حصہ ۱۱
نئی دنیا کی بنیاد کو اب تشکیل دیا جا رہا ہے
۱، ۲. بائبل پیشینگوئی کی تکمیل میں ہماری اپنی نظروں کے سامنے کیا واقع ہو رہا ہے؟
یہحقیقت بھی تعجبخیز ہے کہ شیطان کی اس پرانی دنیا کے زوالپذیر ہونے کے ساتھ ابھی سے خدا کی نئی دنیا کی بنیاد کو تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے ہی خدا سب قوموں میں سے لوگوں کو اکٹھا کر رہا ہے اور انہیں ایک نئے زمینی معاشرے کی بنیاد بنا رہا ہے جو جلد ہی آجکل کی غیرمتحد دنیا کی جگہ لے لیگا۔ بائبل میں ۲-پطرس ۳:۱۳ میں اس نئے معاشرے کو ”نئی زمین“ کا نام دیا گیا ہے۔
۲ بائبل پیشینگوئی یہ بھی کہتی ہے: ”آخری دنوں میں [وہ وقت جس میں ہم اب رہتے ہیں] . . . بہت سی امتیں آئینگی اور کہینگی آؤ خداوند کے پہاڑ [اس کی سچی پرستش] پر چڑھیں . . . اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائیگا اور ہم اس کے راستوں پر چلینگے۔“—یسعیاہ ۲:۲، ۳۔
۳. (ا) یسعیاؔہ کی پیشینگوئی کن لوگوں کے درمیان پوری ہو رہی ہے؟ (ب) بائبل کی آخری کتاب اس پر کیسے تبصرہ کرتی ہے؟
۳ وہ پیشینگوئی اب ان لوگوں کے درمیان پوری ہو رہی ہے جو ’خدا کی راہوں‘ کی اطاعت کرتے ’اور اس کے راستوں پر چلتے ہیں۔‘ بائبل کی آخری کتاب لوگوں کے اس امنپسند بینالاقوامی معاشرے کا ذکر ”ہر ایک قوم اور قبیلہ اور اُمت اور اہلِزبان کی ایک . . . بڑی بِھیڑ“ یعنی ایک حقیقی عالمگیر برادری کے طور پر کرتی ہے جو متحد طور پر خدا کی خدمت کرتی ہے۔ اور بائبل یہ بھی کہتی ہے: ”یہ وہی ہیں جو اس بڑی مصیبت میں سے نکل کر آئے ہیں۔“ یعنی وہ اس بدکار نظام کے خاتمے سے بچینگے۔—مکاشفہ ۷:۹، ۱۴؛ متی ۲۴:۳۔
ایک حقیقی بینالاقوامی برادری
۴، ۵. یہوؔواہ کے گواہوں کی عالمگیر برادری کیوں ممکن ہے؟
۴ لاکھوں یہوؔواہ کے گواہ خلوصدلی سے خدا کی راہوں اور اس کی ہدایات کی مطابقت میں زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابدی زندگی کی انکی اُمید خدا کی نئی دنیا میں لنگرانداز ہے۔ اپنی روزمرّہ کی زندگیوں کو خدا کے آئین کی فرمانبرداری میں گزارنے سے، وہ اب اور نئی دنیا، دونوں میں اس کے حکومت کرنے کے طریقے کی اطاعت کرنے کے لئے اپنی رضامندی کو اس پر ظاہر کرتے ہیں۔ وہ ہر جگہ اپنی قوم یا نسل سے قطعنظر ایک جیسے معیاروں کی تعمیل کرتے ہیں—جنہیں خدا نے اپنے کلام میں قائم کیا ہے۔ اسی وجہ سے وہ ایک حقیقی بینالاقوامی برادری، خدا کا بنایا ہوا ایک نیا عالمی معاشرہ ہیں۔—یسعیاہ ۵۴:۱۳؛ متی ۲۲:۳۷، ۳۸؛ یوحنا ۱۵:۹، ۱۴۔
۵ یہوؔواہ کے گواہ اپنے ایک بےمثال عالمگیر برادری ہونے کا سہرا اپنے سر نہیں لیتے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ ان لوگوں پر خدا کی طاقتور روح کے کام کرنے کا نتیجہ ہے جو اس کے آئین کی اطاعت کرتے ہیں۔ (اعمال ۵:۲۹، ۳۲؛ گلتیوں ۵:۲۲، ۲۳) یہ خدا کا کام ہے۔ جیسے کہ یسوؔع نے کہا، ”جو انسان سے نہیں ہو سکتا وہ خدا سے ہو سکتا ہے۔“ (لوقا ۱۸:۲۷) پس جس خدا نے ہمیشہ قائم رہنے والی کائنات کو ممکن بنایا یہ وہی ہے جو ہمیشہ قائم رہنے والے نئے عالمی معاشرے کو ممکن بناتا ہے۔
۶. یہوؔواہ کے گواہوں کی برادری کو ایک جدید معجزہ کیوں کہا جا سکتا ہے؟
۶ لہٰذا، نئی دنیا میں یہوؔواہ کے حکومت کرنے کے طریقے کو اس نئی دنیا کی بنیاد میں پہلے ہی سے دیکھا جا سکتا ہے جسے اب تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اس نے اپنے گواہوں کے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ ایک لحاظ سے ایک جدید معجزہ ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ یہوؔواہ کے گواہوں کو ایک حقیقی عالمگیر برادری میں تعمیر کر چکا ہے جسے منقسم کرنے والے قومی، نسلی، یا مذہبی مفادات کبھی نہیں توڑ سکتے۔ جبکہ گواہوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور وہ ۲۰۰ سے زائد ممالک میں رہتے ہیں، وہ ایک اٹوٹ بندھن میں متحد ہو کر اکٹھے بندھے ہوئے ہیں۔ یہ عالمگیر برادری، پوری تاریخ میں بےمثال، واقعی ایک جدید معجزہ یعنی خدا کا کام ہے۔—یسعیاہ ۴۳:۱۰، ۱۱، ۲۱؛ اعمال ۱۰:۳۴، ۳۵؛ گلتیوں ۳:۲۸۔
خدا کے لوگوں کی شناخت کرنا
۷. یسوؔع کے کہنے کے مطابق اسکے سچے پیروکاروں کی شناخت کیسے ہوگی؟
۷ اس بات کے لئے مزید تعیّن کیسے کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگ کون ہیں جنہیں خدا اپنی نئی دنیا کی بنیاد کے طور پر استعمال کر رہا ہے؟ یوحنا ۱۳:۳۴، ۳۵ میں یسوؔع کے الفاظ کی تعمیل کون کرتے ہیں؟ اس نے کہا تھا: ”میں تمہیں ایک نیا حکم دیتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت رکھو کہ جیسے میں نے تم سے محبت رکھی تم بھی ایک دوسرے سے محبت رکھو۔ اگر آپس میں محبت رکھو گے تو اس سے سب جانینگے کہ تم میرے شاگرد ہو۔“ یہوؔواہ کے گواہ یسوؔع کے الفاظ پر ایمان رکھتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں۔ جیسے کہ خدا کا کلام ہدایت کرتا ہے، وہ ”آپس میں بڑی محبت“ رکھتے ہیں۔ (۱-پطرس ۴:۸) وہ ”[خود کو] محبت سے ملبّس کرتے ہیں جوکہ اتحاد کا کامل پٹکا ہے۔“ (کلسیوں ۳:۱۴، اینڈبلیو) پس برادرانہ محبت وہ ”سریش“ ہے جو انہیں دنیا بھر میں متحد رکھتی ہے۔
۸. کیسے ۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲ خدا کے لوگوں کی مزید شناخت کراتی ہے؟
۸ نیز، ۱-یوحنا ۳:۱۰-۱۲ بھی کہتی ہے: ”اسی سے خدا کے فرزند اور ابلیس کے فرزند ظاہر ہوتے ہیں۔ جو کوئی راستبازی کے کام نہیں کرتا وہ خدا سے نہیں اور وہ بھی نہیں جو اپنے بھائی سے محبت نہیں رکھتا۔ کیونکہ جو پیغام تم نے شروع سے سنا وہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے محبت رکھیں۔ اور قاؔئن کی مانند نہ بنیں جو اس شریر سے تھا اور جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا۔“ پس، خدا کے لوگ ایک غیرمتشدّد، عالمگیر برادری ہیں۔
شناخت کرانے والی ایک اور خصوصیت
۹، ۱۰. (ا) آخری ایام میں خدا کے خادم کس کام کی بدولت پہچانے جائینگے؟ (ب) یہوؔواہ کے گواہوں نے متی ۲۴:۱۴ کو کیسے پورا کیا ہے؟
۹ خدا کے خادموں کی شناخت کرنے کا ایک اور طریقہ بھی ہے۔ دنیا کے خاتمے کی بابت اپنی پیشینگوئی میں، یسوؔع نے بہت سی چیزوں کا ذکر کیا جو وقت کے اس دَور کی نشاندہی آخری ایام کے طور پر کرینگی۔ (حصہ ۹ کو دیکھیں۔) اس پیشینگوئی کی ایک بنیادی خصوصیت کا ذکر متی ۲۴:۱۴ میں اس کے الفاظ میں کیا گیا ہے: ”بادشاہی کی اس خوشخبری کی منادی تمام دنیا میں ہوگی تاکہ سب قوموں کے لئے گواہی ہو۔ تب خاتمہ ہوگا۔“
۱۰ کیا ہم نے اس پیشینگوئی کو پورا ہوتے دیکھا ہے؟ جیہاں۔ جب سے ۱۹۱۴ میں آخری ایام کا آغاز ہوا، یہوؔواہ کے گواہوں نے یسوؔع کے فرمودہ طریقے کے مطابق، پوری دنیا میں منادی کی ہے یعنی لوگوں کے گھروں میں۔ (متی ۱۰:۷، ۱۲؛ اعمال ۲۰:۲۰) لاکھوں گواہ ہر قوم میں نئی دنیا کے متعلق باتچیت کرنے کے لئے لوگوں کے پاس جاتے ہیں۔ یہ آپ کے لئے اس بروشر کو حاصل کرنے کا سبب بنا ہے، چونکہ یہوؔواہ کے گواہوں کے کام میں خدا کی بادشاہت کی بابت کروڑوں کی تعداد میں لٹریچر چھاپنا اور تقسیم کرنا بھی شامل ہے۔ کیا آپ کسی اور کو جانتے ہیں جو تمام دنیا میں خدا کی بادشاہت کی بابت گھر با گھر کی منادی کرتا ہے؟ اور مرقس ۱۳:۱۰ ظاہر کرتی ہے کہ اس سے پیشتر کہ خاتمہ آئے منادی کرنے اور تعلیم دینے کا کام ”پہلے“ کیا جانا چاہیے۔
دوسرے عظیم مسئلے کا جواب دینا
۱۱. خدا کی حکمرانی کی اطاعت کرنے سے یہوؔواہ کے گواہ اور کیا کام انجام دیتے ہیں؟
۱۱ خدا کے قوانین اور اصولوں کی اطاعت کرنے سے، یہوؔواہ کے گواہ اور کچھ بھی سرانجام دیتے ہیں۔ یوں اس دوسرے عظیم مسئلے کا جواب دیتے ہوئے جس میں انسانی راستی شامل ہے وہ ظاہر کرتے ہیں کہ شیطان جھوٹا تھا جب اس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ آزمائش کے تحت انسان خدا کے لئے وفادار نہیں رہ سکتے۔ (ایوب ۲:۱-۵) تمام قوموں میں سے لاکھوں لوگوں کا ایک معاشرہ ہوتے ہوئے، گواہ ایک جماعت کے طور پر، خدا کی حکمرانی کے لئے وفاداری ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ناکامل انسان ہیں تو بھی وہ شیطانی دباؤ کے باوجود، عالمگیر حاکمیت کے مسئلے میں خدا کی حمایت پر قائم رہتے ہیں۔
۱۲. اپنے ایمان کے ذریعے گواہ کس کی نقل کرتے ہیں؟
۱۲ آجکل یہ لاکھوں یہوؔواہ کے گواہ گزشتہ زمانوں کے دوسرے گواہوں کی طویل صف میں اپنی شہادت کا اضافہ کرتے ہیں جنہوں نے خدا کے لئے وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ اگر چند ایک کا ذکر کیا جائے تو ہابلؔ، نُوؔح، ایوؔب، ابرؔہام، ساؔرہ، اضحاؔق، یعقوؔب، دبُوؔرہ، رُوؔت، داؔؤد، اور دانیؔایل ان میں سے کچھ ہیں۔ (عبرانیوں ۱۱ باب) جیسے کہ بائبل کہتی ہے وہ ’وفادار گواہوں کا بڑا بادل‘ ہیں۔ (عبرانیوں ۱۲:۱) انہوں نے، اور یسوؔع کے شاگردوں سمیت دوسروں نے، خدا کے لئے راستی کو قائم رکھا۔ اور خود یسوؔع نے کامل راستی کو برقرار رکھنے سے ایک عظیمترین نمونہ فراہم کیا۔
۱۳. شیطان کی بابت یسوؔع کے کونسے الفاظ سچے ثابت ہوئے ہیں؟
۱۳ یہ ثابت کرتا ہے کہ جو کچھ یسوؔع نے شیطان کی بابت مذہبی لیڈروں سے کہا وہ درست ہے: ”لیکن اب تم مجھ جیسے شخص کے قتل کی کوشش میں ہو جس نے تم کو وہی حق بات بتائی جو خدا سے سنی۔ . . . تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اس میں سچائی ہے نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے۔“—یوحنا ۸:۴۰، ۴۴۔
آپکا انتخاب کیا ہے؟
۱۴. نئی دنیا کی بنیاد کے ساتھ اب کیا ہو رہا ہے؟
۱۴ یہوؔواہ کے گواہوں کے بینالاقوامی معاشرے میں خدا جس نئی دنیا کی بنیاد کو تشکیل دے رہا ہے وہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ خدا کی حکمرانی کو قبول کرنے کے لئے، صحیح علم پر مبنی، اپنی آزاد مرضی کو استعمال کر رہے ہیں۔ وہ نئے عالمی معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں، عالمگیر حاکمیت کے مسئلے میں خدا کی حمایت پر قائم رہتے ہیں، اور شیطان کو جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔
۱۵. یسوؔع ہمارے دنوں میں جُدا کرنے والے کس کام کو انجام دے رہا ہے؟
۱۵ خدا کی حکمرانی کا انتخاب کرنے سے، وہ مسیح کے ”دہنے“ کھڑے ہونے کے لائق ٹھہرائے جاتے ہیں جب وہ ”بھیڑوں“ کو ”بکریوں“ سے جُدا کرتا ہے۔ آخری ایام کی بابت اپنی پیشینگوئی کے سلسلے میں یسوؔع نے پیشینگوئی کی: ”سب قومیں اس کے سامنے جمع کی جائینگی اور وہ ایک کو دوسرے سے جُدا کریگا جیسے چرواہا بھیڑوں کو بکریوں سے جُدا کرتا ہے۔ اور بھیڑوں کو اپنے دہنے اور بکریوں کو بائیں کھڑا کریگا۔“ بھیڑیں فروتن لوگ ہیں جو خدا کی حکمرانی کی اطاعت کرتے ہوئے، مسیح کے بھائیوں کی حمایت کرتے اور ان کے ساتھ رفاقت رکھتے ہیں۔ بکریاں سرکش لوگ ہیں جو مسیح کے بھائیوں کو ردّ کرتے اور خدا کی حکمرانی کی حمایت کرنے کے لئے کچھ نہیں کرتے۔ کس نتیجے کے ساتھ؟ یسوؔع نے کہا: ”یہ [بکریاں] ہمیشہ کی سزا پائینگے مگر راستباز [بھیڑیں] ہمیشہ کی زندگی۔“—متی ۲۵:۳۱-۴۶۔
۱۶. اگر آپ آنے والے فردوس میں زندہ رہنا چاہتے ہیں تو آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
۱۶ سچ ہے کہ خدا ہماری پرواہ کرتا ہے! بہت جلد وہ ایک راحتبخش زمینی فردوس مہیا کریگا۔ کیا آپ اس فردوس میں رہنا چاہتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو یہوؔواہ کی بابت سیکھنے اور سیکھے ہوئے پر عمل کرنے سے اس کی فراہمیوں کے لئے اپنی قدردانی دکھائیں۔ ”جب تک خداوند مل سکتا ہے اس کے طالب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے اسے پکارو۔ شریر اپنی راہ کو ترک کرے اور بدکردار اپنے خیالوں کو اور وہ خداوند کی طرف پھرے اور وہ اس پر رحم کریگا۔“—یسعیاہ ۵۵:۷،۶۔
۱۷. یہ انتخاب کرنے میں کہ کس کی خدمت کی جائے کیوں اب ضائع کرنے کیلئے کوئی وقت نہیں ہے؟
۱۷ اب ضائع کرنے کیلئے کوئی وقت نہیں ہے۔ اس پُرانے نظام کا خاتمہ بالکل قریب ہے۔ خدا کا کلام مشورت دیتا ہے: ”نہ دنیا سے محبت رکھو نہ ان چیزوں سے جو دنیا میں ہیں۔ جو کوئی دنیا سے محبت رکھتا ہے اس میں باپ کی محبت نہیں . . . دنیا اور اس کی خواہش دونوں مٹتی جاتی ہیں لیکن جو خدا کی مرضی پر چلتا ہے وہ ابد تک قائم رہیگا۔“—۱-یوحنا ۲:۱۵-۱۷۔
۱۸. کونسی عملی روش آپ کو خدا کی شاندار نئی دنیا میں زندہ رہنے کیلئے پورے اعتماد کیساتھ توقع کرنے کے قابل بنائیگی؟
۱۸ نئی دنیا میں ہمیشہ کی زندگی کے لئے خدا کے لوگ اب تربیت پا رہے ہیں۔ وہ فردوس کی نشوونما کرنے کے لئے درکار روحانی اور دوسری مہارتوں کو ابھی سے سیکھ رہے ہیں۔ ہم آپ کو تاکید کرتے ہیں کہ بطور حاکم خدا کا انتخاب کریں اور زندگی بچانے کے اس کام کی حمایت کریں جسے وہ آجکل پوری زمین پر کروا رہا ہے۔ یہوؔواہ کے گواہوں کے ساتھ بائبل کا مطالعہ کریں، اور خدا کو جانیں جو واقعی آپ کی پرواہ کرتا ہے اور جو تکلیف کا خاتمہ کریگا۔ اس طریقے سے آپ بھی نئی دنیا کی بنیاد کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پھر آپ پورے اعتماد کے ساتھ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے اور اس شاندار نئی دنیا میں ہمیشہ تک زندہ رہنے کی توقع کر سکتے ہیں۔
[صفحہ ۳۱ پر تصویر]
یہوؔواہ کے گواہ ایک حقیقی بینالاقوامی برادری رکھتے ہیں