حصہ ۹
جسطرح ہم جانتے ہیں کہ ہم ”اخیر زمانہ“ میں ہیں
۱، ۲. ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ آیا ہم اخیر زمانہ میں ہیں؟
ہمکیسے یقین رکھ سکتے ہیں کہ ہم ایک ایسے وقت میں رہ رہے ہیں جب خدا کی بادشاہت انسانی حکمرانی کے اس موجودہ نظام کے خلاف کارروائی کریگی؟ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ ہم اس وقت کے بالکل قریب ہیں جب خدا تمام شرارت اور تکلیف کا خاتمہ کریگا؟
۲ یسوؔع مسیح کے شاگرد ان باتوں کو جاننا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس سے پوچھا تھا کہ بادشاہتی اختیار میں اس کی موجودگی اور ”دنیا کے آخر ہونے کا نشان“ کیا ہوگا۔ (متی ۲۴:۳) یسوؔع نے دنیا کو ہلا دینے والے واقعات اور ان حالات کی تفصیلات دیتے ہوئے جواب دیا جو مِل کر ظاہر کریں گے کہ بنیآدم اس دنیا کے ”خاتمہ کے وقت،“ ”اخیر زمانہ“ میں داخل ہو چکے ہیں۔ (دانیایل ۱۱:۴۰؛ ۲-تیمتھیس ۳:۱) کیا ہم نے اس صدی میں اس مرکب نشان کو دیکھ لیا ہے؟ جیہاں، ہم نے اسے بخوبی دیکھا ہے!
عالمی جنگیں
۳، ۴. اس صدی کی جنگیں کسطرح سے یسوؔع کی پیشینگوئی کے مطابق ہیں؟
۳ یسوؔع نے پیشینگوئی کی تھی کہ ’قوم پر قوم اور سلطنت پر سلطنت چڑھائی کریگی۔‘ (متی ۲۴:۷) ۱۹۱۴ میں دنیا ایک جنگ میں اُلجھ گئی جس نے قوموں اور سلطنتوں کو ایک ایسے طریقے سے فوجوں کو حرکت میں لاتے دیکھا جو اس سے پہلے کی کسی بھی جنگ سے مختلف تھا۔ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے، اس وقت تاریخدانوں نے اسے جنگِعظیم کا نام دیا۔ یہ تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی جنگ تھی، پہلی عالمی جنگ۔ تقریباً ۲۰،۰۰۰،۰۰۰ یعنی کسی بھی گزشتہ جنگ سے کہیں زیادہ فوجیوں اور شہریوں نے اپنی زندگیاں گنوا دیں۔
۴ پہلی عالمی جنگ نے آخری ایام کی نشاندہی کر دی۔ یسوؔع نے کہا تھا کہ یہ اور دوسرے واقعات ”مصیبتوں کا شروع ہی“ ہونگے۔ (متی ۲۴:۸) یہ سچ ثابت ہوا تھا، چونکہ دوسری عالمی جنگ اور زیادہ جانلیوا تھی، کوئی ۵۰،۰۰۰،۰۰۰ فوجیوں اور شہریوں نے اپنی زندگیاں گنوا دیں۔ اس ۲۰ ویں صدی میں ۱۰۰،۰۰۰،۰۰۰ سے زیادہ لوگ جنگوں میں مارے گئے ہیں جو کہ گزشتہ ۴۰۰ سالوں کے مجموعی اعدادوشمار سے بھی چار گنا زیادہ ہیں! انسانی حکمرانی کی مذمت کرنے کی کیا ہی بڑی وجہ!
دوسری شہادتیں
۵-۷. بعض دوسری شہادتیں کیا ہیں کہ ہم اخیر زمانہ میں ہیں؟
۵ یسوؔع نے دوسری خصوصیات کو شامل کیا جو اخیر زمانہ کے ساتھ ساتھ واقع ہونگی: ”اور بڑے بڑے بھونچال آئینگے اور جابجا کال اور مری [بیماری کی وبائیں] پڑیگی۔“ (لوقا ۲۱:۱۱) یہ ۱۹۱۴ سے لیکر واقعات کے عین مطابق ہے، چونکہ ایسی آفات سے مصیبتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
۶ بڑے بڑے بھونچال معمول کے واقعات ہیں، جو بہتیری زندگیاں لے رہے ہیں۔ صرف سپینش انفلوئنزا نے ہی پہلی عالمی جنگ کے بعد تقریباً ۲۰،۰۰۰،۰۰۰ لوگوں کو ہلاک کر دیا—بعض اندازے ۳۰،۰۰۰،۰۰۰ یا زیادہ کے ہیں۔ ایڈز نے لاکھوں کی زندگیاں لے لی ہیں اور مستقبل قریب میں مزید لاکھوں زندگیاں لے سکتی ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ دل کے امراض، کینسر، اور دوسری بیماریوں کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ مزید لاکھوں لوگ بھوک کی سُسترو موت مرتے ہیں۔ بلاشُبہ، ۱۹۱۴ سے لیکر ’مکاشفہ کے گُھڑسوار‘ اپنی جنگوں، خوراک کی قلّت، اور بیماری کی وباؤں کیساتھ انسانی خاندان کی ایک بڑی تعداد کا قلعقمع کرتے رہے ہیں۔—مکاشفہ ۶:۳-۸۔
۷ یسوؔع نے جرم میں اضافے کی پیشینگوئی بھی کی تھی جس کا تمام ممالک کو تجربہ ہوا ہے۔ اس نے کہا تھا: ”اور بیدینی کے بڑھ جانے سے بہتیروں کی محبت ٹھنڈی پڑ جائیگی۔“—متی ۲۴:۱۲۔
۸. ۲-تیمتھیس ۳ باب کی پیشینگوئی کس طرح سے ہمارے زمانے کے مطابق ہے؟
۸ علاوہازیں، بائبل پیشینگوئی نے اخلاقی پستی کی پیشینگوئی بھی کی جو آجکل تمام دنیا میں خوب واضح ہے: ”اخیر زمانہ میں بُرے دن آئینگے۔ کیونکہ آدمی خودغرض۔ زردوست۔ شیخیباز۔ مغرور۔ بدگو۔ ماں باپ کے نافرمان۔ ناشکر۔ ناپاک۔ طبعی محبت سے خالی۔ سنگدل۔ تہمت لگانے والے۔ بےضبط۔ تندمزاج۔ نیکی کے دشمن۔ دغاباز۔ ڈھیٹھ۔ گھمنڈ کرنے والے۔ خدا کی نسبت عیشوعشرت کو زیادہ دوست رکھنے والے ہوں گے۔ وہ دینداری کی وضع تو رکھینگے مگر اس کے اثر کو قبول نہ کرینگے . . . بُرے اور دھوکاباز آدمی فریب دیتے اور فریب کھاتے ہوئے بگڑتے چلے جائینگے۔“ (۲-تیمتھیس ۳:۱-۱۳) یہ سب کچھ ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے سچ ثابت ہوا ہے۔
ایک اور عنصر
۹. آسمان پر کیا ہوا جو زمین پر آخری ایام کے شروع ہونے کے ساتھ ساتھ واقع ہوا تھا؟
۹ اس صدی کے دَوران ایک اور عنصر تکلیف میں بہت بڑے اضافے کا ذمہدار ہے۔ ۱۹۱۴ میں آخری ایام کی ابتدا کے ساتھ ساتھ بنیآدم کو اور بھی بڑے خطرے میں ڈالنے کے لئے کوئی بات واقع ہوئی۔ اس وقت، جیسے کہ بائبل کی آخری کتاب کی پیشینگوئی بیان کرتی ہے: ”آسمان پر لڑائی ہوئی۔ میکاؔئیل [آسمانی اختیار میں مسیح] اور اس کے فرشتے اژدہا [شیطان] سے لڑنے کو نکلے اور اژدہا اور اس کے فرشتے [شیاطین] ان سے لڑے۔ لیکن غالب نہ آئے اور اس کے بعد آسمان پر ان کے لئے جگہ نہ رہی۔ اور وہ بڑا اژدہا یعنی وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گرا دیا گیا اور اس کے فرشتے بھی اس کے ساتھ گرا دئے گئے۔“—مکاشفہ ۱۲:۷-۹۔
۱۰، ۱۱. جب شیطان اور اسکے شیاطین کو زمین پر پھینک دیا گیا تھا تو نسلِانسانی پر کیسا اثر پڑا؟
۱۰ انسانی خاندان کے لئے اس کے کیا نتائج تھے؟ پیشینگوئی مزید بیان کرتی ہے: ”اے خشکی اور تری تم پر افسوس! کیونکہ ابلیس بڑے قہر میں تمہارے پاس اتر کر آیا ہے۔ اس لئے کہ جانتا ہے کہ میرا تھوڑا ہی سا وقت باقی ہے۔“ جیہاں، شیطان جانتا ہے کہ اس کا نظام اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے، اس لئے اس سے پیشتر کہ اسکو اور اسکی دنیا کو راہ سے ہٹا دیا جائے وہ انسانوں کو خدا کے خلاف کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر رہا ہے جو وہ کر سکتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۲:۱۲؛ ۲۰:۱-۳) وہ روحانی مخلوق کتنے گھٹیا ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی کا غلط استعمال کیا! ان کے زیرِاثر زمین پر حالتیں، خاص طور پر ۱۹۱۴ سے کتنی دہشتناک رہی ہیں!
۱۱ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ یسوؔع نے ہمارے زمانے کی بابت پیشینگوئی کی تھی: ”زمین پر قوموں کو تکلیف ہوگی، . . . [وہ] گھبرا جائیں گی [”نکلنے کی راہ نہ جانتے ہوئے،“ اینڈبلیو] . . . ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلاؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہیگی۔“—لوقا ۲۱:۲۵، ۲۶۔
انسان اور شیاطین کی حکمرانی کا خاتمہ نزدیک
۱۲. اس نظام کے خاتمے سے پہلے پوری ہونے والی آخری پیشینگوئیوں میں سے ایک کونسی ہے؟
۱۲ اس سے پیشتر کہ خدا اس موجودہ نظام کو برباد کرے کتنی بائبل پیشینگوئیاں پوری ہونی باقی ہیں؟ بہت کم! آخری پیشینگوئیوں میں سے ایک ۱-تھسلنیکیوں ۵:۳ میں ہے جو بیان کرتی ہے: ”جس وقت وہ امن اور سلامتی کی بات کر رہے ہوتے ہیں، ان پر ناگہاں ہلاکت آ جاتی ہے۔“ ((دی نیو انگلش بائبل)) یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس نظام کا خاتمہ اس وقت شروع ہوگا ”جس وقت وہ . . . بات کر رہے ہوتے ہیں۔“ دنیا کی سمجھ میں آئے بغیر، تباہی اس وقت شروع ہو جائے گی جب اسکی توقع بہت کم ہوگی، جب انسانوں کی توجہ ان کے متوقع امن اور سلامتی پر ہوگی۔
۱۳، ۱۴ .یسوؔع نے مصیبت کے کس وقت کی پیشینگوئی کی تھی، اور یہ کیسے انجامپذیر ہوگی؟
۱۳ شیطان کے زیرِاثر اس دنیا کا وقت ختم ہو رہا ہے۔ مصیبت کے وقت میں یہ جلد اپنے خاتمے کو پہنچ جائیگی جسکی بابت یسوؔع نے کہا تھا: ”اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔“—متی ۲۴:۲۱۔
۱۴ ”بڑی مصیبت“ کا عروج خدا کی ہرمجدون کی لڑائی ہوگا۔ اسی وقت کی بابت دانیؔایل نبی نے کلام کیا تھا جب خدا ”ان تمام مملکتوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور نیست“ کرے گا۔ اس کا مطلب خدا سے خودمختار تمام موجودہ انسانی حکمرانیوں کا خاتمہ ہوگا۔ اس کے بعد آسمان سے اس کی بادشاہت تمام انسانی امور پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیگی۔ دانیؔایل نے پیشینگوئی کی کہ حکومت چلانے کا اختیار، پھر کبھی ”کسی دوسری قوم کے حوالہ“ نہ کیا جائیگا۔—دانیایل ۲:۴۴؛ مکاشفہ ۱۶:۱۴-۱۶۔
۱۵. شیطان اور اسکے شیاطین کے اثر کیساتھ کیا واقع ہوگا؟
۱۵ اس وقت شیطان اور شیاطین کا تمام اثرورسوخ بھی ختم ہو جائے گا۔ ان باغی روحانی مخلوقات کو راستے سے ہٹا دیا جائے گا تاکہ وہ ”قوموں کو پھر گمراہ“ نہ کر سکیں۔ (مکاشفہ ۱۲:۹؛ ۲۰:۱-۳) انہیں موت کی سزا سنا دی گئی ہے اور ہلاکت کے منتظر ہیں۔ ان کے گھٹیا اثر سے آزاد ہونا بنیآدم کے لئے کسقدر تسکین کا باعث ہوگا!
کون بچینگے؟ کون نہیں بچینگے؟
۱۶-۱۸. اس نظام کے خاتمے سے کون بچینگے، اور کون نہیں بچینگے؟
۱۶ جب اس دنیا کے خلاف خدا کے فیصلوں کی تعمیل ہو گی تو کون بچینگے؟ کون نہیں بچینگے؟ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ جو خدا کی حکمرانی چاہتے ہیں وہ محفوظ رکھے جائینگے اور بچینگے۔ جو خدا کی حکمرانی نہیں چاہتے وہ محفوظ نہیں رکھے جائینگے بلکہ شیطان کی دنیا کیساتھ ہی ختم کر دئے جائینگے۔
۱۷ امثال ۲:۲۱، ۲۲ کہتی ہیں: ”راستباز [وہ جو خدا کی حکمرانی کی اطاعت کرتے ہیں] ملک میں بسینگے اور کامل اس میں آباد رہیں گے۔ لیکن شریر [وہ جو خدا کی حکمرانی کی اطاعت نہیں کرتے] زمین پر سے کاٹ ڈالے جائینگے اور دغاباز اس سے اکھاڑ پھینکے جائینگے۔“
۱۸ زبور ۳۷:۱۰، ۱۱ بھی کہتی ہیں: ”تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا۔ . . . لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہیں گے۔“ ۲۹ آیت اضافہ کرتی ہے: ”صادق زمین کے وارث ہونگے اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“
۱۹. ہمیں کس نصیحت پر دل لگانا چاہیے؟
۱۹ ہمیں زبور ۳۷:۳۴ کی نصیحت پر دل لگانا چاہیے، جو بیان کرتی ہے: ”خداوند کی آس رکھ اور اسی کی راہ پر چلتا رہ اور وہ تجھے سرفراز کر کے زمین کا وارث بنائے گا۔ جب شریر کاٹ ڈالے جائینگے تو تُو دیکھے گا۔“ ۳۷ اور ۳۸ آیات (اینڈبلیو) کہتی ہیں: ”بےعیب آدمی پر نگاہ کر اور راستباز کو دیکھ، کیونکہ اس آدمی کا مستقبل پُرامن ہوگا۔ لیکن خطاکار اکٹھے مرمٹیں گے؛ شریروں کا مستقبل یقیناً برباد کر دیا جائیگا۔“
۲۰. ہم کیوں کہہ سکتے ہیں کہ زندہ رہنے کیلئے یہ زمانہ ہیجانخیز ہے؟
۲۰ یہ جاننا کتنا اطمینانبخش، بلکہ کتنا تحریک دینے والا ہے کہ خدا واقعی پرواہ کرتا ہے اور وہ جلد ہی تمام شرارت اور تکلیف کو ختم کریگا! یہ سمجھ لینا کتنا ہیجانخیز ہے کہ ان شاندار پیشینگوئیوں کی تکمیل میں بس تھوڑا ہی سا وقت رہ گیا ہے!
[صفحہ ۲۰ پر تصویر]
بائبل نے ایسے واقعات کی پیشینگوئی کی جو آخری ایام کے ”نشان“ کو تشکیل دینگے
[صفحہ ۲۲ پر تصویر]
عنقریب، ہرمجدون پر، وہ جو خدا کی حکمرانی کی اطاعت نہیں کرتے کاٹ ڈالے جائیں گے۔ وہ جو اطاعت کرتے ہیں بچ کر راستباز نئی دنیا میں داخل ہوں گے