یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • خ‌پ ص.‏ 14-‏17
  • بغاوت کا کیا نتیجہ رہا ہے؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بغاوت کا کیا نتیجہ رہا ہے؟‏
  • کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟‏
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • آجکل کی صورتحال
  • وقت نے جو کچھ ظاہر کیا ہے
  • خدا کا دُوررس نظریہ
  • خدا کی طرف سے تکلیف کی اجازت کا وقت ختم ہونے والا ہے
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
  • تمام دُکھ‌تکلیف کا عنقریب خاتمہ!‏
    تمام دُکھ‌تکلیف کا عنقریب خاتمہ!‏
  • جس وجہ سے خدا نے تکلیف کی اجازت دی ہے
    کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟‏
  • خدا کی بادشاہت—‏نئی زمینی حکومت
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2000ء
مزید
کیا خدا واقعی ہماری پرواہ کرتا ہے؟‏
خ‌پ ص.‏ 14-‏17

حصہ ۷

بغاوت کا کیا نتیجہ رہا ہے؟‏

۱-‏۳.‏ وقت نے یہوؔواہ کے درست ہونے کو کیسے ثابت کیا ہے؟‏

حکمرانی کرنے کے خدائی حق کے مسئلے کی بابت، خدا سے خودمختار ہو کر ان تمام صدیوں کی انسانی حکمرانی کا کیا نتیجہ رہا ہے؟ کیا انسان خدا سے بہتر حاکم ثابت ہوئے ہیں؟ اگر ہم انسان کے ساتھ انسان کے انسانیت‌سوز سلوک کے ریکارڈ سے اندازہ لگائیں تو یقیناً ایسا نہیں ہوا۔‏

۲ جب ہمارے پہلے والدین نے خدا کی حکمرانی کو ردّ کر دیا تو اسکا نتیجہ مصیبت ہوا۔ وہ اپنے اوپر اور اس تمام انسانی خاندان پر تکلیف لے آئے جو اِن سے پیدا ہوا۔ اور اس تمام کیلئے وہ اپنے سوا کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے تھے۔ خدا کا کلام کہتا ہے:‏ ”‏یہ لوگ اسکے ساتھ بُری طرح سے پیش آئے۔ یہ اسکے فرزند نہیں۔ یہ انکا عیب ہے۔“‏—‏استثنا ۳۲:‏۵۔‏

۳ تاریخ نے آؔدم اور حوؔا کیلئے خدا کی آگاہی کی درستی کو ثابت کر دیا ہے کہ اگر وہ خدا کی فراہمیوں کے سائے سے نکل جائینگے تو وہ زوال‌پذیر ہونگے اور انجام‌کار مر جائینگے۔ (‏پیدایش ۲:‏۱۷؛‏ ۳:‏۱۹‏)‏ وہ خدا کی حکمرانی سے نکل گئے، اور وقت آنے پر زوال‌پذیر ہوئے اور مر گئے۔‏

۴.‏ ہم سب ناکامل، بیماری اور موت کی طرف مائل پیدا کیوں ہوئے ہیں؟‏

۴ بعد میں انکی تمام آل‌اولاد کیساتھ وہی کچھ واقع ہوا تھا جیسے کہ رومیوں ۵:‏۱۲ وضاحت کرتی ہے:‏ ”‏ایک آدمی [‏آؔدم، بنی‌آدم کا خاندانی سردار]‏ کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اسلئے کہ سب نے گناہ کیا۔“‏ پس جب ہمارے پہلے والدین نے خدا کے نگرانی کے مرتبے کے خلاف بغاوت کر دی تو وہ ناقص گنہگار بن گئے۔ توارثی قوانین کی مطابقت میں، نتیجتاً حاصل ہونے والی ناکاملیت ہی کو وہ اپنی اولاد میں منتقل کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب ناقص پیدا ہوئے ہیں، اور بیماری اور موت کی طرف مائل ہیں۔‏

۵، ۶.‏ حقیقی امن اور خوشحالی لانے کیلئے انسان کی کوششوں کی بابت تاریخ نے کیا ظاہر کیا ہے؟‏

۵ بہت صدیاں بیت چکی ہیں۔ سلطنتیں آئیں اور چلی گئیں۔ ہر قابلِ‌فہم قِسم کی حکومت کو آزمایا جا چکا ہے۔ تاہم، انسانی خاندان کیساتھ بار بار، دہشتناک باتیں واقع ہوئی ہیں۔ چھ ہزار سالوں کے بعد، کوئی سوچیگا کہ انسانوں نے امن، انصاف، اور خوشحالی کو تمام زمین پر قائم کرنے کی حد تک ترقی کر لی ہوگی اور اب تک تو انہوں نے تعاون، ہمدردی، اور مہربانی کی مثبت اقدار پر بھی عبور حاصل کر لیا ہوگا۔‏

۶ پھر بھی حقیقت اسکے بالکل برعکس ہے۔ کسی بھی طرح کی ایجادکردہ کوئی انسانی حکومت سب کیلئے حقیقی امن اور خوشحالی کبھی نہیں لائی۔ صرف اس ۲۰ ویں صدی ہی میں، ہم نے ہالو کاسٹ (‏یہودیوں کے قتلِ‌عام کی مہم)‏ کے دَوران کئی ملین لوگوں کا منظم قتل اور جنگوں میں ۱۰۰ ملین سے زیادہ لوگوں کا قتلِ‌عام دیکھا ہے۔ ہمارے زمانے میں سیاسی اختلافات اور تعصّب کی وجہ سے لاتعداد لوگوں کو اذیت دی گئی ہے، قتل کیا گیا ہے اور قید کیا گیا ہے۔‏

آجکل کی صورتحال

۷.‏ آجکل کے انسانی خاندان کی حالت کو کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟‏

۷ اسکے علاوہ، آجکل انسانی خاندان کی مجموعی حالت پر غور کریں۔ جرم اور تشدد قابو سے باہر ہیں۔ منشیات کا غلط استعمال وبا ہے۔ جنسیات سے لگنے والی بیماریاں عالمگیر وبا ہیں۔ دہشتناک بیماری ایڈز لاکھوں لوگوں کو متاثر کر رہی ہے۔ کروڑوں لوگ ہر سال بھوک یا بیماری کی وجہ سے مر جاتے ہیں، جبکہ تھوڑے لوگوں کے پاس بہت زیادہ دولت ہے۔ انسان زمین کو آلودہ کرتے اور لُوٹتے ہیں۔ خاندانی زندگی اور اخلاقی اقدار ہر جگہ زوال‌پذیر ہو گئی ہیں۔ واقعی، آجکل کی زندگی ’‏اس جہان کے خدا‘‏ شیطان کی بدنما حکمرانی کو منعکس کرتی ہے۔ جس دنیا کا وہ آقا ہے وہ سردمہر، بے‌رحم، اور مکمل طور پر بگڑی ہوئی ہے۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۴‏۔‏

۸.‏ ہم بنی‌آدم کی کامرانیوں کو حقیقی ترقی کیوں نہیں کہہ سکتے؟‏

۸ خدا نے انسانوں کو اپنی سائنسی اور مادی ترقی کے نقطۂ‌عروج تک پہنچنے کے لئے کافی وقت دیا ہے۔ لیکن کیا یہ حقیقی ترقی ہے جب تیر اور کمان کی جگہ مشین گنوں، ٹینکوں، بمبار طیاروں، اور ایٹمی میزائلوں نے لے لی ہے؟ کیا یہی ترقی ہے جب لوگ خلا میں سفر کر سکتے ہیں لیکن ملکر زمین پر امن سے رہ نہیں سکتے؟ کیا یہی ترقی ہے جب لوگ رات کو سڑکوں پر، یا بعض علاقوں میں دن کے وقت بھی چلنے سے ڈرتے ہیں؟‏

وقت نے جو کچھ ظاہر کیا ہے

۹، ۱۰.‏ (‏ا)‏ وقت کی گزشتہ صدیوں نے واضح طور پر کیا ظاہر کر دیا ہے؟ (‏ب)‏ خدا آزاد مرضی کو کیوں نہیں چھین لے گا؟‏

۹ صدیوں کے وقت کے تجربہ نے جو کچھ ظاہر کیا ہے وہ یہ ہے کہ انسانوں کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ خدا کی حکمرانی سے الگ رہ کر کامیابی کیساتھ اپنے قدموں کی راہنمائی کریں۔ انکے لئے یہ کرنا اسی طرح ناممکن ہے جیسے کہ کھانے، پینے، اور سانس لینے کے بغیر زندہ رہنا۔ ثبوت واضح ہے:‏ ہم اسطرح خلق کئے گئے تھے کہ اپنے خالق کی ہدایت پر انحصار کریں، بالکل اسی طرح جیسے کہ ہمیں ہوا، پانی، اور خوراک پر لازماً انحصار کرنے کیلئے خلق کیا گیا تھا۔‏

۱۰ شرارت کی اجازت دینے سے، خدا نے ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لئے آزاد مرضی کے غلط استعمال کے خراب نتائج کو ظاہر کر دیا ہے۔ اور آزاد مرضی ایک ایسی بیش‌بہا بخشش ہے کہ اسے انسانوں سے چھین لینے کی بجائے، خدا نے انہیں یہ دیکھنے کی اجازت دے دی ہے کہ اسکے غلط استعمال کا کیا مطلب ہے۔ خدا کا کلام سچ بولتا ہے جب یہ کہتا ہے:‏ ”‏انسان کی راہ اسکے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی روش میں اپنے قدموں کی راہنمائی نہیں کر سکتا۔“‏ یہ اس وقت بھی سچا ہے جب یہ کہتا ہے:‏ ”‏ایک شخص دوسرے پر حکومت کرکے اپنے اوپر بلا لاتا ہے۔“‏—‏یرمیاہ ۱۰:‏۲۳؛‏ واعظ ۸:‏۹‏۔‏

۱۱.‏ کیا کسی بھی طرز کی انسانی حکمرانی نے تکلیف کو ختم کیا ہے؟‏

۱۱ انسانی حکمرانی کے چھ ہزار سالوں کیلئے خدا کی اجازت پُرزور طریقے سے واضح کرتی ہے کہ انسان تکلیف کو روکنے کے اہل نہیں ہے۔ اس نے کسی بھی وقت میں ایسا نہیں کیا۔ مثال کے طور پر، اسرائیل کا بادشاہ سلیماؔن اپنے زمانے میں، اپنی تمام‌تر حکمت، دولت، اور قوت کے باوجود اس خرابی کو سدھار نہیں سکا تھا جو انسانی حکمرانی کا نتیجہ تھی۔ (‏واعظ ۴:‏۱-‏۳‏)‏ اسی طرح سے، ہمارے زمانے میں عالمی لیڈر جدید تکنیکی ترقیوں کے ساتھ بھی تکلیف کو ختم کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ اس سے بھی بدتر، تاریخ نے ظاہر کر دیا ہے کہ خدا کی حکمرانی سے خودمختار انسانوں نے تکلیف کو ختم کرنے کی بجائے اس میں اضافہ کیا ہے۔‏

خدا کا دُوررس نظریہ

۱۲-‏۱۴.‏ تکلیف کیلئے خدا کی اجازت کے نتیجے کے طور پر، کونسے دُوررس فوائد حاصل ہوتے ہیں؟‏

۱۲ تکلیف کے سلسلے میں خدا کی اجازت ہمارے لئے دردناک رہی ہے۔ لیکن اس نے ان عمدہ نتائج کو جانتے ہوئے جو کہ انجام‌کار برآمد ہونگے ایک دُوررس نظریہ اپنایا ہے۔ خدا کا نظریہ مخلوقات کو فقط چند سال یا چند ہزار سال تک ہی فائدہ نہیں پہنچائیگا، بلکہ لاکھوں سال تک، جی‌ہاں، ابد تک کیلئے۔‏

۱۳ اگر مستقبل میں کسی بھی وقت پر کوئی ایسی صورتحال پیدا ہو کہ کوئی کام کرنے کے خدائی طریقے پر اعتراض کرنے کیلئے آزاد مرضی کا غلط استعمال کرے تو یہ ضروری نہ ہوگا کہ اسے وقت دیا جائے تاکہ وہ اپنے نظریات کو ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ باغیوں کو پہلے ہی ہزاروں سال کی اجازت دے دینے سے خدا نے قانونی نظیر قائم کرلی ہے جسے کائنات میں کہیں پر بھی ابدالآباد ہمیشہ تک عائد کیا جاسکتا ہے۔‏

۱۴ چونکہ یہوؔواہ نے اس وقت میں تکلیف اور شرارت کی اجازت دے رکھی ہے، یہ پہلے ہی بڑی حد تک ثابت ہو چکا ہوگا کہ کوئی بھی ایسی چیز ترقی نہیں کر سکتی جو اس کیساتھ ہم‌آہنگ نہیں۔ کسی شُبہ کے بغیر یہ واضح کیا جا چکا ہوگا کہ انسانی یا روحانی مخلوقات کا کوئی خودمختار منصوبہ دیرپا فوائد نہیں لا سکتا۔ لہٰذا، خدا کسی بھی باغی کو فوری طور پر کچلنے کیلئے پورے طور پر حق‌بجانب ہوگا۔ ”‏[‏وہ]‏ سب شریروں کو ہلاک کر ڈالیگا۔“‏—‏زبور ۱۴۵:‏۲۰؛‏ رومیوں ۳:‏۴‏۔‏

‏[‏صفحہ ۱۵ پر تصویر]‏

جب ہمارے پہلے والدین نے خدا سے خودمختاری کا انتخاب کر لیا تو اسکے بعد وہ انجام‌کار بوڑھے ہو گئے اور مر گئے

‏[‏صفحہ ۱۶ پر تصویر]‏

خدا سے جدا انسانی حکمرانی باعثِ‌مصیبت ثابت ہوئی ہے

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

U.S. Coast Guard photo

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں