳۶۰ لوگ حاضر ہوئے تھے اور ۷۰ نئے اشخاص نے بپتسمہ لیا تھا۔ آخری بڑا انٹرنیشنل کنونشن نیو یارک شہر میں ۱۹۵۸ میں منعقد ہوا تھا۔ اس کیلئے یانکی سٹیڈیم اور سابقہ پولو گراؤنڈ دونوں کو استعمال کِیا گیا۔ انتہائی حاضری ۲،۵۳،۹۲۲ تھی؛ بپتسمہ پانے والے نئے اشخاص کی تعداد ۷،۱۳۶ تھی۔ اُس وقت سے لیکر انٹرنیشنل کنونشنیں بہت سے ممالک میں ایک سلسلے کے طور پر منعقد کئے گئے ہیں۔ تمام دُنیا میں منعقد کئے جانے والے اِن سلسلہوار کنونشنوں کی مجموعی تعداد ایک ہزار تک ہو سکتی ہے۔
[صفحہ ۸ پر عبارت]
شہری آزادیوں کیلئے ایک نمایاں خدمت
[صفحہ ۶ پر تصویر]
”مینارِنگہبانی،“ کی اشاعت ایک زبان میں ۶،۰۰۰ سے بڑھکر ۱۳۲ سے زیادہ زبانوں میں ۲۲،۰۰۰،۰۰۰ سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے
[صفحہ ۷ پر تصویر]
انسانی تاریخ میں ایک نقطۂانقلاب
[صفحہ ۱۰ پر صرف تصویر ہے]